Reposted by ★𝐒𝐚𝐞𝐞𝐝 𝐀𝐚𝐫𝐟𝐢★

درد کو پاؤں کی زنجیر بنا کر ناچوں
میں تِرے عشق کو سولی پہ چڑھا کر ناچوں
داستاں ایسے سناؤں کہ سبھی رونے لگیں
جی میں آتا ہے کہ میں سب کو رلا کر ناچوں
آگ پر رقص کبھی تو نے نہیں دیکھا نا
سامنے آج تجھے یار بٹھا کر ناچوں
تو ہے آنکھوں کے اشاروں پہ نچاتا سب کو
میں بھی اک بار تجھے آج نچا کر ناچوں