Reposted by @ainasubuhi.bsky.social

عطائے قلب کرم ہے سنو ازالہ نہیں
محبتوں کا کہیں کوئی بھی حوالہ نہیں
کسی کے طاق میں رکھے ہیں چند سکّے اور
کسی کے ہاتھ میں روٹی کا اک نوالہ نہیں
میں تجھ کو جسم سے کیسے رہائی دوں جبکہ
فلک نے چاند کو خود سے کبھی نکالا نہیں
وہ معجزے کی طرح جو نبی کو ملتا ہے
میں وہ گناہ جسے مومنوں نے پالا نہیں
+