Reposted by @khannaira96.bsky.social

بھول جائیں گی نئی نسلیں ہماری شاعری
بس کتابوں میں ہمارا تذکرہ رہ جائے گا
ہجرتوں کا فیصلہ یک دم سُنا دے گا کوئی
سب کا سب سامان یونہی گھر پڑا رہ جائے گا
فرق کوئی بھی نہیں پڑنا ہمارے کوچ سے
کوئی تکیہ رات بھر بس بھیگتا رہ جائے گا
ہم ہلا کر ہاتھ کشتی سے کہیں گے الوداع
اور کنارے پر کوئی پہچانتا رہ جائے گا