اِک زمانے کے بعد آئی ہے شامِ غم
شامِ غم میرے گھر سے کہاں جائے گی
میری قسمت میں ہے جو تمہاری کمی
وہ کمی میرے گھر سے کہاں جائے گی
شمع کی اب مجھے کچھ ضرورت نہیں
نام کو بھی شبِ غم میں ظلمت نہیں
میرا ہر داغِ دل کم نہیں چاند سے
چاندنی میرے گھر سے کہاں جائے گی
میری قسمت میں ہے۔۔