آج دِسمبر کو رونے والوں کی چوتھی تاریخ ہے، اِس بابرکت ماہ میں گُمنام شاعر دبی ہوئی چوٹوں کے ساتھ ٹِیس بن کر اُبھریں گے، اگر کِسی دِن بارِش برس گئی تو دِل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ نکلیں گے،
نہیں ہے گیس کا نام و نشاں بھی
میرے گھر میں سلنڈر آ گیا ہے
اُسے کہنا دسمبر آ گیا ہے ۔