24 نومبر کو بیلاروس کے صدر اپنے 10 وزراء سمیت 65 رکنی وفد کے ہمراہ پاکستان آ رہے ہیں اور یہ لوگ پھر سے احتجاج کی کال دے چکے ہیں اب پاکستان کے باشعور عوام کو سوچنا چاہیے کہ یہ ملک دشمن جماعت کس کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہو کر پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔