Sign in

Khawaja Umer Farooq

@kufarooq.bsky.social
224 followers 251 following 175 posts

شکوہِ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا​ اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے​ facebook.com/kufarooq twitter.com/kufarooq instagram.com/kufarooq

PostsRepliesMedia
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 28/09/2026
مولانا؟ انڈپینڈنٹ اردو میں ایک کالم لکھا تھا کہ جماعت اسلامی کو چاہیے مولانا فضل الرحمن کو اپنے نصاب میں شامل کر لے کیونکہ وہ مذہبی سیاست کے اکلوتے رہنما ہیں جو اشتعال اور ہیجان کی بجائے تحمل، تدبر اور شائستگی سے بات کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی سمیت تمام مذہبی سیاست کو ان سے سیکھنا چاہیے۔ اتفاق دیکھے،…
pakistansinfocus.wordpress.com
مولانا؟
انڈپینڈنٹ اردو میں ایک کالم لکھا تھا کہ جماعت اسلامی کو چاہیے مولانا فضل الرحمن کو اپنے نصاب میں شامل کر لے کیونکہ وہ مذہبی سیاست کے اکلوتے رہنما ہیں جو اشتعال اور ہیجان کی بجائے تحمل، تدبر اور شائستگی سے بات کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی سمیت تمام مذہبی سیاست کو ان سے سیکھنا چاہیے۔ اتفاق دیکھے، صرف دو ماہ بعد ہی مولانا نے ایسا خطاب فرما دیا ہے کہ صبح سے جماعت اسلامی کے دوست پوچھ رہے ہیں کہ مولانا نے تو خود دوسری مذہبی جماعتوں کا نصاب پڑھنا شروع کر دیا ہے، اب ہمارے لیے کیا حکم ہے، اب بھی نصاب میں مولانا کو شامل کیا جائے یا ہم اپنا نصاب ہی پڑھتے رہیں۔ بے تکلف دوستوں کے تین چار میسج اوپر تلے موصول ہوئے تو مجھے یاد آیا، ایسا ہی ایک مشورہ چند روز پہلے کالم میں میں نے جناب ایمل ولی خان صاحب کو بھی دیا تھا کہ ان کے لہجے میں تلخی بڑھتی جا رہی ہے اس لیے وہ گاہے بگاہے مولانا فضل الرحمن صاحب کے پاس جایا کریں تاکہ ان کے مزاج کی تندی کچھ کم ہو جائے۔ …
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 22/09/2026
ڈاکٹر عبدالباری کون ہیں؟ ڈاکٹر عبدالباری خان پاکستان کے معروف سرجن اور سماجی کارکن ہیں۔ انہوں نے تقریباً دو دہائیاں قبل کراچی میں 150 بستروں پر مشتمل ایک ہسپتال سے انڈس ہسپتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی قیادت میں یہ ادارہ ایک ملک گیر صحت کے نظام میں تبدیل ہو چکا ہے جو پاکستان بھر میں لاکھوں افراد کو…
pakistansinfocus.wordpress.com
ڈاکٹر عبدالباری کون ہیں؟
ڈاکٹر عبدالباری خان پاکستان کے معروف سرجن اور سماجی کارکن ہیں۔ انہوں نے تقریباً دو دہائیاں قبل کراچی میں 150 بستروں پر مشتمل ایک ہسپتال سے انڈس ہسپتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی قیادت میں یہ ادارہ ایک ملک گیر صحت کے نظام میں تبدیل ہو چکا ہے جو پاکستان بھر میں لاکھوں افراد کو مفت علاج کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ آج انڈس ہیلتھ نیٹ ورک کے تحت 12 کثیر الجہتی ہسپتال، چار ریجنل بلڈ سینٹرز، تین فزیکل ری ہیبلیٹیشن مراکز اور 100 سے زائد پرائمری ہیلتھ کیئر مراکز اور صحت عامہ کے منصوبے پاکستان کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آئزن ہاور فیلوشپس کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران انڈس نیٹ ورک نے 67 ہزار سے زائد آپریشن کیے، دو لاکھ 14 ہزار سے زیادہ مریضوں کو ہسپتال میں داخل کر کے علاج فراہم کیا، 29 لاکھ آؤٹ پیشنٹ وزٹس ریکارڈ کیں، چودہ لاکھ سے زیادہ ایمرجنسی مریضوں کا علاج کیا، دو لاکھ 12 ہزار سے زیادہ افراد کو ذہنی صحت کی خدمات فراہم کیں اور 63 لاکھ سے زائد افراد کی ملیریا سکریننگ کی۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 20/09/2026
کیا 2030 تک اے آئی ہم سب کو ’مار ڈالے گی‘؟ شاید ہم سب 10 سال بعد مر چکے ہوں گے، تو اب آپ کیا کرنے والے ہیں؟ یہ خوش کن سوال ایک عام سنیچر کی صبح میرا استقبال کر رہا تھا، جب سچ کہوں تو میں زیادہ تر اس بات کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ دوپہر کے کھانے میں کیا کھاؤں گی۔ لیکن نہیں، اپنی (انسانی ہاتھوں سے…
pakistansinfocus.wordpress.com
کیا 2030 تک اے آئی ہم سب کو ’مار ڈالے گی‘؟
شاید ہم سب 10 سال بعد مر چکے ہوں گے، تو اب آپ کیا کرنے والے ہیں؟ یہ خوش کن سوال ایک عام سنیچر کی صبح میرا استقبال کر رہا تھا، جب سچ کہوں تو میں زیادہ تر اس بات کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ دوپہر کے کھانے میں کیا کھاؤں گی۔ لیکن نہیں، اپنی (انسانی ہاتھوں سے بنائی گئی) سِکنی چائے لاٹے کی چسکیاں لیتے ہوئے مجھے معلوم ہوا کہ بظاہر مصنوعی ذہانت کی بدولت ہم سب تباہی کے راستے پر ہیں۔ ٹیکنالوجی کمپنی اینتھروپک کے ’الائنمنٹ سائنس‘ کے سربراہ ایون ہبنجر کے مطابق، (جی ہاں، یہ ہی وہ کمپنی ہے جس نے تشویش ناک طور پر اپنے تازہ ترین اور جدید ماڈل کو برطانیہ کے اے آئی سکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کی حفاظتی جانچ سے دور رکھا اور اسے صرف امریکی اداروں کے لیے جاری کیا)، مصنوعی ذہانت ’اگلی دہائی میں تمام انسانوں کو مار سکتی ہے۔‘ انہوں نے اس ہفتے ایکس پر لکھا: ’ہم واقعی سنجیدگی سے یہ یقین رکھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت تمام انسانوں کو مار سکتی ہے!
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 20/09/2026
کیا اے آئی انسانوں کے قابو سے باہر ہو سکتی ہے؟ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی سے پیدا ہونے والے خطرات کے پیش نظر اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈی نے اے آئی کمپنیوں سے ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار کچھ کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتہائی طاقتور اور خودمختار اے آئی سسٹمز کے خطرات سے…
pakistaninsiders.wordpress.com
کیا اے آئی انسانوں کے قابو سے باہر ہو سکتی ہے؟
مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی سے پیدا ہونے والے خطرات کے پیش نظر اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈی نے اے آئی کمپنیوں سے ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار کچھ کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتہائی طاقتور اور خودمختار اے آئی سسٹمز کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مزید احتیاط ضروری ہے ۔ اموڈی کے مطابق اے آئی کی ترقی مکمل طور پر روکنا بھی مناسب نہیں کیونکہ اس ٹیکنالوجی سے انسانیت کو بڑے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، تاہم بہت تیزی سے آگے بڑھنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین اور ایکس اے آئی کے مالک ایلون مسک نے بھی اموڈی کے مؤقف سے اتفاق کیا۔ آلٹ مین نے کہا کہ اے آئی کی جدید ترین صلاحیتوں کی ترقی کی رفتار کو مناسب انداز میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، جبکہ مسک نے مختصر طور پر اموڈی کے مؤقف کی حمایت کی۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 11/09/2026
کوہ پیماوں کا ماتم؟ براڈ پیک پر دس کوہ پیما برفانی تودے کے نیچے دب گئے۔ ان میں نرمل پُرجا جیسا نیپالی کوہ پیما بھی تھا، جس نے دنیا کی چودہ بڑی چوٹیاں چھ ماہ میں سرکیں۔ نیٹ فلکس کی ڈاکیومنٹری فورٹین پیکس اسی کی کہانی تھی۔ لاہور سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر اسماء مشتاق سپینٹک کی چوٹی سر کر کے واپسی پر…
pakistaninsiders.wordpress.com
کوہ پیماوں کا ماتم؟
براڈ پیک پر دس کوہ پیما برفانی تودے کے نیچے دب گئے۔ ان میں نرمل پُرجا جیسا نیپالی کوہ پیما بھی تھا، جس نے دنیا کی چودہ بڑی چوٹیاں چھ ماہ میں سرکیں۔ نیٹ فلکس کی ڈاکیومنٹری فورٹین پیکس اسی کی کہانی تھی۔ لاہور سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر اسماء مشتاق سپینٹک کی چوٹی سر کر کے واپسی پر تھیں کہ سانس ٹوٹ گئی۔ سوات کے کوہ پیما سید علی شاہ کی لاش دو ماہ فلک سیر پر بچھی ہوئی برف پر پڑی رہی۔ پھر موسیٰ کا مصلی، جہاں ایک برطانوی نژاد ہائیکر ایلیکس چلتے چلتے ٹریک سے اتر گیا۔ نیچے کہیں جنگل میں گیا اور پھر واپس نہ آیا۔ جارج میلوری کو جون 1924ء میں ایورسٹ کی چوٹی کے قریب اوپر کی طرف جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ پھر وہ بادلوں میں کہیں گم ہو گیا۔ پچھتر سال بعد وہ بادلوں میں سویا ہوا ملا۔ کسی نے اس سے پوچھا تھا، تم نے ایورسٹ کیوں جانا ہے۔ اس نے کہا، کیونکہ وہ وہاں ہے۔ بات ہی ختم۔ یہ بلاوجہ کی چاہت اور جستجو ہے۔ اس پر بات نہیں ہو سکتی۔ خودکشی کی بحث تو بالکل مذاق ہے۔ ہر کسی کی اپنی فینٹسی ہوتی ہے اور ہر فینٹسی کا اپنا ایک لیول ہوتا ہے۔
001
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 03/09/2026
نِرمل پرجا : وہ شخص جس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا نِرمل پرجا: وہ شخص جس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا — 14 بلند ترین پہاڑوں کا حیرت انگیز سفر دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو صرف خواب نہیں دیکھتے بلکہ اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اپنی پوری زندگی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ نِرمل "نِمس" پرجا انہی…
pakistansinfocus.wordpress.com
نِرمل پرجا : وہ شخص جس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا
نِرمل پرجا: وہ شخص جس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا — 14 بلند ترین پہاڑوں کا حیرت انگیز سفر دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو صرف خواب نہیں دیکھتے بلکہ اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اپنی پوری زندگی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ نِرمل "نِمس" پرجا انہی غیر معمولی لوگوں میں سے ایک ہیں۔ نیپال سے تعلق رکھنے والے نِمسڈائی پرجا نے دنیا بھر میں اس وقت شہرت حاصل کی جب انہوں نے دنیا کے تمام 14 ایسے پہاڑوں کو سر کرنے کا فیصلہ کیا جن کی بلندی 8,000 میٹر سے زیادہ ہے۔ ان چوٹیوں کو mountaineering کی دنیا میں انتہائی خطرناک "Death Zone" سے جوڑا جاتا ہے۔ ان کا مقصد صرف یہ چوٹیوں کو سر کرنا نہیں تھا، بلکہ انہیں صرف سات ماہ کے اندر مکمل کرنا تھا۔ اس عظیم منصوبے کا نام انہوں نے Project Possible رکھا۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 13/08/2026
براڈ پیک : مشکل پہاڑوں میں سے ایک پاکستان میں واقع ’براڈ پیک‘ کو کوہ پیمائی کی مہمات کے لیے انتہائی مشکل پہاڑوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور یہ دنیا کا 12 ویں بلند ترین جبکہ قراقرم کے سلسلے کا تیسرا سب سے اونچا پہاڑ ہے۔ اس کی بلندی 8047 میٹر ہے اور اسے براڈ پیک یا چوڑی چوٹی کا نام اس کے غیرمعمولی…
pakistaninsiders.wordpress.com
براڈ پیک : مشکل پہاڑوں میں سے ایک
پاکستان میں واقع ’براڈ پیک‘ کو کوہ پیمائی کی مہمات کے لیے انتہائی مشکل پہاڑوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور یہ دنیا کا 12 ویں بلند ترین جبکہ قراقرم کے سلسلے کا تیسرا سب سے اونچا پہاڑ ہے۔ اس کی بلندی 8047 میٹر ہے اور اسے براڈ پیک یا چوڑی چوٹی کا نام اس کے غیرمعمولی طور پر چوڑے ’سمٹ رج‘ کی وجہ سے دیا گیا جو تقریباً دو کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ براڈ پیک ان 14 ’ڈیتھ زون‘ (انتہائی خطرناک بلندی والی) چوٹیوں میں شامل ہے جنھیں نرمل پرجا نے 2019 میں چھ ماہ سے کچھ زائد عرصے میں سر کیا تھا۔ سنہ 2022 میں نیٹ فلکس کی ایک فلم اسی نام سے جاری کی گئی تھی جس میں اس پولش کوہ پیما کی کہانی بیان کی گئی تھی جس نے اس پہاڑ کی چوٹی کو موسمِ سرما میں پہلی بار سر کرنے کی کوشش کی تھی۔ براڈ پیک کو پہلی بار 1957 میں سر کیا گیا تھا جب آسٹریا کی چار رکنی مہم چوٹی تک پہنچی تھی۔ اس کے بعد سے، جہاں سینکڑوں لوگ اسے سر کر چکے ہیں وہیں درجنوں اس دوران اپنی جان سے ہاتھ بھی دھو چکے ہیں۔ 2013 براڈ پیک پر مہمات کے لیے مہلک ترین سالوں میں سے ایک تھا جس میں کم از کم چھ اموات ریکارڈ کی گئیں۔ مارچ 2013 میں دو پولش کوہ پیماؤں کو جن کی عمریں 27 اور 58 سال تھیں، اس وقت مردہ قرار دیا گیا جب وہ چوٹی سے اترتے وقت لاپتہ ہوئے۔ چند ماہ بعد تین ایرانی کوہ پیماؤں کا بھی یہی انجام ہوا اور پھر ایک جرمن کوہ پیما پہاڑ سے پھسل کر ایک پہاڑی نالے میں گر کر ہلاک ہوئیں۔ بشکریہ بی بی سی اردو
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 13/08/2026
نرمل پرجا – کوہ پیمائی کی دنیا کا درخشاں نام نرمل پرجا نے 2019 میں محض چھ ماہ اور چھ دن میں دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو سر کر کے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا 43 سالہ نرمل پرجا برطانوی فوج کی بریگیڈ آف گورکھاز اور بعد ازاں رائل میرینز سپیشل بوٹ سروس میں خدمات انجام دے چکے تھے۔…
pakistansinfocus.wordpress.com
نرمل پرجا – کوہ پیمائی کی دنیا کا درخشاں نام
نرمل پرجا نے 2019 میں محض چھ ماہ اور چھ دن میں دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو سر کر کے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا 43 سالہ نرمل پرجا برطانوی فوج کی بریگیڈ آف گورکھاز اور بعد ازاں رائل میرینز سپیشل بوٹ سروس میں خدمات انجام دے چکے تھے۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے پیشہ ورانہ کوہ پیمائی اور مہم جوئی کو اپنا میدان بنایا اور مختصر عرصے میں کئی عالمی ریکارڈ قائم کیے۔ انہوں نے 2019 میں محض چھ ماہ اور چھ دن میں دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو سر کر کے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا، جسے بعد میں بھی کوہ پیمائی کی تاریخ کی غیر معمولی کامیابیوں میں شمار کیا جاتا رہا۔ حادثے سے چند روز قبل نرمل پرجا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا تھا کہ وہ بغیر اضافی آکسیجن کے دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو ’دو مرتبہ سر کرنے والے پہلے انسان‘ بننے کے قریب ہیں۔ براڈ پیک روانگی سے قبل انہوں نے لکھا تھا کہ ’براڈ پیک، میں تم سے صرف محفوظ واپسی کی دعا مانگتا ہوں۔‘ براڈ پیک کی بلندی 8,047 میٹرہے اور قراقرم کے سلسلۂ کوہ میں کے ٹو کے قریب واقع دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ہے۔ اسے آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں میں تکنیکی اعتبار سے مشکل ترین اور خطرناک مہمات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس چوٹی کو پہلی مرتبہ 1957 میں آسٹریا کے کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم نے سر کیا تھا۔ بشکریہ اردو نیوز
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 13/08/2026
کوہ پیما نرمل پرجا کون تھے؟ نرمل جنھیں نمز دائی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ وہ کوہ پیمائی کے متعدد ریکارڈز کے مالک رہے لیکن ان کا سب سے مشہور کارنامہ 2019 میں صرف چھ ماہ میں دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنا رہا۔ 43 سالہ نرمل پرجا 2021 میں ریلیز ہونے والی نیٹ فلکس دستاویزی فلم 14 Peaks:…
pakistaninsiders.wordpress.com
کوہ پیما نرمل پرجا کون تھے؟
نرمل جنھیں نمز دائی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ وہ کوہ پیمائی کے متعدد ریکارڈز کے مالک رہے لیکن ان کا سب سے مشہور کارنامہ 2019 میں صرف چھ ماہ میں دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنا رہا۔ 43 سالہ نرمل پرجا 2021 میں ریلیز ہونے والی نیٹ فلکس دستاویزی فلم 14 Peaks: Nothing Is Impossible کے بعد دنیا بھر میں زیادہ معروف ہوئے۔ اس فلم میں ان کے کوہ پیمائی کے سفر کو دکھایا گیا تھا۔ نیپال میں واقع دنیا کے ساتویں بلند پہاڑ کے قریب ڈھولگیری میں جنم لینے والے نرمل نیپال میں ہی چتیوان ضلع کے میدانی علاقوں میں پلے بڑھے اور 2003 میں 18 سال کی عمر میں برٹش آرمی بریگیڈ کی گورکھا رجمنٹ میں شامل ہوئے تھے۔ ان کے کوہ پیمائی کے سفر کا آغاز تب ہوا جب وہ 2012 میں ایورسٹ بیس کیمپ تک پیدل گئے اور طے شدہ منصوبے کے مطابق واپس آنے کے بجائے اُنھوں نے پہاڑ سر کرنے کا فیصلہ کیا۔ سنہ 2018 میں نرمل نے فوج کی نوکری چھوڑی اور اگلے ہی سال دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں کو سب سے کم وقت میں سر کرنے سمیت کئی ریکارڈ بنا ڈالے۔ …
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 02/07/2026
اسرائیل کی بڑھتی عالمی تنہائی کیا رنگ لاسکتی ہے؟ پوری دنیا نے 14 جون 2026 کو امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی دستاویز (ایم او یو) پر الیکٹرانک دستخط کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں امن معاہدے کے لیے بات چیت کی خاطر 60 دن کی مہلت رکھی گئی ہے۔ اسرائیل واحد ملک ہے جو ابھی تک جنگ بندی یا امن معاہدے کے…
pakistansinfocus.wordpress.com
اسرائیل کی بڑھتی عالمی تنہائی کیا رنگ لاسکتی ہے؟
پوری دنیا نے 14 جون 2026 کو امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی دستاویز (ایم او یو) پر الیکٹرانک دستخط کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں امن معاہدے کے لیے بات چیت کی خاطر 60 دن کی مہلت رکھی گئی ہے۔ اسرائیل واحد ملک ہے جو ابھی تک جنگ بندی یا امن معاہدے کے لیے تیار نہیں ہے۔ وہ جنوبی لبنان پر وقفے وقفے سے بمباری کر رہا ہے تاکہ نہ صرف اس علاقائی جنگ بندی کو توڑا جا سکے بلکہ امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل امن معاہدے کے امکانات کو بھی ختم کیا جا سکے۔ صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس، دونوں نے امن عمل میں رکاوٹ ڈالنے پر اسرائیلی قیادت کی سرزنش کی ہے۔ دنیا بھر میں نتن یاہو کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ وہ اور ان کا ملک موت اور تباہی پر مبنی نسل کشی کی پالیسیوں کی وجہ سے تنہا اور بے نقاب ہو چکے ہیں۔ امریکہ کے لیے یہ امن معاہدہ اہم ہے کیونکہ امریکی آبادی کا ایک بڑا حصہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ امریکہ کی جنگ نہیں تھی اور اسرائیل نے بلاوجہ امریکہ کو اس میں گھسیٹا تھا۔ آئندہ وسط مدتی انتخابات اور عالمی معیشت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر، ٹرمپ اس جنگ کی مزید سیاسی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں، تاہم اسرائیلی رہنما اس بات پر قائل نہیں ہیں۔ وہ بدستور سمجھتے ہیں کہ یہودی لابی اتنی طاقتور ہے کہ ٹرمپ کو جنگ کے میدان میں واپس آنے پر آمادہ کر سکے گی۔ نتن یاہو اس بات پر مایوس ہیں کہ ’گریٹر اسرائیل‘ (عظیم تر اسرائیل) کا ان کا خواب چکنا چور ہو چکا ہے۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 02/07/2026
پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ پاکستان کے سب سے بڑے مسئلے پر جب بھی بحث ہوتی ہے تو ہر شخص اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق جواب دیتا ہے۔ کسی کے نزدیک تعلیم کا بحران سب سے بڑا مسئلہ ہے، کسی کے خیال میں کرپشن تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ کچھ لوگ آبادی میں تیز رفتار اضافے کو اصل خطرہ قرار دیتے ہیں، تو بعض کے نزدیک…
pakistansinfocus.wordpress.com
پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ
پاکستان کے سب سے بڑے مسئلے پر جب بھی بحث ہوتی ہے تو ہر شخص اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق جواب دیتا ہے۔ کسی کے نزدیک تعلیم کا بحران سب سے بڑا مسئلہ ہے، کسی کے خیال میں کرپشن تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ کچھ لوگ آبادی میں تیز رفتار اضافے کو اصل خطرہ قرار دیتے ہیں، تو بعض کے نزدیک منشیات کا پھیلاؤ ہماری نوجوان نسل کو تباہ کر رہا ہے۔ کچھ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کو بنیادی مسئلہ سمجھتے ہیں، جبکہ کچھ انصاف کی سست روی، کمزور اداروں یا سیاسی عدم استحکام اور دہشتگردی کو تمام مشکلات کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ یہ سب مسائل اپنی اپنی جگہ نہایت اہم ہیں اور ان کی سنگینی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے تو میرا جواب مختلف ہو گا۔ میں یہ بات پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور پھر دہرا رہا ہوں کہ میری دانست میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ نہ تعلیم ہے، نہ کرپشن، نہ مہنگائی، نہ بے روزگاری اور نہ ہی آبادی میں اضافہ۔ ان سب سے پہلے اور ان سب سے بڑھ کر ہمارا اصل مسئلہ کردار سازی کا فقدان ہے۔ ہم نے تعلیم پر تو بہت بات کی، لیکن تعلیم کے ساتھ تربیت کو بھلا دیا۔ …
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 28/06/2026
کیا اسرائیل غزہ میں مظالم کا اعتراف کرے گا؟ غزہ میں بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ پر، جس کے نتیجے میں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم ہوئے، اسرائیل کی وہی مانوس اور تھکا دینے والی تردیدیں سامنے آئیں جو بارہا سننے کو ملتی ہیں۔ لیکن اسرائیلی حکام کے لیے مسئلہ یہ ہے…
pakistaninsiders.wordpress.com
کیا اسرائیل غزہ میں مظالم کا اعتراف کرے گا؟
غزہ میں بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ پر، جس کے نتیجے میں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم ہوئے، اسرائیل کی وہی مانوس اور تھکا دینے والی تردیدیں سامنے آئیں جو بارہا سننے کو ملتی ہیں۔ لیکن اسرائیلی حکام کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ حسب معمول جلدی میں لگائے جانے والے الزامات جیسے ’بہتان پر مبنی ڈھونگ، پروپیگنڈا مواد‘، حتیٰ کہ یہ دلیل کہ حماس شہری علاقوں میں سرگرم ہے (جو واقعی ہے) — اب اس مفصل 86 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں پیش کیے گئے مضبوط شواہد کے سامنے کمزور پڑتے جا رہے ہیں، جس کا جائزہ قانونی ماہرین نے لیا ہے۔ صرف اتنا نہیں کہ رپورٹ میں، غزہ کے ہسپتالوں میں خدمات انجام دینے والے غیر ملکی کے، جن میں برطانوی ڈاکٹر بھی شامل ہیں، شواہد کی تائید کرتے ہوئے، ان بچوں کی اموات کو تفصیل سے دستاویزی شکل دی گئی ہے جنہیں سنائپرز اور ڈرونز کے ذریعے حساس اعضا پر گولیاں مار کر زخمی کیا گیا۔ رہائشی عمارتوں، سکولوں اور بے گھر افراد کے کیمپوں پر مہلک اور وسیع فضائی حملے کیے گئے جہاں بچوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 24/06/2026
چین، پاکستان روایتی دوستی وسیع ہوتی جائے گی وقت کے گزرنے اور پہاڑوں اور دریاؤں کی گواہی کے ساتھ، 2026 میں چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہوں گے۔ 75 سال کے طوفان اور بارش میں ساتھ رہنا، 75 سال ایک دوسرے کی مدد اور حمایت کرنا، چین اور پاکستان نے پہاڑوں اور سمندروں کی رکاوٹیں…
pakistansinfocus.wordpress.com
چین، پاکستان روایتی دوستی وسیع ہوتی جائے گی
وقت کے گزرنے اور پہاڑوں اور دریاؤں کی گواہی کے ساتھ، 2026 میں چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہوں گے۔ 75 سال کے طوفان اور بارش میں ساتھ رہنا، 75 سال ایک دوسرے کی مدد اور حمایت کرنا، چین اور پاکستان نے پہاڑوں اور سمندروں کی رکاوٹیں عبور کیں، نظریاتی اختلافات سے ماورا ہوئے، اور بین الاقوامی حالات کے اتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے ایک مستحکم اور پائیدار ’ہر موسم‘ میں اسٹریٹجک شراکت داری قائم کی، جس سے ایک ایسی دوستی پروان چڑھی جو کہ 'پہاڑوں سے اونچی، سمندر سے گہری، شہد سے میٹھی اور فولاد کی طرح سخت' ہے۔ 21 اپریل 2015 کو، صدر ژی جن پنگ نے پاکستانی پارلیمنٹ میں ایک اہم تقریر کرتے ہوئے کہا: 'چین اور پاکستان کی روایتی دوستی بالکل اسی طرح پھیلتی جائے گی جیسے قراقرم ہائی وے پھیلا اور وسعت اختیار کرتا ہے۔' یہ جذبات سے بھرپور اور معنی میں گہری بات، چین اور پاکستان کی دوستی کی تاریخی بنیاد اور روحانی جوہر کو درست طور پر بیان کرتی ہے، اور نئے دور میں چین اور پاکستان کی ’ہر موسم‘ دوستی کو مضبوط اور دیرپا رکھنے کی رہنمائی کرتی ہے۔ قراقرم ہائی وے، جو قراقرم پہاڑوں، ہندوکش پہاڑوں، پامیر کے بلند علاقے اور ہمالیہ کے درمیان سرک جاتی ہے، بلند و بالا پہاڑوں سے گزرتی ہے، تیز دھار ندیوں اور دروں کو عبور کرتی ہے، یہ چین اور پاکستان کے عوام کی محنت اور جانفشانی سے مل کر بنائی گئی دوستی کا نشان ہے۔ …
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 23/06/2026
اے آئی ’چند ماہ میں‘ تباہ کن سائبر خطرہ بن سکتی ہے اعلیٰ درجے کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ماڈلز کے بارے میں فائیو آئیز انٹیلی جنس ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ چند ماہ کے اندر کاروباروں اور حکومتوں کو تباہ کن نقصان پہنچانے کی صلاحیت پیدا کر سکتے ہیں۔ آسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ، برطانیہ اور…
pakistaninsiders.wordpress.com
اے آئی ’چند ماہ میں‘ تباہ کن سائبر خطرہ بن سکتی ہے
اعلیٰ درجے کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ماڈلز کے بارے میں فائیو آئیز انٹیلی جنس ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ چند ماہ کے اندر کاروباروں اور حکومتوں کو تباہ کن نقصان پہنچانے کی صلاحیت پیدا کر سکتے ہیں۔ آسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ، برطانیہ اور امریکہ پر مشتمل اس انٹیلی جنس اتحاد نے کہا ہے کہ پرانے اور غیر معاونت یافتہ سافٹ ویئر پر چلنے والے اہم نظام، نئے اے آئی ماڈلز کے باعث شدید خطرے میں ہیں کیونکہ یہ ماڈلز برے عناصر کے لیے سائبر حملے کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیں گے۔ مشترکہ بیان میں فائیو آئیز ایجنسیوں نے کہا کہ رہنماؤں کو اس تیزی سے ترقی کرتی ہوئی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ’فوری طور پر اقدامات‘ کرنے چاہییں۔ بیان میں کہا گیا: ’فرنٹیئر اے آئی ماڈلز موجودہ صنعتی توقعات سے آگے نکل سکتے ہیں، جو حملہ آور اور دفاعی دونوں قسم کی سائبر صلاحیتوں کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیں گے۔ اس کی ٹائم لائن سال نہیں بلکہ مہینے ہے۔‘
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 23/06/2026
اوپیک اور اوپیک پلس کیا ہے؟ اوپیک پلس 23 تیل برآمد کرنے والے ممالک کا ایک گروپ ہے جو باقاعدگی سے اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے ملاقات کرتا ہے کہ عالمی منڈی میں کتنا خام تیل فروخت کیا جائے۔ اس گروپ کے مرکز میں اوپیک (آرگنائزیشن آف دی پیٹرولیم ایکسپورٹنگ کنٹریز) کے 13 رکن ممالک ہیں، جو زیادہ تر مشرقِ…
pakistaninsiders.wordpress.com
اوپیک اور اوپیک پلس کیا ہے؟
اوپیک پلس 23 تیل برآمد کرنے والے ممالک کا ایک گروپ ہے جو باقاعدگی سے اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے ملاقات کرتا ہے کہ عالمی منڈی میں کتنا خام تیل فروخت کیا جائے۔ اس گروپ کے مرکز میں اوپیک (آرگنائزیشن آف دی پیٹرولیم ایکسپورٹنگ کنٹریز) کے 13 رکن ممالک ہیں، جو زیادہ تر مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے ممالک پر مشتمل ہیں۔ اوپیک 1960 میں ایک کارٹل کے طور پر قائم کی گئی تھی، جس کا مقصد دنیا بھر میں تیل کی رسد اور اس کی قیمت کا تعین کرنا تھا۔ اوپیک کے رکن ممالک دنیا کے کل خام تیل کا تقریباً 30 فیصد پیدا کرتے ہیں۔ سعودی عرب اس گروپ کے اندر سب سے بڑا واحد تیل فراہم کرنے والا ملک ہے جو یومیہ ایک کروڑ سے زائد بیرل تیل پیدا کرتا ہے۔ سنہ 2016 میں جب تیل کی قیمتیں خاص طور پر کم تھیں، اوپیک نے 10 دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ مل کر اوپیک پلس تشکیل دیا۔ توسیع شدہ گروپ کے اراکین میں روس بھی شامل ہے، جو یومیہ ایک کروڑ سے زیادہ بیرل تیل پیدا کرتا ہے۔ مجموعی طور پر اوپیک پلس کے ممالک دنیا کے کل خام تیل کا لگ بھگ 40 فیصد پیدا کرتے ہیں۔ توانائی کے ادارے سے وابستہ کیٹ ڈوریان کا کہنا ہے کہ ’اوپیک پلس منڈی میں توازن قائم رکھنے کے لیے رسد اور طلب کو ہم آہنگ کرتا ہے۔‘ ان کے مطابق ’جب تیل کی طلب میں کمی آتی ہے تو رسد کم کر کے قیمتیں بلند رکھی جاتی ہیں۔‘ یہ تنظیم منڈی میں تیل کی مقدار بڑھا کر قیمتیں کم بھی کر سکتی ہے۔ بشکریہ بی بی سی اردو
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 22/06/2026
امریکہ ایران ثالثی سے پاکستان کو کیا حاصل ہوا؟ پاکستان کے حوالے سے کوئی اچھی خبر آ جائے تو اطراف میں کچھ مزاج برہم ہو جاتے ہیں۔ اسی برہمی میں اس سوال کی تکرار سامنے آ رہی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرتے ہوئے انہیں ایک معاہدے پر رضامند کر کے پاکستان کو کچھ حاصل بھی ہوا یا اس نے صرف مشقت…
pakistaninsiders.wordpress.com
امریکہ ایران ثالثی سے پاکستان کو کیا حاصل ہوا؟
پاکستان کے حوالے سے کوئی اچھی خبر آ جائے تو اطراف میں کچھ مزاج برہم ہو جاتے ہیں۔ اسی برہمی میں اس سوال کی تکرار سامنے آ رہی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرتے ہوئے انہیں ایک معاہدے پر رضامند کر کے پاکستان کو کچھ حاصل بھی ہوا یا اس نے صرف مشقت ہی اٹھائی؟ آئیے اس سوال کا سیدھا، سادہ، آسان اور مختصر جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ کچھ عرصے سے پاکستان کٹہرے میں کھڑا تھا۔ کبھی ایک الزام لگتا تھا، کبھی دوسرا۔ کبھی ایف اے ٹی ایف میں صفائیاں دینا پڑتی تھیں، کبھی دنیا میں اپنے سافٹ امیج کے لیے پریشان ہونا پڑتا تھا۔ اب وہ کٹہرے سے نکلا اور سیدھا ثالث کی مسند فضیلت پر جا بیٹھا۔ اس نے وہ ذمہ داری سنبھال لی جسے بڑی بڑی طاقتوں اور خود اقوام متحدہ میں ہمت نہ تھی کہ ادا کر پاتے۔ اب وہ دنیا کو اپنی صفائیاں نہیں دے رہا تھا، اب وہ دنیا پر منڈلاتی ایک خوفناک جنگ کے سامنے ڈھال بنا کھڑا تھا۔ اب اس کی طرف انگلیاں نہیں اٹھ رہی تھی، اب اس کی جانب نگاہیں اٹھ رہی تھیں۔ یہ پہلا فائدہ تھا۔ دوسرا فائدہ پاکستان کو یہ ہوا کہ اس نے تنہائی کے مفروضے کو باطل ثابت کر دیا۔ ابھی کل کی بات ہے، یہی ڈونلڈ ٹرمپ الیکشن جیتے تو جنوبی ایشیا پر نظر رکھنے والے ماہرین اور تجزیہ کار اس ایک بات پر بالعموم متفق تھے کہ پاکستان اب امریکہ کے لیے اتنا اہم نہیں رہا، وہ بین الاقوامی سیاست میں غیر متعلق ہو چکا ہے۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 14/06/2026
ٹرمپ کی ’خیالی دنیا‘ اور امریکہ کا مستقبل 80 برس کی عمر۔ نہ صرف امریکہ کے عظیم ترین صدر، جو دن میں خواب دیکھتے ہیں کہ ان کے تراشیدہ نقوش رشمور پہاڑی پر کندہ ہوں، بلکہ اس اعلیٰ منصب پر فائز ہونے والے تاریخ کے معمر ترین شخص بھی۔ جی ہاں، ڈونلڈ ٹرمپ 80 برس کے ہونے جا رہے ہیں۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ…
pakistaninsiders.wordpress.com
ٹرمپ کی ’خیالی دنیا‘ اور امریکہ کا مستقبل
80 برس کی عمر۔ نہ صرف امریکہ کے عظیم ترین صدر، جو دن میں خواب دیکھتے ہیں کہ ان کے تراشیدہ نقوش رشمور پہاڑی پر کندہ ہوں، بلکہ اس اعلیٰ منصب پر فائز ہونے والے تاریخ کے معمر ترین شخص بھی۔ جی ہاں، ڈونلڈ ٹرمپ 80 برس کے ہونے جا رہے ہیں۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ بات ہر ایک کے ذہن میں ہے۔ وائٹ ہاؤس نے شدید ردعمل ظاہر کیا جب ایک وائرل ویڈیو کلپ میں صدر کو اوول آفس میں ایک تقریب کے دوران ایک جانب جھکے ہوئے اور آنکھیں بند کیے دیکھا گیا، یقیناً وہ صرف آنکھوں کو آرام دے رہے تھے۔ وہ زندگی کے اس مرحلے میں ہیں جب اکثر حضرات کام کو بھول جانا پسند کرتے ہیں، گالف کھیلتے ہیں، فلوریڈا کے کسی بھڑکیلے ریزورٹ میں آرام کرتے ہیں اور دوپہر کی نیندیں لیتے ہیں۔ خیر، اس لحاظ سے شاید ڈونلڈ بھی زیادہ مختلف نہیں، لیکن کم از کم انہوں نے یہ لالچ نہیں کیا کہ امریکہ کی ڈھائی سو سالہ تقریبات کے فائٹ سٹیج کا نام ’ٹرمپ 80‘ رکھ دیتے۔ شاید اس لیے کہ یہ ہم سب کو بہت زیادہ یاد دلاتا کہ دنیا کا مستقبل ایک ایسے شخص کے ہاتھوں میں ہے جو آہستہ آہستہ حقیقت پر اپنی جو بھی گرفت تھی، اسے کھوتا جا رہا ہے۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 14/06/2026
ایرانی حکومت کب تک مقابلہ کر سکتی ہے؟ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا مستقبل محض بچنے پر نہیں بلکہ واشنگٹن کے ساتھ ہونے والے کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کی شرائط پر زیادہ منحصر ہے۔ جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملہ شروع کیا تو متنازع پیش گوئیوں کی ویب سائٹ پولی مارکیٹ پر شرط لگانے والے…
pakistaninsiders.wordpress.com
ایرانی حکومت کب تک مقابلہ کر سکتی ہے؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا مستقبل محض بچنے پر نہیں بلکہ واشنگٹن کے ساتھ ہونے والے کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کی شرائط پر زیادہ منحصر ہے۔ جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملہ شروع کیا تو متنازع پیش گوئیوں کی ویب سائٹ پولی مارکیٹ پر شرط لگانے والے تقریباً 59 فیصد افراد کا خیال تھا کہ 'آپریشن ایپک فیوری' کے دوران ایرانی ریجیم بچ جائے گی۔ یہ شرح بڑھ کر 99 فیصد ہو چکی ہے۔ صرف ایک فیصد افراد کا ماننا ہے کہ جون کے اختتام تک ایرانی حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ 28 فروری کو جب امریکی اور اسرائیلی ہتھیار ایران پر برس رہے تھے تو 55 فیصد افراد نے شرط لگائی تھی کہ حکومت 2027 کے اختتام تک گر جائے گی۔ تاہم پیر تک صرف 13 فیصد لوگ اس رائے کے حامی رہ گئے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی کے بار بار نفاذ اور خاتمے، مسلسل میزائلوں کے تبادلے، آبنائے ہرمز کی جاری ناکہ بندی اور امریکہ۔ایران جنگ کے 100 دن مکمل ہونے کے باوجود ایرانی حکومت فوری طور پر زوال کا شکار ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ صوفان سینٹر کی سینیئر ڈائریکٹر کیرولین روز نے کہا، 'بلاشبہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں نے ایرانی معیشت اور سلامتی دونوں کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے، لیکن ہم یقین سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ حکومت کی بقا کے لیے وجودی خطرہ ثابت ہو گا۔'
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 07/06/2026
الطاف حسن قریشی 16 مئی 2026ء کو یہ خبر دُکھ اور افسوس کے ساتھ سُنی گئی ہے کہ ماہنامہ’’اُردو ڈائجسٹ‘‘ کے مدیر و بانی اور وطنِ عزیز کے معروف دانشور جناب الطاف حسن قریشی نے دُنیا کو خیر باد کہہ دیا ہے : بے شک ہر انسان کو اپنے خالق و مالک، اللہ، ہی کی جانب لَوٹ کر جانا ہے۔ مرحوم معروف ہفت روزہ…
pakistansinfocus.wordpress.com
الطاف حسن قریشی
16 مئی 2026ء کو یہ خبر دُکھ اور افسوس کے ساتھ سُنی گئی ہے کہ ماہنامہ’’اُردو ڈائجسٹ‘‘ کے مدیر و بانی اور وطنِ عزیز کے معروف دانشور جناب الطاف حسن قریشی نے دُنیا کو خیر باد کہہ دیا ہے : بے شک ہر انسان کو اپنے خالق و مالک، اللہ، ہی کی جانب لَوٹ کر جانا ہے۔ مرحوم معروف ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ کے بھی بانی تھے۔ الطاف حسن قریشی صاحب نہیں گزرے، ایک نظریاتی عہد اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔ ایک شخصیت میں پنہاں ایک مکمل ادارہ انجام سے ہمکنار ہُوا ہے۔ بِلاشبہ الطاف صاحب کا انتقال قومی صحافت کا نقصان ہے۔ آپ 6 عشروں سے زائد عرصے تک ہماری قومی صحافت و سیاست پر چھائے رہے۔ ایک زمانے میں الطاف صاحب نے ایک قومی روزنامے کا اجرا بھی کیا تھا۔ یہ روزنامہ اب بھی کراچی سے شائع ہوتا ہے، مگر جماعتِ اسلامی کے زیر اہتمام و ملکیت۔ الطاف حسن قریشی صاحب مرحوم جماعتِ اسلامی و بانیِ جماعتِ اسلامی کے چاہنے والوں میں بھی سرِ فہرست تھے۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ سے اُن کی عقیدت و محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی ۔ اُنہوں نے مودودی صاحب علیہ رحمہ کے انٹرویوز بھی کیے اور اُن کی شخصیت اور وسیع دینی خدمات پر ’’اُردو ڈائجسٹ‘‘ کے خاص نمبرز بھی شائع کر کے اپنی محبتوں کا عملی ثبوت دیا۔ پاکستان بھر کی ماہنامہ صحافت میں سسپنس ڈائجسٹ، سب رنگ ڈائجسٹ ، قومی ڈائجسٹ اور سیارہ ڈائجسٹ نے بڑی شہرت حاصل کی، مگر اُردو ڈائجسٹ کی شہرت اِن سب میں ممتاز و منفرد تھی۔ الطاف صاحب سے لاتعداد یادیں وابستہ ہیں۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 03/06/2026
آبنائے ملاکا ایشیا کا معاشی پھیپھڑا ہے ساتویں بحری بیڑے کا ہیڈکوارٹر یوکوسوکا (جاپان) امریکی بحریہ کا بیرونِ ملک سب سے بڑا فارورڈ بیس ہے۔ ساتواں بیڑہ اوکی ناوا اور سیسیبو (جاپان) کے علاوہ سنگاپور کا نیول بیس بھی استعمال کر سکتا ہے۔ مغربی بحرالکاہل سے بحرِ ہند کے افریقی ساحل تک کے وسیع پانیوں کی…
pakistaninsiders.wordpress.com
آبنائے ملاکا ایشیا کا معاشی پھیپھڑا ہے
ساتویں بحری بیڑے کا ہیڈکوارٹر یوکوسوکا (جاپان) امریکی بحریہ کا بیرونِ ملک سب سے بڑا فارورڈ بیس ہے۔ ساتواں بیڑہ اوکی ناوا اور سیسیبو (جاپان) کے علاوہ سنگاپور کا نیول بیس بھی استعمال کر سکتا ہے۔ مغربی بحرالکاہل سے بحرِ ہند کے افریقی ساحل تک کے وسیع پانیوں کی نگرانی پر مامور ساتویں بیڑے کا بنیادی کام چین کی بڑھتی ہوئی بحری طاقت اور سب سے گنجان آبنائے ملاکا پر نظر رکھنا ہے۔دنیا کی پانچ بڑی ٹرانس شپمنٹ بندرگاہوں میں سے چار آبنائے ملاکا کے آس پاس قائم ہیں۔ سب سے بڑی ٹرانس شپمنٹ پورٹ سنگاپور عین آبنائے کے دہانے پر ہے۔اس پورٹ پر دو سو جہاز راں کمپنیوں کا سامان پہنچتا ہے اور پھر یہ سامان دنیا بھر میں چھ سو مختلف بندرگاہوں تک بھیجا جاتا ہے۔ سنگاپور کے آمنے سامنے ملائشیا کی ٹرانس شپمنٹ پورٹ کلانگ واقع ہے۔ جنوبی کوریا کی بوسان ٹرانس شپمنٹ پورٹ اور مصروف ترین عالمی بندرگاہ شنگھائی کی سانسوں کا دار و مدار بھی آبنائے ملاکا کی بلارکاوٹ ٹریفک پر ہے۔ یہ آبنائے بحر ہند کو بحیرہ جنوبی چین سے جوڑتی ہے۔ نو سو کلومیٹر ( پانچ سو ساٹھ میل ) طویل یہ آبی گذرگاہ ملائشیا ، سنگاپور اور انڈونیشیا کی حدود چھوتی ہے۔ کہیں اس کی چوڑائی ڈھائی سو کلومیٹر اور ایک جگہ محض دو اعشاریہ آٹھ کلومیٹر ہے۔ کہیں اس کی گہرائی ساڑھے چھ سو فٹ تو کہیں ایک سو بیس فٹ ہے۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 18/05/2026
کیا امریکہ عالمی قیادت کھو چکا؟ 28 فروری 2026ء عالمی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ کہ واشنگٹن میں عالمی قیادت کی صلاحیت کرچیاں بن کر یورپ اور ایشیا کے گلی کوچوں میں بکھر گئی ہے۔مجھے تو فخر ہے کہ ہم زندہ تھے تو یہ روح پرور منظر دیکھ لیا۔ اس کا سہرا صرف اور صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےسر ہے۔ ان کی کہہ…
pakistaninsiders.wordpress.com
کیا امریکہ عالمی قیادت کھو چکا؟
28 فروری 2026ء عالمی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ کہ واشنگٹن میں عالمی قیادت کی صلاحیت کرچیاں بن کر یورپ اور ایشیا کے گلی کوچوں میں بکھر گئی ہے۔مجھے تو فخر ہے کہ ہم زندہ تھے تو یہ روح پرور منظر دیکھ لیا۔ اس کا سہرا صرف اور صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کےسر ہے۔ ان کی کہہ مکرنیوں نے یورپ کا اعتماد بحال کیا۔ ایشیا کو اپنے وسائل اور جواہر پر غور کرنے کی ہمت دی۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ واشنگٹن کا متبادل اب بیجنگ بن گیا ہے یا تہران برسلز یا پیرس یا ماسکو۔ لیکن یہ پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اب عالمی قیادت کثیر الجہات ہو گئی ہے۔ صرف واشنگٹن میں محدود نہیں رہی۔ انگریزی میں Multipolar کہہ سکتے ہیں۔ ٹرمپ کی مقبولیت بدستور کم ہو رہی ہے حالیہ جائزوں میں 34 فیصد تک رہ گئی ہے۔ ایک حالیہ سروے میں 60 فیصد امریکیوں کو اب اپنے صدر پر اعتبار نہیں رہا۔ 61 فیصد کا کہنا ہے کہ 79 سالہ ٹرمپ کی عمر جیسے جیسے بڑھ رہی ہے وہ ڈانواں ڈول Erratic ہوتے جا رہے ہیں۔ 53 فیصد امریکی سوچتے ہیں کہ ان کی ذاتی مالیاتی منصوبہ بندی سخت خطرے میں ہے۔ 51 فیصد کو ٹرمپ کی اقتصادی پالیسیوں سے اتفاق نہیں رہا۔ ان کی اپنی پارٹی ریپبلکن کو ٹرمپ کے جرمنی سے اپنے پانچ ہزار فوجی واپس بلانے سے یورپ میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے ۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 18/05/2026
خلیجی جنگ کے منفی اثرات قارئین ! اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ ایران پر مسلط کی گئی امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے پوری دنیا کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور غیر یقینی کی جاری صورتحال انسانی زندگیوں کو مزید خطرات لاحق ہونے کا عندیہ دے رہی ہے۔ یہ خطرات صرف جنگ سے ہونے والی انسانی تباہ کاریوں کے…
pakistansinfocus.wordpress.com
خلیجی جنگ کے منفی اثرات
قارئین ! اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ ایران پر مسلط کی گئی امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے پوری دنیا کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور غیر یقینی کی جاری صورتحال انسانی زندگیوں کو مزید خطرات لاحق ہونے کا عندیہ دے رہی ہے۔ یہ خطرات صرف جنگ سے ہونے والی انسانی تباہ کاریوں کے نہیں بلکہ دنیا میں بھوک، مہنگائی، بیروزگاری کے بڑھنے، روزمرہ استعمال کی اشیاء، ادویات اور خوراک و اجناس کی قلت پیدا ہونے کے خطرات بھی منڈلا رہے ہیں۔ پاکستان کی سول اور عسکری قیادتوں نے بے شک ان خطرات کو ٹالنے کیلئے ہی امریکہ اور ایران کو اپنی ثالثی اور میزبانی میں مذاکرات کی میز پر بٹھایا۔ ہمارے اس کردار کو دنیا بھر میں سراہا جارہا ہے اور ہماری قیادتوں کیلئے اقوام عالم میں داد و تحسین کے ڈونگرے برس رہے ہیں۔ اس کے باوجود خلیجی جنگ کی پیدا کردہ معاشی ناہمواریوں کی صورتحال کے ہماری معیشت پر اثرات مرتب ہونا فطری امر تھا تاہم ہماری قیادتوں کے فہم و تدبر سے ملک میں توانائی کا کوئی بحران پیدا نہیں ہوا اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باوجود ایران کی اجازت سے پیٹرول کے ٹینکر پاکستان کی بندرگاہوں تک پہنچتے رہے ہیں جس پر حکومتی مشینری کی جانب سے واضح عندیہ بھی دیا جاتا رہا کہ ہمارے پاس پیٹرول کے اتنے عرصے تک کیلئے ذخائر موجود ہیں۔ …
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 18/05/2026
ٹرمپ کا مجوزہ امن فارمولا : امریکہ کی پسپائی کے اشارے زیادہ تر لوگوں میں فطری طور پر ’مذاکرات کو جنگ‘ پر ترجیح دینے کا رجحان ہوتا ہے اور وہ امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید حملوں سے پیچھے ہٹنے کے کسی بھی اشارے کو مثبت سمجھتے ہیں۔ تاہم، خواہ اس میں کچھ حد تک خوش فہمی بھی شامل ہو، امریکہ اور ایران کی…
pakistaninsiders.wordpress.com
ٹرمپ کا مجوزہ امن فارمولا : امریکہ کی پسپائی کے اشارے
زیادہ تر لوگوں میں فطری طور پر ’مذاکرات کو جنگ‘ پر ترجیح دینے کا رجحان ہوتا ہے اور وہ امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید حملوں سے پیچھے ہٹنے کے کسی بھی اشارے کو مثبت سمجھتے ہیں۔ تاہم، خواہ اس میں کچھ حد تک خوش فہمی بھی شامل ہو، امریکہ اور ایران کی حالیہ صورت حال یہ ظاہر کرتی ہے کہ واشنگٹن اپنی پوزیشن سے کافی پیچھے ہٹ رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی مستقبل میں ایک ایسے معاہدے کا امکان پیدا ہو رہا ہے جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ’ڈیل‘ کہہ سکتے ہیں۔ گذشتہ چند دنوں میں ٹرمپ کے دو قریبی ساتھیوں، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مختلف انداز میں کہا ہے کہ ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے ابتدائی مقاصد حاصل کر لیے گئے ہیں۔ جس آپریشن میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کی گئی تھی، اسے صرف دو دن بعد ہی روک دیا گیا تھا، اور خود ٹرمپ نے بھی ایران کے ساتھ مذاکرات میں ’اچھی پیش رفت‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک ’معاہدہ‘ ممکن ہے۔ اس پیش رفت کا کچھ حصہ ایک ایک صفحے پر مشتمل 14 نکاتی دستاویز میں ظاہر ہوتا ہے، جس کے بارے میں امریکی خبر رساں ادارے ’ایکسِیوز‘ نے رپورٹ کیا ہے۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 30/04/2026
ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو ایک کونے میں لا کھڑا کیا ہے ’ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو ایک کونے میں لا کھڑا کیا اور اب وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ڈھونڈ پا رہے‘ ایرن ڈیوڈ ملر، کارنیگی انڈاؤمنٹ سے وابستہ سینئر فیلو ہیں۔ امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع مگر ناکہ بندی جاری رکھنے کے بیان پر ایکس پر لکھتے…
pakistaninsiders.wordpress.com
ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو ایک کونے میں لا کھڑا کیا ہے
’ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو ایک کونے میں لا کھڑا کیا اور اب وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ڈھونڈ پا رہے‘ ایرن ڈیوڈ ملر، کارنیگی انڈاؤمنٹ سے وابستہ سینئر فیلو ہیں۔ امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع مگر ناکہ بندی جاری رکھنے کے بیان پر ایکس پر لکھتے ہیں کہ ’یہ اپنی مرضی سے چھیڑی گئی جنگ کی حماقت ہے۔ اب ہمیں ایک طویل دور کا سامنا ہے جہاں نہ کوئی مذاکرات ہو رہے ہیں، نہ اس بات کی کوئی ضمانت ہے کہ کشیدگی میں اضافہ نہیں ہو گا۔ ’آبنائے ہرمز سے کچھ بھی گزر نہیں رہا، اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ جبکہ امریکہ کے پاس اس صورتحال سے نکلنے کا کوئی واضح راستہ موجود نہیں ہے۔‘ ایک اور پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’ایران نے 1979–1980 کے یرغمالی بحران کے ذریعے ایک صدر کو ذلیل کیا اور اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ اور اب اس نے ایک اور صدر کو اُس جنگ میں، جس کا آغاز اسی نے کیا تھا، جغرافیے کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے عملاً یرغمال بنا لیا ہے۔‘ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی کیٹلن کولنز نے سینیٹر الزبتھ وارن کا ایک کلپ شیئر کی، جس میں وہ کہتی ہیں: ’اب ہمارے پاس جنگ بندی کے لیے کوئی ٹائم لائن نہیں ہے، ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے بھی کوئی ٹائم لائن نہیں، اور سچ تو یہ ہے کہ جنگ کے خاتمے کی بھی کوئی ٹائم لائن موجود نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو ایک کونے میں لا کھڑا کیا ہے اور اب وہ وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ڈھونڈ پا رہے۔‘ بشکریہ بی بی سی اردو
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 30/04/2026
امریکا ایران معاہدہ کیوں تعطل کا شکار؟ بڑی رکاوٹیں کونسی ہیں؟ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ تاحال کئی اہم نکات پر اختلافات کے باعث تعطل کا شکار ہے، جبکہ عالمی نظریں دونوں ممالک کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے ایران کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ تجاویز سے متفق ہونے کے…
pakistaninsiders.wordpress.com
امریکا ایران معاہدہ کیوں تعطل کا شکار؟ بڑی رکاوٹیں کونسی ہیں؟
امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ تاحال کئی اہم نکات پر اختلافات کے باعث تعطل کا شکار ہے، جبکہ عالمی نظریں دونوں ممالک کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے ایران کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ تجاویز سے متفق ہونے کے امکانات کم ہیں، کیونکہ ان میں جنگ بندی کے بدلے جوہری پروگرام پر کوئی بڑی رعایت شامل نہیں۔ ایران کا نیوکلیئر پروگراماہم تنازعات میں سرِفہرست ایران کا جوہری پروگرام ہے، جہاں امریکا چاہتا ہے کہ تہران مکمل طور پر اپنا نیوکلیئر پروگرام ختم کر دے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ ایسی پابندیاں محدود مدت کے لیے ہونی چاہئیں۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 30/04/2026
وہ چار طریقے جن سے ٹرمپ کی جنگ امریکہ کو کمزور کر رہی ہے نیویارک ٹائمز کا یہ شاندار اداریہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ کیسی علمی شائستگی اور دلیل سے سب باتیں کہی گئی ہیں۔ ترجمہ محترم شعیب عادل کا ہے،ان کی وال سے یہ لیا ہے۔ وہ چار طریقے جن سے ٹرمپ کی جنگ امریکہ کو کمزور کر رہی ہے جب صدر ٹرمپ نے 28…
pakistaninsiders.wordpress.com
وہ چار طریقے جن سے ٹرمپ کی جنگ امریکہ کو کمزور کر رہی ہے
نیویارک ٹائمز کا یہ شاندار اداریہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ کیسی علمی شائستگی اور دلیل سے سب باتیں کہی گئی ہیں۔ ترجمہ محترم شعیب عادل کا ہے،ان کی وال سے یہ لیا ہے۔ وہ چار طریقے جن سے ٹرمپ کی جنگ امریکہ کو کمزور کر رہی ہے جب صدر ٹرمپ نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا، تو ٹائمز نے ان کے اس فیصلے کو لاپرواہی قرار دیا تھا۔ انہوں نے کانگریس کی منظوری یا زیادہ تر اتحادیوں کی حمایت حاصل کیے بغیر جنگ کا آغاز کیا۔ انہوں نے امریکی عوام کے سامنے بودی اور متضاد وضاحتیں پیش کیں۔ وہ یہ بتانے میں ناکام رہے کہ حکومت کی تبدیلی کی یہ سادہ لوح کوشش، عراق، افغانستان اور دیگر مقامات پر امریکہ کی سابقہ کوششوں سے بہتر نتائج کیسے دے گی۔ اس کے بعد کے چھ ہفتوں میں، ان کی اس جنگ کی لاپرواہی مزید واضح ہو گئی ہے۔ انہوں نے محتاط فوجی منصوبہ بندی کو نظر انداز کیا اور محض جبلت اور خوش فہمی کی بنیاد پر کام کیا۔ ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، جب اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے مسٹر ٹرمپ کو پیش گوئی کی کہ ان حملوں سے ایران میں عوامی بغاوت بھڑک اٹھے گی، تو سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے اس خیال کو "مضحکہ خیز" قرار دیتے ہوئے اس کی تردید کی تھی۔ اس کے باوجود مسٹر ٹرمپ آگے بڑھے۔ وہ اس قدر پراعتماد تھے کہ انہوں نے ایران کے پاس دستیاب ایک واضح جوابی اقدام کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں بنایا: یعنی آبنائے ہرمز کو بند کر کے تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ کرنا۔ اور نہ ہی انہوں نے افزودہ یورینیم کو محفوظ بنانے کے لیے کوئی قابل عمل حکمت عملی تیار کی، جسے ایران اپنے جوہری پروگرام کی دوبارہ تعمیر کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 30/04/2026
ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کی دلدل ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کے علاوہ دنیا بھر کو نظر انداز کر کے ایران پر یلغار کرنے نکلے، آبنائے ہرمز میں پہنچے تو انہیں پھر سے عالمی برادری یاد آنے لگی ہے ۔ اس بدلتے رویے کو کیا نام دیا جائے؟ کیا یہ سمجھا جائے کہ آبنائے ہرمز کے منجدھار میں وہ بین الاقوامی برادری کی اہمیت کو…
pakistaninsiders.wordpress.com
ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کی دلدل
ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کے علاوہ دنیا بھر کو نظر انداز کر کے ایران پر یلغار کرنے نکلے، آبنائے ہرمز میں پہنچے تو انہیں پھر سے عالمی برادری یاد آنے لگی ہے ۔ اس بدلتے رویے کو کیا نام دیا جائے؟ کیا یہ سمجھا جائے کہ آبنائے ہرمز کے منجدھار میں وہ بین الاقوامی برادری کی اہمیت کو سمجھنے لگ گئے ہیں یا اب بھی ان ان کا رویہ وہی ہے اور وہ پہلے جیسے طنطنے کے ساتھ، دنیا کو فرمان جاری کر رہے ہیں کہ میرا حکم سنتے ہی جنگی جہازوں کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے روانہ کر دو؟ یعنی آبنائے ہرمز کی گھمن گھیریوں میں وہ دنیا کے ساتھ چلنے کو تیار ہو رہے ہیں یا اب بھی اپنی طاقت کی لاٹھی دنیا کی پشت پر برسا رہے ہیں کہ ہاتھ باندھ کر اور سر جھکا کر میرے پیچھے چلو، سنو اور اطاعت کرو۔ امریکی مزاج کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر رومن ایمپائر دنیا کو ہانک سکتی تھی تو امریکہ کیوں نہیں۔ امریکہ کو عالمی برادری کی تائید کی کوئی ضرورت نہیں، یہ عالمی برادری ہے، جو امریکہ کی محتاج ہے۔ امریکہ بین الاقوامی قانون کا پابند نہیں، جو امریکہ کے منہ سے نکلے وہی قانون ہے۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 30/04/2026
مفت انٹرنیٹ کے دور کا خاتمہ ہو رہا ہے؟ اس سے زیادہ جھنجھلانے والی کوئی بات نہیں ہو سکتی کہ ایک چیز جو پہلے مفت تھی، اب اس کے پیسے دینے پڑیں۔ سنیپ چیٹ کے صارفین اس خبر پر برہم ہیں کہ جلد ہی اگر ان کی پرانی ویڈیوز اور تصاویر پانچ جی بی سے بڑھ جائیں تو انہیں ذخیرہ کرنے کے لیے رقم دینی پڑے گی۔ سنیپ…
pakistaninsiders.wordpress.com
مفت انٹرنیٹ کے دور کا خاتمہ ہو رہا ہے؟
اس سے زیادہ جھنجھلانے والی کوئی بات نہیں ہو سکتی کہ ایک چیز جو پہلے مفت تھی، اب اس کے پیسے دینے پڑیں۔ سنیپ چیٹ کے صارفین اس خبر پر برہم ہیں کہ جلد ہی اگر ان کی پرانی ویڈیوز اور تصاویر پانچ جی بی سے بڑھ جائیں تو انہیں ذخیرہ کرنے کے لیے رقم دینی پڑے گی۔ سنیپ چیٹ نے کہا کہ اس کی ’میموریز‘ فیچر میں اب دس کھرب اجزا سے زائد مواد محفوظ ہے اور اسے محفوظ رکھنا سستا کام نہیں، لیکن کمپنی پر بڑے پیمانے پر کارپوریٹ لالچ کے الزامات لگ رہے ہیں۔ صارفین کی اس خفگی کی رومن دور سے آج تک سینکڑوں مثالیں موجود ہیں۔ روم میں پانی، حمام اور یہاں تک کہ گندم بھی مفت تھی۔ جب بھی ان بنیادی سہولتوں، خصوصاً مفت گندم کی قیمت مقرر کرنے کی بات ہوتی تو فسادات پھوٹ پڑتے۔ وِکٹورین انگلینڈ میں جب 1851 کی عظیم نمائش میں قیمت والے بیت الخلا پیش کیے گئے تو ہنگامہ مچ گیا۔ ایک پینی کے عوض صاف بیت الخلا، تولیہ اور جوتا پالش ملتی تھی۔ مگر ایک پینی غریبوں کے لیے پورے دن کے کھانے کے برابر تھی۔ ہمارے دور میں انٹرنیٹ ابتدا میں پوری طرح مفت تھا اور آج بھی اس کا بڑا حصہ ایسا ہی ہے۔ 2008 تک ’دی اکنامکس آف فری‘ کا تصور کچھ لوگوں کے نزدیک مستقبل کی راہ سمجھا جا رہا تھا۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 30/04/2026
ہیکروں کی جدید تکنیک سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ ہیکروں نے آپ کے فون کر ہیک کرنے اور موبائل فون پر سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے جدید طریقے استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔ مناسب احتیاطی تدابیر سے کام لے کر سائبر حملوں سے بچنا ممکن ہے۔ گذشتہ دو سال میں پاکستان میں سائبر خطرات میں 17 فیصد اور سپائی ویئر…
pakistaninsiders.wordpress.com
ہیکروں کی جدید تکنیک سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
ہیکروں نے آپ کے فون کر ہیک کرنے اور موبائل فون پر سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے جدید طریقے استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔ مناسب احتیاطی تدابیر سے کام لے کر سائبر حملوں سے بچنا ممکن ہے۔ گذشتہ دو سال میں پاکستان میں سائبر خطرات میں 17 فیصد اور سپائی ویئر حملوں میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ شناختی کارڈ ، فون نمبر، بینک کی تفصیلات یا پھر لوکیشن، حساس ذاتی معلومات سمجھی جاتی ہیں۔ اگر آپ ان معلومات کو محفوظ نہیں رکھتے تو آپ کی شناخت بغیر اجازت غیر قانونی کاموں کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ آپ کی ذاتی تصاویر اور ویڈیوز افشا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ آپ مالیاتی فراڈ کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔ سائبر دھوکے باز ایزی پیسہ یا بینک کی تفصیلات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ دھوکہ دہی سے معلومات حاصل کرنے بھیجے گئے پیغامات اور ای میلز، سائبر حملوں اور سپائی ویئر کی وجہ سے ایک عام واٹس ایپ صارف کا ڈیٹا بھی غیر محفوظ ہوتا ہے۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 30/04/2026
غزہ عالمی امن بورڈ کا قیام قارئین! غزہ کے نام پر سامنے آنیوالا نیا امریکی منصوبہ بظاہر امن کی زبان بولتا ہے، مگر اسکی ساخت، اختیار اور طریقہ کار سنجیدہ خدشات کو جنم دے رہے ہیں۔ یہ کوئی واضح فریم ورک نہیں بلکہ ایک مبہم خاکہ ہے جس میں طاقت، سرمایہ اور فیصلہ سازی چند ہاتھوں میں سمٹتی دکھائی دیتی ہے،…
pakistaninsiders.wordpress.com
غزہ عالمی امن بورڈ کا قیام
قارئین! غزہ کے نام پر سامنے آنیوالا نیا امریکی منصوبہ بظاہر امن کی زبان بولتا ہے، مگر اسکی ساخت، اختیار اور طریقہ کار سنجیدہ خدشات کو جنم دے رہے ہیں۔ یہ کوئی واضح فریم ورک نہیں بلکہ ایک مبہم خاکہ ہے جس میں طاقت، سرمایہ اور فیصلہ سازی چند ہاتھوں میں سمٹتی دکھائی دیتی ہے، جن کا فلسطین اور غزہ سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ سوال یہ نہیں کہ امن کون نہیں چاہتا، اصل سوال یہ ہے کہ امن کس کے اصولوں پر اور کن مقاصد کیلئے قائم کیا جارہا ہے۔ سب سے بنیادی اعتراض یہ ہے کہ اس طرح کا فورم اقوام متحدہ کے کردار کو کہاں لے جا کر کھڑا کرتا ہے۔ اگر عالمی تنازعات کے حل کیلئے ایک متوازی ڈھانچہ تشکیل دیا جارہا ہے ، جس میں شمولیت کیلئے بھاری مالی شرط رکھی گئی ہو اور قیادت تاحیات ایک ایسے فرد کے پاس رہے، جو اپنے ہی ملک میں متنازعہ ہے، تو پھر عالمی قانون، سلامتی کونسل اور بین الاقوامی اتفاق رائے کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ کیا یہ طریقہ نو آبادیاتی دور کی یاد نہیں دلاتا، جہاں فیصلے مقامی فریقین کے بغیر طاقتور دارالحکومتوں میں ہوتے تھے۔ اس منصوبے میں سب سے تشویشناک پہلو فلسطینی نمائندگی کا فقدان ہے۔ …
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 30/04/2026
گرین لینڈ کی مختصر تاریخ گرین لینڈ میں انسانی آبادکاری تقریباً 2500 قبل مسیح میں ہوئی جب آرکٹک خطے کے قدیم انویٹ (Eskimo) قبائل یہاں آباد ہوئے تھے۔ اس کے بعد وائکنگ دور میں تقریباً 982 عیسوی میں نارویجین وائکنگ ایرک دی ریڈ نے گرین لینڈ دریافت کیا اور یورپی آبادکاری کی بنیاد رکھی۔ 1261 میں گرین…
pakistaninsiders.wordpress.com
گرین لینڈ کی مختصر تاریخ
گرین لینڈ میں انسانی آبادکاری تقریباً 2500 قبل مسیح میں ہوئی جب آرکٹک خطے کے قدیم انویٹ (Eskimo) قبائل یہاں آباد ہوئے تھے۔ اس کے بعد وائکنگ دور میں تقریباً 982 عیسوی میں نارویجین وائکنگ ایرک دی ریڈ نے گرین لینڈ دریافت کیا اور یورپی آبادکاری کی بنیاد رکھی۔ 1261 میں گرین لینڈ نے باضابطہ طور پر ناروے کی بادشاہت کی اطاعت قبول کی اور نارویجین سلطنت کا حصہ بن گیا۔ اسی طرح 1380 میں ناروے اور ڈنمارک کے اتحاد کے بعد گرین لینڈ عملی طور پر ڈنمارک کے کنٹرول میں آ گیا۔ نوآبادیاتی دور یعنی 1721 میں ڈنمارک نے گرین لینڈ میں دوبارہ باضابطہ نوآبادی قائم کی اور مسیحی مشنری سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔ 1941 سے 1945 تک دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمنی کے ڈنمارک پر قبضے کے بعد امریکا نے یہاں جڑیں مضبوط کیں۔ …
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 30/04/2026
وہ سات وجوہات جن کے باعث امریکہ ویتنام جنگ ہار گیا دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ بلاشبہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت تھا اور اس کا خیال تھا کہ اس کی فوج بھی اسی طرح سب سے طاقتور ہے۔ مگر آٹھ سال کی جنگ میں بے شمار فوجیوں اور وسیع تر وسائل جھونکنے کے بعد بھی امریکہ کو شمالی ویتنام کی افواج اور ان…
pakistaninsiders.wordpress.com
وہ سات وجوہات جن کے باعث امریکہ ویتنام جنگ ہار گیا
دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ بلاشبہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت تھا اور اس کا خیال تھا کہ اس کی فوج بھی اسی طرح سب سے طاقتور ہے۔ مگر آٹھ سال کی جنگ میں بے شمار فوجیوں اور وسیع تر وسائل جھونکنے کے بعد بھی امریکہ کو شمالی ویتنام کی افواج اور ان کے گوریلا اتحادیوں، ویت کاننگ کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ امریکی لڑاکا دستوں کے حتمی انخلا کی 50 ویں سالگرہ (29 مارچ 1973) پر ہم نے چند ماہرین سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ امریکہ ویتنام کی جنگ کیسے ہارا۔ یہ سرد جنگ کا عروج تھا، اور کمیونسٹ اور سرمایہ دار عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف آمنے سامنے تھیں۔ دوسری جنگ عظیم سے دیوالیہ ہونے والے فرانس نے انڈوچائنا میں اپنی کالونی کو برقرار رکھنے کی کوشش کی مگر ناکام ہو گیا، اور ایک امن کانفرنس کے نتیجے میں آج کا ویتنام، شمال کی جانب کمیونسٹ اور جنوب میں امریکی حمایت یافتہ ریاست میں تقسیم کر دیا گیا۔ لیکن فرانسیسیوں کی شکست سے اس ملک میں تنازعہ ختم نہیں ہوا اور اس خوف کے باعث کہ اگر تمام ویتنام کمیونسٹ ہو گیا تو آس پاس کے ممالک بھی تباہ ہو جائیں گے، امریکہ ایک ایسی جنگ میں کود پڑا جو ایک دہائی تک جاری رہی اور اس میں لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں۔ تو پھر دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کس طرح غریب جنوب مشرقی ایشیا میں ایک نئی تشکیل شدہ ریاست کے باغیوں سے جنگ ہار گئی؟
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 30/04/2026
فلسطینی شناخت کے چار استعارے نسل پرست صیہونی نظریے کے بانی تھیوڈر ہرزل کے نزدیک جوڈیا سماریا (فلسطین کا قدیم توراتی نام) ایک غیر آباد ٹکڑا ہے جو زمین سے محروم گروہ (اہلِ یہود) کی جنم بھومی ہے۔ آنجہانی اسرائیل وزیرِ اعظم گولڈا مائر کے بقول ’’ کون سے فلسطینی؟ ہماری جڑیں تو یہاں ساڑھے تین ہزار سال…
pakistaninsiders.wordpress.com
فلسطینی شناخت کے چار استعارے
نسل پرست صیہونی نظریے کے بانی تھیوڈر ہرزل کے نزدیک جوڈیا سماریا (فلسطین کا قدیم توراتی نام) ایک غیر آباد ٹکڑا ہے جو زمین سے محروم گروہ (اہلِ یہود) کی جنم بھومی ہے۔ آنجہانی اسرائیل وزیرِ اعظم گولڈا مائر کے بقول ’’ کون سے فلسطینی؟ ہماری جڑیں تو یہاں ساڑھے تین ہزار سال سے ہیں۔ ہمیں بے دخل کرنے کے بعد ہی عربوں (فلسطینیوں) کو اس جگہ بسایا گیا۔ تو پھر یہاں کا اصل مالک کون ہوا؟‘‘۔ چنانچہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل اگر غیر آباد زمین پر بنا تو پھر وہ ساڑھے سات لاکھ انسان کون تھے جنھیں انیس سو اڑتالیس تا پچاس اور پھر ڈھائی لاکھ کو انیس سو سڑسٹھ کی جنگ کے بعد اپنے گھروں اور زمینوں سے بندوق کی نوک پر کھدیڑا گیا ؟ اور وہ تئیس لاکھ انسان کہاں سے آئے جنھیں اب غزہ سے بے دخل کرنے کی بھرپور کوشش ہو رہی ہے۔ اگر یہ کوئی ایسا ’’ قابض ’’ گروہ تھا جس نے اصل بنی اسرائیل کے گھروں اور املاک پر صدیوں پہلے قبضہ کر لیا تو پھر یہاں بیسویں صدی میں آنے والے تین ہزار برس قدیم یہودیوں کے وارثوں نے کن لوگوں کے سیکڑوں قصبے اور دیہات اور ہزاروں گھر مٹا دیے۔ وہ انھی گھروں میں کیوں نہ رہے کہ جن پر بقول صیہونی نظریہ سازوں کے ’’ غاصب عرب ‘‘ بسے ہوئے تھے ؟ اور وہ فلسطین اور فلسطینی جن کا بائبل میں ذکر ہے وہ پھر کون تھے ؟ کیا وہ مریخ سے اترے تھے ؟ یا پھر انھیں زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا ؟
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 30/04/2026
صالح آصف، جیتے رہو صالح آصف کی کامیابی پاکستانیوں کے لیے خوشبو کا ایک نیا جھونکا ہے۔ سیانے کہتے ہیں: محنت اتنی خاموشی سے کرو کہ تمہاری کامیابی ایک دن شور مچا دے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پیدا ہونے والا صالح آصف آج ہیڈ لائنز کا حصہ بنا ہوا ہے۔ وہی کراچی جہاں سڑکیں آج بھی ٹوٹی ہیں، جہاں…
pakistansinfocus.wordpress.com
صالح آصف، جیتے رہو
صالح آصف کی کامیابی پاکستانیوں کے لیے خوشبو کا ایک نیا جھونکا ہے۔ سیانے کہتے ہیں: محنت اتنی خاموشی سے کرو کہ تمہاری کامیابی ایک دن شور مچا دے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پیدا ہونے والا صالح آصف آج ہیڈ لائنز کا حصہ بنا ہوا ہے۔ وہی کراچی جہاں سڑکیں آج بھی ٹوٹی ہیں، جہاں گیس، بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولتیں ناپید ہیں اور جہاں شہر پر ہر دم خوف کے سائے چھائے رہتے ہیں۔ لیکن صالح آصف نے کر دکھایا۔ کراچی کے مقامی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ ریاضی کو جی جان سے پڑھا اور دل میں بسایا۔ کراچی کے نکسر کالج (Nixor College) میں تعلیم حاصل کی اور اے لیول مکمل کیا۔ اس دوران ریاضی سے شغف اتنا بڑھا کہ ریاضی کے عالمی مقابلے (International Mathematical Olympiad) کے لیے تیاری شروع کی۔ 2016ء سے لے کر 2018ء تک مسلسل تین سال تک اس عالمی مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کی اور اس دوران کانسی کا تمغہ جیتنے سمیت کئی کامیابیاں اپنے نام کیں۔ ریاضی کے ایک اور عالمی مقابلے (Internationl Kangaroo Mathematics Contest) میں حصہ لیا اور پاکستان بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اسی طرح (Asian Pacefic Mathematical Olympiad) میں بھی حصہ لیا۔ ریاضی پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس نے پڑھانا بھی شروع کر دیا۔ یہ سب کرنے کے بعد ان کی منزل امریکا کی مشہور زمانہ یونیورسٹی ایم آئی ٹی تھی۔ انہوں نے امریکا میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے SAT کا ٹیسٹ دیا اور پھر ایم آئی ٹی پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 30/04/2026
آبنائے ہرمز کب تک بحری تجارت کیلئے محفوظ ہو گی؟ خلیج میں واقع اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے، حالیہ جنگی صورتِ حال کے باعث عالمی معیشت کے لیے بڑا چیلنج بن گئی ہے اور تاحال مکمل طور پر محفوظ قرار نہیں دی جا سکی۔ رپورٹس کے مطابق امریکا اور…
pakistansinfocus.wordpress.com
آبنائے ہرمز کب تک بحری تجارت کیلئے محفوظ ہو گی؟
خلیج میں واقع اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے، حالیہ جنگی صورتِ حال کے باعث عالمی معیشت کے لیے بڑا چیلنج بن گئی ہے اور تاحال مکمل طور پر محفوظ قرار نہیں دی جا سکی۔ رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور جنگ کے آغاز کے بعد اس گزرگاہ میں بحری آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 2 ہزار جہاز خلیج میں پھنس گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حتیٰ کہ اگر راستہ کھول بھی دیا جائے تو بھی خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے۔ امریکی حکام کے مطابق سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے میں کم از کم 6 ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک مکمل طور پر خطرہ ختم کرنا تقریباً ناممکن ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب انشورنس کمپنیوں نے بھی صورتِ حال کو انتہائی غیر یقینی قرار دیتے ہوئے جنگی خطرات کی انشورنس معطل یا مہنگی کر دی ہے۔ …
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 30/04/2026
ایران کتنا دباؤ جھیل پائے گا؟ امریکی معیشت میں اتنی گنجائش ضرور ہے کہ وہ ایک برس بھی ایران کی اقتصادی ناکہ بندی جاری رکھنا چاہے تو اس کے اثرات سے امریکی معیشت کو بظاہر فوراً کوئی بڑا ڈینٹ نہیں پڑنے والا۔ لیکن آبنائے ہرمز کی دوہری بندش اگلے تین ماہ جاری رہنے کی شکل میں عالمی معاشی گراوٹ کی دو…
pakistansinfocus.wordpress.com
ایران کتنا دباؤ جھیل پائے گا؟
امریکی معیشت میں اتنی گنجائش ضرور ہے کہ وہ ایک برس بھی ایران کی اقتصادی ناکہ بندی جاری رکھنا چاہے تو اس کے اثرات سے امریکی معیشت کو بظاہر فوراً کوئی بڑا ڈینٹ نہیں پڑنے والا۔ لیکن آبنائے ہرمز کی دوہری بندش اگلے تین ماہ جاری رہنے کی شکل میں عالمی معاشی گراوٹ کی دو دھاری تلوار سے خود امریکی عوام اور ٹرمپ کے ووٹر کب تک اپنا گلا محفوظ رکھ پائیں گے ؟ اس کے برعکس ایرانیوں کا معاملہ بظاہر سیدھا سیدھا ہے۔ وہ گذشتہ نصف صدی سے ہر طرح کی پابندیوں کے عادی ہیں چنانچہ انھوں نے بنیادی ضروریاتِ زندگی میں خودکفالت اور درآمد و برآمد کے متبادل راستے ڈھونڈ رکھے ہیں۔ اگر بین الاقوامی پابندیاں اس قدر ہمہ گیر اور طویل نہ ہوتیں تو شائد ایران کی مڈل کلاس کب کی ریاستی نظام کی ’’ آہنی گرفت ‘‘ کسی حد تک ڈھیلی کرنے میں کامیاب ہو چکی ہوتی کہ جس مڈل کلاس کی ہمدردی کا درد مغرب کے پیٹ میں تب سے اٹھ رہا ہے جب سے مغرب نے ایران پر اقتصادی پابندیوں کا شکنجہ کس رکھا ہے۔ یہی مغربی دوغلا پن ہے جسے ایرانی حکمران طبقہ اپنے استحکام کے لیے مہارت سے استعمال کرتا آیا ہے۔ مغرب کی روش یونہی رہی تو قوم پرستی و عقیدے کا مرکب ایرانی ریاستی نظام بھی یونہی جاری رہے گا۔ گویا ایک اعتبار سے مغرب اور ایرانی نظام کے مابین دشمنی دراصل دوطرفہ لاشعوری تعاون کی شعوری تصویر ہے۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 30/04/2026
پاکستان ہمیشہ زندہ باد یقین جانیں سمجھ نہیں آرہا کہ پاکستان کے حوالے سے اپنی خوشی کا کیسے اظہار کروں۔ یہ جو پاکستان نے کر دکھایا ہے یہ کبھی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچایا اور امن دیا، پاکستان نے انسانیت کی بہترین خدمت کی،…
pakistansinfocus.wordpress.com
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
یقین جانیں سمجھ نہیں آرہا کہ پاکستان کے حوالے سے اپنی خوشی کا کیسے اظہار کروں۔ یہ جو پاکستان نے کر دکھایا ہے یہ کبھی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچایا اور امن دیا، پاکستان نے انسانیت کی بہترین خدمت کی، پاکستان نے اسلام کی روح کے مطابق کام کیا اور کامیابی حاصل کی۔ الحمدللہ۔ عالمی سیاست کے ہنگامہ خیز منظر نامے میں پاکستان نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ امریکا و اسرائیل کی ایران پر مسلط کی گئی جنگ اور ایران کا بلخصوص خلیجی عرب ممالک پر حملوں نے ایک انتہائی مشکل ترین صورت حال پیدا کر دی تھی۔ ایک طرف امریکا اور اسرائیل کی دھمکیاں اور یہ خوف کہ وہ ایران پر ایٹم بم بھی اب برسا سکتے ہیں تو دوسری طرف ایران کی جوابی حملوں کی وجہ سے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ خوف تھا کہ مسلمان ممالک اب آپس میں لڑ پڑیں گے- جب دنیا ایک بڑے تصادم اور ممکنہ تیسری جنگ عظیم کے دہانے پر کھڑی دکھائی دے رہی تھی، اللہ تعالیٰ کے خاص کرم سے ایک ایسا غیر متوقع کردار سامنے آیا جس نے نہ صرف اس بحران کو ٹالا بلکہ اپنے لیے عالمی سطح پر عزت و وقار کا نیا باب بھی رقم کیا اور وہ کردار پاکستان کا تھا۔ …
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 30/04/2026
کیا ٹرمپ پیچھے ہٹ جائیں گے؟ کیا ٹرمپ پیچھے ہٹ جائیں گے؟ جوں جوں ’آپریشن ایپک فیوری‘ آگے بڑھ رہا ہے، یہ بات ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکل ہوتی جا رہی ہے اور صدر کے سامنے راستے محدود ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ماضی میں دنیا اور خاص طور پر مارکیٹوں نے یہ سیکھا ہے کہ ’ٹرمپ ہمیشہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں‘ یا ’ٹاکو‘…
pakistansinfocus.wordpress.com
کیا ٹرمپ پیچھے ہٹ جائیں گے؟
کیا ٹرمپ پیچھے ہٹ جائیں گے؟ جوں جوں ’آپریشن ایپک فیوری‘ آگے بڑھ رہا ہے، یہ بات ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکل ہوتی جا رہی ہے اور صدر کے سامنے راستے محدود ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ماضی میں دنیا اور خاص طور پر مارکیٹوں نے یہ سیکھا ہے کہ ’ٹرمپ ہمیشہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں‘ یا ’ٹاکو‘ (Taco یعنی Trump Always Chickens Out)۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت اپنی شرائط پر فتح کا اعلان کر سکتے ہیں۔ تو وہ فتح کہاں ہے؟ سرمایہ کاروں کے لیے ’ٹاکو‘ ایک پختہ یقین بن چکا ہے، جو ایک ایسے رہنما کے مشاہداتی رویے سے اخذ کیا گیا ہے جس کی صرف ایک ہی حد ہے، اور وہ ہے کیپٹل مارکیٹوں کا ردعمل۔ خاص طور پر ٹیرف اور گرین لینڈ پر حملے کے معاملے میں ہم نے سٹاک اور بانڈ مارکیٹوں میں بڑے پیمانے پر دولت کی تباہی کا سامنا کرنے پر انہیں آخری کنارے سے پیچھے ہٹتے دیکھا ہے، اور کبھی کبھار ایسا تب بھی ہوا جب اتحادیوں یا حریفوں، خاص طور پر چین نے اپنا تسلط قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ’ان ٹاکو وی ٹرسٹ‘ (In Taco we trust) کو جدید نصب العین بھی کہا جا سکتا ہے، اور وہ بھی اس حد تک کہ فیڈرل ریزرو کو اسے ڈالر کے نوٹ پر چھاپ دینا چاہیے۔ لیکن ایران کے معاملے میں تیزی سے ایسا لگ رہا ہے کہ ٹرمپ ایک جال میں پھنس چکے ہیں۔ وہ اندر تو آ گئے ہیں، لیکن باہر نہیں نکل سکتے۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 30/04/2026
ریکوڈک میں ایک دن بلوچی زبان میں ریک ریتلی مٹی کو کہتے ہیں اور ڈک پہاڑ کو لہٰذا ریکوڈک ریتلے پہاڑوں کا علاقہ ہے‘ یہ علاقہ بلوچستان کے ضلع چاغی کا حصہ ہے‘ افغانستان کی سرحد اس سے 30 کلومیٹر جب کہ ایران کا تفتان بارڈر 100 کلو میٹر دور ہے‘ نوکنڈی ریکوڈک کا سب سے بڑا قصبہ ہے جس میں 20 ہزار لوگ رہائش…
pakistansinfocus.wordpress.com
ریکوڈک میں ایک دن
بلوچی زبان میں ریک ریتلی مٹی کو کہتے ہیں اور ڈک پہاڑ کو لہٰذا ریکوڈک ریتلے پہاڑوں کا علاقہ ہے‘ یہ علاقہ بلوچستان کے ضلع چاغی کا حصہ ہے‘ افغانستان کی سرحد اس سے 30 کلومیٹر جب کہ ایران کا تفتان بارڈر 100 کلو میٹر دور ہے‘ نوکنڈی ریکوڈک کا سب سے بڑا قصبہ ہے جس میں 20 ہزار لوگ رہائش پذیر ہیں‘ یہ پورا علاقہ لق ودق صحرا ہے‘ دور دور تک ریت اور مٹی کے سوا کچھ نہیں‘ درمیان میں کہیں کہیں خشک سیاہ پہاڑ ہیں۔ سال دو سال بعد ہلکی بارش ہوتی ہے تو تھوڑی بہت گھاس اور جھاڑیاں اگ جاتی ہیں اور اگر کسی سال قدرت مہربانی نہ کرے تو زمین ان سے بھی محروم رہتی ہے لیکن آپ ﷲ کی تقسیم دیکھیے‘ اس بیابان‘ لق و دق اور دور افتادہ زمین میں تانبے اور سونے کے دنیا کے سب سے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ حکومت نے ابھی ریکوڈک کا صرف 160 مربع کلومیٹر کا رقبہ سونا اور تانبا دریافت کرنیوالی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بیرک (Barrick) کے حوالے کیا ہے‘ اس کمپنی کے اندازے کے مطابق یہ لوگ شروع میں 40 سال اور بعدازاں مزید 30 برس تک تانبا اور سونا نکال سکتے ہیں۔ …
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 30/04/2026
سلیم الزماں صدیقی کا وژن عظیم سائنس دان ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کو ملک کے سائنسی اداروں کے قیام کا سہرا جاتا ہے ان اداروں میں لطیف ابراہیم جمال انسٹی ٹیوٹ بھی شامل ہے۔ یہ ادارہ کراچی یونیورسٹی میں قائم ہوا تھا۔ پھر اس انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ مزید تحقیقی ادارے قائم ہوئے، یوں Institute for Chemical and…
pakistansinfocus.wordpress.com
سلیم الزماں صدیقی کا وژن
عظیم سائنس دان ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کو ملک کے سائنسی اداروں کے قیام کا سہرا جاتا ہے ان اداروں میں لطیف ابراہیم جمال انسٹی ٹیوٹ بھی شامل ہے۔ یہ ادارہ کراچی یونیورسٹی میں قائم ہوا تھا۔ پھر اس انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ مزید تحقیقی ادارے قائم ہوئے، یوں Institute for Chemical and Biological Sciences کا ادارہ قائم ہوا۔ حکومت سندھ اس ادارے کو کراچی یونیورسٹی سے علیحدہ کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی 19، اکتوبر 1897 کو ہندوستان کے صوبہ یو پی کے ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے۔ ان کے بڑے بھائی چوہدری خلیق الزماں کا شمار آل انڈیا مسلم لیگ کے اہم رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ چوہدری خلیق الزماں قیام پاکستان کے بعد مختلف سیاسی اور انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ سلیم الزماں صدیقی نے ابتدائی تعلیم لکھنو میں حاصل کی تھی، پھر علی گڑھ آگئے۔ اس وقت علی گڑھ یونیورسٹی قائم نہیں ہوئی تھی، یہ ایم اے او کالج کہلاتی تھی۔ انھوں نے اس کالج سے 1919 میں گریجویشن کیا، وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے مگر لندن میں کچھ دن گزارنے کے بعد جرمنی کے شہر فرینکفرٹ چلے گئے۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 30/04/2026
اقوامِ متحدہ کا کشکول خالی ہے اس دنیا کی سفاکیوں اور خود غرضیوں کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اقوامِ متحدہ کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ دنیا نے دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں سے ڈر کر اکیاسی برس پہلے بڑے ارمانوں سے جو ادارہ بنایا اسے رفتہ رفتہ اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ اب یہ نوبت ہے کہ سب سے بڑی عالمی تنظیم شاہراہِ…
pakistansinfocus.wordpress.com
اقوامِ متحدہ کا کشکول خالی ہے
اس دنیا کی سفاکیوں اور خود غرضیوں کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اقوامِ متحدہ کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ دنیا نے دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں سے ڈر کر اکیاسی برس پہلے بڑے ارمانوں سے جو ادارہ بنایا اسے رفتہ رفتہ اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ اب یہ نوبت ہے کہ سب سے بڑی عالمی تنظیم شاہراہِ عالم پر کشکول لیے کھڑی ہے۔ کوئی اس کشکول میں چند سکے ڈال دیتا ہے اور بہت سے منہ پھیر کے گزر جاتے ہیں اور کچھ تو حقارت سے تھوکتے ہوئے یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ ایک ہڈ حرام سفید ہاتھی ہے۔ یہ ادارہ دنیا سے جنگیں ، بے گھری ، ماحولیاتی ابتری اور بھوک مٹانے کی بنیادی ذمے داریاں نبھانے میں بری طرح ناکام ہے۔ اسے ری سٹرکچرنگ کی ضرورت ہے۔ ہم کہاں تک اس بڑھیا کو گود میں اٹھائے اٹھائے گھومتے پھریں۔ مگر اس منافقانہ پروپیگنڈے کا پول دو برس پہلے ہی کھل گیا تھا جب اقوامِ متحدہ نے سال دو ہزار پچیس کے لیے اپنے ارکان سے چورانوے ارب ڈالر کی اصل ضرورت کو کم کر کے صرف سینتالیس ارب ڈالر انسانی امداد کی مد میں طلب کیے۔ پھر بھی بارہ ارب ڈالر ہی میسر آ سکے۔ یہ رقم ایک چوتھائی عالمی انسانی ضروریات کے لیے بھی ناکافی تھی۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 30/04/2026
سائبر فراڈ اور ناگزیر اصلاحات پاکستان میں سائبر فراڈ ایک منظم، کثیر سطحی اور تیزی سے پھیلتا ہوا نیٹ ورک بن چکا ہے جسکی لپیٹ میں عام شہری ہی نہیں بلکہ تعلیم یافتہ اور باخبر افراد بھی آ چکے ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس پورے فراڈ کی بنیاد ہماری ریاستی کمزوریوں، ریگولیٹری ناکامیوں اور ادارہ جاتی…
pakistansinfocus.wordpress.com
سائبر فراڈ اور ناگزیر اصلاحات
پاکستان میں سائبر فراڈ ایک منظم، کثیر سطحی اور تیزی سے پھیلتا ہوا نیٹ ورک بن چکا ہے جسکی لپیٹ میں عام شہری ہی نہیں بلکہ تعلیم یافتہ اور باخبر افراد بھی آ چکے ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس پورے فراڈ کی بنیاد ہماری ریاستی کمزوریوں، ریگولیٹری ناکامیوں اور ادارہ جاتی غفلت پر کھڑی ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ برس کے ذاتی مشاہدے اور اس موضوع پر کی گئی تحقیق ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ فراڈ کا آغاز عموماً ایک بظاہر سادہ فون کال سے ہوتا ہے۔ کال کرنے والا متاثرہ شخص کا نام جانتا ہے اور پورے اعتماد کے ساتھ خود کو کسی کوریئر کمپنی، سروس فراہم کنندہ یا سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کا نمائندہ ظاہر کرتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک پارسل پہنچانا ہے اور نئے حفاظتی پروٹوکول کے مطابق ایک پاس ورڈ بھیجا گیا ہے جو تصدیق کیلئے درکار ہے۔ اسی دوران واٹس ایپ کی جانب سے ایک اصل سسٹم میسج موصول ہوتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ آپ کا اکاؤنٹ کسی نئی ڈیوائس پر منتقل کیا جا رہا ہے اور تصدیق کیلئے YES یا NO کا آپشن دیا جاتا ہے۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 30/04/2026
ٹرمپ ازم یا انٹرنیشنل لا؟ کیا وینزویلا کے صدر کے خلاف امریکہ میں، امریکی عدالت کے سامنے، امریکی قانون کے تحت مقدمہ چلایا جا سکتا ہے؟ بین الاقوامی عدالت انصاف 2002 میں واضح طور پر بتا چکی ہے کہ اس کا جواب نفی میں ہے۔ کسی بھی ریاست کے صدر کے خلاف دوسری ریاست میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ تو کیا اب…
pakistansinfocus.wordpress.com
ٹرمپ ازم یا انٹرنیشنل لا؟
کیا وینزویلا کے صدر کے خلاف امریکہ میں، امریکی عدالت کے سامنے، امریکی قانون کے تحت مقدمہ چلایا جا سکتا ہے؟ بین الاقوامی عدالت انصاف 2002 میں واضح طور پر بتا چکی ہے کہ اس کا جواب نفی میں ہے۔ کسی بھی ریاست کے صدر کے خلاف دوسری ریاست میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ تو کیا اب بھی، جب وینزویلا میں صدارت کی ذمہ داریاں سپریم کورٹ کے حکم پر ڈیلسی روڈریگز کو دی جا چکی ہیں، سابق صدر نکولس مادورو کو یہ استثنیٰ حاصل ہے؟ جی ہاں انٹرنیشنل لا کے مطابق اب بھی انہیں یہ استثنیٰ حاصل ہے کیوں کہ وہی وینزویلا کے صدر ہیں۔ جب انہیں اغوا کیا گیا وہ صدر ہی تھے اور قائم مقام صدر کی تعیناتی سے اصلی صدر کو حاصل استثنیٰ ختم نہیں ہو جاتا۔ لیکن کیا وہ اب سابق صدر نہیں ہو چکے؟ جی نہیں، کوئی ریاست صدارت کا عہدہ خالی نہیں رکھ سکتی اس لیے قائم مقام کی تعیناتی ضروری تھی لیکن ایک صدر کو اس کے عہدے سے ہٹانے اور سابق کرنے کا جائز طریقہ متعلقہ ملک کے آئین میں لکھا ہوتا ہے، کسی حملہ آور ملک کے حملے کے نتیجے میں اغوا شدہ صدر قانونی اعتبار سے سابق صدر نہیں ہو جاتا، صدر ہی رہتا ہے اور اس کو استثنیٰ کی چھتری میسر رہتی ہے۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 30/04/2026
صالح آصف، جیتے رہو صالح آصف کی کامیابی پاکستانیوں کے لیے خوشبو کا ایک نیا جھونکا ہے۔ سیانے کہتے ہیں: محنت اتنی خاموشی سے کرو کہ تمہاری کامیابی ایک دن شور مچا دے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پیدا ہونے والا صالح آصف آج ہیڈ لائنز کا حصہ بنا ہوا ہے۔ وہی کراچی جہاں سڑکیں آج بھی ٹوٹی ہیں، جہاں…
pakistansinfocus.wordpress.com
صالح آصف، جیتے رہو
صالح آصف کی کامیابی پاکستانیوں کے لیے خوشبو کا ایک نیا جھونکا ہے۔ سیانے کہتے ہیں: محنت اتنی خاموشی سے کرو کہ تمہاری کامیابی ایک دن شور مچا دے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پیدا ہونے والا صالح آصف آج ہیڈ لائنز کا حصہ بنا ہوا ہے۔ وہی کراچی جہاں سڑکیں آج بھی ٹوٹی ہیں، جہاں گیس، بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولتیں ناپید ہیں اور جہاں شہر پر ہر دم خوف کے سائے چھائے رہتے ہیں۔ لیکن صالح آصف نے کر دکھایا۔ کراچی کے مقامی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ ریاضی کو جی جان سے پڑھا اور دل میں بسایا۔ کراچی کے نکسر کالج (Nixor College) میں تعلیم حاصل کی اور اے لیول مکمل کیا۔ اس دوران ریاضی سے شغف اتنا بڑھا کہ ریاضی کے عالمی مقابلے (International Mathematical Olympiad) کے لیے تیاری شروع کی۔ 2016ء سے لے کر 2018ء تک مسلسل تین سال تک اس عالمی مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کی اور اس دوران کانسی کا تمغہ جیتنے سمیت کئی کامیابیاں اپنے نام کیں۔ ریاضی کے ایک اور عالمی مقابلے (Internationl Kangaroo Mathematics Contest) میں حصہ لیا اور پاکستان بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اسی طرح (Asian Pacefic Mathematical Olympiad) میں بھی حصہ لیا۔ ریاضی پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس نے پڑھانا بھی شروع کر دیا۔ یہ سب کرنے کے بعد ان کی منزل امریکا کی مشہور زمانہ یونیورسٹی ایم آئی ٹی تھی۔ انہوں نے امریکا میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے SAT کا ٹیسٹ دیا اور پھر ایم آئی ٹی پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 29/04/2026
آبنائے ہرمز کب تک بحری تجارت کیلئے محفوظ ہو گی؟ خلیج میں واقع اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے، حالیہ جنگی صورتِ حال کے باعث عالمی معیشت کے لیے بڑا چیلنج بن گئی ہے اور تاحال مکمل طور پر محفوظ قرار نہیں دی جا سکی۔ رپورٹس کے مطابق امریکا اور…
pakistansinfocus.wordpress.com
آبنائے ہرمز کب تک بحری تجارت کیلئے محفوظ ہو گی؟
خلیج میں واقع اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے، حالیہ جنگی صورتِ حال کے باعث عالمی معیشت کے لیے بڑا چیلنج بن گئی ہے اور تاحال مکمل طور پر محفوظ قرار نہیں دی جا سکی۔ رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور جنگ کے آغاز کے بعد اس گزرگاہ میں بحری آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 2 ہزار جہاز خلیج میں پھنس گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حتیٰ کہ اگر راستہ کھول بھی دیا جائے تو بھی خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے۔ امریکی حکام کے مطابق سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے میں کم از کم 6 ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک مکمل طور پر خطرہ ختم کرنا تقریباً ناممکن ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب انشورنس کمپنیوں نے بھی صورتِ حال کو انتہائی غیر یقینی قرار دیتے ہوئے جنگی خطرات کی انشورنس معطل یا مہنگی کر دی ہے۔ …
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 29/04/2026
ایران کتنا دباؤ جھیل پائے گا؟ امریکی معیشت میں اتنی گنجائش ضرور ہے کہ وہ ایک برس بھی ایران کی اقتصادی ناکہ بندی جاری رکھنا چاہے تو اس کے اثرات سے امریکی معیشت کو بظاہر فوراً کوئی بڑا ڈینٹ نہیں پڑنے والا۔ لیکن آبنائے ہرمز کی دوہری بندش اگلے تین ماہ جاری رہنے کی شکل میں عالمی معاشی گراوٹ کی دو…
pakistansinfocus.wordpress.com
ایران کتنا دباؤ جھیل پائے گا؟
امریکی معیشت میں اتنی گنجائش ضرور ہے کہ وہ ایک برس بھی ایران کی اقتصادی ناکہ بندی جاری رکھنا چاہے تو اس کے اثرات سے امریکی معیشت کو بظاہر فوراً کوئی بڑا ڈینٹ نہیں پڑنے والا۔ لیکن آبنائے ہرمز کی دوہری بندش اگلے تین ماہ جاری رہنے کی شکل میں عالمی معاشی گراوٹ کی دو دھاری تلوار سے خود امریکی عوام اور ٹرمپ کے ووٹر کب تک اپنا گلا محفوظ رکھ پائیں گے ؟ اس کے برعکس ایرانیوں کا معاملہ بظاہر سیدھا سیدھا ہے۔ وہ گذشتہ نصف صدی سے ہر طرح کی پابندیوں کے عادی ہیں چنانچہ انھوں نے بنیادی ضروریاتِ زندگی میں خودکفالت اور درآمد و برآمد کے متبادل راستے ڈھونڈ رکھے ہیں۔ اگر بین الاقوامی پابندیاں اس قدر ہمہ گیر اور طویل نہ ہوتیں تو شائد ایران کی مڈل کلاس کب کی ریاستی نظام کی ’’ آہنی گرفت ‘‘ کسی حد تک ڈھیلی کرنے میں کامیاب ہو چکی ہوتی کہ جس مڈل کلاس کی ہمدردی کا درد مغرب کے پیٹ میں تب سے اٹھ رہا ہے جب سے مغرب نے ایران پر اقتصادی پابندیوں کا شکنجہ کس رکھا ہے۔ یہی مغربی دوغلا پن ہے جسے ایرانی حکمران طبقہ اپنے استحکام کے لیے مہارت سے استعمال کرتا آیا ہے۔ مغرب کی روش یونہی رہی تو قوم پرستی و عقیدے کا مرکب ایرانی ریاستی نظام بھی یونہی جاری رہے گا۔ گویا ایک اعتبار سے مغرب اور ایرانی نظام کے مابین دشمنی دراصل دوطرفہ لاشعوری تعاون کی شعوری تصویر ہے۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 29/04/2026
ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو ایک کونے میں لا کھڑا کیا ہے ’ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو ایک کونے میں لا کھڑا کیا اور اب وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ڈھونڈ پا رہے‘ ایرن ڈیوڈ ملر، کارنیگی انڈاؤمنٹ سے وابستہ سینئر فیلو ہیں۔ امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع مگر ناکہ بندی جاری رکھنے کے بیان پر ایکس پر لکھتے…
pakistaninsiders.wordpress.com
ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو ایک کونے میں لا کھڑا کیا ہے
’ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو ایک کونے میں لا کھڑا کیا اور اب وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ڈھونڈ پا رہے‘ ایرن ڈیوڈ ملر، کارنیگی انڈاؤمنٹ سے وابستہ سینئر فیلو ہیں۔ امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع مگر ناکہ بندی جاری رکھنے کے بیان پر ایکس پر لکھتے ہیں کہ ’یہ اپنی مرضی سے چھیڑی گئی جنگ کی حماقت ہے۔ اب ہمیں ایک طویل دور کا سامنا ہے جہاں نہ کوئی مذاکرات ہو رہے ہیں، نہ اس بات کی کوئی ضمانت ہے کہ کشیدگی میں اضافہ نہیں ہو گا۔ ’آبنائے ہرمز سے کچھ بھی گزر نہیں رہا، اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ جبکہ امریکہ کے پاس اس صورتحال سے نکلنے کا کوئی واضح راستہ موجود نہیں ہے۔‘ ایک اور پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’ایران نے 1979–1980 کے یرغمالی بحران کے ذریعے ایک صدر کو ذلیل کیا اور اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ اور اب اس نے ایک اور صدر کو اُس جنگ میں، جس کا آغاز اسی نے کیا تھا، جغرافیے کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے عملاً یرغمال بنا لیا ہے۔‘ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی کیٹلن کولنز نے سینیٹر الزبتھ وارن کا ایک کلپ شیئر کی، جس میں وہ کہتی ہیں: ’اب ہمارے پاس جنگ بندی کے لیے کوئی ٹائم لائن نہیں ہے، ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے بھی کوئی ٹائم لائن نہیں، اور سچ تو یہ ہے کہ جنگ کے خاتمے کی بھی کوئی ٹائم لائن موجود نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو ایک کونے میں لا کھڑا کیا ہے اور اب وہ وہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ڈھونڈ پا رہے۔‘ بشکریہ بی بی سی اردو
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 29/04/2026
امریکا ایران معاہدہ کیوں تعطل کا شکار؟ بڑی رکاوٹیں کونسی ہیں؟ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ تاحال کئی اہم نکات پر اختلافات کے باعث تعطل کا شکار ہے، جبکہ عالمی نظریں دونوں ممالک کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے ایران کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ تجاویز سے متفق ہونے کے…
pakistaninsiders.wordpress.com
امریکا ایران معاہدہ کیوں تعطل کا شکار؟ بڑی رکاوٹیں کونسی ہیں؟
امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ تاحال کئی اہم نکات پر اختلافات کے باعث تعطل کا شکار ہے، جبکہ عالمی نظریں دونوں ممالک کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے ایران کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ تجاویز سے متفق ہونے کے امکانات کم ہیں، کیونکہ ان میں جنگ بندی کے بدلے جوہری پروگرام پر کوئی بڑی رعایت شامل نہیں۔ ایران کا نیوکلیئر پروگراماہم تنازعات میں سرِفہرست ایران کا جوہری پروگرام ہے، جہاں امریکا چاہتا ہے کہ تہران مکمل طور پر اپنا نیوکلیئر پروگرام ختم کر دے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ ایسی پابندیاں محدود مدت کے لیے ہونی چاہئیں۔
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 14/04/2026
پاکستان ہمیشہ زندہ باد یقین جانیں سمجھ نہیں آرہا کہ پاکستان کے حوالے سے اپنی خوشی کا کیسے اظہار کروں۔ یہ جو پاکستان نے کر دکھایا ہے یہ کبھی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچایا اور امن دیا، پاکستان نے انسانیت کی بہترین خدمت کی،…
pakistansinfocus.wordpress.com
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
یقین جانیں سمجھ نہیں آرہا کہ پاکستان کے حوالے سے اپنی خوشی کا کیسے اظہار کروں۔ یہ جو پاکستان نے کر دکھایا ہے یہ کبھی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچایا اور امن دیا، پاکستان نے انسانیت کی بہترین خدمت کی، پاکستان نے اسلام کی روح کے مطابق کام کیا اور کامیابی حاصل کی۔ الحمدللہ۔ عالمی سیاست کے ہنگامہ خیز منظر نامے میں پاکستان نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ امریکا و اسرائیل کی ایران پر مسلط کی گئی جنگ اور ایران کا بلخصوص خلیجی عرب ممالک پر حملوں نے ایک انتہائی مشکل ترین صورت حال پیدا کر دی تھی۔ ایک طرف امریکا اور اسرائیل کی دھمکیاں اور یہ خوف کہ وہ ایران پر ایٹم بم بھی اب برسا سکتے ہیں تو دوسری طرف ایران کی جوابی حملوں کی وجہ سے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ خوف تھا کہ مسلمان ممالک اب آپس میں لڑ پڑیں گے- جب دنیا ایک بڑے تصادم اور ممکنہ تیسری جنگ عظیم کے دہانے پر کھڑی دکھائی دے رہی تھی، اللہ تعالیٰ کے خاص کرم سے ایک ایسا غیر متوقع کردار سامنے آیا جس نے نہ صرف اس بحران کو ٹالا بلکہ اپنے لیے عالمی سطح پر عزت و وقار کا نیا باب بھی رقم کیا اور وہ کردار پاکستان کا تھا۔ …
000
Khawaja Umer Farooq @kufarooq.bsky.social · 14/04/2026
وہ چار طریقے جن سے ٹرمپ کی جنگ امریکہ کو کمزور کر رہی ہے نیویارک ٹائمز کا یہ شاندار اداریہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ کیسی علمی شائستگی اور دلیل سے سب باتیں کہی گئی ہیں۔ ترجمہ محترم شعیب عادل کا ہے،ان کی وال سے یہ لیا ہے۔ وہ چار طریقے جن سے ٹرمپ کی جنگ امریکہ کو کمزور کر رہی ہے جب صدر ٹرمپ نے 28…
pakistaninsiders.wordpress.com
وہ چار طریقے جن سے ٹرمپ کی جنگ امریکہ کو کمزور کر رہی ہے
نیویارک ٹائمز کا یہ شاندار اداریہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ کیسی علمی شائستگی اور دلیل سے سب باتیں کہی گئی ہیں۔ ترجمہ محترم شعیب عادل کا ہے،ان کی وال سے یہ لیا ہے۔ وہ چار طریقے جن سے ٹرمپ کی جنگ امریکہ کو کمزور کر رہی ہے جب صدر ٹرمپ نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا، تو ٹائمز نے ان کے اس فیصلے کو لاپرواہی قرار دیا تھا۔ انہوں نے کانگریس کی منظوری یا زیادہ تر اتحادیوں کی حمایت حاصل کیے بغیر جنگ کا آغاز کیا۔ انہوں نے امریکی عوام کے سامنے بودی اور متضاد وضاحتیں پیش کیں۔ وہ یہ بتانے میں ناکام رہے کہ حکومت کی تبدیلی کی یہ سادہ لوح کوشش، عراق، افغانستان اور دیگر مقامات پر امریکہ کی سابقہ کوششوں سے بہتر نتائج کیسے دے گی۔ اس کے بعد کے چھ ہفتوں میں، ان کی اس جنگ کی لاپرواہی مزید واضح ہو گئی ہے۔ انہوں نے محتاط فوجی منصوبہ بندی کو نظر انداز کیا اور محض جبلت اور خوش فہمی کی بنیاد پر کام کیا۔ ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، جب اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے مسٹر ٹرمپ کو پیش گوئی کی کہ ان حملوں سے ایران میں عوامی بغاوت بھڑک اٹھے گی، تو سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے اس خیال کو "مضحکہ خیز" قرار دیتے ہوئے اس کی تردید کی تھی۔ اس کے باوجود مسٹر ٹرمپ آگے بڑھے۔ وہ اس قدر پراعتماد تھے کہ انہوں نے ایران کے پاس دستیاب ایک واضح جوابی اقدام کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں بنایا: یعنی آبنائے ہرمز کو بند کر کے تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ کرنا۔ اور نہ ہی انہوں نے افزودہ یورینیم کو محفوظ بنانے کے لیے کوئی قابل عمل حکمت عملی تیار کی، جسے ایران اپنے جوہری پروگرام کی دوبارہ تعمیر کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
000