Reposted by Raheel Hassan

ایک مدت کی ریاضت سے کمائے ہوئے لوگ
کیسےبچھڑے ہیں مرے دل میں سمائے ہوئے لوگ
تلخ گوئی سے ہماری تُو پریشان نہ ہو
ہم ہیں دنیا کے مصائب کے ستائے ہوئے لوگ
تجھ کو اے شخص کبھی زیست کی تنہائی میں
یاد آئیں گے ہم عجلت میں گنوائے ہوئےلوگ