وہ فلم جس نے اسرائیل کو ہلا ڈالا
کم ازکم میری یادداشت میں تو نہیں کہ کسی دستاویزی فلم کے لیے مجمع نے ایڑیوں کے بل کھڑے ہو کر مسلسل پچیس منٹ تالیاں بجائی ہوں۔ گذشتہ ہفتے وینس کے عالمی فلمی میلے میں غزہ میں نسل کش مشین کے چہرے سے نقاب اٹھانے والی ایک دستاویزی فلم ’’ نازا‘‘ نے نہ صرف اسپیشل جیوری…
pakistaninsiders.wordpress.com
وہ فلم جس نے اسرائیل کو ہلا ڈالا
کم ازکم میری یادداشت میں تو نہیں کہ کسی دستاویزی فلم کے لیے مجمع نے ایڑیوں کے بل کھڑے ہو کر مسلسل پچیس منٹ تالیاں بجائی ہوں۔ گذشتہ ہفتے وینس کے عالمی فلمی میلے میں غزہ میں نسل کش مشین کے چہرے سے نقاب اٹھانے والی ایک دستاویزی فلم ’’ نازا‘‘ نے نہ صرف اسپیشل جیوری انعام جیتا بلکہ گذشتہ برس کی ہی ایک فلم ’’دی وائس آف ہند رجب‘‘ کی سراہنا کے لیے بائیس منٹ تک بجنے والی تالیوں کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔ (ہند رجب وہ چھ سالہ بچی ہے جو غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فیملی کار میں قتل ہونے والے پورے خاندان میں زندہ بچ گئی اور کئی گھنٹے مدد کے لیے اپنے والدین کے فون سے امدادی رضاکاروں کو کال کرتی رہی اور پھر ایک ٹینک نے کار کو ہند رجب سمیت کچل دیا)۔ ’’ نازا ‘‘ دو اسرائیلی فلم میکرز یووال ابراہام اور ریچل شور نے بنائی ہے۔ نازا عبرانی اصطلاح نیزک اگاوی ( اجتماعی نقصان ) کا مخفف ہے۔ اسرائیلی فوج نے یہ اصطلاح غزہ پر حملوں میں بکثرت استعمال کی۔ یعنی کسی بھی فضائی حملے میں کتنا ممکنہ جانی نقصان (کولیٹرل ڈیمیج ) ہو سکتا ہے۔ (کسی ایک مشکوک شخص کو قتل کرنے کے لیے سیکڑوں مکینوں پر مشتمل پورے پورے رہائشی بلاک اڑا دئیے گئے)۔ …