تم گل تھے ہم نکھار ابھی کل کی بات ہے
ہم سے تھی سب بہار ابھی کل کی بات ہے
بیگانہ سمجھو, غیر کہو، اجنبی کہو
اپنوں میں تھا شمار ابھی کل کی بات ہے
اترا رہے ہو آج ـــــــــ پہن کر نئی قبا
دامن تھا تار تار ابھی کل کی بات ہے
آج اس قدر غرور، یہ انداز، یہ مزاج --
پھرتے تھے میر خوار ابھی کل کی بات ہے