تیری آنکھوں سے یہ قیدی , گرے گا اشک کی مانند
یہاں سے بھاگ جانے کو , مجھے زندان کہتا ہے
محبت کھیل ایسا ھے , جہاں سب ہار کے جیتے
یہ بازی ہم ہی ہاریں گے , یہ ہر میدان کہتا ہے
یوں توڑو رابطے مجھ سے , یا چاھے راستے بدلو
بھُلا پھر بھی نہ پاؤ گے , میرا امکان کہتا ہے