جتنی اسٹیبلشمنٹ طاقتور ہے اتنی ہی ڈرپوک بھی۔ نا یہ احتجاج کا سامنا کر سکتے ہیں، نا عوام کا ووٹ تسلیم کرسکتے ہیں یہاں تک کے یہ اپنے خود کے اقدامات کا بھی کھل کر اعتراف نہیں کر سکتے۔ یا میڈیا اور انٹرنیٹ کو کنٹرول کر کے فریب کے پچھے چھپتے ہیں یا زور زبردستی سے مظلوم کو خاموش کرواتے ہیں۔