Reposted by Daniyal Qureshi

ہم کریں بات دلیلوں سےتوردہوتی ہے
اس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سندہوتی ہے
سانس لیتے ہوئےانساں بھی ہیں لاشوں کیطرح
اب دھڑکتےہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے
جس کی گردن میں ہے پھندا وہی انسان بڑا
سولیوں سے یہاں پیمائش قد ہوتی ہے
شعبدہ گربھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباس
بولتا جہل ہےبدنام خرد ہوتی ہے
(مظفروارثی)