Reposted by @awahid.bsky.social

باتو باتوں میں بچھڑنے کا اشارہ کرکے
خود بھی رویا وہ بہت ہم سے کنارہ کرکے
سوچتا رہتا ہوں، تنہائی میں انجامِ خلوص
پھر اسی 'جرمِ محبت' کو دوبارہ کرکے
جگمگا دی ہیں تیرے شہر کی گلیاں میں نے
اپنے ہر اشک کو پلکوں ستارہ کرکے
دیکھ لیتے ہیں چلو حوصلہ اپنے دل کا
اور کچھ روز تیرے ساتھ گزارا کرکے