Sign in

Independent Urdu [Unofficial]

@independenturdu.com.web.brid.gy
386 followers 0 following 8K posts

انڈپینڈنٹ اردو معروف برطانوی اخبار دی انڈپینڈنٹ کا اردو روپ ہے۔ اس کا مقصد اپنے قارئین کو غیر جانبدارانہ اور مصدقہ صحافتی مواد پیش کرنا ہے، جو مستند ہونے کے […] 🌉 bridged from 🌐 independenturdu.com: fed.brid.gy/web/independenturdu.com

PostsRepliesMedia
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 13/10/2026
independenturdu.com
حوثیوں کو بار بار حملوں کے نتائج بھگتنے ہوں گے: سعودی کابینہ
**سعودی عرب کی کابینہ نے منگل کو کہا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کو اپنے جرائم اور مملکت کے ہوائی اڈوں، مقدس شہروں اور اقتصادی تنصیبات پر اپنے بار بار کیے جانے والے حملوں کے نتائج بھگتنے ہوں گے۔** سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت منگل کو ہونے والے کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب اپنی سلامتی یا بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں جہاز رانی کی آزادی کو خطرے میں نہیں پڑنے دے گا۔ یہ بیان سعودی عرب پر حالیہ مہلک حملوں کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ یمن کے وسیع علاقوں پر قابض حوثی جنگجو ’بہت برا رویہ‘ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کی جنگ کے اثرات مشرق وسطیٰ کے دوسرے علاقوں تک پھیل رہے ہیں۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کے حمایت یافتہ حوثی 2014 سے جاری خانہ جنگی میں سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں، تاہم امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف آٹھ ماہ سے جاری جنگ شروع کیے جانے کے بعد یہ تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں بحیرہ احمر اور اہم آبنائے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 13 افراد جان سے گئے، 300 سے زیادہ زخمی ہوئے اور سعودی دارالحکومت کی فضائی حدود بند کر دی گئیں۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ممکنہ طور پر ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان سے مداخلت کرنے اور سعودی مفادات کی حمایت کرنے کی درخواست کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا: ’میرا خیال ہے کہ صدر اردوغان وہی کریں گے جو میں ان سے کہوں گا۔‘ سعودی عرب کابینہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان یمن حوثی حملے ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا کہ یمن کے وسیع علاقوں پر قابض حوثی جنگجو ’بہت برا رویہ‘ اختیار کیے ہوئے ہیں۔  انڈپینڈنٹ اردو منگل, اکتوبر 13, 2026 - 21:30 Main image: > <p>ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 13 اکتوبر 2026 کو کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی (ایس پی اے)</p> دنیا type: news related nodes: سعودی عرب کے دفاع کے لیے تمام وسائل حاضر ہیں: پاکستان ریاض اور خمیس مشیط پر داغے گئے بیلسٹک میزائل تباہ کر دیے: سعودی اتحاد حوثی حملوں کے بعد ریاض ائیرپورٹ 17 اکتوبر تک بند ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملے میں ایک پاکستانی کی موت، 11 افراد زخمی SEO Title: حوثیوں کو بار بار حملوں کے نتائج بھگتنے ہوں گے: سعودی کابینہ copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 13/10/2026
independenturdu.com
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے خلاف پی ٹی آئی کی سینیٹ میں قرارداد
**خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف منگل کو سینیٹ میں قرارداد جمع کرا دی گئی، جس میں ان اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے صوبے کے عوامی مینڈیٹ کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔** سینیٹر علی ظفر، راجہ ناصر عباس اور دیگر سینیٹرز کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے تحت کیے گئے اقدامات صوبائی خودمختاری، پارلیمانی جمہوریت اور آئین کے وفاقی کردار کے منافی ہیں۔ یہ قرارداد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر آصف علی زرداری نے اتوار کو وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور آرٹیکل 232 کے تحت صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے اعلانات جاری کیے تھے۔ _انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں_ وفاقی حکومت نے ان اقدامات کی وجہ صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ’دانستہ عدم تعاون‘ کو قرار دیا ہے۔ **قرارداد میں کیے گئے مطالبات اور اعتراضات** قرارداد کے متن کے مطابق ایوان آئین، پارلیمانی جمہوریت، وفاقی نظام اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتا ہے اور خیبر پختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ کے احترام پر زور دیتا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت اندرونی خلفشار کی بنیاد پر ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد ضروری ہے، تاہم شائع شدہ اعلان میں خیبر پختونخوا اسمبلی کی کسی ایسی قرارداد کا ذکر موجود نہیں۔ اس میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کے نفاذ کے لیے گورنر کی رپورٹ لازمی ہے۔ قرارداد کے مطابق صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ اور کابینہ کو ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ صوبائی اسمبلی بدستور برقرار ہے۔ سینیٹرز نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان سکیورٹی پالیسی پر اختلافات ایمرجنسی کے نفاذ کا جواز نہیں بن سکتے اور نہ ہی سیاسی مذاکرات کی ناکامی کو گورنر راج نافذ کرنے کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے باہمی تعاون اور مشترکہ اقدامات ہی سے ممکن ہے۔ سینیٹرز نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کے تحت کیے گئے اقدامات کو عوامی مینڈیٹ، صوبائی خودمختاری اور آئین کے وفاقی کردار پر حملے کے مترادف قرار دیا ہے۔ **گورنر راج کی پارلیمانی منظوری کا طریقہ کار** آئین کے آرٹیکل 234 کے مطابق گورنر راج کا اعلان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کرنا ضروری ہے۔ اگر دو ماہ کے اندر مشترکہ اجلاس سے اس کی منظوری حاصل نہ کی جائے تو یہ اعلان غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) مشترکہ اجلاس قرارداد کے ذریعے گورنر راج کی مدت میں مزید دو ماہ تک توسیع بھی کر سکتا ہے۔ **پی ٹی آئی سے سیاسی مفاہمت کا عمل ختم کرنے کا فیصلہ درست تھا: اسحاق ڈار** دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کو سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ نے گذشتہ ہفتے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ سیاسی مفاہمت کا عمل ختم کرنے کا درست فیصلہ کیا تھا۔ ان کا یہ بیان خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سامنے آیا ہے۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دانستہ عدم تعاون کے باعث یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔ گورنر راج پی ٹی آئی قومی اسمبلی اجلاس سینیٹ سینیٹر علی ظفر اور راجہ ناصر عباس سمیت دیگر سینیٹرز کی قرارداد میں گورنر راج کو صوبائی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔ منگل, اکتوبر 13, 2026 - 21:30 Main image: > <p class="rteright">چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی 13 اکتوبر، 2026 کو سینیٹ کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں(سینیٹ آف پاکستان)</p> سیاست type: news related nodes: پنجاب: کیا گورنر راج لگانا ممکن ہے؟ گورنر راج مانتے ہیں نہ ایمرجنسی: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کیا آئین تحریک عدم اعتماد کے بعد گورنر راج کی اجازت دیتا ہے؟ گورنر راج: پشاور میں تعلیمی ادارے اور بی آر ٹی بند SEO Title: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے خلاف پی ٹی آئی کی سینیٹ میں قرارداد copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 13/10/2026
independenturdu.com
سعودی عرب کے دفاع کے لیے تمام وسائل حاضر ہیں: پاکستان
**پاکستان کے وزیر دفاع نے منگل کو کہا کہ سعودی عرب میں واقع اسلام کے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے پاکستان کے تمام وسائل سعودی عرب کو دستیاب ہیں۔** انہوں نے اس بیان کے ذریعے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اسلام آباد کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر دفاع کا یہ بیان یمن کے ایران نواز حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور دیگر شہری تنصیبات پر پے در پے حملوں کے بعد سامنے آیا۔ _انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں_ ان حملوں میں ایک درجن سے زائد افراد جان سے گئے جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ سعودی عرب پر ان حملوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعے کے علاقائی اثرات مزید پھیلنے سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ پاکستان نے ستمبر 2025 میں سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی معاہدہ کیا تھا، جبکہ رواں سال اگست میں سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ پاکستان حالیہ بیانات میں حوثیوں کو سعودی عرب پر حملوں کے خلاف بارہا خبردار کر چکا ہے۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی نشریاتی ادارے ’وی نیوز‘ سے گفتگو میں کہا، ’پاکستان کے تمام وسائل سعودی عرب کے لیے دستیاب ہیں۔ وہ ہمارا برادر ملک ہے اور ہمارے مذہب کے مقدس مقامات وہاں واقع ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ان کا تحفظ کرنا اور اپنے تمام وسائل ان کے لیے مہیا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’یہ وسائل اس وقت بھی فراہم کیے جا رہے ہیں اور آئندہ ہر مرحلے پر ہم سعودی عرب کے دشمنوں کے مقابلے میں اس کی سرزمین کے دفاع کے لیے اپنے سعودی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔‘ خواجہ آصف کا یہ بیان سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اتحادی افواج نے حوثیوں کی جانب سے سعودی دارالحکومت ریاض کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں روک کر ناکارہ بنا دیا ہے۔ حوثی گذشتہ ہفتے سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر حملے کر رہے ہیں۔ ہفتے کو شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثیوں کے حملوں میں 13 افراد جان سے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ اس سے قبل بدھ اور جمعرات کو ہونے والے حملوں میں چار افراد جان سے گئے تھے، جبکہ اتوار کو ایک اور شخص کی موت ہوئی۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) گذشتہ ہفتے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے ایک ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اجلاس کے دوران سعودی عرب کے دفاع کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ شہباز شریف نے اتوار کو کہا ’سعودی عرب کے دفاع کے حوالے سے ہمارا ایک دوطرفہ اور ایک سہ فریقی معاہدہ موجود ہے۔ پاکستان کسی بھی قسم کی جارحیت برداشت نہیں کرے گا۔ ہمارے معاہدوں کا بھی یہی تقاضا ہے اور ہمارے برادرانہ تعلقات کا بھی۔‘ اس سے قبل پاکستان کی فوج کے ایک ترجمان نے حال ہی میں طے پانے والے مکہ سہ فریقی دفاعی اتحاد کے تناظر میں سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی موجودگی کی تصدیق کی تھی۔ پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ’میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ ہم، یعنی پاکستان کی مسلح افواج، پہلے ہی وہاں (سعودی عرب میں) موجود ہیں۔ میں آپ کو اس بات کی یقین دہانی کرا سکتا ہوں۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی فوجی اہلکار سعودی عرب میں تعینات ہیں تو انہوں نے کہا: ’جی ہاں، پاکستانی فوجی کئی دہائیوں سے وہاں مختلف ذمہ داریوں کے تحت موجود ہیں۔ پاکستانی فوجی سعودی عرب میں کئی دہائیوں سے تعینات ہیں۔‘ مکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب ترکی حملے دفاعی معاہدہ وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں مقدس مقامات کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے، اس کی سرزمین کے دفاع کے لیے سعودی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔  انڈپینڈنٹ اردو منگل, اکتوبر 13, 2026 - 18:15 Main image: > <p class="rteright">پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف 18 جون، 2025 کو عرب نیوز کو انٹرویو دے رہے ہیں (عرب نیوز)</p> پاکستان jw id: uBSMmyrZ type: video related nodes: حوثی حملوں کے بعد ریاض ائیرپورٹ 17 اکتوبر تک بند یمن میں حوثیوں کے 100 سے زائد اہداف تباہ: سعودی اتحاد سعودی شہری تنصیبات پر حوثی حملوں کی سزا دی جائے گی: اتحادی افواج SEO Title: سعودی عرب کے دفاع کے لیے تمام وسائل حاضر ہیں: پاکستان copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 13/10/2026
independenturdu.com
شرجیل میمن ہسپتال میں شراب برآمدگی کے مقدمے سے بری
**کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن سمیت چھ ملزمان کو ضیا الدین ہسپتال میں مبینہ شراب برآمدگی کے مقدمے سے بری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔** عدالت نے 13 اکتوبر 2026 کو جاری کیے گئے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ کیمیائی تجزیے کے مطابق برآمد کی گئی دونوں بوتلوں میں سے ایک میں شہد اور دوسری میں زیتون کا تیل تھا، جبکہ ملزمان کے خون کے نمونوں میں ایتھائل الکوحل بھی نہیں پائی گئی۔ سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی جنوبی کی عدالت نے شرجیل انعام میمن، نسیم احمد شجرا، حبیب اللہ، شکر دین، مشتاق علی اور محمد جام کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 245(1) کے تحت شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔ **مقدمہ کیسے شروع ہوا؟** یہ مقدمہ یکم ستمبر 2018 کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع ضیا الدین ہسپتال میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق تھا، جہاں شرجیل انعام میمن زیر علاج تھے۔ اس وقت وہ نیب ریفرنس میں گرفتاری کے بعد عدالتی تحویل میں تھے اور ہسپتال میں ان کے کمرے کو سب جیل قرار دیا گیا تھا۔ یکم ستمبر 2018 کو اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ہسپتال کا اچانک دورہ کیا تھا۔ اسی روز شرجیل میمن کے کمرے سے مبینہ طور پر شراب کی بوتلیں ملنے کا معاملہ سامنے آیا، جس کے بعد تھانہ بوٹ بیسن میں مقدمہ درج کیا گیا۔ مقدمے کے مدعی مجاہد خان کراچی سینٹرل جیل میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس کے طور پر تعینات تھے۔ انہوں نے اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں کمرے میں غیر قانونی سرگرمیوں کی اطلاع ملی، جس پر انہوں نے جیل کے اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ نسیم احمد شجرا کے ہمراہ صبح تقریباً ساڑھے نو بجے کمرے کی تلاشی لی۔ مدعی کے مطابق ملزمان کے ملازمین شکر دین، مشتاق علی اور محمد جام نے شیشے کی دو بوتلیں پیش کیں۔ ان میں سے ایک بوتل پر ’گرے گوز ووڈکا‘ درج تھا، جبکہ دوسری میں شہد جیسا مائع دکھائی دیتا تھا۔ مدعی نے دونوں بوتلیں تحویل میں لے کر سیل کر دیں اور ملزمان کے خلاف کارروائی کی۔ **کیمیائی تجزیے میں کیا سامنے آیا؟** عدالتی فیصلے کے مطابق کیمیکل ایگزامینر ڈاکٹر زاہد حسن انصاری نے عدالت میں رپورٹ پیش کی، جس میں بوتل نمبر ایک میں شہد اور بوتل نمبر دو میں زیتون کا تیل ہونے کی تصدیق کی گئی۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزمان کے خون کے نمونوں میں ایتھائل الکوحل نہیں پائی گئی۔ میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر اعجاز احمد کے مطابق طبی معائنے کے وقت ملزمان نشے کی حالت میں نہیں تھے، تاہم ان کے خون کے نمونے کیمیائی تجزیے کے لیے محفوظ کیے گئے تھے۔ عدالت نے قرار دیا کہ کیمیائی تجزیے کی رپورٹس نے مقدمے کے بنیادی الزام کو مشکوک بنا دیا، کیونکہ جس مائع کو شراب قرار دیا گیا تھا، وہ تجزیے میں شہد اور زیتون کا تیل نکلا۔ **وکیل صفائی کا مؤقف** ملزمان کے وکلا عروشہ میمن اور شاہد حسین نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکلان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) وکیل صفائی کے مطابق کیمیائی تجزیے کی رپورٹس سے واضح تھا کہ بوتلوں میں شراب موجود نہیں تھی۔ انہوں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ واقعہ ایسے ہسپتال میں پیش آیا جہاں لوگوں کی آمدورفت رہتی ہے، لیکن استغاثہ نے کسی آزاد گواہ کو پیش نہیں کیا۔ وکیل صفائی نے مزید کہا کہ استغاثہ کے گواہوں نے ملزمان کے خلاف کوئی واضح اور مخصوص کردار بیان نہیں کیا اور نہ ہی الزامات ثابت کرنے کے لیے قابل اعتماد شواہد پیش کیے گئے۔ انہوں نے عدالت سے ملزمان کی بریت کی استدعا کی۔ **استغاثہ کا مؤقف** سرکاری وکیل حسن محبوب بھٹی نے ملزمان کی بریت کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت سے انہیں سزا دینے کی استدعا کی۔ استغاثہ کا مؤقف تھا کہ ملزمان کو مقدمے میں نامزد کیا گیا، انہیں موقع سے گرفتار کیا گیا اور مبینہ شراب برآمد ہوئی۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ استغاثہ کے گواہوں نے مقدمے کے مؤقف کی تائید کی، جبکہ گواہیوں اور برآمدگی سے متعلق مواد بھی ملزمان کو جرم سے منسلک کرتا ہے۔ تاہم عدالت نے دستیاب شواہد اور کیمیائی تجزیے کی رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ **عدالت نے بریت کی کیا وجہ بتائی؟** فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ پر لازم تھا کہ وہ ملزمان کے خلاف الزامات شک سے بالاتر ثابت کرتا۔ عدالت نے اس اصول کا حوالہ بھی دیا کہ پولیس اہلکاروں کی گواہی پر مشتمل مقدمات میں شواہد کا زیادہ احتیاط سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ عدالت کے مطابق مقدمے میں پولیس اہلکاروں کے علاوہ کوئی آزاد گواہ پیش نہیں کیا گیا جبکہ کیمیائی تجزیے کی رپورٹس نے شراب کی برآمدگی کے بنیادی دعوے کی تائید نہیں کی۔ ان حالات میں ملزمان کے خلاف جرم ثابت نہیں ہوتا۔ عدالت نے شراب کی مبینہ برآمدگی اور شواہد غائب کرنے کے الزامات کو ثابت شدہ تسلیم نہیں کیا اور تمام چھ ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا۔ سندھ حکومت شرجیل میمن مقدمہ عدالت شراب کیمیائی تجزیے میں بوتلوں سے شراب کے بجائے شہد اور زیتون کا تیل ملنے کا انکشاف، استغاثہ الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا، جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کا تفصیلی فیصلہ۔ ممتاز جمالی منگل, اکتوبر 13, 2026 - 19:30 Main image: > <p>شرجیل انعام میمن سندھ کے وزیر اطلاعات ہیں (شرجیل میمن/ایکس)</p> پاکستان jw id: lCFERr2v type: video related nodes: صدر زرداری کی طبیعت میں بہتری آ رہی ہے: شرجیل میمن اسلام آباد: شراب، فحش مواد کی تیاری پر 284 غیر ملکی زیرِ حراست صحافی پر نیکٹا میں تقرری سے متعلق ’جھوٹی معلومات‘ کا مقدمہ کراچی کارساز حادثہ: نتاشہ دانش منشیات کیس میں بری SEO Title: شرجیل میمن سمیت چھ ملزمان ہسپتال میں شراب برآمدگی کے مقدمے سے بری copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 13/10/2026
independenturdu.com
کراچی میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی موت، مالی مشکلات کا انکشاف
**کراچی کے علاقے بن قاسم کی گلشن فلک ناز سوسائٹی میں منگل کی صبح ایک گھر سے میاں بیوی، ان کی دو کم عمر بیٹیوں اور شوہر کی بہن سمیت پانچ افراد کی لاشیں ملنے کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔** لاشوں کی شناخت شاہزیب، ان کی اہلیہ صبا، بہن شمائلہ اور ان کی دو کم سن بیٹیوں سے ہوئی۔ لاشوں کا جناح ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد انہیں ایدھی سرد خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔ _انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں_ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے ایک پستول اور ایک مبینہ خط بھی ملا ہے، جس میں مالی مشکلات، بے روزگاری اور رشتے داروں سے شکایات کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم پولیس نے تاحال اموات کی حتمی وجہ کی تصدیق نہیں کی اور واقعے کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ **والدین کے انتقال کے بعد خاندان کے حالات بدل گئے: ایس ایس پی ملیر** ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق پیرزادہ نے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’ابتدائی معلومات کے مطابق متوفی خاندان مالی مشکلات کا شکار تھا اور شاہزیب کو اپنے رشتے داروں سے بھی بعض گلے شکوے تھے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’مبینہ خط میں بھی ان مسائل کا اظہار کیا گیا ہے اور بظاہر شاہزیب شدید ذہنی دباؤ میں تھے، تاہم پولیس کسی ایک وجہ کو حتمی قرار دینے کے بجائے ہر پہلو سے تفتیش کرے گی۔‘ ڈاکٹر عبدالخالق پیرزادہ کے مطابق ’خاندان کے حالات ماضی میں بہتر تھے۔ شاہزیب کے والد کا انتقال ایک حادثے میں ہوا تھا، جبکہ ان کی والدہ اس سے پہلے وفات پا چکی تھیں۔ والدین کے انتقال کے بعد شاہزیب اور ان کی بہن رہ گئے تھے۔‘ ایس ایس پی ملیر نے بتایا کہ ’شاہزیب زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھے اور ان کے پاس بھی کوئی اچھی ملازمت نہیں تھی۔ خاندان پہلے ایک بہتر گھر میں رہتا تھا، بعدازاں وہ گھر فروخت کرکے نسبتاً چھوٹے مکان میں منتقل ہوا اور پھر کرائے کے ایک کمرے کے مکان میں رہنے لگا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ابتدائی معلومات ہیں اور پولیس تمام حقائق سامنے لانے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے۔ تفتیش میں جو بھی حقائق سامنے آئیں گے، ان سے آگاہ کیا جائے گا۔‘ **شاہزیب مالی پریشانی میں تھے، ملازمت تلاش کر رہے تھے: کزن** شاہزیب کے کزن علی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’شاہزیب مالی حالات کی وجہ سے پریشان تھے اور روزگار کی تلاش میں تھے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’خاندان کے دیگر افراد کو اندازہ نہیں تھا کہ شاہزیب کو مالی مشکلات کا سامنا کس حد تک تھا۔‘ **’لوگ بنیادی ضروریات پوری نہیں کر پا رہے‘: ظفر عباس** سماجی کارکن ظفر عباس نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک میں مہنگائی اور روزمرہ اخراجات نے عام لوگوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ عوام روٹی کے لیے مر رہی ہے اور پورے پورے پیج کے کاغذ لکھ کر جا رہی ہے کہ ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں۔‘ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ’اگر کوئی شخص ماہانہ 50 سے 60 ہزار روپے کماتا ہے تو اس کے لیے 30 سے 40 ہزار روپے کرایہ اور اتنے ہی کے قریب بجلی کا بل ادا کرنا انتہائی مشکل ہو سکتا ہے۔‘ ظفرعباس نے بتایا کہ ’میں متوفین کے اہل خانہ کی مدد کے لیے ڈھائی لاکھ روپے نقد لے کر آیا تھا۔ تدفین اور دیگر انتظامات پر بھی تقریباً ڈھائی سے تین لاکھ روپے یا اس سے زیادہ خرچ آ سکتا ہے۔‘ **ایدھی رضاکار نے کیا دیکھا؟** ایدھی رضاکار آصف جوکھیو نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’مجھے ایدھی ایمرجنسی کنٹرول سے گلشن فلک ناز جانے کی اطلاع ملی تھی۔ جب میں جائے وقوعہ پر پہنچا تو وہاں پولیس اور دیگر متعلقہ حکام موجود تھے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’گھر کے اندر پانچ لاشیں موجود تھیں اور دو لاشوں پر گولی لگنے کے نشانات تھے۔ گھر بہت چھوٹا اور پرانا تھا۔ وہاں ایک چارپائی اور پنکھا لگا ہوا تھا۔‘ **لاشیں کس حالت میں ملیں؟** پولیس کی ابتدائی معلومات کے مطابق شاہزیب اور ان کی اہلیہ صبا کی لاشیں صوفے پر بیٹھی ہوئی حالت میں ملیں اور دونوں کے سروں پر گولی لگنے کے نشانات تھے۔ جائے وقوعہ سے صبا کی گود میں ایک پستول بھی ملا۔ شاہزیب کی بہن شمائلہ اور دونوں بچیوں کی لاشیں بستر پر چادر کے نیچے موجود تھیں۔ پولیس کو شبہ ہے کہ بچیوں اور شمائلہ کی موت زہر دینے سے ہوئی ہو سکتی ہے، تاہم اس کی حتمی تصدیق نہیں ہوئی۔ پولیس کے مطابق گھر کا دروازہ اندر سے بند تھا اور اسے بند رکھنے کے لیے دروازے کے ہینڈل میں ایک ڈمبل کی سلاخ پھنسا دی گئی تھی۔ کرائم سین یونٹ نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کیے اور لاشوں کو قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے جناح ہسپتال منتقل کیا گیا۔ **خط میں کیا لکھا ہے؟** پولیس کے مطابق شاہزیب کی جیب سے ایک خط ملا ہے، جس میں مالی مشکلات، بے روزگاری اور رشتے داروں سے شکایات کا ذکر ہے۔ تاہم خط کس نے لکھا اور اس میں درج الزامات کی تصدیق ہونا باقی ہے۔ خط کے متن سے معلوم ہوتا ہے کہ والد کے انتقال کے بعد خاندان کے حالات خراب ہوئے اور گذشتہ چھ ماہ سے وہ رشتے داروں سے راشن، بچوں کے دودھ اور دیگر ضروریات کے لیے مدد مانگ رہے تھے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) خط میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ بعض رشتے داروں نے مدد کرنے کے بجائے انہیں ذلیل کیا، رابطے منقطع کیے اور گھر آنے سے منع کیا۔ پولیس کی تحقیقات سے یہ بھی واضح ہونا باقی ہے کہ خط کس نے لکھا اور اس میں بیان کیے گئے حالات کی حقیقت کیا ہے۔ **پولیس کی تحقیقات** پولیس حکام کے مطابق واقعے کو ابتدائی طور پر مشتبہ اجتماعی خودکشی کے امکان سمیت مختلف پہلوؤں سے دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم یہ طے ہونا باقی ہے کہ پانچوں افراد کی موت کن حالات میں ہوئی اور آیا کسی دوسرے شخص کا اس واقعے میں کوئی کردار تھا۔ واقعے کی حتمی نوعیت اور موت کی وجوہات جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم، کیمیائی تجزیے اور دیگر فرانزک شواہد اہم ہوں گے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی مزید حقائق سامنے آ سکیں گے۔ کراچی میں اس سے قبل ستمبر 2026 میں احسن آباد کے علاقے سے بھی ایک خاندان کے پانچ افراد کی لاشیں ملی تھیں، جن میں ایک ڈاکٹر، ان کی اہلیہ اور تین بچیاں شامل تھیں۔ اس واقعے میں بھی موت کی حتمی وجہ جاننے کے لیے کیمیائی تجزیے کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ کراچی جرائم پولیس اموات گلشن فلک ناز میں پانچ لاشیں ملیں، مبینہ خط میں مالی مشکلات اور خاندانی شکوؤں کا ذکر، پولیس کی تحقیقات جاری۔ ممتاز جمالی منگل, اکتوبر 13, 2026 - 17:30 Main image: > <p class="rteright">ایدھی رضا کار کراچی کی گلشن فلک ناز سوسائٹی کے ایک گھر سے 13، اکتوبر 2026 کو لاشیں نکال رہے ہیں(انڈپینڈنٹ اردو)</p> پاکستان type: news related nodes: تنازعات کا سمندر اور کراچی پولیس ڈاکٹر آکاش قتل: کراچی پولیس نے 36 گھنٹوں میں سراغ کیسے لگایا؟ گل پلازہ سے مزید 30 لاشیں برآمد، کل اموات 61 ہو گئیں: کراچی پولیس دوسری بیوی، تین بچوں کی پھندا لگی لاشیں برآمد: کراچی پولیس SEO Title: کراچی میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی موت، مالی مشکلات کا انکشاف copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 13/10/2026
independenturdu.com
پاکستان کا ہائپرسونک بیلسٹک کا کامیاب تجربہ
**پاکستان فوج نے منگل کو ایک بیان میں بتایا کہ اس نے ہائپرسونک بیلسٹک میزائل فتح ٹو کے ایکسٹینڈڈ رینج (ای آر) والے ورژن کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔** پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے بیان کے مطابق یہ میزائل جدید نیویگیشن اور ایویونکس نظام سے لیس ہے۔ پاکستان نے اگست 2025 میں راکٹ فورس کمانڈ کے قیام کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد روایتی میزائل جنگ میں آپریشنل تیاری اور رابطہ کاری بہتر بنانا ہے جبکہ جوہری صلاحیت رکھنے والے نظام الگ نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کے تحت رہتے ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں راکٹ فورس کمانڈ کو علاقائی سکیورٹی کشیدگی، بالخصوص مئی 2025 میں انڈیا کے ساتھ ہونے والی مختصر لیکن شدید لڑائی کے تناظر میں پاکستان کی روایتی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ ہائپرسونک بیلسٹک کے ایکسٹینڈڈ رینج والا یہ فتح ٹو میزائل اپنے منفرد پرواز کے راستے اور سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت کی بدولت زیادہ درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے اور دشمن کے میزائل دفاعی نظام کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بیان کے مطابق فتح ٹو کے ایکسٹینڈڈ رینج والے میزائل سے پاکستان فوج کی دور تک مار کرنے اور دشمن کے دور واقع اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوگا۔ میزائل کا تجربہ آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے کمانڈر، فوج کے سینیئر افسران اور سائنس دانوں اور انجینیئرز نے دیکھا۔ بیان کے مطابق آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے کمانڈر نے سائنس دانوں اور انجینیئرز کی لگن اور تکنیکی مہارت کو سراہا۔ صدر اور وزیراعظم پاکستان، فیلڈ مارشل اور مسلح افواج کے سربراہان نے فتح ٹو میزائل کے توسیع شدہ رینج والے ورژن کے کامیاب تجربے پر سائنس دانوں اور انجینیئرز کو مبارک باد دی۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) پاکستان فوج نے چھ اکتوبر کو بھی مقامی طور پر تیار کیے گئے فتح-4 کروز میزائل کے توسیع شدہ ورژن کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ پاکستان آرمی کی راکٹ فورس کمانڈ کا حصہ فتح-4 کم بلندی پر زمین کی ساخت کے مطابق پرواز کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس صلاحیت کو ’ٹیرین ہیگنگ‘ کہا جاتا ہے، جس سے میزائل کو دشمن کے فضائی دفاع اور میزائل روکنے والے نظام سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ فتح کروز میزائل سیریز پاکستان کے مقامی میزائل تیاری کے پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آپریشنل تیاری اور اہداف کو درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔ پاکستان فوج نے گذشتہ سال ستمبر میں بتایا تھا کہ اس میزائل کی رینج 750 کلومیٹر ہے۔ پاکستان فوج بیلسٹک میزائل ہائپر سونک میزائل میزائل تجربہ راکٹ فورس آئی ایس پی آر کے مطابق میزائل جدید نیوی گیشن اور ایویونکس نظام سے لیس ہے، جو زیادہ درستگی سے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔  انڈپینڈنٹ اردو منگل, اکتوبر 13, 2026 - 17:30 Main image: > <p>پاکستان فوج نے 13 اکتوبر، 2026 کو ہائپرسونک بیلسٹک میزائل فتح ٹو کے ایکسٹینڈڈ رینج (ای آر) والے ورژن کا کامیاب تجربہ کیا ہے (آئی ایس پی آر)</p> پاکستان jw id: MOCpdahX type: video related nodes: پاکستان کا فتح-4 کروز میزائل کے توسیع شدہ ورژن کا تجربہ پاکستانی آبدوز ’ہنگور‘ کا جہاز شکن کروز میزائل کا کامیاب تجربہ انڈین فوج کے لیے 5 ارب ڈالر کے ڈرون اور میزائل انڈیا کے رفال ہمارے شاہینوں کے نشانے پر آئے اور فیل ہوگئے: وزیراعظم پاکستان SEO Title: پاکستان کا ہائپرسونک بیلسٹک کا کامیاب تجربہ copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 13/10/2026
independenturdu.com
افغان طالبان نے بی بی سی ریڈیو کی نشریات بند کر دیں
**افغان حکام نے ملک بھر میں بی بی سی کی ایف ایم ریڈیو نشریات معطل کر دی ہیں۔** برطانوی نشریاتی ادارے نے منگل کو بتایا کہ وہ صورت حال حل کرنے کے لیے افغان حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ جائن یہاں کریں # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) بی بی سی کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ’افغانستان بھر میں لاکھوں افراد درست خبروں اور معلومات کے لیے بی بی سی پر انحصار کرتے ہیں اور ہم اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے حکام کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔‘ افغان طالبان حکومت کی وزارت اطلاعات و ثقافت کے ترجمان حبیب غفران نے کہا کہ بی بی سی کی سرگرمیاں ’بار بار خلاف ورزیوں‘ کے باعث فی الحال معطل کی گئی ہیں۔ تاہم انہوں نے ان خلاف ورزیوں کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ بی بی سی افغانستان افغان طالبان بی بی سی کے مطابق وہ صورت حال حل کرنے کے لیے افغان حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔ روئٹرز منگل, اکتوبر 13, 2026 - 17:30 Main image: > <p style="direction:rtl">افغانستان کے ضلع فیض آباد میں ایک شخص 13 فروری، 2023 کو دکان پر بیٹھا ریڈیو سن رہا ہے (اے ایف پی)</p> ایشیا type: news related nodes: ’غزہ: ڈاکٹرز انڈر اٹیک‘: بی بی سی پر نشر نہ ہونے والی فلم کے لیے بافٹا ایوارڈ بی بی سی کو ٹرمپ کے آگے ڈٹ جانا چاہیے SEO Title: افغان طالبان نے بی بی سی ریڈیو کی نشریات بند کر دیں copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 13/10/2026
independenturdu.com
حرمین شریفین کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں: وزیر مذہبی امور
**وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے منگل کو کہا کہ سعودی عرب اور حرمین شریفین کا تحفظ پاکستانیوں کے ایمان کا حصہ ہے اور پاکستانی عوام ان کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔** اسلام آباد میں پاک سعودی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ اس معاملے پر حکومت اور عوام کا مؤقف یکساں ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں یہ پریس کانفرنس ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ستمبر 2026 سے یمن کے ایران نواز حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر ڈرون اور بیلسٹک و کروز میزائل حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، شہروں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ متعدد سعودی اور دیگر ممالک کے شہری جان سے گئے ہیں۔ **پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ** سردار محمد یوسف نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے ایک معاہدہ کیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر دفاع بھی ہر لحاظ سے سعودی عرب کا ساتھ دینے کا اعلان کر چکے ہیں۔ واضح رہے کہ سات اگست 2026 کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ’اس معاہدے سے پہلے بھی پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل حرمین شریفین کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور کوئی مسلمان یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ حرمین شریفین یا وہاں آنے والے زائرین پر حملہ کیا جائے۔‘ سردار محمد یوسف نے مزید کہا کہ سعودی عرب پر حملوں کے معاملے میں تمام پاکستانیوں کا متفقہ مؤقف ہے اور عوام حرمین شریفین کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ **دفاعی معاہدے پر عمل درآمد ہونا چاہیے: عبدالغفور حیدری** جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے معاملے پر حکومت اور عوام کا مؤقف ایک ہے۔ ان کے بقول حوثی اتنی بڑی طاقت نہیں ہیں، تاہم انہیں جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی میسر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی معاہدے پر بعض قوتوں کو تکلیف ہوئی، جن میں ان کے بقول اسرائیل بھی شامل ہے۔ مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ اگر تینوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوا ہے تو پاکستان اور ترکی کو بھی اس پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب محض ایک ملک نہیں بلکہ مسلمانوں کے لیے مقدس حیثیت رکھتا ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو اس کے دفاع کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ خلیجی ممالک سمجھتے تھے کہ خطے میں امریکی موجودگی انہیں تحفظ فراہم کرے گی، لیکن ان کے بقول امریکہ حملوں کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ امریکہ کو اپنا دوست سمجھنے کے حوالے سے اپنی سوچ پر نظرثانی کریں۔ **سعودی عرب اور بیت اللہ پاکستانیوں کی ریڈ لائن ہیں: حافظ عبدالکریم** مرکزی امیر جمعیت اہل حدیث پاکستان اور سینیٹر حافظ عبدالکریم نے بھی سعودی عرب میں عمرہ زائرین اور شہریوں پر حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور بیت اللہ تمام پاکستانیوں کے لیے ریڈ لائن ہیں۔ حافظ عبدالکریم کے مطابق حوثیوں نے ریاض کے ہوائی اڈے پر حملہ کیا، جس میں پاکستانی، بنگلہ دیشی اور دیگر ممالک کے عمرہ زائرین جان سے گئے۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین اور زائرین کی سلامتی کے معاملے پر پاکستانی قوم متحد ہے۔ **پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ ایمان اور محبت کا ہے: عبدالرحمن لدھیانوی** مولانا عبدالرحمن لدھیانوی نے کہا کہ سعودی عرب عالم اسلام کا مرکز جبکہ پاکستان عالم اسلام کا قلعہ ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان محبت اور ایمان کا رشتہ ہے اور پاکستانی عوام سعودی عرب کے دفاع کے لیے وہاں پہنچنے کو تیار ہیں۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) انہوں نے حوثیوں کا موازنہ اسرائیل سے کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور ایران کی حمایت کے بغیر حوثیوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ مولانا عبدالرحمن لدھیانوی نے پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ 22 اکتوبر کو اسلام آباد میں ایک اجتماع منعقد کیا جائے گا۔ **حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے مسلم ممالک کا بلاک بنانے کا مطالبہ** جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما شاہ اویس نورانی نے کہا کہ سعودی عرب پر حملوں کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے مدینہ منورہ پر حملے اور ریاض کے ہوائی اڈے پر عمرہ زائرین کے زخمی اور ہلاک ہونے کے واقعات پر افسوس کا اظہار کیا۔ شاہ اویس نورانی نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سے مطالبہ کیا کہ حرمین شریفین کے خلاف مبینہ سازشوں کا سدباب کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے مسلمان ممالک پر مشتمل ایک مشترکہ بلاک تشکیل دیا جانا چاہیے تاکہ مقدس مقامات اور وہاں آنے والے زائرین کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ مکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب حوثی حملے ترکی مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ اگر تینوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوا ہے تو پاکستان اور ترکی کو بھی اس پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔ مہوش قماس خان منگل, اکتوبر 13, 2026 - 17:00 Main image: > <p class="rteright">وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف 13، اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے</p> پاکستان jw id: S4qjXBm4 type: video related nodes: مکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کی سٹریٹجک کمیٹی کا پہلا جاری مکہ دفاعی معاہدہ جلد عملی شکل اختیار کرے گا: سعودی سفیر سعودی عرب کی طرف داغے گئے تین حوثی میزائل تباہ SEO Title: حرمین شریفین کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں: وزیر مذہبی امور copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 13/10/2026
independenturdu.com
فرانس: ہیکرز کا سپر مارکیٹوں کے سینکڑوں فریجوں پر بڑا سائبر حملہ
**فرانس میں ہیکرز نے سائبر حملے میں سینکڑوں سپر مارکیٹس کے فریج اور فریزرز کا درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا دیا، جس سے کھانے پینے کی اشیا خراب ہو گئیں اور آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔** پیرس کی ایک سپر مارکیٹ میں ملازمین فریجوں سے خراب اشیا کو کچرے میں پھینکتے دکھائی دیے۔ ریٹیل کمپنی انٹرماریشے کے مطابق اس کے تقریباً 150 سٹورز کے فریج چھ گھنٹے تک گرم رہے۔ ہیکرز فرانس سائبر کرائم ہیکرز نے سینکڑوں سپر مارکیٹس کے فریج اور فریزرز کا درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھا دیا، جس سے کھانے پینے کی اشیا خراب ہو گئیں۔ روئٹرز منگل, اکتوبر 13, 2026 - 16:45 Main image: یورپ type: video related nodes: ہیکرز نے پاکستانی سکیورٹی اداروں کو کس طرح نشانہ بنایا؟ ہیکروں کی جدید تکنیک سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ چینی ہیکرز نے ٹرمپ کے فون ڈیٹا کو نشانہ بنایا: رپورٹ SEO Title: فرانس: ہیکرز کا سپر مارکیٹوں کے سینکڑوں فریجوں پر بڑا سائبر حملہ copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 13/10/2026
independenturdu.com
بریکنگ بیڈ کے ’والٹر جونیئر‘ 34 برس کی عمر میں چل بسے
**معروف امریکی ٹی وی سیریز ’بریکنگ بیڈ‘ کے اداکار آر جے مٹے منگل کو چل بسے۔ ان کی عمر 34 برس تھی۔** اداکار دماغی فالج (cerebral palsy) کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے، جو ایک جسمانی معذوری ہے اور کسی شخص کی حرکت کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ ان کی موت کی وجہ تاحال سامنے نہیں آئی۔ آر جے مٹے کو اے ایم سی کی مقبول سیریز ’بریکنگ بیڈ‘ میں برائن کرینسٹن کے کردار والٹر وائٹ کے بیٹے والٹر جونیئر کا کردار ادا کرنے کے لیے شہرت حاصل ہوئی۔ وہ 2008 سے 2013 کے دوران اس سیریز کی 56 اقساط میں نظر آئے۔ وہ اس سیریز کی اس کاسٹ کا بھی حصہ تھے جس نے 2014 میں ڈرامہ سیریز میں بہترین مجموعی اداکاری کا سکرین ایکٹرز گلڈ (ایس اے جی) ایوارڈ جیتا تھا۔ ان کے نمائندے نے ویب سائٹ ٹی ایم زیڈ کو ایک بیان میں کہا: ’ہمیں انتہائی دکھ کے ساتھ اپنے پیارے اداکار، سماجی خدمات انجام دینے والے اور معذور افراد کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن آر جے مٹے کی افسوس ناک اموت کی اطلاع دینا پڑ رہی ہے۔‘ اداکار آر جے مٹے (بائیں) اور برائن کرینسٹن 25 نومبر 2013 کو امریکی شہر لاس اینجلس میں بریکنگ بیڈ‘ کی ڈی وی ڈی کی رونمائی کے موقع پر (اے ایف پی) بیان کے مطابق مٹے نے دماغی فالج کے ساتھ اپنی زندگی کے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے کردار میں حقیقت کا رنگ بھرا اور معذوری سے متعلق آگاہی اور شمولیت کے فروغ کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم قائم کیا۔ ’بریکنگ بیڈ‘ میں کام کرنے کے بعد مٹے کو ٹی وی اور فلموں میں کئی دیگر اہم منصوبوں میں کام کرنے کے مواقع ملے۔ انہوں نے فری فارم کی سیریز ’سوئچڈ ایٹ برتھ‘ کے تیسرے سیزن میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد وہ ’ڈکسی لینڈ‘، ’روبوٹ چکن‘، ’ناؤ اپوکلیپس‘ اور ’دی گارڈینز آف جسٹس (ول سیو یو)‘ سمیت مختلف پروجیکٹس میں نظر آئے۔ حالیہ برسوں میں مٹے 2021 کی فلم ’ٹرائمف‘ میں دکھائی دیے، جس میں انہوں نے دماغی فالج کے ساتھ زندگی گزارنے والے ہائی سکول کے ایک طالب علم کا کردار ادا کیا جو پہلوان بننے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے 2024 میں ڈوو کیمرون کے ساتھ فلم ’لو می ڈیڈ‘ اور 2025 میں فن وٹراک کے ساتھ فلم ’ویسٹ ہیمپٹن‘ میں کام کیا۔ سکرین پلے پر دماغی فالج کے ساتھ زندگی گزارنے والے مختلف کردار ادا کرنے کے تجربے نے مٹے کو معذور افراد کے حقوق کے لیے اپنی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کا موقع دیا۔ وہ ’یونائیٹڈ سیریبرل پالسی‘ اور ’شرائنرز چلڈرنز‘ نامی فلاحی تنظیموں کے سفیر بھی رہے۔ اس کے علاوہ وہ مٹے فاؤنڈیشن کے صدر تھے۔ فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جو وسطی ٹیکساس میں لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے والی تنظیموں اور پروگراموں میں سرمایہ کاری کرتا ہے۔ اپنے آخری انٹرویوز میں سے ایک میں مٹے گزشتہ ہفتے ’دی جو ولپِس پوڈکاسٹ‘ میں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے اپنے کیریئر اور سماجی سرگرمیوں پر گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے بتایا کہ ’بریکنگ بیڈ‘ میں ان کا کردار سیریز کے تخلیق کار ونس گلیگن کے ایک ایسے دوست پر مبنی تھا جو اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ مٹے نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’اس لیے اس کردار کو ادا کرنا اور اس کے انداز میں ڈھل جانا واقعی حقیقی محسوس ہوتا تھا۔‘ اداکاری کے علاوہ مٹے معذور افراد کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن کے طور پر بھی جانے جاتے تھے۔ ان کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد مداحوں نے سوشل میڈیا پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ایکس پر ایک مداح نے لکھا: ’میں نے چند روز پہلے ہی ایک انٹرویو دیکھا تھا جس میں وہ اس کردار کے حصول کے بارے میں بتا رہے تھے۔ انہوں نے جونیئر کا کردار شاندار انداز میں ادا کیا۔‘ ایک اور مداح نے لکھا: ’انہوں نے صرف والٹ جونیئر کا کردار ادا کرنے سے کہیں زیادہ کام کیا۔ ہالی وڈ میں معذور افراد کی نمائندگی کے لیے ان کی کوششیں بہت اہم تھیں۔ 34 برس کی عمر بہت کم ہے۔ یہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ ان کی روح کو سکون ملے۔‘ ایک مداح نے تبصرہ کیا: ’خدایا، یقین نہیں آتا۔ وہ بہترین اداکار تھے اور ان کا کردار یادگار تھا۔ ان کی روح کو سکون ملے۔‘ ایک اور مداح نے لکھا: ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ بریکنگ بیڈ کی مرکزی کاسٹ میں سے سب سے پہلے وہ دنیا سے رخصت ہوں گے۔ ان کی روح کو سکون ملے۔‘ ایک اور صارف نے کہا: ’انہوں نے ایک ایسے کردار میں اپنی حقیقی زندگی کے تجربے کو شامل کیا جس میں ہالی وڈ عموماً معذوری کی صرف نقل کرتا ہے۔ 34 برس کی عمر میں ان کا چلے جانا بہت بڑا نقصان ہے۔‘ ویب سیریز فلم ہالی وڈ اداکار موت آر جے مٹے کو اے ایم سی کی مقبول سیریز ’بریکنگ بیڈ‘ میں برائن کرینسٹن کے کردار والٹر وائٹ کے بیٹے والٹر جونیئر کا کردار ادا کرنے کے لیے شہرت حاصل ہوئی۔ کیٹلن ہورنک منگل, اکتوبر 13, 2026 - 16:30 Main image: > <p>’بریکنگ بیڈ‘ کے اداکار آر جے مٹے 21 اگست 2014 کو امریکی شہر لاس اینجلس میں 66ویں ایمی ایوارڈز میں شرکت کے لیے پہنچے (اے ایف پی)</p> ٹی وی type: news related nodes: امریکی ٹی وی سیریز میں پہلی بار 'پاکستانی جنرل' مونیکا لیونسکی کلنٹن سکینڈل پر بنی ٹی وی سیریز کا حصہ ہوں گی نیٹ فلکس نے امریکہ میں پھر فیس بڑھا دی فلم کی تشہیر کا انوکھا انداز: نیٹ فلکس نے بل بورڈ میں گھر بنا دیا SEO Title: بریکنگ بیڈ کے ’والٹر جونیئر‘ 34 برس کی عمر میں چل بسے copyright: IndependentEnglish origin url: https://www.the-independent.com/arts-entertainment/tv/news/rj-mitte-death-breaking-bad-b3065513.html show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 13/10/2026
independenturdu.com
’ریاست مخالف‘ مواد پھیلانے کا الزام، اقرار الحسن عدالت میں پیش
**پاکستانی ٹی وی اینکر اور عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کو آخرکار منگل کو کراچی کی ایک عدالت میں پیش کر دیا گیا جہاں سے انہیں نیشنل سائبر کرائمز انویسٹیگیشن ایجنسی کے حوالے کر دیا گیا۔** اقرار الحسن کے اہل خانہ کے مطابق انہیں اتوار کو لاہور میں ان گھر سے کچھ ’لوگ‘ اپنے ساتھ لے گئے تھے جبکہ نیشنل سائبر کرائمز انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ابتدا میں انہیں گرفتار کرنے کی تردید کی تھی۔ تاہم اب اقرار الحسن کو این سی سی آئی اے نے منگل کو کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ 1 ایسٹ کی عدالت میں پیش کیا۔ انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار ممتاز جمالی کے مطابق عدالت نے چار روزہ ریمانڈ کی درخواست منظور کر لی جس کے بعد این سی سی آئی اے کی ٹیم نے اقرار الحسن کو واپس سیل منتقل کر دیا ہے۔ ٹی وی اینکر اقرار الحسن کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق ان پر سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد پھیلانے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ ایف آئی آر جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کراچی نے اقرار الحسن پر سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر ریاست مخالف، من گھڑت اور ہتک آمیز مواد پھیلانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ 10 اکتوبر 2026 کو درج کیا گیا۔ ملزم کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کی دفعات 9، 10، 20، 24 اور 26-A کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ’ملزم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک پر مبینہ طور پر ایسا مواد شائع اور نشر کر رہا تھا جس کا مقصد ریاست، اس کے اداروں اور عہدیداروں کے خلاف عوامی سطح پر اشتعال پیدا کرنا تھا۔‘ ایف آئی آر کے مطابق متعلقہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شائع ہونے والی پوسٹس اور ویڈیوز کا جائزہ لیا گیا، جن کے بارے میں الزام ہے کہ ان میں ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف ’غلط اور من گھڑت معلومات‘ پھیلائی گئیں۔ پاکستان کراچی پیکا اقرار الحسن کو این سی سی آئی اے نے منگل کو کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ 1 ایسٹ کی عدالت میں پیش کیا۔  انڈپینڈنٹ اردو منگل, اکتوبر 13, 2026 - 12:45 Main image: > <p>ٹی وی اینکر اقرار الحسن کو 13 اکتوبر کو کراچی کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا (فائل فوٹو/ اقرار الحسن/ فیس بک) </p> پاکستان type: news related nodes: ٹی وی اینکر اقرار الحسن کے ’اغوا‘ کا معمہ برقرار صحافی اقرار الحسن کی سیاسی جماعت نوجوانوں کو راغب کر پائے گی؟ ’ریاست مخالف پروپیگنڈے‘ کی نشاندہی کے لیے ٹاسک فورس قائم ریاست مخالف سرگرمیوں کا الزام: بریگیڈیئر کی عدالت میں پیشی کا حکم SEO Title: ’ریاست مخالف‘ مواد پھیلانے کا الزام، اقرار الحسن عدالت میں پیش copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 13/10/2026
independenturdu.com
مشرق وسطیٰ کشیدگی کے دوران عمانی وزیر خارجہ کا دو روزہ دورہ پاکستان
**آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور سعودی عرب پر حوثی حملوں کے باعث بڑھتی ہوئی علاقائی تشویش کے دوران عمان کے وزیر خارجہ آج بروز منگل دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں۔** یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان سفارتی کوششوں کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کو کم کرنے میں مدد کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری جانب عمان، جو ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کا کنٹرول شیئر کرتا ہے، نے روایتی طور پر علاقائی تنازعات خصوصاً تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے پیر کی شام جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ عمانی وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر 13 اور 14 اکتوبر کو پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ وزارت خارجہ نے کہا: ’دورے کے دوران اسلام آباد میں پاکستان-عمان مشترکہ وزارتی کمیشن کا 8واں اجلاس منعقد ہوگا، جس کی مشترکہ صدارت دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کریں گے۔‘ مزید کہا گیا کہ ’یہ اجلاس پاکستان اور عمان کے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لینے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔‘ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اگرچہ وزارت خارجہ کے بیان میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کا ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس بات کا کوئی اشارہ ملا کہ یہ امور رسمی طور پر ایجنڈے پر شامل ہیں، تاہم خلیج میں دونوں ممالک کے معاشی اور سکیورٹی مفادات کو مدِنظر رکھتے ہوئے بڑھتا ہوا علاقائی بحران دونوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ آبنائے ہرمز، جو خلیج عرب کو خلیج عمان اور بحرِ عرب سے ملاتی ہے، دنیا کے اہم ترین توانائی کی نقل و حمل کے راستوں میں سے ایک ہے۔ اس آبی گزرگاہ کے ذریعے نقل و حمل میں خلل نے عالمی سطح پر تیل کی فراہمی کو متاثر کیا ہے اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، خاص طور پر پاکستان جیسے درآمدات پر منحصر ممالک اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب یمن میں سرگرم حوثی ملیشیا سعودی ایئرپورٹس اور دیگر شہری تنصیبات پر حملے کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق اتوار (11 اکتوبر) کو دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے ایک حملے میں ایک پاکستانی شہری جان سے گیا تھا جبکہ 11 دیگر افراد زخمی ہو گئے تھے۔ اس سے قبل آٹھ اکتوبر کو بھی اسی ایئرپورٹ پر ہونے والے دو حملوں میں ایک پائلٹ سمیت تین سعودی شہری جان سے گئے تھے جبکہ سعودی ایئرلائنز کا ایک طیارہ بھی متاثر ہوا۔ پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکی نے اتوار کو ایک مشترکہ بیان میں ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا اور اپنی سکیورٹی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ریاض کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ عمانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد میں قیام کے دوران وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کا امکان ہے۔ عمان مشرق وسطیٰ آبنائے ہرمز حوثی پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر 13 اور 14 اکتوبر کو پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔  انڈپینڈنٹ اردو منگل, اکتوبر 13, 2026 - 11:45 Main image: > <p class="rteright">پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار 23 جولائی 2026 کو فلپائن کے شہر منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر عمانی وزیر خارجہ سید بدر بن حمد بن حمود البوسعیدی (بائیں) سے ملاقات کر رہے ہیں (فائل فوٹو/ پاکستانی وزارتِ خارجہ ایکس اکاؤنٹ)</p> پاکستان type: news related nodes: عمان کے قریب جہاز پر حملے کے بعد پاکستانی انجینیئر لاپتہ، بیٹا منتظر آبنائے ہرمز کے لیے عارضی راہداری کا اعلان جلد: عمان ایران اور عمان میں معاہدہ اہم ہے، توجہ اسی پر ہے: پاکستان عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز معاہدہ حتمی مراحل میں: ایران SEO Title: مشرق وسطیٰ کشیدگی کے دوران عمانی وزیر خارجہ کا دو روزہ دورہ پاکستان copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 13/10/2026
independenturdu.com
جنگ کے باوجود ممالک کے پاس اخراجات میں کمی کے سوا کوئی راستہ نہیں: آئی ایم ایف
**عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے منگل کو خبردار کیا کہ ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والے توانائی کے بحران سے کم آمدنی والے ترقی پذیر ممالک غیر معمولی طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔** تاہم ان میں سے بہت سے ممالک کے پاس اخراجات میں کمی کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بصورت دیگر انہیں قرضوں کی تنظیم نو کرنا پڑ سکتی ہے۔ آئی ایم ایف کی ڈپٹی ڈائریکٹر برائے تحقیق، پیتیا کووا بروکس نے بنکاک میں ادارے کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھاری قرضوں تلے دبے اور تیل درآمد کرنے والے ممالک توانائی کے بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ان ممالک کے لیے بحران کے دوران اپنے شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا ایک مشکل فیصلہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’بدقسمتی سے عالمی معیشت کو مسلسل کئی برسوں سے ایک کے بعد ایک بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس دوران قرضوں کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مہنگائی بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔‘ امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کو تنازع میں دھکیل دیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایران کی جوابی کارروائیوں میں خلیجی خطے میں واشنگٹن کے اتحادیوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ تیل اور گیس کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات اب دیگر اشیائے ضروریہ تک بھی پہنچ رہے ہیں، جبکہ اس بحران نے کھاد کی اہم سپلائی کو بھی متاثر کیا ہے۔ آئی ایم ایف نے بحران کے تناظر میں ممالک کو محدود اور ہدف پر مبنی سبسڈیز دینے کا مشورہ دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل کے ذخائر دوبارہ مضبوط کریں اور بڑھتے ہوئے قرضوں کے مسئلے سے نمٹیں۔ عالمی معیشت کو وبائی مرض کے بعد سے مسلسل بحرانوں کا سامنا رہا ہے۔ پیتیا کووا بروکس نے کہا کہ ’ہماری تجاویز یقیناً زیادہ تر ممالک پر لاگو ہوتی ہیں، لیکن سب سے زیادہ کمزور ممالک کے لیے ان فیصلوں اور مختلف ترجیحات کے درمیان توازن قائم کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔‘ آئی ایم ایف کی جانب سے منگل کو جاری کی گئی ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں ان کم آمدنی والے ترقی پذیر ممالک کو ایران جنگ کے معاشی اثرات کے حوالے سے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے جو تیل درآمد کرتے ہیں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ٹیکنالوجی میں جاری سرمایہ کاری کے عروج سے فائدہ نہیں اٹھا رہے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) انہوں نے کہا کہ ’سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں گھریلو استعمال کی اشیا کی قیمتوں کے مجموعی حساب میں توانائی اور خوراک کا حصہ بہت زیادہ ہے، اس لیے ان کے لیے صورتِ حال کہیں زیادہ مشکل ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’لیکن بدقسمتی سے ان ممالک کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔‘ آئی ایم ایف کی سینیئر عہدیدار نے مزید کہا کہ کم آمدنی والے بہت سے ممالک پہلے ہی قرضوں کے شدید بحران کا شکار ہیں یا اس کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اگر وہ اپنے قرضوں کے مسئلے کو حل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو انہیں قرضوں کی تنظیمِ نو کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔ ان کے مطابق ’اگر کسی ملک کے قرضے پائیدار سطح پر نہیں ہیں تو ان کے مسئلے کو حل کرنا اور بروقت و منظم انداز میں قرضوں کی تنظیم نو کرنا انتظار کرنے سے بہتر ہے، کیونکہ تاخیر کی صورت میں مستقبل میں اس عمل کی لاگت کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔‘ **ڈومینو اثرات** آئی ایم ایف نے اپنی ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں 2026 کے لیے عالمی اقتصادی ترقی کی پیش گوئی میں اضافہ کیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ترقی یافتہ معیشتوں میں مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہے۔ تاہم مختلف معیشتوں میں ترقی کی رفتار یکساں نہیں رہے گی۔ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کون سا ملک ایران جنگ سے کتنا متاثر ہوتا ہے اور آیا وہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی سپلائی چین کا حصہ ہے یا نہیں۔ رپورٹ کے مطابق، 2026 میں دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں کی شرحِ نمو 2.1 فیصد رہنے کی توقع ہے، جبکہ تائیوان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک، جو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی سپلائی چین کا حصہ ہیں، نمایاں طور پر زیادہ شرحِ نمو حاصل کر سکتے ہیں۔ پیتیا کووا بروکس نے اے ایف پی کو بتایا کہ اگر مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری کی سرگرمیوں میں کمی آتی ہے تو عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’اس کے نتیجے میں نہ صرف امریکہ جیسی ترقی یافتہ معیشتوں کی پیداوار متاثر ہوگی بلکہ تجارتی روابط کے ذریعے ایشیا کے ممالک بھی اس کے اثرات محسوس کریں گے۔‘ آئی ایم ایف کے بدترین ممکنہ منظرنامے کے مطابق، اگر مصنوعی ذہانت اپنی سرمایہ کاری سے وابستہ متوقع پیداواری فوائد فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو 2028 کے لیے عالمی مجموعی ملکی پیداوار جی ڈی پی کی پیش گوئی میں 0.4 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلیوں سے وابستہ خطرات کو بھی اہم موضوع قرار دیا گیا ہے۔ پیتیا کووا بروکس نے بتایا کہ موسمیاتی رجحان ’ال نینو‘ کے غیر معمولی شدت اختیار کرنے کے ممکنہ اثرات میں سے بعض کو پہلے ہی بعض غذائی اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تخمینوں میں شامل کیا جا چکا ہے۔ ال نینو قدرتی موسمیاتی دور کا گرم مرحلہ ہے، جس کے دوران بحرالکاہل کے استوائی خطے میں سمندر کی سطح کا درجۂ حرارت بڑھ جاتا ہے۔ اس سے موسم کے معمولات میں تبدیلی آتی ہے، خشک سالی اور سیلاب کے خطرات بڑھ سکتے ہیں اور انسانی سرگرمیوں کے باعث ہونے والی عالمی حدت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ پیتیا کووا بروکس نے کہا کہ ’ہم مشروبات کی قیمتوں اور چاول وغیرہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔‘ انہوں نے خبردار کیا کہ ’یہ بھی ممکن ہے کہ ان اثرات کا ڈومینو سلسلہ ہماری موجودہ توقعات سے کہیں زیادہ بڑا ثابت ہو۔‘ معیشت دنیا عالمی مالیاتی فنڈ ایران جنگ آئی ایم ایف کی ڈپٹی ڈائریکٹر کے مطابق بھاری قرضوں تلے دبے اور تیل درآمد کرنے والے ممالک توانائی کے بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اے ایف پی منگل, اکتوبر 13, 2026 - 11:15 Main image: > <p>آئی ایم ایف کی ڈپٹی ڈائریکٹر برائے تحقیق، پیتیا کووا بروکس نے 12 اکتوبر 2026 کو بنکاک میں میڈیا سے گفتگو کی (اے ایف پی)</p> دنیا type: news related nodes: آئی ایم ایف کی مخالفت کے باوجود پاکستان کا فیول سبسڈی جاری رکھنے کا فیصلہ آئی ایم ایف اور پاکستان میں 1.2 ارب ڈالر کے اجرا پر سٹاف لیول معاہدہ آبنائے ہرمز کی بندش سے مہنگائی کا دباؤ: آئی ایم ایف مشرق وسطی میں کشیدگی سے مہنگائی میں اضافہ: آئی ایم ایف SEO Title: جنگ کے باوجود ممالک کے پاس اخراجات میں کمی کے سوا کوئی راستہ نہیں: آئی ایم ایف copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 13/10/2026
independenturdu.com
برلن میراتھن سائیکل پر سوار ہو کر مکمل کرنے والی انفلوئنسر کی معذرت
**چین کی ایک فٹنس انفلوئنسر نے 2026 کی برلن میراتھن میں دھوکا دہی کا اعتراف کرتے ہوئے معذرت کر لی۔ ان کی تصاویر سامنے آئی تھیں جن میں انہیں دوڑ کے دوران سائیکل چلاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔** سوشل میڈیا پر مجموعی طور پر 5 لاکھ 30 ہزار فالوورز رکھنے والی انفلوئنسر کو، جسے ابیر کے نام سے جانا جاتا ہے، میراتھن کے 38 کلومیٹر کے مقام کے قریب سائیکل پر سوار دیکھا گیا۔ آفیشل میراتھن ٹائم انٹیگریٹی یونٹ کے مطابق انسٹاگرام پر ایک ایسا پیج ہے جو انفلوئنسرز کی جانب سے دوڑ کے اوقات سے متعلق غلط یا گمراہ کن دعوؤں کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ تصاویر آن لائن بڑے پیمانے پر گردش کرتی رہیں اور چین کے بعض نیوز اداروں نے بھی ان پر خبریں نشر کیں۔ آفیشل میراتھن ٹائم انٹیگریٹی یونٹ کے مطابق، جسے گذشتہ سال آسٹریلیا کے دو رنرز نے شروع کیا تھا، ابیر کی میراتھن کا تیز ترین مرحلہ 35 سے 40 کلومیٹر کے درمیان تھا، یعنی وہ حصہ جس میں انہیں سائیکل پر سوار ہو کر اختتامی لائن کی جانب جاتے دیکھا گیا۔ انفلوئنسر نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے برلن میراتھن میں اپنی ذاتی بہترین کارکردگی (پرسنل بیسٹ) کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ تاہم، تین اکتوبر کو ابیر نے سوشل میڈیا پر اعتراف کیا کہ انہوں نے دوڑ کے قواعد کی خلاف ورزی کی اور اس پر معذرت کی۔ چینی سوشل میڈیا ٹرینڈز پر نظر رکھنے والے پلیٹ فارم ’واٹس آن ویبو‘ کے مطابق، انفلوئنسر نے کہا کہ طبیعت خراب ہونا ان کے اقدام کا جواز نہیں بن سکتا۔ بعد ازاں ابیر نے چینی پلیٹ فارم ’ریڈ نوٹ‘، جسے مقامی طور پر ’شیاؤہونگ شو‘ کہا جاتا ہے، سے میراتھن سے متعلق پوسٹس بھی حذف کر دیں۔ اتوار کو آفیشل میراتھن ٹائم انٹیگریٹی یونٹ نے کھیلوں کے برانڈ بروکس چائنا کی جانب سے معذرت نامہ شائع کیا۔ کمپنی نے کہا کہ اسے اپنی پارٹنر انفلوئنسر کی تربیت کے منصوبوں اور میراتھن کے اہداف کا علم تھا اور اس نے دوڑ کے لیے اسے سامان بھی فراہم کیا تھا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) کمپنی نے اعتراف کیا کہ اس کی جانچ پڑتال ناکافی رہی۔ بیان میں کہا گیا، ’دوڑ کے بعد ہم نے اختتامی نتائج اور فراہم کردہ متعلقہ تحریری مواد، تصاویر اور ویڈیوز کی تصدیق تو کی، لیکن شرکت کے پورے عمل کا جامع اور تفصیلی جائزہ نہیں لیا، خصوصاً مختلف حصوں کے اعداد و شمار جیسی معلومات کی جانچ نہیں کی۔ یہ ہماری جانب سے کوتاہی تھی۔‘ بروکس نے کہا کہ اس نے فوری طور پر انفلوئنسر کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کر دیا ہے اور ’آئندہ کبھی ان کے ساتھ کام نہیں کرے گا۔‘ ریڈٹ پر بھی ابیر کی تصاویر موضوعِ بحث بن گئیں۔ ایک صارف نے لکھا، ’اگر دھوکا ہی دینا ہے تو پھر اس کا فائدہ کیا؟ یہ ایک عجیب انتخاب ہے۔‘ دیگر صارفین نے سوال اٹھایا کہ انہیں میراتھن میں ابتدائی رنرز کے لیے مخصوص حصے میں جگہ کیسے ملی، جبکہ بعض نے ان برانڈز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے انہیں سپانسر کیا تھا۔ ایک صارف نے سپانسرشپ کے اس تعلق کو ’شرمناک‘ قرار دیا۔ آفیشل میراتھن ٹائم انٹیگریٹی یونٹ معمول کے مطابق ان رننگ انفلوئنسرز کے دعوؤں کی نشاندہی کرتا ہے جن پر دوڑ کی کارکردگی کے بارے میں گمراہ کن معلومات دینے کا الزام ہو۔ بالخصوص ایسے معاملات میں جہاں انفلوئنسرز میراتھن کے سرکاری چِپ ٹائم کے بجائے اسٹروا یا جی پی ایس سے حاصل کردہ فاصلوں اور اوقات کو اپنی کارکردگی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ایشیا چین سوشل میڈیا ٹرینڈنگ سوشل میڈیا پر مجموعی طور پر 5 لاکھ 30 ہزار فالوورز رکھنے والی انفلوئنسر کو، جسے ابیر کے نام سے جانا جاتا ہے، میراتھن کے 38 کلومیٹر کے مقام کے قریب سائیکل پر سوار دیکھا گیا۔ معروشہ مظفر منگل, اکتوبر 13, 2026 - 09:45 Main image: > <p>یہ تصاویر آن لائن بڑے پیمانے پر گردش کرتی رہیں اور چین کے بعض نیوز اداروں نے بھی ان پر خبریں نشر کیں (سوشل میڈیا)</p> سوشل type: news related nodes: ’کلکی پونٹنگ‘ کیا ہے اور کرکٹ میں دھوکہ دہی کی بدترین مثال کیوں؟ ہمیں ’دھوکے‘ سے ہرایا، شاید وہ میسی کو رکھنا چاہتے تھے: مصری کوچ کیا ہیلتھ انفلوئنسر ہماری صحت ’ہائی جیک‘ کر رہے ہیں؟ کیا لیاری فٹ بال گراؤنڈ میں سوشل میڈیا انفلوئنسر پر تشدد ہوا؟ SEO Title: برلن میراتھن سائیکل پر سوار ہو کر مکمل کرنے والی انفلوئنسر کی معذرت copyright: IndependentEnglish origin url: https://www.independent.co.uk/asia/china/chinese-fitness-influencer-berlin-marathon-abeeeer-cheating-apology-b3061276.html show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 13/10/2026
independenturdu.com
آذربائیجان: سکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج، 37  افراد گرفتار
**آذربائیجان میں سکولوں میں حجاب پر پابندیوں کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس نے 37 افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے جبکہ پیر کو ملک بھر میں صارفین کو سوشل میڈیا تک رسائی میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔** رواں برس 21 ستمبر کو آذربائیجان نے سرکاری سکولوں میں یونیفارم سے متعلق ضوابط میں ترمیم کی تھی، جس کے تحت صریح طور پر حجاب کا ذکر کیے بغیر ایسے اضافی لباس پر پابندی عائد کی گئی جو مقررہ یونیفارم یا تعلیم کے سیکولر اصولوں کے منافی ہو۔ آذربائیجان کی سرکاری نیوز ایجنسی اے پی اے کے مطابق تعلیمی اداروں کے طلبہ کے لیے یونیفارم میں ترمیم کا مقصد ایک ایسے یکساں ڈریس کوڈ کو یقینی بنانا ہے جو ملک کے ’سیکولر اصول‘ کی عکاسی کرے۔ آذربائیجان کی تقریباً 96 فیصد آبادی خود کو مسلمان کے طور پر شناخت کرتی ہے۔ اس کا آئین ملک کو سیکولر کے طور پر تعریف کرتا ہے اور ساتھ ہی مذہبی آزادی کی ضمانت بھی دیتا ہے۔ حالیہ ترامیم کے بعد آذربائیجان میں حجاب پہننے والی طالبات کو سکولوں میں داخلے سے روکے جانے کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا۔ مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ طالب علموں نے پیر کو حجاب پر پابندی کے خلاف سکولوں کے باہر مظاہرہ کیا اور ان لڑکیوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر کلاسوں کا بائیکاٹ کیا جنہیں مبینہ طور پر حجاب پہننے کی وجہ سے داخلے سے روکا گیا تھا۔ احتجاج کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہیں، جن میں طالبات کو سکولوں کے دروازوں کے باہر جمع ہوتے اور کلاسوں میں جانے سے انکار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ان کا مطالبہ ہے کہ حجاب پہننے والی لڑکیوں کو دوبارہ کلاسوں میں آنے کی اجازت دی جائے۔ دوسری جانب وزارتِ داخلہ کا الزام ہے کہ باکو میں لوگوں نے یونیفارم کے معاملے پر سکول کے ملازمین سے بدسلوکی کی، سکولوں کو نقصان پہنچایا اور کلاسوں میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ اے ایف پی کے مطابق وزارتِ داخلہ نے اے پی اپے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ’عوامی نظم و ضبط میں خلل ڈالنے پر مجرمانہ تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے 37 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘ آذربائیجان کی ایک اور نیوز ایجنسی آذر نیوز نے بھی احتجاج کے دوران 37 گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے۔ اسی احتجاج کے دوران ملک بھر میں انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کے صارفین نے شکایت کی کہ ویڈیوز لوڈ نہیں ہو رہی تھیں اور فیڈز ریفریش نہیں ہو رہی تھیں، جبکہ کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ وہ صرف وی پی این کے ذریعے ہی ان پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل کر پا رہے تھے۔ بعض صارفین نے تجویز دی کہ یہ خلل سکولوں کے احتجاج پر مبنی ویڈیوز کے پھیلنے سے جڑا ہوا ہے۔ توانائی کے وسائل سے مالا مال آذربائیجان سوویت دورِ حکومت کے دہائیوں بعد مسلم دنیا کی سب سے زیادہ سیکولر ریاستوں میں سے ایک کے طور پر ابھرا۔ حکام نے ملک میں مذہبی عبادات پر پابندیاں عائد کی ہیں اور شدت پسندی کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں کے تحت انتہا پسندوں کو گرفتار کیا ہے، اگرچہ ناقدین ان پر باعمل مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگاتے ہیں۔ آذربائیجان میں عوامی اجتماعات پر سخت پابندیاں ہیں، جہاں صدر الہام علیوف کی حکومت کو سیاسی مخالفین اور آزاد میڈیا کے ساتھ اپنے رویے پر مغربی ممالک کی جانب سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔ آذربائیجان حجاب پیر کو آذربائیجان میں صارفین کو سوشل میڈیا تک رسائی میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔  انڈپینڈنٹ اردو منگل, اکتوبر 13, 2026 - 11:30 Main image: > <p class="rteright">آذربائیجان میں حجاب پہننے والی طالبات کو سکولوں میں داخلے سے روکے جانے کے بعد احتجاج میں شریک طالبات (ویڈیو سکرین گریب/مڈل ایسٹ آبزورو ایکس اکاؤنٹ)</p> خواتین jw id: 6I3pcSkR type: video related nodes: افغانستان میں حجاب قوانین کی خلاف ورزی، 30 خواتین گرفتار قزاقستان میں عوامی مقامات پر خواتین کے حجاب پر پابندی عائد روسی خطے ولادی میر کے سکولوں میں حجاب پر پابندی حجاب پہننے سے انکار: تہران میں ترکش لائنز کا دفتر بند SEO Title: آذربائیجان: سکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج، 37 افراد گرفتار copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 13/10/2026
independenturdu.com
ملتان: رحمان بابا ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اترنے سے چار اموات
**ملتان میں منگل کی صبح رحمان بابا ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں سے ریسکیو حکام کے مطابق چار افراد کی جان گئی جبکہ 36 زخمی ہو گئے۔** پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملتان میں ٹرین کی بوگیاں پٹری سے اترنے کے واقعے کا نوٹس لیا ہے جس میں اطلاعات کے مطابق چار افراد جان سے گئے۔ واقعے کے بعد ریکسیو آپریشن شروع کر دیا گیا جبکہ زخمیوں کو نشتر ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ریلوے انتظامیہ کے مطابق ٹرین میں پانچ سے چھ سو افراد سوار تھے اور حادثہ کی تحقیقات کا حکم بھی دے دیا گیا۔ ریلوے حکام کے مطابق ٹرین کراچی سے پشاور جا رہی تھی اور پانچ بج کر 15 منٹ پر شیر شاہ پل کے قریب اسے حادثہ پیش آیا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) وزیر اعظم پاکستان نے واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے اور متعلقہ حکام کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ٹرین کی بوگیاں پٹری سے اترنے کی وجوہات تاحال باضابطہ طور پر سامنے نہیں آسکی ہیں۔ ریسکیو آپریشن میں پیش رفت کے ساتھ پاکستان ریلوے اور متعلقہ حکام کی جانب سے مزید تفصیلات فراہم کیے جانے کی توقع ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق 13 بوگیاں کلیئر کر دی گئیں جبکہ ایک بوگی کو کاٹ کر مسافروں کو نکالا جارہا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا۔ امدادی کارکنوں کے مطابق ابھی تک 36 زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد شفٹ کیا گیا 2 افراد کو موقع پر طبی امداد دی گئی اور 4 موقع پر ڈیڈ افراد کو ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ یہ حادثہ پاکستان میں پیش آنے والے سنگین ریلوے حادثات میں ایک اور اضافہ ہے۔ اس سے قبل اگست 2023 میں سندھ کے علاقے نواب شاہ کے قریب ہزارہ ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اترنے کے حادثے میں کم از کم 30 افراد جان سے گئے اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد ریلوے کی حفاظت اور ٹریکس کی دیکھ بھال سے متعلق خدشات ایک بار پھر سامنے آئے تھے۔ پاکستان ملتان ریلوے انتظامیہ کے مطابق ٹرین میں پانچ سے چھ سو افراد سوار تھے اور حادثہ کی تحقیقات کا حکم بھی دے دیا گیا۔  انڈپینڈنٹ اردو منگل, اکتوبر 13, 2026 - 09:00 Main image: > <p>ملتان میں منگل کی صبح رحمان بابا ایکسپریس نامی ٹرین کی بوگیاں پٹری سے اترنے کا واقعہ پیش آیا (سکرین گریب/ سوشل میڈیا)</p> پاکستان jw id: c1SYYRsf type: video related nodes: کوئٹہ میں انٹر سٹی ٹرین سروس شروع، کرایہ 50 روپے گھوٹکی ٹرین حادثہ کیوں ہوا؟ کوئٹہ ٹرین دھماکہ بلوچستان میں عسکریت پسندی کا بدلتا انداز جعفر ایکسپریس: دنیا کی سب سے خطرناک ٹرین؟ SEO Title: ملتان: رحمان بابا ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اترنے سے چار اموات copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 13/10/2026
independenturdu.com
مسلح گروہ بالآخر افغان طالبان حکومت کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں، اسحاق ڈار کا انتباہ
**پاکستان نے پیر کو افغانستان کی طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگجوؤں کو پاکستان کے اندر حملے کرنے کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکے اور ساتھ ہی ایک بار پھر خبردار کیا کہ یہ مسلح گروہ بالآخر خود طالبان کی حکومت کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔** سرحدی جھڑپوں اور افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں کے باعث دونوں پڑوسیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس سے جنگجوؤں کی سرگرمیوں پر طویل عرصے سے جاری تنازع مزید گہرا ہو گیا ہے۔ پاکستانی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک تھنک ٹینک میں کی گئی تقریر میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ جولائی 2025 میں کابل کے دورے کے دوران افغان وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند کو پہلے ہی اس حوالے سے خبردار کر چکے ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا: ’میں نے انہیں شائستگی سے یاد دلایا تھا کہ اگر افغان حکام اپنی سرزمین سے متحرک دہشت گرد گروہوں کے خلاف مناسب کارروائی کرنے میں ناکام رہے، تو وہ دن آئے گا جب یہ گروہ ان کی اپنی حکومت کے لیے بھی خطرہ بن جائیں گے۔ ‘ انہوں نے افغانستان کے جواب کی تفصیلات نہیں دیں، لیکن افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر ایک پوسٹ میں پاکستان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پاکستانی حکام پر مذاکرات کو سبوتاژ کرنے اور حل پر پروپیگنڈے کو ترجیح دینے کا الزام لگایا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ذبیح اللہ مجاہد نے لکھا: ’پاکستانی حکام کا اپنی ناکامیوں کا ملبہ افغانستان پر ڈالنا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔‘ پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے ذبیح اللہ مجاہد کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے ایکس پر کہا کہ اسلام آباد مذاکرات کے لیے پرعزم ہے، لیکن پیشرفت کے لیے ضروری ہے کہ کابل اپنے انسدادِ دہشت گردی کے وعدوں کو پورا کرے اور جنگجوؤں کے پناہ گاہوں اور معاونتی نیٹ ورکس کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کرے۔ پاکستان اکثر کابل پر پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی)، کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، اور عالمی انتہا پسند نیٹ ورک سے منسلک القاعدہ برصغیر کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا ہے۔ ٹی ٹی پی افغانستان کے حکمران طالبان سے الگ ہے لیکن ان کی قریبی اتحادی ہے۔ اسحاق ڈار نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے یہ فرض کیوں کیا کہ جنگجو افغان طالبان کے خلاف بھی ہو سکتے ہیں۔ افغانستان کی طالبان حکومت پاکستان کو نشانہ بنانے والے جنگجوؤں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے سے بارہا انکار کرتی رہی ہے۔ 24 ستمبر 2026 کو افغانستان کے صوبہ خوست کے ضلع گربز میں پاکستانی فضائی حملے کے مقام کا طالبان سکیورٹی اہلکار معائنہ کر رہے ہیں (اے ایف پی) اسحاق ڈار نے کہا کہ کابل کے لیے پاکستان کی سفارتی اور اقتصادی پیشرفت سے اس کے بنیادی سکیورٹی مطالبے یعنی افغان سرزمین سے متحرک جنگجوؤں کے خلاف کارروائی، پر کوئی معنی خیز پیشرفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا: ’اچھے پڑوسیوں کے تعلقات دو طرفہ ذمہ داری ہوتے ہیں۔ ان کا مطلب مسلسل ایک کے بعد دوسرے حملے کو خاموشی سے برداشت کرنا نہیں ہو سکتا۔‘ اسحاق ڈار نے بتایا کہ انہوں نے 2025 میں تین بار کابل کا دورہ کیا کیونکہ پاکستان تجارت کو وسعت دینے، سفارتی نمائندگی کو سفیر کی سطح تک بڑھانے اور افغانستان کے ذریعے پاکستان کو وسطی ایشیا سے جوڑنے والی ریلوے لائن کے منصوبے پر عمل پیرا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک مستحکم اور خوشحال افغانستان چاہتا ہے لیکن سرحد پار سے مسلسل جاری جنگجوؤں کے خطرے کو مزید نظر انداز نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا: ’پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی سرحد پار سے ہوتی ہے، وہیں سے ہدایات ملتی ہیں اور وہیں سے انہیں ان کا آغاز ہوتا ہے۔ دہشت گرد پہاڑی علاقوں سے گھس آتے ہیں، ہمارے سپاہیوں اور شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں اور اپنی پناہ گاہوں میں واپس چلے جاتے ہیں۔‘ کوہاٹ میں 18 ستمبر 2026 کو پولیس لائن پر خودکش حملے کے بعد متاثرہ مسجد کے مقام پر شہری جمع ہیں (روئٹرز) اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستانی فوج نے افغانستان کے ساتھ 2,600 کلومیٹر سے زائد طویل سرحد پر باڑ لگانے کا کام تقریباً 95 فیصد مکمل کر لیا ہے۔ اس باڑ کی تعمیر کا آغاز 2017 میں پاکستانی فوجی چوکیوں پر جنگجوؤں کے سرحد پار سے ہونے والے حملوں کے بعد ہوا تھا۔ اسحاق ڈار نے سکولوں، مساجد، بازاروں اور سکیورٹی تنصیبات پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے ٹی ٹی پی کو پاکستان کے سنگین ترین سکیورٹی خطرات میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے علیحدگی پسند بی ایل اے پر بھی شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں اور اقتصادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ جنوری سے اب تک 2,800 سے زائد جنگجوؤ ں کے حملوں میں تقریباً 3,000 افراد جان سے جا چکے ہیں یا زخمی ہو چکے ہیں۔ پیر کو اسی تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے تشدد میں اضافے کا ذمہ دار افغانستان میں مقیم جنگجوؤں، بشمول ٹی ٹی پی، کو ٹھہرایا۔ اقوام متحدہ اور آزادانہ جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ افغانستان میں 6,000 سے زائد ٹی ٹی پی جنگجو اور مجموعی طور پر 20,000 سے زائد جنگجو موجود ہیں۔ انہوں نے ٹی ٹی پی پر الزام لگایا کہ وہ 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان پر حملوں کی بھرتی، تربیت اور منصوبہ بندی کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہی ہے۔ افغانستان افغان طالبان دہشت گرد پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ جولائی 2025 میں کابل کے دورے کے دوران افغان وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند کو پہلے ہی اس حوالے سے خبردار کر چکے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس منگل, اکتوبر 13, 2026 - 07:45 Main image: > <p class="rteright">اسحاق ڈار آٹھ جون، 2023 کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں (فائل فوٹو/اے ایف پی)</p> پاکستان type: news related nodes: افغانستان کو اپنی ’مسلح سوچ‘ تبدیل کرنا ضروری ہے: پاکستان افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام، پاکستانی سکیورٹی ذرائع افغان طالبان کے نورستان میں کارروائی کو پاکستان سے جوڑنا ’بے بنیاد‘ افغان طالبان حملے رکوائیں تو تعلقات بحالی ممکن ہے: پاکستان فوج SEO Title: مسلح گروہ بالآخر افغان طالبان حکومت کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں، اسحاق ڈار کا انتباہ copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 13/10/2026
independenturdu.com
ریاض اور خمیس مشیط کی جانب داغے گئے بیلسٹک میزائل تباہ کر دیے: سعودی اتحاد
**یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد نے پیر اور منگل کی درمیانی شب بتایا کہ اس کی افواج نے حوثیوں کی جانب سے سعودی دارالحکومت ریاض اور خمیس مشیط کی طرف داغے گئے بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے۔** اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے ریاض کی طرف داغے گئے بیلسٹک میزائل کو تباہ کر دیا گیا ہے۔‘ اتحاد نے منگل کو نصف شب کے فوراً بعد بتایا کہ حوثیوں کی جانب سے خمیس مشیط کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل بھی تباہ کر دیے گئے ہیں۔ عرب نیوز کے مطابق پیر کو اتحاد نے کہا تھا کہ وہ ڈرونز اور کروز میزائلوں کے ذریعے کیے گئے حملے کا جواب دے رہا ہے۔ حوثی گذشتہ ہفتے سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ہفتے کو حوثیوں کے حملوں میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 13 افراد جان سے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اس سے قبل بدھ اور جمعرات کو ہونے والے حملوں میں چار افراد کی موت ہوئی تھی، جبکہ اتوار کو ایک اور شخص جان سے گیا۔ پیر کو بھی ریاض کے مضافات میں واقع وسیع و عریض ہوائی اڈے پر آپریشنز معطل رہے۔ پروازوں سے متعلق جاری کردہ نوٹم کے مطابق ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ 17 اکتوبر کو مقامی وقت کے مطابق رات 12 بجے تک بند رہے گا۔ سعودی حکام کی جانب سے جاری کی گئی ہفتے کے حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں احرام پہنے عمرہ زائرین کو روانگی کے لاؤنجز میں انتظار کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ فوٹیج کے مطابق، اچانک ایک زوردار چمک کے ساتھ دھماکہ ہوا، جس سے عمارت لرز اٹھی اور آگ کے شعلوں میں گھرا ملبہ نیچے آ گرا۔ سعودی عرب حوثی ریاض یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق حوثیوں نے پیر اور منگل کو ریاض اور خمیس مشیط کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔  انڈپینڈنٹ اردو منگل, اکتوبر 13, 2026 - 07:15 Main image: > <p>ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی جانب جانے والی شاہراہ کا 12 اکتوبر 2026 کو ایک منظر (روئٹرز)</p> ایشیا type: news related nodes: حوثی حملوں کے بعد ریاض ائیرپورٹ 17 اکتوبر تک بند ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملے میں ایک پاکستانی کی موت، 11 افراد زخمی ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں 6 پاکستانی زخمی، سفارت خانہ رابطے میں ہے: شہباز شریف ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں پائلٹ سمیت تین شہری جان سے گئے SEO Title: ریاض اور خمیس مشیط کی جانب داغے گئے بیلسٹک میزائل تباہ کر دیے: سعودی اتحاد copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 13/10/2026
independenturdu.com
پاکستان افغان سرحد کی بندش کا ایک سال، کیا کھویا کیا پایا؟
**12 اکتوبر 2025 میں پاکستان افغانستان سرحد کی بندش کو ایک سال گزر چکا ہے۔ تعلقات تقریباً منجمد ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اس ایک سالہ بندش سے کیا حاصل ہوا؟** پاکستان کا بنیادی مقصد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف کابل پر دباؤ ڈالنا تھا۔ بندش کے فوراً بعد نومبر اور دسمبر 2025ء میں کراس بارڈر حملوں میں کمی آئی۔ ایک تھنک ٹینک سی آر ایس ایس کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس نومبر میں تقریباً 9 فیصد اور دسمبر میں 17 فیصد تک حملوں میں کمی دیکھی گئی۔ سکیورٹی فورسز کو کچھ ریلیف ملا۔ تاہم یہ کمی عارضی ثابت ہوئی۔ 2026 کے دوران تشدد پھر بڑھ گیا۔ تیسری سہ ماہی میں تشدد میں اموات میں 83 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، خاص طور پر بلوچستان میں۔ ٹی ٹی پی اور اس کے اتحادی گروہ اب بھی سرگرم ہیں۔ پاکستان نے متعدد فضائی حملے کیے، لیکن افغانستان کی طرف سے ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی قابل تصدیق اور ٹھوس کارروائی سامنے نہیں آئی۔ تعلقات مزید خراب ہوئے اور دونوں طرف سے الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس بندش کے دوران نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت متاثر ہوئی بلکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ، ٹرانسپورٹ، کلیئرنگ ایجنٹس، گوداموں، بارڈر مارکیٹوں اور ہزاروں مزدوروں کا روزگار بھی شدید متاثر ہوا۔ اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2022-23 میں پاکستان کے راستے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت 102,886 کنٹینرز کی نقل و حرکت ہوئی، جن کی مالیت تقریباً 6.7 ارب ڈالر تھی لیکن مالی سال 2025-26 میں یہ تعداد کم ہو کر صرف 11,592 کنٹینرز رہ گئی، جن کی مالیت تقریباً 367 ملین ڈالر تھی یعنی مالی سال 2022-23 کے مقابلے میں کنٹینر ٹریفک میں تقریباً 89 فیصد کمی واقع ہوئی۔ 17 مارچ 2025 کو طورخم میں پاکستان افغانستان جرگے کے ارکان (جرگہ کمیٹی) دلچسپ بات یہ ہے کہ کمی کا رجحان سرحد بند ہونے سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔ مالی سال 2024 میں ٹرانزٹ کنٹینرز کی تعداد 54,114 جبکہ مالی سال 2025 میں 42,959 رہ گئی تھی، اس طرح 2025-26 میں 11,592 کنٹینرز کا حجم گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں بھی تقریباً 73 فیصد کم رہا۔ اکتوبر 2025 میں ٹرانزٹ ٹریڈ کی سرگرمیاں معطل ہونے کے وقت پاکستان افغانستان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت روزانہ ہزار سے زائد کنٹینرز کی نقل و حرکت معمول کا حصہ تھی، جو اچانک رک گئی۔ کراچی، پشاور، کوئٹہ اور سرحدی علاقوں میں بڑی تعداد میں کنٹینرز پھنس گئے جبکہ خراب ہونے والی اشیا کے حوالے سے بھی تاجروں کو نقصان اٹھانا پڑا۔ فروری 2026 کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف طورخم کے راستے ماضی میں روزانہ تقریباً 500 سے 700 کارگو اور مسافر گاڑیاں گزرتی تھیں جو طویل بندش کی وجہ سے مفلوج ہوگئیں۔ تاجروں اور کاروباری تنظیموں کے مختلف تخمینوں میں نقصانات کی مختلف مالیت سامنے آئی ہے۔ ستمبر 2026 میں خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر یوسف آفریدی نے دعویٰ کیا کہ سرحد کی بندش سے مجموعی طور پر تقریباً 2.5 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، جس میں 1.644 ارب ڈالر برآمدات اور 817 ملین ڈالر درآمدات کا نقصان شامل ہے۔ اس سے قبل پاکستان افغانستان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI) کے عہدیداروں نے بھی ٹرانزٹ سرگرمیوں میں کمی سے پاکستان کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ پیش کیا تھا۔ جون 2026 میں ایک اندازے کے مطابق صرف آٹھ ماہ کے دوران پاکستانی برآمد کنندگان کو تقریباً ایک ارب ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم نقصانات کے یہ اعدادوشمار مختلف طریقہ کار اور مختلف ادوار کی بنیاد پر دیے گئے ہیں، اس لیے انہیں سرکاری طور پر تصدیق شدہ ایک ہی حتمی رقم نہیں سمجھا جا سکتا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) پاکستان افغانستان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق اکتوبر 2025 سے اپریل 2026 کے دوران تقریباً 10 ہزار ٹرانزٹ کنٹینرز پاکستان میں پھنسے رہے۔ رپورٹ کے مطابق افغان درآمد کنندگان کو فی کنٹینر اوسطاً تقریباً 120 ڈالر یومیہ جرمانہ، ڈیمریج اور ڈیٹینشن کی مد میں ادا کرنا پڑا، جس سے اضافی مالی بوجھ میں بھی اضافہ ہوا۔ پاکستان افغانستان سرحد کی طویل بندش نے افغانستان کو اپنے تجارتی راستے تبدیل کرنے پر بھی مجبور کیا۔ افغانستان نے ایران کی چابہار بندرگاہ سمیت وسطی ایشیا کے راستوں سے تجارت بڑھائی۔ روئٹرز کے مطابق 2025 میں افغانستان کی مجموعی تجارت تقریباً 13.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ ایران اور وسطی ایشیا کے راستوں کے استعمال میں اضافہ ہوا۔ ورلڈ بینک کے حوالے سے سامنے آنے والے اعدادوشمار کے مطابق ایران مالی سال 2025 میں افغانستان کی درآمدات کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا اور ایران سے براہ راست یا ٹرانزٹ راستوں کے ذریعے افغانستان کی درآمدات کا بڑا حصہ آنے لگا. پاکستان کے لیے مسئلہ صرف افغان تجارت تک محدود نہیں رہا، افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ممالک تک پاکستانی مصنوعات پہنچانے کا کاروبار بھی متاثر ہوا۔ اس راستے سے پاکستان کو ٹرانسپورٹ اور متعلقہ خدمات کی مد میں سالانہ کروڑوں ڈالر حاصل ہوتے تھے جبکہ طویل بندش کے باعث یہ آمدنی بھی متاثر ہوئی۔ اسی طرح ٹرک ڈرائیور، کنڈیکٹر، لوڈر، کلیئرنگ ایجنٹس، گوداموں کے ملازمین، کسٹمز سے منسلک کاروبار اور بارڈر مارکیٹوں کے چھوٹے تاجر بھی اس بحران سے متاثر ہوئے۔ دوسری جانب افغانستان سے پاکستان اور دیگر ممالک کو جانے والی برآمدات بھی متاثر ہوئیں، جبکہ پاکستان کے راستے افغان مصنوعات کی ریورس ٹرانزٹ ٹریڈ میں بھی غیر معمولی کمی آئی۔ مالی سال 2025 میں ریورس ٹرانزٹ کی مالیت تقریباً 454 ملین ڈالر تھی جو مالی سال 2026 میں گھٹ کر صرف 7 ملین ڈالر رہ گئی۔ تقریباً ایک سال کی اس بندش نے پاکستان افغانستان تجارت کے روایتی راستے کو تبدیل کر دیا ہے۔ 102,886 کنٹینرز سے 11,592 کنٹینرز تک آنے والی ٹرانزٹ ٹریفک، اربوں ڈالر کے تجارتی نقصانات، ہزاروں پھنسے ہوئے کنٹینرز اور متبادل تجارتی راستوں کی طرف افغانستان کی منتقلی یہ ظاہر کرتی ہے کہ سرحدی بندش کا اثر صرف بارڈر پر موجود ٹرکوں تک محدود نہیں رہا۔ اس کے اثرات کراچی کی بندرگاہوں سے لے کر پشاور، خیبر، چمن، افغانستان اور وسطی ایشیا تک پورے تجارتی و ٹرانسپورٹ نیٹ ورک پر پڑے ہیں۔ اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت دوبارہ سابقہ سطح پر آ سکے گی، یا ایک سال کی بندش کے دوران پیدا ہونے والے متبادل تجارتی راستے مستقل طور پر پاکستان کے روایتی ٹرانزٹ کردار کو کم کر دیں گے؟ ایک افغان خاندان دو نومبر، 2023 کو واپس اپنے ملک جانے کے لیے پاکستان کی طورخم سرحد پر پیدل آ رہا ہے (اے ایف پی/ فاروق نعیم) پاکستان افغانستان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دونوں جانب کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صرف سرحدیں دوبارہ کھول دینا کافی نہیں، کاروباری برادری کا اعتماد بحال کرنا بھی ضروری ہوگا۔ پاکستان افغانستان ٹرانزٹ معاہدے کا ازسرنو جائزہ لے کر ایسا قانونی طور پر پابند فریم ورک بنایا جائے جس میں سیاسی اختلافات کی صورت میں تجارت اور ٹرانزٹ معطل نہ کرنے کی ضمانت شامل ہو اور اس میں دونوں جانب کے سٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارتی راستوں اور سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے افغانستان کو پاکستان کے مقابلے میں زیادہ معاشی نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت اور ٹرانزٹ کا جاری رہنا دونوں ممالک کے لیے اہم ہے، تاہم اسلام آباد نے سکیورٹی خدشات کے باعث سرحدی آمدورفت پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کی ایک رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 کے بعد سرحدی بندش کے باعث پاکستان کی برآمدات میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی۔ دوسری طرف عالمی بینک کے اعداد و شمار کی بنیاد پر سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق افغانستان نے پاکستان کے بجائے ایران اور وسطی ایشیا کے ذریعے متبادل تجارتی راستے اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم طویل فاصلے اور زیادہ ٹرانسپورٹ اخراجات کی وجہ سے یہ متبادل راستے افغان تاجروں کے لیے اضافی معاشی دباؤ کا باعث بن رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایسا قابل تصدیق سکیورٹی میکنزم ہونا چاہیے جس سے ذمہ داریاں واضح، نگرانی کا مؤثر نظام موجود اور خلاف ورزیوں کی صورت میں کارروائی کا طریقہ کار متعین ہو۔ صرف سرحدیں بند کرنا نہیں بلکہ ایسا نظام تشکیل دینا چاہیے جس سے سکیورٹی مضبوط ہو، دہشت گردی کا مؤثر انسداد کیا جائے، جائز تجارت جاری رہے، کاروبار اور روزگار محفوظ رہیں اور پاکستان، افغانستان عالمی و وسطی ایشیائی منڈیوں کے لیے مؤثر ترین تجارتی ’گیٹ وے‘ کی حیثیت برقرار رکھے۔ ایک سال سے زائد عرصے سے جاری سرحدی بندش کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ اس بندش سے آیا خطے کے عوام کی فلاح و بہبود میں کوئی بہتری آئی ہے یا دہشت گردی کے خاتمے میں کوئی بامعنی اور پائیدار پیش رفت ہوئی ہے؟ اس پالیسی سے سکیورٹی مسئلے کا فیصلہ کن حل تو سامنے نہیں آیا، تاہم تجارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ _مصنف پشاور میں مقیم سینیئر کاروباری شخصیت ہیں اور ستارہ امتیاز کے حامل ہیں۔ یہ تحریر ان کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔_ ایک سال سے زائد عرصے سے جاری سرحدی بندش کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ آیا اس بندش سے خطے کے عوام کی فلاح و بہبود میں کوئی بہتری آئی ہے یا دہشت گردی کے خاتمے میں کوئی بامعنی اور پائیدار پیش رفت ہوئی ہے؟ ضیا الحق سرحدی منگل, اکتوبر 13, 2026 - 07:00 Main image: > <p class="rteright">23 فروری، 2023 کو افغانستان اور پاکستان کے درمیان طورخم سرحد پر طورخم گیٹ بند ہے (اے ایف پی)</p> type: news related nodes: طورخم بارڈر نہ کھولا گیا تو پارلیمان کے سامنے احتجاج کریں گے: کلیئرنگ ایجنٹس طورخم کی بندش اور منشیات کی تجارت، سرحد کے دونوں جانب کیا بدلا؟ طورخم بارڈر پر 10 دنوں سے پڑی لاش، جسے اٹھانے والا کوئی نہیں طورخم بارڈر پر انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار نے کیا دیکھا؟ SEO Title: پاکستان افغان سرحد کی بندش کا ایک سال، کیا کھویا کیا پایا؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage
010
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 13/10/2026
independenturdu.com
عالمی نظام میں روس کیا سوچ رہا ہے؟
**یوکرین کے محاذ پر جاری جنگ، مشرق وسطیٰ کی بے یقینی اور عالمی معاشی تقسیم میں ماسکو مستقبل کا ایک مختلف نقشہ دیکھ رہا ہے۔ روسی قیادت کے بیانات اور فیصلوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ موجودہ انتشار کو عالمی طاقت کی نئی تقسیم کا موقع سمجھتی ہے۔** روس چاہتا ہے کہ یورپ کی سلامتی سے توانائی تک کوئی بڑا فیصلہ اس کی مرضی کے بغیر نہ ہو۔ کریملن عالمی سیاست میں اپنا وہ مقام منوانا چاہتا ہے جو اس کے خیال میں سرد جنگ کے بعد اس سے چھین لیا گیا تھا۔ یکم اکتوبر 2026 کو والدائی فورم میں ولادی میر پوتن نے مغربی بالادستی سے کثیر قطبی دنیا کی طرف منتقلی کو طویل اور خطرات سے بھرپور عمل قرار دیا۔ ان کی گفتگو میں اعتماد اور بے یقینی ساتھ ساتھ تھے۔ اس سے لگتا ہے کہ ماسکو فوری استحکام کے بجائے طویل مسابقت کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے۔ اس کی توقع ہے کہ طاقت کے متعدد مراکز ابھریں گے اور امریکہ کو ان کے ساتھ عالمی معاملات طے کرنا پڑیں گے۔ یہ روسی قیادت کی تعبیر ہے، مستقبل کی ضمانت نہیں۔ اس سوچ کا تاریخی پس منظر 1991 میں سوویت یونین کا انہدام ہے۔ مغرب نے اسے سرد جنگ کی فتح سمجھا جبکہ روسی ریاستی بیانیے میں یہ عالمی مرتبے اور علاقائی اثر کے نقصان کی علامت ہے۔ مارچ 2023 کا خارجہ پالیسی تصور اسی ذہنیت کا عکاس ہے اور روس کو ایک منفرد تہذیبی ریاست قرار دیتا ہے۔ اس تصور میں روس اپنا سیاسی اور تہذیبی راستہ خود متعین کرتا ہے۔ مغربی اداروں سے قبولیت کے بجائے الگ مرکز کی حیثیت منوانا زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ امریکہ اور روس کے مابین الاسکا میں سربراہی اجلاس ظاہر کرتا ہے کہ سعودی عرب ایک بڑا سفارتی کھلاڑی بن گیا ہے (انڈپینڈنٹ عربیہ) یہاں خود مختاری کا ایک تضاد سامنے آتا ہے۔ ماسکو اپنے لیے بیرونی مداخلت سے مکمل آزادی مانگتا ہے، مگر اپنے ہمسایوں کے تزویراتی انتخاب کو اپنی سلامتی کے تابع دیکھتا ہے۔ یوکرین اس تضاد کی نمایاں مثال ہے۔ نیٹو کی توسیع پر روسی اعتراض یوکرین کی خود مختاری ختم نہیں کرتا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے فروری 2026 میں بھی روسی حملے کو اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دیا۔ طاقت کے نئے مراکز کا ابھرنا خود بخود چھوٹی ریاستوں کے لیے زیادہ منصفانہ دنیا پیدا نہیں کرتا۔ یوکرین میں روس کے مقاصد اسی تناظر میں واضح ہوتے ہیں۔ والدائی میں پوتن نے یوکرین کی غیر جانب دار حیثیت کو بدستور اپنا ہدف بتایا اور مذاکرات کو زمینی حقائق سے وابستہ کیا۔ اس کا سیاسی مطلب میدان جنگ کی برتری کو مستقل انتظام میں تبدیل کرنے کی خواہش ہے۔ ممکنہ تصفیے میں علاقوں کے ساتھ یوکرین کے دفاعی تعلقات اور مستقبل کی سلامتی بھی زیر بحث ہوں گے۔ کیئف کے لیے یہ ہی مقام مشکل ہے، کیونکہ ایسی جنگ بندی جو اگلی جنگ کا امکان برقرار رکھے، پائیدار تحفظ فراہم نہیں کرتی۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) واشنگٹن سے رابطے اس حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔ 11 اکتوبر کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے توانائی کی تنصیبات پر حملے روکنے کی تجویز سامنے آئی جبکہ یوکرینی صدر نے اس کی تفصیلات کے انتظار اور روسی حملوں کے تسلسل کا ذکر کیا۔ سفارتی اعلان اور عملی جنگ بندی کے درمیان یہ فاصلہ معنی خیز ہے۔ ماسکو کے لیے براہ راست امریکی مذاکرات برابری کی حیثیت منوانے کا موقع بھی ہیں۔ تاہم امریکہ اور روس کی مفاہمت اسی وقت پائیدار ہو گی جب یوکرین کی رضامندی اور یورپی سلامتی کو بھی جگہ ملے۔ کریملن کے طرز عمل سے وقت کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔ طویل جنگ مخالف معاشروں میں اخراجات اور امداد پر اختلافات پیدا کر سکتی ہے۔ مگر وقت دونوں طرف قیمت وصول کرتا ہے۔ روس بھی انسانی نقصان اور معاشی دباؤ سہتا ہے۔ پھر جس نیٹو کے پھیلاؤ کو روکنا روسی مؤقف کا مرکزی نکتہ تھا، فن لینڈ اور سویڈن جنگ کے آغاز کے بعد اس کے رکن بن گئے۔ سلامتی بڑھانے کے لیے اٹھایا گیا قدم مخالف اتحاد کو مزید مضبوط بھی کر سکتا ہے۔ معیشت اس مقابلے کی حد مقرر کرتی ہے۔ روسی مرکزی بینک نے 11 ستمبر 2026 کو شرح سود 14 فیصد برقرار رکھتے ہوئے مہنگائی کے دباؤ کی نشان دہی کی۔ جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت اور شہریوں کی معاشی آسودگی الگ سوال ہیں۔ اسلحہ سازی روزگار پیدا کرتی ہے، لیکن اس کے لیے مختص وسائل شہری ضرورتوں پر خرچ نہیں ہو پاتے۔ ماسکو کو بالآخر یہ طے کرنا ہوگا کہ طویل عسکری مقابلے کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور شہری معیشت کی ترقی کیسے ممکن بنائے۔ چین اس مشکل میں روس کا اہم ترین سہارا ہے۔ چینی منڈی، صنعتی سامان اور مالی روابط نے مغربی پابندیوں کے اثرات محدود کرنے میں مدد دی ہے۔ مگر دونوں کا انحصار یکساں نہیں۔ چین کی عالمی تجارت میں روس کا حصہ محدود ہے جبکہ روس کے لیے چین کی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اس عدم توازن سے ماسکو کی سودے بازی کی گنجائش متاثر ہو سکتی ہے۔ مغربی غلبے سے آزادی حاصل کرنے والا روس چینی ترجیحات کا زیادہ پابند بن جائے تو اس کی خود مختاری کا دعویٰ نئے امتحان سے گزرے گا۔ اسی لیے انڈیا اور دوسرے غیر مغربی ممالک کے ساتھ روابط روس کے لیے اہم رہتے ہیں۔ وسیع شراکت داریاں یک طرفہ انحصار گھٹاتی ہیں۔ برکس بھی اسی کوشش کو ادارہ جاتی جگہ دیتا ہے۔ اس کے 2025 کے اعلامیے میں مقامی کرنسیوں اور سرحد پار ادائیگیوں پر تعاون موجود ہے۔ ماسکو کے لیے ایسے انتظامات مالی پابندیوں سے بچاؤ کی گنجائش بڑھاتے ہیں، لیکن برکس کے تمام ارکان روس کی محاذ آرائی میں شریک نہیں۔ مالی تعاون کے مشترکہ مفادات کو متحد سیاسی یا عسکری محاذ سمجھنا اس تنظیم کی داخلی پیچیدگی کو نظر انداز کرنا ہو گا۔ آٹھ مئی، 2026 کو جاری کی گئی اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں یوکرینی فوج کی گاڑیاں ایک ایسی سڑک پر جا رہی ہیں جسے ڈرون حملوں سے تحفظ کے لیے جال سے ڈھانپا گیا ہے (ہینڈ آؤٹ/اے ایف پی) روسی جوہری طاقت کو معاشی حجم سے نہیں ناپا جا سکتا۔ نومبر 2024 کی جوہری پالیسی نے بعض روایتی حملوں اور جوہری ریاست کی مدد سے ہونے والی جارحیت کو بھی اپنے حساب میں شامل کیا۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ماسکو مغربی عسکری مداخلت کی ممکنہ قیمت بہت بلند رکھنا چاہتا ہے۔ لیکن یہ حکمت عملی غلط اندازوں کا خطرہ بھی بڑھاتی ہے۔ فریق جب ایک دوسرے کے عزم کو مسلسل آزمائیں تو محدود دباؤ ایسی کشیدگی پیدا کر سکتا ہے جو بے قابو ہو جائے۔ مشرق وسطیٰ میں روس کا رویہ اس کی ترجیحات کی حدود دکھاتا ہے۔ ایران کے ساتھ قربت کے باوجود 2026 کی جنگ کے آغاز پر ماسکو کی حمایت سفارتی سطح پر نمایاں رہی اور وہ امریکہ سے براہ راست جنگ میں نہیں اترا۔ یہ یوکرین کی ترجیح برقرار رہنے کا اشارہ ہے۔ توانائی کی بلند قیمتیں روس کو فائدہ دے سکتی ہیں، مگر پھیلتی علاقائی تباہی اس کے شراکت داروں اور تجارتی راستوں کے لیے خطرہ بھی ہے۔ روس ہر دوست کی سلامتی کی غیر مشروط ضمانت دینے کی صلاحیت اور آمادگی نہیں رکھتا۔ پاکستان کے لیے امکانات اور حدود دونوں ہیں۔ روس کے ساتھ توانائی، تجارت اور علاقائی رابطوں پر تعاون مفید ہو سکتا ہے، جن پر دو طرفہ مذاکرات جاری رہے ہیں۔ مگر کسی نئے عالمی محور کی جذباتی حمایت معاشی حکمت عملی کا متبادل نہیں۔ ہر منصوبے کو قیمت، ادائیگی، ترسیل اور عملی فائدے کی بنیاد پر جانچنا چاہیے۔ اسلام آباد کے لیے بہتر راستہ تعلقات میں تنوع اور اپنے فیصلوں کی آزادی ہے۔ روس سے قربت پاکستان کی معاشی ضرورتوں اور علاقائی استحکام کے لیے قابل پیمائش فائدے سے مشروط ہونی چاہیے۔ روسی قیادت کی سوچ میں عالمی مرتبے کی بحالی، سلامتی کا خوف اور طاقت کے استعمال پر اعتماد ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ ایسی دنیا چاہتی ہے جس میں اس کے مفادات کو فیصلہ کن وزن حاصل ہو۔ اس خواہش کی کامیابی کا امتحان یہ ہوگا کہ ماسکو اپنے لیے مانگی جانے والی خود مختاری دوسروں کے لیے کتنی قبول کرتا ہے۔ پائیدار عالمی نظام کے لیے بڑی طاقتوں کی باہمی رضامندی کے ساتھ چھوٹی ریاستوں کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ ان کے بغیر کثیر قطبی دنیا طاقت کے متعدد مراکز تو پیدا کرے گی، امن کی ضمانت نہیں۔ _مصنف ایریا سٹڈی سینٹر برائے افریقہ، نارتھ و ساؤتھ امریکہ کے ڈائریکٹر ہیں۔ یہ تحریر ان کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔_ روس یوکرین کریملن پاکستان ڈونلڈ ٹرمپ ولادی میر پوتن پاکستان کے لیے امکانات اور حدود دونوں ہیں۔ روس کے ساتھ توانائی، تجارت اور علاقائی رابطوں پر تعاون مفید ہو سکتا ہے، جن پر دو طرفہ مذاکرات جاری رہے ہیں۔ مگر کسی نئے عالمی محور کی جذباتی حمایت معاشی حکمت عملی کا متبادل نہیں۔ ڈاکٹر راجہ قیصر احمد سوموار, اکتوبر 12, 2026 - 06:45 Main image: > <p class="rteright">23 اپریل 2022 کو روس کے صدر ولادی میر پوتن ماسکو میں آرتھوڈوکس ایسٹر سروس کے دوران ایک موم بتی تھامے ہوئے ہیں(فوٹو: اے ایف پی)</p> نقطۂ نظر type: news related nodes: پاکستان، افغانستان کشیدگی کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں: روس ٹرمپ ایران اور روس کے ساتھ نہ ختم ہونے والی جنگ میں پھنس گئے؟ پوتن گِھر چکے ہیں جو یوکرین اور سب کے لیے بری خبر ہے روس امریکہ سمیت شراکت داروں سے تعاون پر تیار ہے: پوتن SEO Title: عالمی نظام میں روس کیا سوچ رہا ہے؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 12/10/2026
independenturdu.com
حوثی حملوں کے بعد ریاض ائیرپورٹ 17 اکتوبر تک بند
**سعودی حکام نے حوثیوں کے پے در پے حملوں کے بعد پیر کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازوں کی معطلی میں توسیع کر دی ہے۔** پروازوں سے متعلق جاری کردہ نوٹم کے مطابق ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ 17 اکتوبر کو مقامی وقت کے مطابق رات 12 بجے تک بند رہے گا۔**** حالیہ دنوں میں ہوائی اڈے پر حملوں کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد جان سے گئے ہیں، جن میں ہفتے کو ہونے والے حملے میں 13 افراد شامل ہیں۔ یہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی عرب پر ہونے والا سب سے مہلک حملہ تھا۔ ان حملوں میں سینکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے ’کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آپریشنز کی معطلی میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔‘ اتھارٹی کے مطابق یہ توسیع ’تنصیبات کی حفاظت اور ان کی آپریشنل تیاری کی تصدیق کے لیے ضروری کارروائیاں مکمل کرنے‘ کی غرض سے کی گئی ہے۔ > View this post on Instagram > > A post shared by Independent Urdu (@indyurdu) اتھارٹی نے یہ واضح نہیں کیا کہ ہوائی اڈے پر پروازیں کب بحال ہوں گی۔ روئٹرز کے مطابق امریکی ڈیلٹا ایئر لائنز نے پیر کو کہا کہ وہ خطے میں جاری سیاسی کشیدگی کے باعث اٹلانٹا سے ریاض کے لیے اپنی مجوزہ براہ راست پروازوں کو مارچ 2027 تک موخر کر رہی ہے۔ ایک فضائی کمپنی کے لیے خلیجی ممالک کی پروازوں کی نگرانی کرنے والے ایوی ایشن کے ایک سینیئر ذریعے نے بتایا کہ سعودی عرب میں رواں ہفتے کے بقیہ کاروباری دنوں کے دوران بھی پروازیں معطل رہیں گی۔ ان کے مطابق سعودی ایوی ایشن حکام نے پیر کو فضائی کمپنی کو بھیجے گئے پیغامات میں اس بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہ بندش کم از کم جمعرات تک جاری رہے گی اور ہفتے کے اختتام تک کوئی پرواز نہیں ہوگی۔‘ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ان کا مزید کہنا تھا کہ ہوائی اڈے کے ٹرمینلز تین اور چار کے علاوہ ریڈار اور مواصلاتی آلات کو بھی نقصان پہنچا ہے، جبکہ رن ویز کا ابھی جائزہ نہیں لیا گیا۔ متحدہ عرب امارات کی قومی فضائی کمپنی اتحاد ایئرویز نے بھی پیر کو اعلان کیا کہ وہ ’علاقائی صورت حال میں خلل‘ کے باعث اگلے ہفتے تک ریاض آنے اور وہاں سے جانے والی تمام پروازیں منسوخ کر رہی ہے۔ کمپنی نے رواں ہفتے سعودی عرب کے شہروں دمام اور جدہ کے لیے بھی پروازیں معطل کر دی ہیں۔ بحرین کی قومی فضائی کمپنی گلف ایئر نے بھی کہا ہے کہ وہ ہفتے تک ریاض کے لیے اپنی تمام پروازیں منسوخ کر رہی ہے۔ دوسری جانب ریاض میٹرو کے ایک سینیئر عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ حکام نے ہوائی اڈے کو خدمات فراہم کرنے والے تین میٹرو سٹیشنوں پر ٹرانسپورٹ سروسز بھی معطل کر دی ہیں۔ سعودی عرب ریاض ائیر پورٹ حوثی حملے بندش پروازوں سے متعلق جاری کردہ نوٹم کے مطابق ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ 17 اکتوبر کو مقامی وقت کے مطابق رات 12 بجے تک بند رہے گا۔  انڈپینڈنٹ اردو سوموار, اکتوبر 12, 2026 - 20:00 Main image: > <p>سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ایندھن ذخیرہ کرنے والے حصے سے سیاہ دھوئیں کے گہرے بادل اٹھنے کی یہ تصویر یہ تصویر 19 ستمبر 2026 کی ہے (روئٹرز)</p> دنیا jw id: fKLL0UfN type: video related nodes: ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملے میں ایک پاکستانی کی موت، 11 افراد زخمی ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں 6 پاکستانی زخمی، سفارت خانہ رابطے میں ہے: شہباز شریف ریاض ایئر پورٹ پر حملے میں 12 اموات، پاکستان کی مذمت ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں پائلٹ سمیت تین شہری جان سے گئے SEO Title: حوثی حملوں کے بعد ریاض ائیرپورٹ کی بندش میں 17 اکتوبر تک توسیع copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 12/10/2026
independenturdu.com
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی غیر معینہ مدت تک رہے گی: وزیر قانون
**پاکستان کے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیر کو کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سکیورٹی کی صورت حال بہتر ہونے تک غیر معینہ مدت تک برقرار رہے گی۔** پاکستان کے صدر نے اتوار کو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبے میں ہنگامی حالت نافذ کی تھی۔ وفاقی حکومت نے صوبے میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی پر قابو پانے میں ناکامی کا الزام حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر عائد کیا ہے۔ پی ٹی آئی ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور اس اقدام کو غیر جمہوری قرار دیتی ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں پارٹی کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا جب اس کے ہزاروں حامی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے دارالحکومت کی جانب مارچ کر رہے تھے۔ آئین کا آرٹیکل 232 جنگ یا اندرونی خلفشار کے باعث ہنگامی حالت کے نفاذ سے متعلق ہے جبکہ آرٹیکل 234 کسی صوبے میں آئینی نظام ناکام ہونے کی صورت میں صدر کو ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے اسلام آباد میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت نافذ ہنگامی حالت کے لیے کوئی مقررہ مدت متعین نہیں کی گئی۔ تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ آرٹیکل 234 کے تحت صوبائی اسمبلی کی قانون سازی کے اختیارات چھ ماہ بعد بحال ہو جائیں گے۔ انہوں نے غیر ملکی صحافیوں کو بریفنگ کے دوران کہا ’آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت کوئی مدت مقرر نہیں۔ تاہم آرٹیکل 234 کے تحت صوبائی اسمبلی اور قانون سازی کے اس کے اختیارات چھ ماہ بعد بحال ہو جائیں گے۔‘ انہوں نے واضح کیا کہ آرٹیکل 234 کے تحت چھ ماہ بعد صوبائی اسمبلی کے قانون سازی کے اختیارات بحال ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ صوبائی حکومت بھی خودبخود بحال ہو جائے گی۔ وفاقی حکومت نے عبوری مدت کے دوران صوبے کے انتظامی امور چلانے کے لیے گورنر فیصل کریم کنڈی کو مقرر کیا ہے۔ گورنر کے فرائض کی انجام دہی میں 11 رکنی مشاورتی کونسل معاونت کر رہی ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت صوبے کا انتظام غیر معینہ مدت تک اپنے ہاتھ میں رکھنے کی خواہش مند نہیں۔ انہوں نے کہا ’ہم اس صوبے کا انتظام غیر معینہ مدت تک اپنے ہاتھ میں نہیں رکھنا چاہتے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے صوبے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال اور آئینی نظام کی ناکامی کے پیش نظر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ صوبے میں حالات جلد معمول پر آ جائیں گے۔ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع کے لیے الگ انتظامی نظام بھی قائم کیا ہے۔ وفاقی حکومت کے مطابق ان اضلاع کو عسکریت پسندی سے سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ ان علاقوں میں سکیورٹی، حکمرانی اور ترقیاتی امور میں رابطہ کاری کے لیے ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور ایک کونسل مقرر کی گئی ہے۔ بریفنگ میں اعظم نذیر تارڑ کے ساتھ موجود وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ صوبے میں ریکارڈ کیے گئے ’دہشت گردی کے واقعات‘ کی تعداد 2021 سے 2024 کے دوران 2,911 تھی، جو 2024 سے 2026 کے عرصے میں بڑھ کر تقریباً 8,600 ہو گئی۔ ان کے مطابق یہ 195 فیصد اضافہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان بھر میں دہشت گردی کے واقعات کی مجموعی تعداد 2025 میں 3,774 رہی جبکہ ستمبر 2026 میں 2,857 واقعات رپورٹ ہوئے۔ وفاقی وزرا نے پی ٹی آئی کی سابق صوبائی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ پولیس کو ضروری سازوسامان فراہم کرنے، انسداد دہشت گردی کے یونٹس کو مضبوط بنانے اور عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے وفاقی حکام کے ساتھ رابطہ کاری میں ناکام رہی۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت انسداد دہشت گردی کے لیے ایک متفقہ پالیسی چاہتی ہے۔ ان کے بقول افغانستان اور عسکریت پسندی کے معاملے پر صوبائی حکومت کا مؤقف اسلام آباد کی حکمت عملی سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کالعدم عسکریت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے رابطے میں تھی۔ ٹی ٹی پی طویل عرصے سے پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملے کرتی رہی ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا ’ایسے معتبر شواہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے ٹی ٹی پی سے رابطے تھے۔ ’ہم پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی کے درمیان ان روابط کے حوالے سے شواہد فراہم کریں گے جن کا ہم نے سراغ لگایا ہے۔‘ پی ٹی آئی نے حکومت کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سیاسی محرکات پر مبنی ہیں اور ان کا مقصد صوبائی حکومت کو غیر قانونی طور پر برطرف کرنے کے اقدام کا جواز پیش کرنا ہے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ایکس پر ایک بیان میں پارٹی نے پولیس پر پُرامن مظاہرین پر فائرنگ کرنے کا الزام عائد کیا۔ پی ٹی آئی نے کہا ’قوم گورنر راج نافذ کرنے والوں اور اس اقدام میں سہولت کاری کرنے والوں کے چہرے ہمیشہ یاد رکھے گی۔‘ جب وفاقی وزرا سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بارے میں پوچھا گیا تو عطا اللہ تارڑ نے تصدیق کی کہ انہیں ’احتیاطی تحویل‘ میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ’وزارت داخلہ اور صوبائی مشاورتی کونسل کے درمیان رابطے کے مطابق ہمیں بتایا گیا کہ وہ احتیاطی حراست یا احتیاطی تحویل میں ہیں۔ تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔‘ صوبے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے پولیس کے دو اہلکاروں نے بتایا کہ اتوار کو ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد سے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے 278 کارکنوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ ایمرجنسی خیبر پختونخوا ٹی ٹی پی پی ٹی آئی اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت صوبے کا انتظام غیر معینہ مدت تک اپنے ہاتھ میں رکھنے کی خواہش مند نہیں۔  انڈپینڈنٹ اردو سوموار, اکتوبر 12, 2026 - 19:00 Main image: > <p>ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد 12 اکتوبر، 2026 کو پشاور میں سخت سکیورٹی ہے (اے ایف پی)</p> سیاست type: news related nodes: ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد خیبر پختونخوا کون چلائے گا؟ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا میں فوج تعینات کرنے کا فیصلہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی سنگین غلطی: بیرسٹر گوہر ایمرجنسی نہ لگنے کی اب کوئی گنجائش نہیں بچی: محسن نقوی SEO Title: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی غیر معینہ مدت تک رہے گی: وزیر قانون copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 12/10/2026
independenturdu.com
بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حالات کا موازنہ نہیں: سرفراز بگٹی
**وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پیر کو کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے حالات اور دونوں صوبائی حکومتوں کے کردار کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا، کیوں کہ بلوچستان حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ سمجھتے ہوئے اس کی ذمہ داری قبول کرتی ہے، جبکہ ان کے بقول خیبر پختونخوا میں ایسا نہیں کیا جا رہا۔** وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب اتوار کو خیبر پختونخوا کی حکومت کی معطلی اور صوبے میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد اپوزیشن رہنما اور سیاسی ناقدین یہ سوال پوچھ رہے کہ دونوں صوبوں میں سکیورٹی کی خراب صورت حال کے باوجود صرف خیبر پختونخوا میں ہی گورنر راج کیوں نافذ کیا گیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں خیبر پختونخوا کی صورت حال پر اظہار خیال کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے آئین کے تحت اقدام اٹھایا ہے اور کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا، اس لیے بلوچستان حکومت اس اقدام کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت کا نفاذ صرف امن و امان کی صورت حال کی بنیاد پر نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی جانب سے اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کرنے کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ > View this post on Instagram > > A post shared by Independent Urdu (@indyurdu) وزیراعلیٰ بلوچستان کے بقول خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کے لیے مختص فنڈز سے سوشل میڈیا ٹیم بنائی گئی، جبکہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی اداروں کو حکومتی معاونت، مؤثر قانون سازی اور دہشت گردی کے خلاف بیانیے کی تشکیل میں تعاون فراہم کرنا ضروری ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کو اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت اس جنگ کو اپنی جنگ سمجھتی ہے اور اس چیلنج کا مقابلہ کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکن دہشت گردی کا نشانہ بنے اور جان سے گئے، تاہم ایک مخصوص جماعت پر آج تک ایک پٹاخہ بھی نہیں پھینکا گیا۔ انہوں نے اس صورت حال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اللہ نہ کرے کہ کوئی حملہ ہو، لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اس جماعت کے پاس کون سی جادو کی چھڑی ہے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) وزیراعلیٰ بلوچستان نے بتایا کہ انہوں نے گذشتہ روز سوئی کا دورہ کیا تو دور کہیں دستی بم اور کریکر پھوڑے گئے۔ ان کے مطابق اگر بلوچستان حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی ذمہ داری نہ سمجھتی تو صورت حال مختلف ہوتی۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما بشیر احمد بلور اور میاں افتخار حسین کے بیٹے کے قاتلوں کو واپس بلانے کی باتوں کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ ایسا کہنے والے کون تھے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے تمام ارکان دہشت گردی کے خلاف ہیں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین بنانے والوں نے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں متعلقہ آرٹیکلز شامل کیے تھے۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اتوار کو خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے صوبائی حکومت معطل کر دی تھی۔ صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اور سہیل آفریدی وزیراعلیٰ ہیں۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت افغانستان سے متصل خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندی پر قابو پانے میں ناکام رہی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مجوزہ مارچ کو روکنا ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد صوبے کا انتظامی اختیار گورنر سنبھالیں گے۔ پاکستان کا آئین ہنگامی حالت کے دوران وفاق کو صوبائی انتظامی اختیارات سنبھالنے کی اجازت دیتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں حالیہ مہینوں کے دوران عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی حکومت اور فوج پی ٹی آئی پر شدت پسندی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کرنے کا الزام عائد کرتی ہیں، تاہم جماعت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ خیبر پختونخوا ایمرجنسی گورنر راج بلوچستان عسکریت پسندی سرفراز بگٹی وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ سمجھتے ہوئے اس کی ذمہ داری قبول کرتی ہے، جبکہ ان کے بقول خیبر پختونخوا میں ایسا نہیں کیا جا رہا۔  انڈپینڈنٹ اردو سوموار, اکتوبر 12, 2026 - 18:30 Main image: > <p>24 نومبر، 2023 کی اس تصویر میں  سرفراز بگٹی انڈپینڈنٹ کو دیے جانے والے ایک انٹرویو کے دوران(تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)</p> سیاست jw id: mAocTfYN type: video related nodes: گورنر راج: پشاور میں تعلیمی ادارے اور بی آر ٹی بند نقص امن کا خدشہ، سہیل آفریدی اور دیگر رہنما تحویل میں: حکومت گورنر راج مانتے ہیں نہ ایمرجنسی: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد خیبر پختونخوا کون چلائے گا؟ SEO Title: بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کے کردار کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا: سرفراز بگٹی copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 12/10/2026
independenturdu.com
یورپ میں سالانہ صرف ساڑھے تین لاکھ چینی ہائبرڈ گاڑیاں درآمد ہوں گی
**یورپی یونین اور چینی حکام پیر کو یورپ چینی ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد کو ساڑھے تین لاکھ تک محدود کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔** یورپی یونین کے ایک سینیئر عہدیدار نے پیر کو کہا: ’اس سے فیصلے سے یورپی یونین کو موجودہ امپورٹس نصف سے بھی زیادہ کم ہو جائیں گی جن کے بارے میں ہمارا اندازہ ہے کہ 2026 میں یہ آٹھ لاکھ یونٹس تک پہنچنے کا امکان ہے۔‘ اس معاہدے کا اطلاق 2027 سے چار سال کے لیے ہوگا اور دوسرے سال کے بعد سے اس میں ہر سال چھ فیصد اضافہ ہوگا۔ یورپی یونین اپنے حفاظتی اقدام استعمال کرے گی، جو اسے کسی مخصوص پروڈکٹ کی یورپ میں بھرمار روکنے کے لیے درآمدات محدود کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ہائبرڈ گاڑیوں کا معاملہ حساس ہے کیونکہ اس کے ذریعے چینی مینوفیکچررز یورپی یونین کی مارکیٹ میں داخل ہونے کے کوشش کرتے ہیں۔ یورپی یونین نے 2024 میں چینی الیکٹرک گاڑیوں پر بھاری اضافی ٹیرف یہ الزام لگاتے ہوئے نافذ کیے تھے کہ یہ ناجائز سرکاری سبسڈیز سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ برسلز اور بیجنگ نے گذشتہ ہفتے چین کی طرف سے یورپی یونین کو ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد کو ’معتدل‘ کرنے پر اتفاق کیا تھا، لیکن اس منصوبے کی تفصیلات فوری طور پر عام نہیں کی گئی تھیں۔ چین کی وزارت تجارت نے پیر کو کہا کہ یورپ نے 2025 میں 302,000 ہائبرڈ گاڑیاں امپورٹ کی تھیں اور گذشتہ ہفتے ہونے والا معاہدہ اس ہی کی بنیاد پر طے کیا جائے گا۔ وزارت نے کہا کہ ’فریقین نے 2025 کی بنیاد پر اضافے کا ایک انتظام طے کیا، جس سے چینی کاروباری اداروں کے لیے امپورٹس کی گنجائش اور مستحکم ترقی کو یقینی بنایا گیا۔‘ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) یہ معاہدہ گذشتہ جمعہ کو اس وقت طے پایا جب یورپی تجارتی کمشنر ماروش شیفچووچ نے ایک نقصان دہ تجارتی جنگ کو روکنے کے لیے بیجنگ میں دو روزہ مذاکرات کیے۔ یورپی یونین چین سے بڑھتی ہوئی امپورٹس کے بارے میں مسلسل پریشان ہے، کیونکہ اس ایشیائی طاقت کے ساتھ اس کا تجارتی خسارہ روزانہ تقریبا ایک ارب یورو (1.1 ارب ڈالر) تک پہنچ رہا ہے۔ یورپ میں بہت سے لوگ چین پر غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کا الزام لگاتے ہیں، جن میں قیمتیں گرا کر مصنوعات فروخت کرنا، کرنسی کی ہیرپھیر اور کمپنیوں کو بھاری سبسڈیز کے ذریعے مدد فراہم کرنا شامل ہے۔ حکام اور کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اس سے یورپی یونین کی کمپنیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے اور ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں۔ چین ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ اس کی صنعتی مہارت ہے۔ درآمد سے متعلق یہ معاہدہ جمعرات کو یورپی یونین کے رہنماؤں کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہوگا، جس کے دوران وہ اس بات کا جائزہ لیں گے کہ یورپ کو اگلے کون سے اقدامات کرنے چاہیں۔ یورپی یونین کے ایک دوسرے اہلکار نے کہا کہ برسلز اپنی انڈسٹری یا خطے کو محفوظ بنانے کے طریقوں پر بات کر رہا ہے۔ چین یورپی یونین ہائبرڈ گاڑیاں درآمدات یورپی یونین نے 2024 میں چینی الیکٹرک گاڑیوں پر بھاری اضافی ٹیرف یہ الزام لگاتے ہوئے نافذ کیے تھے کہ یہ ناجائز سرکاری سبسڈیز سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اے ایف پی سوموار, اکتوبر 12, 2026 - 17:30 Main image: > <p>چین کی بندرگاہ یان تائی پر 26 مارچ 2025  کو گاڑیاں بیرون ملک بھجوانے کے لیے ایکو ناپولی نامی جہاز پر لادے جانے کے انتظار میں کھڑی ہیں (اے ایف پی)</p> معیشت type: news related nodes: ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس، سرمایہ کاری کم ہو جائے گی؟ ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس ریلیف ختم: ’قیمتیں 20 لاکھ روپے تک بڑھ سکتی ہیں‘ بجٹ 2024: الیکٹرک، ہائبرڈ اور دیگر گاڑیاں مہنگی یا سستی؟ لگژری گاڑیوں کے ایندھن پر لیوی 300 روپے فی لیٹر کر دی گئی SEO Title: یورپی یونین کا چینی ہائبرڈ گاڑیوں کی سالانہ درآمد ساڑھے تین لاکھ تک محدود کرنے کا اعلان copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 12/10/2026
independenturdu.com
نقص امن کا خدشہ، سہیل آفریدی اور دیگر رہنما تحویل میں: حکومت
**پاکستان کی وفاقی حکومت نے پیر کو تصدیق کی ہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کئی رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حکومت کی معطلی اور صوبے میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد حراست میں لیا گیا ہے۔** وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں تصدیق کی کہ ’وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔‘ انہوں نے کہا اگر ان میں سے کسی کے خلاف مقدمات کی سماعت ہونی ہے تو ان پر فرد جرم عائد کر کے مقدمات چلائے جائیں گے جبکہ دیگر افراد کو رہا کر دیا جائے گا۔ طلال چوہدری کے مطابق یہ گرفتاریاں اتوار کو پشاور میں وزیراعلیٰ ہاؤس میں کی گئیں۔ > View this post on Instagram > > A post shared by Independent Urdu (@indyurdu) عینی شاہدین اور حکام نے بتایا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس اور اس کے آس پاس واقع دیگر اہم تنصیبات کو گھیرے میں لے لیا گیا تھا، جہاں پولیس کی بھاری نفری، نیم فوجی دستے اور مال بردار کنٹینرز تعینات تھے۔ پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے ان حراستوں کی مذمت کرتے ہوئے زیر حراست افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس نے پی ٹی آئی کے سینکڑوں ارکان کو حراست میں لے لیا ہے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) پولیس کے دو اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ اتوار کو ہنگامی حالت کے اعلان کے بعد سے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے 278 ارکان کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ ایک انتظامی عہدے دار نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ سہیل آفریدی کو ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ’حفاظتی تحویل‘ میں رکھا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں کسی دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے سہیل آفریدی کی نئی رہائش گاہ یا مقام کے بارے میں بتانے سے انکار کیا۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اتوار کو خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے صوبائی حکومت معطل کر دی تھی۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے میں ہنگامی حالت اس لیے نافذ کی گئی کیوں کہ صوبائی حکومت افغانستان سے متصل صوبے میں عسکریت پسندی پر قابو پانے میں ناکام رہی۔ تاہم پی ٹی آئینے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہنگامی حالت کے نفاذ کا مقصد ان کے حامیوں کو اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے سے روکنا ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق اس مارچ کا مقصد عمران خان کی رہائی کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنا تھا۔ پاکستان کا آئین ہنگامی حالت کے دوران وفاقی حکومت کو صوبائی حکام سے انتظامی اختیارات سنبھالنے کی اجازت دیتا ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کی جانب سے ہنگامی حالت کے اعلان کے بعد صوبے کا انتظامی اختیار گورنر سنبھال لیں گے۔ > View this post on Instagram > > A post shared by Independent Urdu (@indyurdu) گذشتہ چند ماہ کے دوران خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی حکومت اور فوج پی ٹی آئی پر عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں پر قابو پانے میں ناکامی کا الزام عائد کرتی ہیں، تاہم جماعت اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔ گذشتہ ماہ اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دیے جانے کے بعد حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے۔ وفاقی وزیر کے مطابق حکومت پی ٹی آئی کے تمام مطالبات تسلیم کرنے کے لیے تیار تھی، جن میں مارچ کی اجازت دینا بھی شامل تھا۔ انہوں نے کہا، ’ہم نے صرف ایک بات کہی تھی کہ جماعت عسکریت پسندی کی عوامی سطح پر مذمت کرے اور عسکریت پسندوں کے خلاف لڑائی میں ہمارا ساتھ دے۔‘ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی اس مطالبے پر متفق نہیں ہوئی، اسی لیے مذاکرات ناکام ہو گئے۔ سیاست پاکستان تحریک انصاف سہیل آفریدی کارکن گرفتاریاں خیبر پختونخوا گورنر راج مقامی پولیس کے مطابق اتوار کو ہنگامی حالت کے اعلان کے بعد سے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے 278 ارکان کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔  انڈپینڈنٹ اردو سوموار, اکتوبر 12, 2026 - 16:15 Main image: > <p>سہیل آفریدی نو اکتوبر 2026  کو پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے نکالی گئی احتجاجی ریلی کے دوران کارکنوں سے خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p> پاکستان type: news related nodes: گورنر راج: پشاور میں تعلیمی ادارے اور بی آر ٹی بند ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد خیبر پختونخوا کون چلائے گا؟ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی سنگین غلطی: بیرسٹر گوہر SEO Title: سہیل آفریدی، دیگر رہنماؤں کو نقص امن کے خدشے کی وجہ سے تحویل میں لیا: وفاقی حکومت copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 12/10/2026
independenturdu.com
ٹی وی اینکر اقرار الحسن کے ’اغوا‘ کا معمہ برقرار
**پاکستان کے معروف ٹی وی اینکر اور ایک سیاسی جماعت کے رہنما اقرار الحسن کے لاہور میں گھر سے اتوار کی شب اٹھائے جانے کے معاملے میں ابہام برقرار ہے۔** نیشنل سائبر کرائمز انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے عوام راج تحریک کے سربراہ اور اینکر پرسن کو گرفتار کرنے کی تردید کی ہے۔ این سی سی آئی اے حکام نے لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ کو آگاہ کیا کہ اقرار ان کی تحویل میں نہیں۔ اقرار کے وکیل میاں علی اشفاق نے لاہور ہائی کورٹ میں ان کی بازیابی کے لیے حبسِ بے جا کی درخواست دائر کرنے کا بتایا ہے۔ اقرار کی اہلیہ فرح نے فیس بک پر ایک ویڈیو میں کہا کہ نامعلوم افراد اتوار اور سوموار کی درمیانی شب، تقریباً تین بجے، ان کے گھر میں داخل ہوئے اور ان کے شوہر کو ساتھ لے گئے۔ فرح کا کہنا تھا کہ ان افراد کے ساتھ خواتین اہلکار بھی تھیں جن کے یونیفارم پر انہوں نے این سی سی آئی اے لکھا دیکھا تھا۔ فرح کے مطابق کہ وہ سو رہے تھے جب دروازے کی گھنٹی مسلسل بجنے لگی، جس پر وہ دیکھنے کے لیے باہر آئیں۔ ’جب میں نے ٹیرس سے نیچے جھانک کر دیکھا تو چند افراد مکان کے صحن میں اور چند باہر موجود تھے۔‘ اقرار کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ان افراد نے چہروں پر ماسک پہن رکھے تھے اور وہ کہہ رہے تھے کہ اقرار کو باہر نکالو۔ ’بعد ازاں یہ افراد نچلا دروازہ توڑ کر مکان میں داخل ہوئے اور اوپر آ گئے۔‘ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اقرار کے اہل خانہ نے لاہور کے تھانہ ڈیفنس میں مقدمہ درج کرانے کی کوشش کی لیکن ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے درخواست وصول نہیں کی۔ اقرار کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ آج ہی ہائی کورٹ میں حبس بے کی درخواست دائر کریں گے۔ فرح کے مطابق ان کے شوہر کو ساتھ لے جانے والے افراد گھر سے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی لے گئے۔ اقرار کی پہلی بیوی قرۃ العین نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ان کے شوہر کو کس مقصد کے تحت اغوا کیا گیا اس کا کسی کو علم نہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپنے شوہر کی بازیابی میں مدد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ نیوز اینکر وسیم بادامی نے اپنی ویڈیو میں اقرار کی گرفتاری سے متعلق اطلاعات ملنے کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اقرار کو لے جانے والے اہلکار سادہ کپڑوں میں ملبوس تھے اور ان کے ساتھ خواتین اہلکار بھی موجود تھیں۔ تاحال اقرار الحسن کو گرفتار کیے جانے کی وجوہات سامنے نہیں آسکیں اور نہ ہی ان کے خلاف کسی مقدمے کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ حکام کی جانب سے بھی باضابطہ بیان سامنے آنا باقی ہے۔ لاہور این سی سی آئی اے سائبر کرائم اغوا فرح اقرار کے مطابق اقرار الحسن کو اپنے ساتھ لے جانے والے افراد گھر سے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی اتار کر ساتھ لے گئے۔  انڈپینڈنٹ اردو سوموار, اکتوبر 12, 2026 - 16:15 Main image: > <p class="rteright">فرح اقرار کے مطابق اقرار الحسن کو اپنے ساتھ لے جانے والے افراد گھر سے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی ساتھ لے گئے (انسٹاگرام: اقرار الحسن)</p> ٹرینڈنگ type: news related nodes: صحافی اقرار الحسن کی سیاسی جماعت نوجوانوں کو راغب کر پائے گی؟ اقرار الحسن تشدد: ’میں بہت دکھی اور غصے میں ہوں‘ انڈین والد کے ہاتھوں ’اغوا‘ بیٹی کے لیے تڑپتی ماں کی کہانی اسلام آباد: ڈاگ سینٹر سے کتے چوری کرنے کا مقدمہ، ٹی وی اینکر پریشے جیل میں SEO Title: ٹی وی اینکر اقرار الحسن کے ’اغوا‘ کا معمہ برقرار copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 12/10/2026
independenturdu.com
کوئٹہ: تربیتی طیارہ گرنے سے فوج کے دو پائلٹ جان سے گئے
**پاکستان فوج نے پیر کو بتایا کہ کوئٹہ کے قریب تربیتی طیارہ گرنے سے فوج کے دو پائلٹ جان سے چلے گئے۔** فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فوج کے شعبۂ ہوا بازی سے تعلق رکھنے والا مشاق تربیتی طیارہ ’تکنیکی خرابی‘ کے باعث گر کر تباہ ہوا۔ بیان کے مطابق ’حادثے میں دونوں پائلٹ، انسٹرکٹر پائلٹ میجر حسنین شہزاد ہمایوں اور زیر تربیت پائلٹ کیپٹن عبدالصمد جان سے گئے۔‘ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ایک بیان میں حادثے پر اظہار افسوس کیا ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں اس سے قبل رواں سال جون میں بھی پاکستان فضائیہ کا ایک طیارہ معمول کی تربیتی پرواز کے دوران مردان کے قریب گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس میں دو پائلٹ جان سے گئے تھے۔ آئی ایس پی آر نے اس وقت بتایا تھا کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقاتی بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے۔ پاکستان میں تربیتی پروازوں کے دوران طیاروں کے حادثات غیر معمولی نہیں۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) حکام عموماً فوجی تربیتی پروازوں کے دوران پیش آنے والے حادثات کی تفصیلات جاری نہیں کرتے اور نہ ہی ان حادثات کی تحقیقات کی رپورٹیں عوام کے سامنے لائی جاتی ہیں۔ 2019 میں راولپنڈی کے مضافات میں فوج کا ایک طیارہ رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں 19 افراد جان سے گئے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر اپنے گھروں میں موجود تھے۔ اپریل 2020 میں بھی پاکستان کا ایک لڑاکا طیارہ گجرات کے قریب معمول کی تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس میں انسٹرکٹر اور زیر تربیت پائلٹ دونوں جان سے گئے تھے۔ 2022 میں پاکستان فضائیہ کا ایک طیارہ تربیتی پرواز کے دوران پشاور میں گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں پائلٹ اور معاون پائلٹ جان سے گئے تھے۔ کوئٹہ پاکستان فوج آئی ایس پی آر بلوچستان آئی ایس پی آر کے مطابق فوج کے شعبۂ ہوا بازی سے تعلق رکھنے والا مشاق تربیتی طیارہ ’تکنیکی خرابی‘ کے باعث گر کر تباہ ہوا۔  انڈپینڈنٹ اردو سوموار, اکتوبر 12, 2026 - 15:45 Main image: > <p>انسٹرکٹر پائلٹ میجر حسنین شہزاد ہمایوں اور زیر تربیت پائلٹ کیپٹن عبدالصمد (آئی ایس پی آر)</p> پاکستان type: news related nodes: پاکستان فضائیہ کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ، دونوں پائلٹ جان سے گئے دو پاکستانی پائلٹس کی خلا میں جانے کے لیے چین میں تربیت پاکستان فضائیہ کا ایف 16 طیارہ اسلام آباد میں گر کر تباہ، پائلٹ ہلاک پاکستان فضائیہ کے افسر کا مبینہ قاتل نو گھنٹوں میں کیسے گرفتار ہوا؟ SEO Title: کوئٹہ: تربیتی طیارہ گرنے سے فوج کے دو پائلٹ جان سے گئے copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 12/10/2026
independenturdu.com
تارکین وطن طالبان کے لیے یورپ سے تعلق بڑھانے کی وجہ: رپورٹ
**خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر سخت پابندیوں کے باعث برسوں تک طالبان حکومت سے فاصلہ رکھنے والے یورپی ممالک اب افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے معاملے پر اسی حکومت کے ساتھ براہ راست رابطے بڑھا رہے ہیں۔** یورپ میں غیر قانونی یا مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افغان تارکین وطن کی بے دخلی کے لیے کئی ممالک طالبان حکام سے مذاکرات کر رہے ہیں، جسے طالبان اپنی بین الاقوامی قبولیت بڑھانے کے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق جون کے آخر میں برسلز میں 20 سے زائد یورپی عہدے داروں اور پانچ طالبان نمائندوں کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں افغان باشندوں کی واپسی کے طریقہ کار پر بات چیت کی گئی۔ یورپی یونین کی سرزمین پر طالبان کے ساتھ اس نوعیت کے مذاکرات ماضی میں ایک ممنوع موضوع سمجھے جاتے تھے۔ تاہم بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ اور تارکین وطن سے متعلق عوامی خدشات نے کئی حکومتوں کو اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اخبار کے ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں طالبان کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، خواتین کی تعلیم پر پابندیوں یا دیگر متنازع پالیسیوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک ایک طرف طالبان کی مذمت کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب ان ہی کے ساتھ مل کر افغانوں کو ایسے ملک واپس بھیج رہے ہیں جہاں انہیں ممکنہ خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی افغانستان محقق فرشتہ عباسی نے کہا کہ یورپی یونین بیک وقت طالبان کے جبر کی مذمت اور افغانوں کو ان ہی حالات میں واپس بھیجنے کا مؤقف برقرار نہیں رکھ سکتی۔ اگرچہ طالبان حکومت کو باضابطہ سفارتی تسلیم کرنا اب بھی بیشتر ممالک کے لیے حساس معاملہ ہے اور روس اب تک ایسا کرنے والا واحد ملک ہے۔ تاہم طالبان ان مذاکرات کو اپنی حکومت کی عالمی قبولیت کی جانب ایک اہم قدم سمجھتے ہیں۔ بعض یورپی سفارت کار بھی اس تجزیے سے اتفاق کرتے ہیں۔ ایران سے ملک بدری کے بعد 28 جون 2025 کو افغانستان اور ایران کے درمیان اسلام قلعہ بارڈر کراسنگ کے زیرو پوائنٹ پر پہنچنے پر افغان مہاجرین اپنا سامان لے کر جا رہے ہیں (وکیل کوہسار/ اے ایف پی) **جرمنی کا مرکزی کردار** افغان پناہ گزین کی بے دخلی کے معاملے میں جرمنی سب سے آگے نظر آتا ہے۔ ملک کی مرکز دائیں بازو کی حکومت پر سخت امیگریشن پالیسی اپنانے کا سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے، خصوصاً اس وقت جب انتہائی دائیں بازو کی جماعت ’آلٹرنیٹو فار جرمنی‘ (AfD) مقبولیت حاصل کر رہی ہے اور لاکھوں تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ گذشتہ سال جرمن حکام نے طالبان حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت افغان تارکین وطن کو تیسرے ممالک کے ذریعے بھیجنے کی بجائے براہ راست افغانستان واپس بھیجا جا سکتا ہے۔ فروری میں اس معاہدے کے تحت 20 افغان مردوں کو، جو جرمن عدالتوں سے سزا یافتہ تھے، لیپزگ سے کابل بھیجا گیا۔ جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ نے کہا کہ یہ معاہدہ افغانستان کو براہ راست اور مستقل بنیادوں پر بے دخلیوں کے لیے قابل اعتماد بنیاد فراہم کرتا ہے۔ جرمن وزارت داخلہ کے اعدادوشمار کے مطابق مئی 2025 سے اب تک 263 افغانوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکام اس عمل کو مزید تیز کرنے کے خواہاں ہیں اور اب ایسے افغان مردوں کو بھی واپس بھیجنا شروع کیا جا رہا ہے جن کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ نہیں۔ دوسری جانب افغان خواتین کو اب بھی نسبتاً زیادہ تحفظ حاصل ہے۔ رواں سال کی پہلی ششماہی میں جرمنی میں پناہ کی درخواست دینے والی تقریباً 95 فیصد افغان خواتین کو تحفظ یا پناہ دی گئی۔ جرمنی میں پانچ لاکھ سے زائد افغان باشندے مقیم ہیں جن میں اکثریت قانونی حیثیت رکھتی ہے جبکہ ملک میں پناہ کے متلاشی افراد میں تقریباً 20 فیصد افغان ہیں۔ طالبان سفارت کاروں کی یورپ میں موجودگی اخبار کے مطابق افغان تارکین وطن کی واپسی میں مدد کے لیے طالبان کے چند سفارت کار جرمنی میں کام کر رہے ہیں۔ جرمن حکومت کی جانب سے بے دخلیوں کے عمل میں تیزی کے فیصلے کے بعد طالبان نے مزید تین عہدیدار برلن اور بون بھیجے جو ان معاملات نمٹا رہے ہیں۔ فرانس بھی، جو ماضی میں طالبان کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے سب سے محتاط ممالک میں شمار ہوتا تھا اسی طرح کا انتظام زیر غور لا رہا ہے۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا مقصد ایسے افغان شہریوں کی واپسی کو آسان بنانا ہے جو غیر قانونی طور پر ملک میں موجود ہیں اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کیے جاتے ہیں۔ برطانیہ، جس کے حکام باقاعدگی سے کابل کے دورے کرتے ہیں، بھی یورپی یونین کی پیش رفت کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق کئی دیگر یورپی ممالک بھی طالبان کے ساتھ براہ راست معاہدوں پر غور کر رہے ہیں۔ **طالبان کے مطالبات** طالبان صرف بے دخلیوں تک تعاون محدود رکھنے کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے یورپی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں یورپ بھر میں افغان سفارتی مشنز تک وسیع رسائی دی جائے، واپس بھیجے گئے افغانوں کی بحالی کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے اور افغانستان کے لیے وسیع اقتصادی امداد کا آغاز کیا جائے۔ تاہم یورپی حکومتیں اس معاملے پر محتاط ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ انسانی بنیادوں پر امداد تو جاری رکھی جا سکتی ہے لیکن ترقیاتی امداد طالبان حکومت کو مالی فائدہ پہنچا سکتی ہے، جس سے ان کی حکمرانی مزید مضبوط ہو گی اور بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کرنے والے افراد کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ جرمنی میں قائم بون انٹرنیشنل سینٹر فار کانفلکٹ سٹڈیز کے ڈائریکٹر کونراڈ شیٹر کا کہنا ہے کہ طالبان کے پاس حقیقی دباؤ ڈالنے کی صلاحیت موجود ہے جبکہ یورپی یونین نسبتاً کمزور پوزیشن میں دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق یورپی ممالک پر مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے پناہ گزین کو نکالنے کا اتنا زیادہ دباؤ ہے کہ وہ تقریباً ہر قسم کے معاہدے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔ **برسلز میں خفیہ نوعیت کی ملاقات** 20 نومبر، 2023 کو قندھار میں پاکستان سے افغانستان آنے کے بعد افغان شہری اپنے سامان کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں (اےا یف پی/ ثنااللہ سیم) 23 جون کو برسلز میں ہونے والی ملاقات نے خاصی توجہ حاصل کی۔ پانچ طالبان عہدے دار استنبول سے برسلز پہنچے جہاں بیلجیئم پولیس نے انہیں خفیہ انداز میں ایک ہوٹل منتقل کیا۔ وہاں 20 سے زائد یورپی حکام پہلے سے موجود تھے۔ اس اجلاس میں افغانستان واپس بھیجے جانے والے افراد کے بارے میں تعاون، طالبان کی سفارتی موجودگی میں توسیع اور اقتصادی امداد جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور بعض یورپی سیاست دانوں کی مخالفت کے باعث اجلاس کی جگہ کو آخری وقت تک خفیہ رکھا گیا تھا۔ اجلاس کی مشترکہ میزبانی سویڈن اور یورپی کمیشن نے کی جبکہ افغان وفد کی قیادت افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے کی۔ اس ملاقات کے بعد طالبان وفد نے کم از کم چار یورپی ممالک کے ساتھ الگ الگ دوطرفہ مذاکرات بھی کیے، جن میں سویڈن شامل تھا۔ سویڈش حکام کے مطابق وہ جرائم میں ملوث 200 افغان شہریوں کو افغانستان واپس بھیجنے کے لیے طالبان حکومت کے ساتھ تکنیکی سطح پر کام کر رہے ہیں۔ **تعلقات میں بداعتمادی بدستور موجود** اگرچہ رابطے بڑھ رہے ہیں، لیکن فریقین کے درمیان بداعتمادی برقرار ہے۔ طالبان حکام برسلز اجلاس سے قبل اس بات پر ناراض تھے کہ بیلجیئم حکومت نے ان کے ویزے جاری کرنے میں کئی ماہ لگائے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) احتجاجاً انہوں نے یورپی سفارت کاروں کے ساتھ دوپہر کے کھانے میں شرکت بھی نہیں کی۔ طالبان نمائندوں کو صرف ایک روزہ ویزا دیا گیا تھا، جس کے باعث وہ تقریباً پانچ گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد اسی دن واپس روانہ ہو گئے۔ بعض یورپی امدادی تنظیمیں اور ماہرین طالبان سے زیادہ کھلے رابطوں کی حمایت کرتے ہیں۔ ناروے کی ریفیوجی کونسل کے سیکریٹری جنرل یان ایگیلینڈ مغربی ممالک پر زور دے چکے ہیں کہ وہ اپنے سفارت کار دوبارہ افغانستان بھیجیں۔ ناروے میں طالبان سفارت کار کئی برسوں سے خاموشی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ تاہم اوسلو اور برلن میں افغان سفارت خانوں کے باہر طالبان کا جھنڈا یا ’اسلامی امارت افغانستان‘ کی تختی موجود نہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ یورپی حکومتیں اب بھی طالبان کی مکمل سفارتی قبولیت سے گریز کر رہی ہیں۔ تاہم ایک یورپی سفارت کار کے مطابق تارکین وطن کے خلاف بڑھتے عوامی دباؤ کے باعث حکومتیں رفتہ رفتہ مزید رعایتیں دینے کی طرف بڑھ رہی ہیں جبکہ طالبان پہلے ہی اس صورتحال سے سیاسی اور سفارتی فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں آ چکے ہیں۔ افغان طالبان افغانستان یورپ تارکین وطن پناہ گزین جرمنی ایک امریکی اخبار کے مطابق افغان تارکین وطن کی واپسی میں مدد کے لیے طالبان کے چند سفارت کار جرمنی میں کام کر رہے ہیں۔  انڈپینڈنٹ اردو سوموار, اکتوبر 12, 2026 - 19:45 Main image: > <p class="rteright">طالبان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی 11 اکتوبر، 2025 کو اتر پردیش کے شہر دیوبند میں واقع اسلامی درس گاہ دارالعلوم دیوبند کا دورہ کرتے ہوئے (روئٹرز/انوشری فڈناوس)</p> دنیا type: news related nodes: افغان طالبان نے اقوام متحدہ کے دو اہلکاروں کو حراست میں لے لیا طالبان: زخم پرانا، کہانی نئی؟ تارکین وطن بمقابلہ ساکنان وطن جب ایک پاکستانی نے افغان پناہ گزینوں کی یادیں سنبھال لیں SEO Title: تارکین وطن طالبان کے لیے یورپ سے تعلق بڑھانے کی وجہ بن گئے: رپورٹ copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 12/10/2026
independenturdu.com
گورنر راج: پشاور میں تعلیمی ادارے اور بی آر ٹی بند
**خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پشاور میں پیر کو غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے آج شہر میں احتجاج کے اعلان کے پیش نظر اہم شاہراہوں پر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، جب کہ کینٹ کے داخلی و خارجی راستے کنٹینرز لگا کر بند کر دیے گئے ہیں۔** صدر پاکستان نے اتوار کو وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کر دی جب کہ پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق صدارتی فرمان کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت صوبے میں ایمرجنسی فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔ سکیورٹی خدشات کے باعث شہر کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے، اسکول اور یونیورسٹیاں آج بند ہیں، جب کہ مختلف چوراہوں پر پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ شہر کے ایک چوراہے پر ڈیوٹی دینے والے پولیس اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ گذشتہ 72 گھنٹے سے ڈیوٹی پر ہیں اور انہیں تاحکمِ ثانی چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس سے قبل خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے امن و امان کی صورت حال بگڑنے کی صورت میں فورس استعمال کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی تھیں، جن میں ربڑ کی گولیاں چلانے اور لاٹھی چارج کرنے کی ہدایات شامل ہیں۔ **بازار کھلے، مگر کاروباری سرگرمیاں متاثر** شہر کی اہم مارکیٹیں اور تجارتی مراکز معمول کے مطابق کھلے ہیں، تاہم سڑکوں پر ٹریفک کی کمی اور راستوں کی بندش کے باعث بازاروں میں بھی معمول سے کم چہل پہل دکھائی دے رہی ہے۔ پشاور صدر کی شفیع مارکیٹ کے دکاندار راحت نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ راستوں کی بندش اور بی آر ٹی سروس کی معطلی کے باعث مارکیٹ میں گاہک نہ ہونے کے برابر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’گورنر راج لگ گیا ہے تو اب راستوں کو کھولنا چاہیے تاکہ معمولات زندگی متاثر نہ ہوں کیونکہ راستوں کی بندش سے مارکیٹ پر بڑا اثر پڑتا ہے۔ ‘ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگنے کے بعد 12 اکتوبر، 2026 کو پولیس اہلکار شہر کی ایک بازار میں چوکس کھڑے ہیں (اے ایف پی) **بی آر ٹی دوسرے روز بھی بند** پشاور میں بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) سروس آج مسلسل دوسرے روز بھی معطل ہے، جس کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔ بی آر ٹی شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا ایک اہم ذریعہ ہے، جس کے ذریعے روزانہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد سفر کرتے ہیں۔ سروس کی معطلی سے نہ صرف مسافروں کو مشکلات پیش آ رہی ہیں بلکہ بازاروں میں گاہکوں کی آمد بھی متاثر ہوئی ہے۔ **پی ٹی آئی قیادت منظر عام سے غائب** خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سابق وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کے حوالے سے صورت حال واضح نہیں ہو سکی، جبکہ مردان میں بھی پی ٹی آئی کا اعلان کردہ لانگ مارچ دکھائی نہیں دے رہا۔ گذشتہ روز پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر سہیل آفریدی، صوبائی اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی اور صوبائی صدر جنید اکبر کی گرفتاری سے متعلق دعوے کیے گئے تھے، تاہم سرکاری سطح پر ان گرفتاریوں کی تصدیق نہیں ہوئی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گذشتہ روز سہیل آفریدی کی گرفتاری سے متعلق ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت کو ضرورت پڑنے پر بعض افراد کو گرفتار یا حراست میں لیا جا سکتا ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو نے صورت حال پر مؤقف جاننے کے لیے پی ٹی آئی قیادت سے رابطے کی کوشش کی، تاہم کسی سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) **اپیکس کمیٹی کا اجلاس آج طلب** دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا نے آج پشاور میں اپیکس کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے، جس میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ گورنر ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق پشاور شہر میں نصب کنٹینرز مرحلہ وار ہٹائے جائیں گے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ روز مکمل طور پر بند رہنے والے موبائل سگنلز، انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی سہولیات آج بحال ہو گئی ہیں۔ **اولین ترجیح پائیدار امن کا قیام ہے: گورنر** خیبرپختونخوا میں سکیورٹی صورت حال اور انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا سکیورٹی اجلاس اتوار کو بھی منعقد ہوا تھا جس کی صدارت گورنر فیصل کریم کنڈی نے کی۔ اجلاس میں مشیر برائے داخلہ کِفایت اللہ خان، چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان، انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کی سکیورٹی صورت حال اور دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات پر غور کیا گیا۔ گورنر نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ پولیس اہلکار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہے ہیں اور عوام کے تحفظ کے لیے بے پناہ قربانیاں دے رہے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود، مناسب معاوضے اور ان کے خاندانوں کے مستقبل کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ حکام نے پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو مزید مضبوط بنانے اور اہلکاروں کو ضروری معاونت فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ **فوج کی تعیناتی** وفاقی حکومت نے اتوار کو صوبے میں سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے فوج کی تعیناتی کا باضابطہ حکم نامہ جاری کر دیا۔ یہ تعیناتی آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت ہوئی ہے۔ وزارت داخلہ کے حکم نامے کے مطابق خیبر پختونخوا میں امن و امان اور شہریوں کے تحفظ کے لیے فوج سول انتظامیہ کی معاونت کرے گی۔ حکم نامے میں بتایا گیا کہ گورنر خیبر پختونخوا، جی ایچ کیو کے ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ سے مشاورت کے بعد فوجی دستوں اور وسائل کی تعداد کا تعین کریں گے۔ خیبر پختونخوا ایمرجنسی گورنر راج سکیورٹی پی ٹی آئی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے آج شہر میں احتجاج کے اعلان کے پیش نظر اہم شاہراہوں پر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ اظہار اللہ سوموار, اکتوبر 12, 2026 - 13:00 Main image: > <p>خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد 12 اکتوبر، 2026 کو پشاور میں پولیس کی بکتر بند گاڑیاں گشت کر رہی ہیں (اے ایف پی)</p> سیاست jw id: YHfXjKUX type: video related nodes: ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد خیبر پختونخوا کون چلائے گا؟ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی سنگین غلطی: بیرسٹر گوہر گورنر راج مانتے ہیں نہ ایمرجنسی: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا SEO Title: گورنر راج: پشاور میں تعلیمی ادارے اور بی آر ٹی بند، پی ٹی آئی قیادت غائب copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 12/10/2026
independenturdu.com
سبزیوں میں 60 سال پہلے جیسی غذائیت کیوں نہیں رہی؟
**ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گندم، سیب اور گاجروں میں غذائیت کی مقدار 1960 کی دہائی کے مقابلے میں نصف رہ گئی ہے۔** تحقیق کے مطابق، مٹی کے معیار میں کمی کے باعث پھلوں اور سبزیوں میں موجود غذائی اجزا کی مقدار بھی نمایاں طور پر کم ہوگئی ہے۔ ڈیپ سائنس وینچرز کے محققین کی جانب سے کی گئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پوٹاشیم، میگنیشیم اور کاپر جیسے معدنیات کی اتنی ہی مقدار حاصل کرنے کے لیے اب 60 سال پہلے کے مقابلے میں دو گنا پھل اور سبزیاں کھانے کی ضرورت ہے۔ محققین کے مطابق، اناج، روٹی، گاجر، سیب اور مٹر سمیت مختلف غذاؤں میں کئی اہم غذائی اجزا کی مقدار 20 سے 50 فیصد تک کم ہوگئی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فصلوں میں غذائی اجزا کی کمی اور وزن گھٹانے والی ادویات، مثلاً اوزیمپک اور مونجارو، کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث برطانیہ میں کام کرنے کی عمر کے تقریباً 50 لاکھ بالغ افراد ضروری وٹامنز اور معدنیات کی محفوظ سطح سے نیچے جا سکتے ہیں۔ ڈیپ سائنس وینچرز میں موسمیاتی امور کے سینیئر ایسوسی ایٹ ول سمرز نے کہا کہ گذشتہ 60 برس سے غذائی تحفظ کو کیلوریز اور فی ہیکٹر پیداوار کی بنیاد پر جانچا جاتا رہا ہے اور ان پیمانوں پر نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے، تاہم خوراک کے اندر موجود غذائی اجزا خاموشی سے کم ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزن کم کرنے والی ادویات کے باعث جب لوگ کم کھاتے ہیں تو خوراک کے ہر لقمے کی غذائی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ان کے بقول، فصلوں کی افزائش، مٹی کی صحت، منڈیوں اور پالیسیوں میں بہتری کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کے ذرائع پہلے سے موجود ہیں، تاہم اب تک اس مسئلے کی پیمائش اور اس کی بنیادی وجوہات دور کرنے کی اہمیت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کئی دہائیوں سے فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے کی جانے والی افزائش اور کاشت کاری کے طریقوں نے فصلوں میں متعدد غذائی اجزا کی مقدار کم کردی ہے۔ 1960 کی دہائی کے بعد سے فی ہیکٹر اناج کی پیداوار میں 215 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ ترقی پذیر ممالک میں غذائی قلت کی شرح 35 فیصد سے کم ہو کر 12 فیصد رہ گئی ہے۔ تاہم، تحقیق کے مصنفین نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں اب بھی دو ارب سے زیادہ افراد کم از کم ایک ضروری خرد غذائی جزو (مائیکرونیوٹرینٹ) کی طبی طور پر تشخیص شدہ کمی کا شکار ہیں۔ برطانیہ اور امریکہ سمیت کئی ممالک میں یہ مسئلہ واضح ہے، جہاں لوگوں کی خوراک میں کیلوریز کی مقدار زیادہ ہونے کے باوجود سیلینیم اور فولیٹ جیسے غذائی اجزا کی کمی پائی جاتی ہے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) سیلینیم کے اچھے ذرائع میں ثابت اناج اور برازیلی میوے شامل ہیں، تاہم رپورٹ کے مطابق گندم میں اس معدنی جزو کی مقدار کم ہونے کے باعث اب خواتین کو سیلینیم کی تجویز کردہ روزانہ مقدار کا صرف ایک تہائی حاصل کرنے کے لیے بھی ثابت گندم کی روٹی کے چار سلائس کھانے پڑ سکتے ہیں۔ محققین کے مطابق، 1960 کی دہائی کے بعد متعارف کرائی گئی گندم کی اقسام میں سے ایک تہائی سے بھی کم ایسی ہیں جو زنک کی تجویز کردہ مقدار کے معیار پر پوری اترتی ہیں۔ تحقیق میں غذائی اجزا کی کمی کے سنگین صحت کے اثرات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ سیلینیم کی کمی مدافعتی نظام کو کمزور کرتی اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتی ہے، جبکہ زنک کی کمی جلد، بالوں اور مدافعتی نظام کو متاثر کرسکتی ہے۔ آئرن کی کمی سے تھکاوٹ اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری ہوسکتی ہے۔ اسی طرح پوٹاشیم کی کم مقدار فالج کا خطرہ 21 فیصد تک بڑھا سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، برطانیہ میں فالج کے باعث سالانہ تقریباً 26 ارب پاؤنڈ کا معاشی نقصان ہوتا ہے۔ مارک لیونارڈ ٹرسٹ کی ٹرسٹ ایگزیکٹو سیان فرگوسن نے کہا کہ صحت مند مٹی ہی صحت بخش خوراک کی بنیاد ہے۔ ان کے مطابق، رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ مٹی کی صحت بحال کرنا ان چند اقدامات میں شامل ہے جن سے خوراک میں غذائی اجزا کی مقدار، فصلوں کی پیداوار اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت بیک وقت بہتر بنائی جاسکتی ہے، جبکہ کسان آج بھی ان اقدامات سے معاشی فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ سائنس تحقیق صحت محققین کے مطابق، اناج، روٹی، گاجر، سیب اور مٹر سمیت مختلف غذاؤں میں کئی اہم غذائی اجزا کی مقدار 20 سے 50 فیصد تک کم ہوگئی ہے۔ ریبیکا وائٹیکر سوموار, اکتوبر 12, 2026 - 12:00 Main image: > <p>کراچی کی ایک سبزی منڈی میں لوگ سبزیاں خرید رہے ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p> صحت type: news related nodes: زیادہ پھل، سبزیاں کھانے سے کینسر کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے: تحقیق سوات: مٹی کے بغیر سبزیاں اُگانے کا کامیاب تجربہ سکردو: منفی 15 درجہ حرارت میں تازہ سبزیاں اگانے والی خاتون انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کا ’چھوٹا پنجاب‘ جہاں ہر قسم کی سبزی اگتی ہے SEO Title: سبزیوں میں 60 سال پہلے جیسی غذائیت کیوں نہیں رہی؟ copyright: IndependentEnglish origin url: https://www.independent.co.uk/news/uk/home-news/vegetables-nutrition-soil-quality-decline-b3063325.html show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 11/10/2026
independenturdu.com
معاذ کی مسلسل دوسری نصف سنچری، سری لنکا کی ٹی 20 سیریز میں شکست
**پاکستان نے اتوار کو سری لنکا کو دوسرے ٹی 20 میچ میں 82 رنز سے ہرا کر تین میچوں کی سیریز میں دو صفر کی فیصلہ کن برتری حاصل کر لی۔** راولپنڈی میں کھیلے گئے میچ میں سری لنکن کپتان نے ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی تو میزبان ٹیم نے مقررہ اوورز میں 215 رنز بنائے۔ کپتان صاحبزادہ فرحان اور معاذ صداقت نے گذشتہ میچ کی پرفارمنس کو برقرار رکھتے ہوئے 88 رنز کی شراکت داری قائم کرکے ٹیم کی پوزیشن کو مضبوط کیا۔ صاحبزادہ فرحان 44 گیندوں پر 73 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تاہم معاذ صداقت تیزی سے سکور میں اضافہ کیا اور اننگز کی آخری گیند پر چھکا لگا کے سنچری بنانے کی کوشش میں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ معاذ صداقت نے 51 گیندوں پر 96 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جو کہ ان کے کیریئر کی بہترین اننگز تھی جس میں سات چھکے اور چھ چوکے شامل تھے۔ پاکستان کی اننگز کے دوران فخرزمان نے 22 اور حسن نواز نے 19 رنز کا اضافہ کیا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) سری لنکا کی جانب سے ایشان ملنگا، مہیش تھیکشانا اور داسن شناکا نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی. پاکستان کے 216 رنز کے ہدف کے تعاقب میں سری لنکن ٹیم ابتدا سے ہی دباؤ کا شکار رہی اور مقررہ اوورز میں سات وکٹوں پر 133 رنز تک ہی بنا پائی۔ مہمان ٹیم کی جانب سے مہیش 32، چمندو 29 رنز بنا کر نمایاں بلے باز رہے جب کہ پاکستان کی جانب سے عمران رندھاوا نے تین, سلمان مرزا نے دو اور صائم ایوب اور شاداب خان نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ پاکستان نے اس میچ میں 82 رنز سے کامیابی حاصل کی جو سری لنکا کے خلاف رنز کے اعتبار سے پاکستان کی سب سے بڑی جیت ہے۔ اس فتح کے ساتھ پاکستان نے نو سال بعد سری لنکا کیخلاف ٹی 20 سیریز بھی اپنے نام کر لی۔ کرکٹ پاکستان سری لنکا ٹی 20 سیریز راولپنڈی میں کھیلے گئے میچ میں سری لنکن کپتان نے ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی تو میزبان ٹیم نے مقررہ اوورز میں 215 رنز بنائے۔  انڈپینڈنٹ اردو اتوار, اکتوبر 11, 2026 - 22:15 Main image: > <p>پاکستان کے کپتان صاحبزادہ فرحا اور پاکستان کے معاذ صداقت 11  اکتوبر 2026 کو راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دوسرے ٹی 20 بین الاقوامی کرکٹ میچ کے دوران (اے ایف پی)</p> کرکٹ type: news related nodes: سری لنکا کی پاکستان کے خلاف پہلے ٹی 20 میں ہار سری لنکا سیریز: سلمان آغا اور بابر آؤٹ، فرحان نئے کپتان صاحبزادہ فرحان کو ’نئے کامبینیشن‘ سے اچھی کارکردگی کی امید صاحبزادہ فرحان آئی سی سی ’پلیئر آف دی منتھ‘ قرار SEO Title: معاذ کی مسلسل دوسری نصف سنچری، سری لنکا کی ٹی 20 سیریز میں شکست copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 11/10/2026
independenturdu.com
ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں 6 پاکستانی زخمی، سفارت خانہ رابطے میں ہے: شہباز شریف
**پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ انہیں ریاض کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ’حوثیوں کے حملے کے نتیجے میں چھ پاکستانی شہریوں کے زخمی ہونے کی خبر سن کر گہرا دکھ ہوا ہے۔‘** یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد نے آج بتایا کہ ریاض ایئرپورٹ کے ایک ٹرمینل پر نامعلوم پروجیکٹائل گرنے سے آگ بھڑک اٹھی۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ نامعلوم پروجیکٹائل کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 پر گرا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے ایئرپورٹ کے قریب ایک کروز میزائل کو ’روک کر تباہ کر دیا۔‘ انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں تازہ حملے کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں، البتہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ انہیں ایئرپورٹ پر ’حوثیوں کے حملے کے نتیجے میں چھ پاکستانی شہریوں کے زخمی ہونے کی خبر سن کر گہرا دکھ ہوا ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ریاض میں ہمارا سفارت خانہ سعودی حکام سے قریبی رابطے میں ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہا ہے۔‘ > I am deeply saddened to learn that six Pakistani nationals got injured as a result of Houthis attack on King Khalid International Airport in Riyadh. I pray for their speedy recovery. Our Embassy in Riyadh is in close contact with the Saudi authorities and is extending all possible assistance to the affected families. > > — Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) October 11, 2026 یہ حملہ اسی ایئرپورٹ کے حصے میں ہوا جہاں اندرون ملک پروازوں کے لیے ٹرمینل 3 اور 4 واقع ہیں۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب حوثیوں نے کہا کہ یمن کے دارالحکومت صنعا میں ان کے زیر کنٹرول ایئرپورٹ کو ایک بار پھر نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے اس حملے کا الزام سعودی عرب پر عائد کیا، تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ گذشتہ روز بھی کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملہ ہوا تھا جس میں 12 افراد جان سے گئے جبکہ 300 سے زائد افراد زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویش ناک تھی۔ اتوار کے حملے کے وقت ایئرپورٹ بند تھا اور حکام نے دارالحکومت کے سکولوں میں آن لائن تعلیم شروع کروا دی تھی۔ **آر 4 گروپ کی شدید مذمت** آر فور گروپ کی ریاستوں (پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکی) نے سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے مسلسل جارحانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے گروپ کی جانب سے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق یہ حملے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ’گروپ اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ یہ حملے مملکت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہیں، جو اس کی سلامتی، استحکام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ ’یہ ایک خطرناک کشیدگی ہے جسے کسی بھی بہانے سے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی قبول کیا جا سکتا ہے۔‘ بیان کے مطابق ’گروپ مملکت سعودی عرب کے ساتھ اپنی یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ اس میں ان حملوں کا مقابلہ کرنے، خطرات کے ذرائع کو باز رکھنے اور ان حملوں کی دوبارہ روک تھام کے لیے تمام جائز اقدامات کی مکمل حمایت شامل ہے تاکہ مملکت کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کیا جا سکے اور اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اس کے شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔‘ ’گروپ حوثی ملیشیا کو ان حملوں کے نتائج اور ان کے نتیجے میں علاقائی و بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق ہونے والے کسی بھی خطرے کا مکمل ذمہ دار ٹھہراتا ہے اور ان حملوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر روکنے کا مطالبہ کرتا ہے۔‘ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) پاکستان نے گذشتہ روز کے ’دہشت گرد حملے‘ کی بھی شدید مذمت کی تھی۔ پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق شہری ہوائی اڈے کو نشانہ بنانا ’دہشت گردی کا سنگین اقدام، بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔‘ دفتر خارجہ کے کے مطابق پاکستان نے حملے کے نتیجے میں جانی نقصان اور افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان نے کہا ہے کہ ’حوثی ملیشیا کی جانب سے شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں اور عالمی برادری کو اس کی غیر مبہم الفاظ میں مذمت کرنی چاہیے۔‘ ’جارحیت کے ایسے کھلے اور بلاامتیاز اقدامات کا کسی بھی صورت جواز پیش نہیں کیا جاسکتا اور انہیں فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔‘ سعودی عرب حوثی ریاض وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ انہیں ریاض ایئرپورٹ پر ’حوثیوں کے حملے کے نتیجے میں چھ پاکستانی شہریوں کے زخمی ہونے کی خبر سن کر گہرا دکھ ہوا ہے۔‘  انڈپینڈنٹ اردو اتوار, اکتوبر 11, 2026 - 22:15 Main image: > <p>تین اکتوبر، 2026 کو ریاض کے جنوب میں سعودی تیل کمپنی آرامکو کی ایک تنصیب میں آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں (اے ایف پی)</p> ایشیا type: news related nodes: حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں شامل ہونے کا فیصلہ جلد: ٹرمپ یمن میں حوثیوں کے 100 سے زائد اہداف تباہ: سعودی اتحاد پاکستانی طیارے حوثیوں کے خلاف استعمال نہیں ہوئے: وزارت اطلاعات یمنی حکومت کا حوثیوں کے خلاف فوجی آپریشن کا اعلان SEO Title: ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں 6 پاکستانی زخمی، سفارت خانہ رابطے میں ہے: شہباز شریف copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 11/10/2026
independenturdu.com
پاکستانی سپیکر کی ریاض ایئرپورٹ پر حملے کی مذمت
**پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے اتوار کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے 12 شہریوں کی موت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔** قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق ایاز صادق نے حملے میں سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے پر گہری تشویش کا اظہار بھی کیا۔ انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں سعودی عرب کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ہفتے کو بتایا تھا کہ حملے میں جان سے جانے والوں میں سعودی عرب کے چار شہریوں سمیت فلسطین، بنگلہ دیش، شام، امریکہ، مصر، اردن اور سوڈان کے شہری شامل ہیں۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) قومی اسمبلی کے سپیکر نے ایسے حملوں کو قطعی ناقابل قبول اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پُرتشدد واقعات علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے اس طرح کے پرتشدد واقعات کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔ سعودی عرب کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے سپیکر نے کہا کہ پاکستان اور مملکت کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات باہمی اعتماد، اخوت اور قریبی دفاعی روابط پر استوار ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اس کے ساتھ کھڑے رہنے کے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ بھی کیا۔ سعودی عرب ریاض حوثی قومی اسمبلی ایاز صادق نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اس کے ساتھ کھڑے رہنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔  انڈپینڈنٹ اردو اتوار, اکتوبر 11, 2026 - 18:30 Main image: > <p>ایاز صادق 11 اپریل، 2022 کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ پہنچ رہے ہیں (اے ایف پی)</p> پاکستان type: news related nodes: حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں شامل ہونے کا فیصلہ جلد: ٹرمپ یمن میں حوثیوں کے 100 سے زائد اہداف تباہ: سعودی اتحاد پاکستانی طیارے حوثیوں کے خلاف استعمال نہیں ہوئے: وزارت اطلاعات سعودی عرب سے یکجہتی، حوثی حملوں کی شدید مذمت: کور کمانڈرز کانفرنس SEO Title: پاکستانی قومی اسمبلی کے سپیکر کی ریاض ایئرپورٹ پر حملے کی مذمت copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 11/10/2026
independenturdu.com
انڈیا: سوشل میڈیا سے صحافتی مواد ہٹانے کے واقعات میں ’اضافہ‘
**رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (RSF) نے خبردار کیا ہے کہ انڈیا میں 2026 کے آغاز سے صحافتی مواد کو سوشل میڈیا سے ہٹانے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ ایک نئی قانونی تبدیلی کے تحت آن لائن پلیٹ فارمز کو متنازع قرار دیے گئے مواد کو ہٹانے کے لیے صرف تین گھنٹے کا وقت دیا جا رہا ہے۔** اتوار کو جاری ایک بیان میں تنظیم کے مطابق یہ تیزی سے نافذ ہونے والا اور غیر شفاف سنسرشپ کا نظام عوام کے حقِ معلومات کے لیے براہِ راست خطرہ بن رہا ہے۔ کشمیری علاقوں میں پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے افراد پر رپورٹس، گوگل کے مجوزہ ڈیٹا سینٹر منصوبے کے باعث مقامی آبادیوں کی بے دخلی سے متعلق تحقیقات اور پولیس تشدد کے الزامات پر طلبہ کے بیانات جیسے اہم صحافتی مواد کو حکام کی درخواست پر انتہائی تیزی سے سوشل میڈیا سے ہٹایا جا رہا ہے۔ فروری 2026 میں نافذ ہونے والے نئے قواعد کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو رپورٹ شدہ مواد ہٹانے کے لیے دی جانے والی مہلت 36 گھنٹوں سے کم کر کے صرف تین گھنٹے کر دی گئی۔ اس مختصر مدت کے باعث پلیٹ فارمز کے پاس حکومتی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے تقریباً کوئی وقت نہیں بچتا۔ بیانکا ناوارو نے 10 دسمبر 2025 کو مغربی سڈنی میں اپنے گھر پر عمر کی تصدیق کا پیغام موصول ہونے کے بعد سوشل میڈیا سائٹ کو غیر مقفل کرنے کی کوشش کی (اے ایف پی) **40 صحافیوں اور میڈیا اداروں کے خلاف کارروائیاں** دہلی میں قائم تنظیم سافٹ ویئر فریڈم لا سینٹر (SFLC) نے، جو آن لائن آزادیوں کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے، آر ایس ایف کو بتایا: ’2026 میں صحافیوں یا میڈیا اداروں سے متعلق مواد ہٹانے اور اکاؤنٹس بلاک کیے جانے کے 40 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ تاہم میڈیا رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔‘ اعداد و شمار کے مطابق مارچ اور جولائی 2026 کے درمیان حکومت نے صحافتی اور غیر صحافتی تمام اقسام کے مواد کے لیے تقریباً دو لاکھ ہٹانے کے احکامات جاری کیے۔ یہ احکامات حکومتی پورٹل سہیوگ (Sahyog) کے ذریعے بھیجے گئے، جبکہ اکتوبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان ایسی درخواستوں کی تعداد صرف 2,312 تھی۔ **سہیوگ پورٹل کیا ہے؟** اکتوبر 2024 میں وزارتِ داخلہ کی جانب سے شروع کیا جانے والا سہیوگ پورٹل قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے آن لائن مواد فوری طور پر ہٹانے کی درخواست کرنے کی سہولت دیتا ہے اور اس عمل کو خودکار بنانے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ نئی تین گھنٹے کی شرط پوری کرنے کے لیے میٹا نے سہیوگ پورٹل کے ساتھ ایک ایپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس (API) مربوط کر لیا ہے۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹوں کے مطابق اس براہِ راست رابطے کے ذریعے پورٹل پر حکام کی جانب سے بھیجی جانے والی درخواستیں میٹا کے پلیٹ فارمز پر عملے کے کسی رکن کی پیشگی جانچ پڑتال کے بغیر خودکار طور پر پراسیس کی جا سکتی ہیں۔ سوشل میڈیا مواد عام طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 79(3)(b) یا 69A کے تحت جاری نوٹسوں کے بعد ہٹایا جاتا ہے۔ تاہم متاثرہ صحافیوں یا مصنفین کو موصول ہونے والے نوٹس یہ نہیں بتاتے کہ مواد کیوں بلاک کیا گیا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) سافٹ ویئر فریڈم لا سینٹر کے مطابق: ’شفافیت کی کمی کے باعث صحافیوں کے لیے ان پابندیوں کو چیلنج کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے کیونکہ اکثر یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ مواد ہٹانے کا حکم کس ادارے نے دیا، کون سی قانونی دفعہ استعمال کی گئی اور اس فیصلے کی بنیاد کیا تھی۔‘ آر ایس ایف کے جنوبی ایشیا دفتر کی سربراہ سیلیا مرسیئر کے مطابق: ’تحقیقاتی رپورٹس، صحافتی تحقیقات اور یہاں تک کہ پورے میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کے بڑھتے ہوئے اقدامات انڈیا میں آن لائن سنسرشپ کی شدت میں اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔ حکام ایسا نظام تشکیل دے رہے ہیں جس میں عوامی مفاد کے صحافتی مواد کو چند گھنٹوں کے اندر بغیر وضاحت اور مؤثر قانونی چارہ جوئی کے غائب کیا جا سکتا ہے۔‘ انہوں نے انڈین حکومت سے مطالبہ کیا کہ میڈیا کے خلاف من مانی ہٹاؤ درخواستیں بند کی جائیں، ہر کارروائی کی قانونی بنیاد عوام کے سامنے رکھی جائے اور کسی بھی صحافتی مواد پر پابندی لگانے سے پہلے آزادانہ جائزہ یقینی بنایا جائے۔ آر ایس ایف نے میٹا، ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور دیگر پلیٹ فارمز سے بھی مطالبہ کیا کہ صحافیوں اور میڈیا اداروں سے متعلق ہر درخواست کو خصوصی انسانی اور قانونی جانچ کے بعد ہی منظور کیا جائے جبکہ متاثرہ اداروں کو واضح طور پر بتایا جائے کہ پابندی کا حکم کس ادارے نے دیا، اس کی وجہ کیا تھی اور اپیل کا طریقہ کار کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ بعد میں صحافتی قرار دیے جانے والے مواد کو فوراً بحال کیا جانا چاہیے۔ **فروری سے ستمبر کے اہم واقعات** فروری: دی وائر کا انسٹاگرام اکاؤنٹ بلاک 9 فروری کو دہلی کے خبر رساں ادارے دی وائر کا انسٹاگرام اکاؤنٹ، جس کے 1.3 ملین سے زیادہ فالوورز تھے، وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقیدی متحرک کارٹون شائع کرنے کے بعد تقریباً دو گھنٹوں کے لیے انڈیا میں بلاک کر دیا گیا۔ اگرچہ اکاؤنٹ بعد میں بحال کر دیا گیا، لیکن متنازع پوسٹ آج بھی انسٹاگرام اور فیس بک پر دستیاب نہیں۔ اسی مواد کو ایکس پر بھی بلاک کیا گیا۔ مارچ: کشمیری میڈیا اور پسماندہ طبقات کی آوازیں نشانہ میٹا نے تین بڑے کشمیری میڈیا اداروں گریٹر کشمیر، رائزنگ کشمیر اور کشمیر لائف کے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس بلاک کر دیے۔ ان کے فیس بک پر مجموعی طور پر 1.8 ملین اور انسٹاگرام پر تقریباً دو لاکھ فالوورز تھے۔ اسی ماہ خبر رساں پلیٹ فارم مولیٹکس اور اس کے بیک اپ فیس بک پیج کو بلاک کیا گیا۔ دلتوں، قبائلی برادریوں اور دیگر محروم طبقات کے مسائل اجاگر کرنے والے ادارے نیشنل دستک کا فیس بک صفحہ ہٹا دیا گیا۔ تقریباً 1.7 ملین فالوورز رکھنے والے 4PM نیوز نیٹ ورک کا فیس بک صفحہ بھی انڈیا میں بلاک کر دیا گیا۔ آزاد صحافت کے پلیٹ فارم PeekTV کو ایکس پر ایسی ویڈیو کے خلاف ٹیک ڈاؤن نوٹس ملا جس میں ایک طالب علم نے احتجاج کے دوران مبینہ پولیس تشدد کا ذکر کیا تھا۔ جنوبی افریقی صحافی آزاد عیسیٰ کا ایکس اکاؤنٹ بھی حکومتی احکامات پر معطل کر دیا گیا۔ مولیٹکس، نیشنل دستک اور آزاد عیسیٰ کا ایکس اکاؤنٹ تاحال قابلِ رسائی نہیں۔ مئی: ماحولیاتی رپورٹ پر پابندی 22 مئی کو میٹا نے انوائرنمنٹل رپورٹنگ کلیکٹو کی ایک انسٹاگرام ویڈیو بلاک کر دی۔ ویڈیو میں وشاکھاپٹنم میں گوگل کے مجوزہ ڈیٹا سینٹر منصوبے پر رپورٹ پیش کی گئی تھی جو ادانی گروپ کے اشتراک سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں مقامی دلت آبادیوں کی جبری بے دخلی پر خاص توجہ دی گئی تھی۔ بلاک کیے جانے سے قبل یہ ویڈیو 2.6 ملین سے زیادہ مرتبہ دیکھی جا چکی تھی۔ قانونی مداخلت کے بعد اسے 10 ستمبر کو بحال کر دیا گیا۔ جولائی: طلبہ احتجاج سے متعلق مواد ہٹایا گیا جولائی میں نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاجوں سے متعلق متعدد مواد انڈیا میں ناقابل رسائی بنا دیا گیا۔ فری لانس صحافی سادھیکا تیواری نے بتایا کہ ان کی وہ ویڈیو، جس میں ایک طالب علم پولیس تشدد کا الزام لگاتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ بات کر رہا تھا، ایکس پر بلاک کر دی گئی۔ اسی طرح آزاد صحافی یاقوت علی کا ایک انٹرویو انسٹاگرام پر تین مرتبہ بلاک ہوا۔ مکتوب میڈیا کی احتجاجی مظاہروں سے متعلق دو ویڈیوز بھی انسٹاگرام پر روک دی گئیں۔ پریانشی شرما کے مطابق ایک احتجاجی شریک کا انٹرویو بھی انسٹاگرام سے ہٹا دیا گیا، جس میں آن لائن دھمکی آمیز تبصروں کا ذکر تھا۔ اگست: کشمیر میں پیلٹ گن متاثرین کی رپورٹس بلاک اگست کے آغاز میں سکرول کی کئی انسٹاگرام پوسٹس بلاک کی گئیں جن میں کشمیر میں پیلٹ گن سے متاثر افراد کی صورتحال بیان کی گئی تھی۔ 2010 سے انڈین سکیورٹی فورسز مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ گنز اور دیگر ہتھیار استعمال کرتی رہی ہیں۔ سکرول کے مطابق جون 2026 کے بعد یہ چوتھی مرتبہ تھا کہ اس کے مواد پر پابندی لگائی گئی۔ اسی موضوع پر دی وائر کا فیس بک اور انسٹاگرام مواد بھی بلاک کیا گیا۔ دی ہندو کی کشمیر میں گرینیڈ حملوں کے متاثرین پر مبنی رپورٹ بھی انسٹاگرام سے ہٹا دی گئی۔ یہ تمام مواد اب بھی انڈیا میں دستیاب نہیں۔ ستمبر: صحت بحران، مسجد کی مسماری اور احتجاج میں اموات کی رپورٹس 6 ستمبر کو تین آزاد صحافیوں مونیکا سنگھ، بندو گرجر اور لوک بھدرا سنگھ کے انسٹاگرام اکاؤنٹس معطل کر دیے گئے۔ ان صحافیوں نے مدھیہ پردیش کی ایک آدی واسی برادری میں صحت کے بحران پر رپورٹ شائع کی تھی۔ بعد ازاں ان کے اکاؤنٹس بحال کر دیے گئے۔ اسی دوران آرٹیکل 14 کی جانب سے لداخ کو ریاست کا درجہ دینے کے مطالبے پر ہونے والے مظاہروں میں مارے گئے شہریوں پر رپورٹ کو انسٹاگرام پر بلاک کردیا گیا۔ دی وائر کی مدیرِ اعلیٰ سیما چشتی کی ایکس پوسٹ، جس میں 150 سال پرانی مسجد کی مسماری سے متعلق مضمون شیئر کیا گیا تھا، انڈین پولیس کی درخواست پر ہٹا دی گئی، تاہم بعد میں بحال کر دی گئی۔ **سیاسی کارٹون بھی نشانے پر** حالیہ دنوں میں انسٹاگرام نے حکومت کی درخواست پر معروف کارٹونسٹ ستیش آچاریہ کے اکاؤنٹ تک رسائی محدود کر دی۔ کارٹونسٹ منجول نے بھی بتایا کہ 27 ستمبر کو ان کا ایک سیاسی کارٹون سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر محدود کر دیا گیا۔ دونوں معاملات میں عوامی اداروں پر تنقیدی سیاسی کارٹون شامل تھے۔ آر ایس ایف اور ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مواد ہٹانے کے احکامات میں بے مثال اضافے، تین گھنٹے کی نئی مہلت اور خودکار حذف کے نظام نے انڈیا میں آن لائن صحافت اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق شفافیت، عدالتی نگرانی اور مؤثر اپیل کے نظام کے بغیر ایسے اقدامات عوام کے حقِ معلومات کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔ انڈیا آر ایس ایف سوشل میڈیا آزادی صحافت انڈیا میں فروری 2026 میں نافذ ہونے والے نئے قواعد کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو رپورٹ شدہ مواد ہٹانے کے لیے دی جانے والی مہلت 36 گھنٹوں سے کم کر کے صرف تین گھنٹے کر دی گئی۔  انڈپینڈنٹ اردو اتوار, اکتوبر 11, 2026 - 18:45 Main image: > <p class="rteright">آر ایس ایف اور ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مواد ہٹانے کے احکامات میں اضافے، تین گھنٹے کی مہلت اور خودکار حذف کے نظام نے انڈیا میں آن لائن صحافت کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کیے ہیں (گرافک: آر ایس ایف)</p> سوشل type: news related nodes: ’ایک کچوری، دو سموسہ‘: انڈیا میں خواتین کے نعرے وائرل انڈیا میں ایک خاتون ٹرک حادثے میں بال بال بچ گئیں ’انڈیا میں اصل باس آپ ہیں‘: ایلون مسک کا مکیش امبانی پر طنز انڈیا امریکہ تجارتی مذاکرات تعطل کا شکار کیوں ہوئے؟ SEO Title: انڈیا میں سوشل میڈیا سے صحافتی مواد ہٹانے کے واقعات میں اضافہ: رپورٹ copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 11/10/2026
independenturdu.com
ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد خیبر پختونخوا کون چلائے گا؟
**وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا (کے پی) میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ہنگامی حالت (ایمرجنسی) اور گورنر راج نافذ کرنے کے بعد صوبائی امور کو چلانے کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل (Advisory Council) قائم کی ہے جس میں سابق فوجی افسر، بیوروکریٹ اور سیاسی شخصیات شامل ہیں۔** صوبائی حکومت، وزیر اعلیٰ اور کابینہ کی معطلی کے بعد اب تمام انتظامی اختیارات گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کے پاس ہوں گے، اور یہ کونسل ان کی معاونت کرے گی۔ یہ کونسل گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو صوبائی امور چلانے میں مدد کرے گی۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے کے پی میں فوج تعینات کرنے کا حکم نامہ بھی جاری کیا ہے جو صوبے میں امن و امان اور شہریوں کے تحفظ کے لیے سول انتظامیہ کی معاونت کرے گی۔ اس کونسل میں مختلف شعبوں کے ماہرین (ٹیکنوکریٹس) اور سیاسی شخصیات شامل ہیں، جنہیں اہم محکموں کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ ارکان کی تفصیل درج ذیل ہے: ## news-1791722422-5307.jpg کونسل میں سابق چیئرمین ایف بی آر طارق محمود پاشا کو مالیاتی امور، سابق آئی جی جیل خانہ جات کفایت اللہ خان کو محکمہ داخلہ و قبائلی امور اور فوج کی سابق سرجن جنرل لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نگار جوہر کو محکمہ صحت کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر سید عامر عبداللہ کو تعلیم، ثمر ہارون بلور کو اطلاعات و نشریات، مولانا محمد طیب قریشی کو اوقاف و مذہبی امور اور ڈاکٹر محمد ارشاد کو صنعت و تجارت کا شعبہ سونپا گیا ہے۔ ڈاکٹر سرفراز علی شاہ کان کنی و معدنیات، آصف رفیق آفریدی مواصلات و تعمیرات سمیت بلدیات، ہاؤسنگ اور ٹرانسپورٹ کے امور دیکھیں گے جبکہ سابق سینیٹر عثمان سیف اللہ خان بجلی و توانائی اور عامر جاوید قانون و پارلیمانی امور بھی کونسل کا حصہ ہیں۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) مشاورتی کونسل کے علاوہ ثنا اللہ ایڈووکیٹ کو خیبر پختونخوا کا نیا ایڈووکیٹ جنرل مقرر کیا گیا ہے۔ یہ کونسل صوبے کے انتظامی امور خیبر پختونخوا گورنمنٹ رولز آف بزنس 1985 اور وفاقی حکومت کے احکامات کے مطابق چلائے جائیں گے۔ کونسل کے لیے صوبے میں امن و امان کی خراب صورت حال کے پیش نظر وفاق نے دہشت گردی سے متاثرہ 12 اضلاع (بشمول آٹھ قبائلی اضلاع، بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان) کے انتظامی معاملات براہِ راست وفاق کے تحت چلانے کے لیے گورنر اور چیف سیکرٹری کی نگرانی میں ایک علیحدہ سیکرٹریٹ بھی قائم کیا ہے۔ خیبر پختونخوا (سابق این ڈبلیو ایف پی) میں ماضی میں مختلف ادوار میں صوبائی حکومتیں برطرف ہوئیں اور وفاقی کنٹرول نافذ ہوا، لیکن یہ ہر بار ’گورنر راج‘ کے نام سے نہیں تھا۔ 1973 میں نیشنل عوامی پارٹی (NAP) اور جے یو آئی کی مخلوط حکومت برطرف کر دی گئی تھی۔ اس کے بعد صوبے کا انتظام گورنر کے ذریعے چلایا گیا اور مرکز نے براہ راست کنٹرول سنبھالا۔ 5 جولائی 1977 کو جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے بعد پورے ملک کی طرح این ڈبلیو ایف پی میں بھی منتخب حکومت ختم کر دی گئی اور صوبہ عملاً وفاقی و فوجی انتظام کے تحت آ گیا۔ 12 اکتوبر 1999 میں جنرل پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی صوبائی اسمبلیاں معطل کر دی گئی تھیں اور صوبہ فوجی حکومت کے زیر انتظام رہا۔ یہ بھی ایک طرح کا براہ راست وفاقی کنٹرول تھا، اگرچہ اسے گورنر راج نہیں کہا گیا۔ تاہم، خیبر پختونخوا میں پنجاب (2009) یا سندھ (1992) کی طرح حالیہ دہائیوں میں آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت باضابطہ گورنر راج نافذ کیے جانے کی کوئی نمایاں مثال نہیں ملتی۔ دستیاب تاریخی ریکارڈ زیادہ تر حکومتوں کی برطرفی، مارشل لا یا وفاقی مداخلت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا گورنر راج وزارت اس کونسل میں مختلف شعبوں کے ماہرین (ٹیکنوکریٹس) اور سیاسی شخصیات شامل ہیں، جنہیں اہم محکموں کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔  انڈپینڈنٹ اردو اتوار, اکتوبر 11, 2026 - 17:30 Main image: > <p class="rteright">یہ کونسل صوبے کے انتظامی امور خیبر پختونخوا گورنمنٹ رولز آف بزنس 1985 اور وفاقی حکومت کے احکامات کے مطابق چلائے جائیں گے (انڈپینڈنٹ اردو)</p> سیاست jw id: WcJQBmVO type: video related nodes: گورنر راج مانتے ہیں نہ ایمرجنسی: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پنجاب: کیا گورنر راج لگانا ممکن ہے؟ گورنر راج کی بحث: خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پرتشدد حملوں کا موازنہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر سنجیدگی سے زیر غور: وزیر مملکت SEO Title: ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد خیبر پختونخوا کون چلائے گا؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 11/10/2026
independenturdu.com
افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام، 12 عسکریت پسند اور افغان طالبان مارے گئے: پاکستان
**پاکستان کی فوج نے اتوار کو بتایا کہ اس نے افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے سرحد پار فائرنگ کے تبادلے میں 12 عسکریت پسندوں اور افغان طالبان فورسز کے اہلکاروں کو مار دیا۔** حالیہ مہینوں میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں۔ اسلام آباد کا الزام ہے کہ کابل پاکستان میں حملوں میں اضافے کے ذمہ دار عسکریت پسندوں کو پناہ دے رہا ہے، جس کے جواب میں اسلام آباد نے افغانستان کے اندر فضائی حملے کیے ہیں۔ پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق تازہ جھڑپ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں ہوئی، جہاں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسند افغانستان سے دراندازی کی کوشش کر رہے تھے۔ _انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں_ آئی ایس پی آر کے مطابق اس کوشش میں ’افغان طالبان کی چوکیوں‘ نے پاکستانی فورسز پر فائرنگ کرکے عسکریت پسندوں کی مدد کی۔ کابل نے فوری طور پر اس بیان پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ آئی ایس پی آر نے کہا ’مستعد فوجی اہلکاروں کی مہارت اور درست نشانہ بازی کے نتیجے میں 12 خوارج اور افغان طالبان مار گئے۔‘ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) بیان میں مزید کہا گیا کہ فائرنگ کے تبادلے میں پاکستان کا ایک فوجی بھی جان سے گیا۔ پاکستان کے دو صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں، جن کی سرحد افغانستان سے ملتی ہے، حالیہ عرصے میں عسکریت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ ماہ پاکستان نے افغانستان میں متعدد فضائی حملے کیے، جنہیں اس نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر حملے قرار دیا تھا۔ آئی ایس پی آر نے کہا ’پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر پیش آنے والا یہ واقعہ ایک بار پھر پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کرتا ہے کہ افغان طالبان حکومت دہشت گرد تنظیموں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے میں دانستہ طور پر بری طرح ناکام رہی ہے۔‘ بیان میں مزید کہا گیا ’افغان طالبان حکومت مسلسل اپنی بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی کی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘ افغانستان پاکستان فوج آئی ایس پی آر پاکستان فوج کے مطابق تازہ جھڑپ کرم میں ہوئی، جہاں ٹی ٹی پی کے عسکریت پسند افغانستان سے دراندازی کی کوشش کر رہے تھے۔  انڈپینڈنٹ اردو اتوار, اکتوبر 11, 2026 - 17:00 Main image: > <p>پاکستانی فوج کا ایک سپاہی 27 جنوری، 2019 کو شمالی وزیرستان کے قصبے غلام خان میں ایک سرحدی ٹرمینل کے قریب پہرہ دے رہا ہے (اے ایف پی)</p> پاکستان type: news related nodes: بلوچستان میں رواں ہفتے 70 سے زائد عسکریت پسند مارے گئے: فوج افغانستان میں فضائی حملوں میں 22 عسکریت پسند مارے: پاکستان ہنگو میں 8 عسکریت پسند، دو افسر سمیت چھ اہلکاروں کی موت: فوج تین دن میں پاکستان سے آنے والے 41 عسکریت پسند مارے: افغانستان SEO Title: افغانستان سے دراندازی کی کوشش ناکام، 12 عسکریت پسند اور افغان طالبان مارے گئے: پاکستان copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 11/10/2026
independenturdu.com
کے پی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ ملانے کی کوشش ناکام رہی: محسن نقوی
**وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اتوار کو کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا حکومت کو ساتھ ملانے کی کوشش کی، لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی جواب نہ ملنے کے باعث یہ کوششیں ناکام رہیں اور حکومت کو صوبے میں گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔** وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس صوبے میں گورنر راج نافذ کیے جانے کے کچھ ہی دیر بعد ہوئی۔ صدر مملکت نے وفاقی کابینہ کے فیصلے کی منظوری دی تھی۔ وفاقی حکومت نے یہ اقدام خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں کوششوں کی کمی کو جواز بناتے ہوئے کیا۔ وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا میں برسراقتدار پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مختلف معاملات، بالخصوص دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر اختلافات رہے ہیں۔ یہ اختلافات تین اکتوبر کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کی اہم وجوہات میں شامل تھے۔ انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جائن کریں پریس کانفرنس کے آغاز میں محسن نقوی نے کہا کہ اتوار کا دن حکومت کے لیے آسان نہیں تھا اور وہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے مسلسل خیبر پختونخوا حکومت کو ساتھ ملانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پس پردہ ذاتی طور پر صوبائی حکومت سے رابطے میں تھے اور ان کا واحد مقصد اسے ساتھ ملانا تھا تاکہ دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑا جا سکے۔ > View this post on Instagram > > A post shared by Independent Urdu (@indyurdu) وزیر داخلہ نے بتایا کہ وہ گذشتہ رات 11 بج کر 45 منٹ تک پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطے میں تھے اور دن بھر مجوزہ معاہدے کے مسودے کی شق چار پر ان سے بات چیت کرتے رہے، لیکن انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے انہیں بتایا کہ ہم اب بھی اس صورت حال سے بچ سکتے ہیں۔ معاملات بہت آگے بڑھ چکے ہیں، لیکن ہم اب بھی کچھ کر سکتے ہیں تاکہ کل صبح پیش آنے والی صورت حال کو مؤخر کیا جا سکے۔‘‘ محسن نقوی کا اشارہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کے وفاقی حکومت کے زیر غور فیصلے کی جانب تھا۔ انہوں نے کشیدگی کم کرنے کے لیے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی کوششوں کا بھی ذکر کیا، تاہم ان کے بقول کوئی حل نہیں نکل سکا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کو بار بار بتایا کہ اسے پارٹی کے لانگ مارچ پر کوئی اعتراض نہیں۔ ان کے مطابق حکومت کا مسئلہ مکمل طور پر دہشت گردی سے متعلق تھا اور وہ اس معاملے پر پی ٹی آئی کو اعتماد میں لینا چاہتی تھی۔ **’12 اضلاع میں سکیورٹی صورت حال انتہائی خراب‘** خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورت حال پر بات کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ صوبے کے 12 اضلاع میں حالات ’’واقعی خراب‘‘ ہیں اور بعض اضلاع میں شام کے وقت گھر سے باہر نکلنا بھی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے ساتھ متعدد ملاقاتیں ہوئیں، جن میں صرف دہشت گردی پر بات کی گئی اور کوئی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی۔ محسن نقوی کے مطابق ابتدائی طور پر پانچ اضلاع میں خیبر پختونخوا پولیس کو مضبوط بنانے اور چھ ماہ کے اندر ان اضلاع کی سکیورٹی کی ذمہ داری پولیس کے حوالے کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ اس کے بعد یہی عمل مزید پانچ اضلاع میں دہرانے کا منصوبہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے فنڈز کی کمی کا مسئلہ اٹھایا تھا، لیکن وفاقی حکومت نے ریکارڈ پر کہا تھا کہ جتنے اضافی فنڈز درکار ہوں گے، وہ فراہم کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں بات چیت کو چار ماہ گزر چکے ہیں، لیکن اس پر اب تک کوئی کام نہیں ہوا۔ وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی ٹیم 12 اضلاع میں گورنر راج نافذ کرنے پر متفق ہو گئی تھی، لیکن وہ وفاقی حکومت کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے دکھائی دینے سے خوف زدہ تھی۔ سہیل آفریدی نو اکتوبر 2026 کو پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے نکالی گئی احتجاجی ریلی کے دوران کارکنوں سے خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی) انہوں نے کہا کہ ایک بات واضح تھی کہ وفاقی حکومت اس معاملے میں سیاست کو شامل نہیں کرنا چاہتی تھی۔ محسن نقوی نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے طالبان سے روابط کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید کچھ کہنے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اضلاع میں سکیورٹی صورت حال انتہائی خراب ہے، لیکن اس کے باوجود پی ٹی آئی وہاں جلسے کرنے میں کامیاب رہی اور ان جلسوں میں ایک شخص کو بھی نقصان نہیں پہنچا۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارے پاس صرف دو راستے تھے: یا تو ہم روزانہ لوگوں کی شہادتیں دیکھتے رہتے یا انہیں روکنے کے لیے قدم اٹھاتے۔ اس لیے ہم نے جو مشکل فیصلہ کیا ہے، اس کا ایک پس منظر ہے۔‘‘ محسن نقوی کے مطابق وفاقی حکومت نے گورنر راج کے نفاذ سے بچنے کی پوری کوشش کی۔ **مذاکرات اور لانگ مارچ کا معاملہ** پریس کانفرنس کے دوران محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی نے جو مطالبات پیش کیے، ان پر گذشتہ ماہ ہی غور کیا جا رہا تھا، اس سے پہلے کہ اپوزیشن جماعت نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اپنے بعض رہنما بھی یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ لانگ مارچ کیوں کیا جا رہا ہے۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے گذشتہ ماہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات کی خواہش ظاہر کی تھی اور ایک کمیٹی بنانے کی تجویز بھی دی تھی، لیکن حکومت کو اس بارے میں کوئی تصدیق موصول نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق وزیر اعظم کی روانگی سے قبل ملاقات کرانے کی پوری کوشش کی جا رہی تھی تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے۔ تاہم، تین اکتوبر کے مذاکرات کے لیے کمیٹی بعد میں تشکیل دی گئی۔ محسن نقوی نے بتایا کہ مشاورت دو دن تک جاری رہی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اسد قیصر کو اس بات کا واضح مؤقف اختیار کرنے کا سہرا دیا کہ دہشت گردی کے معاملے پر ایک قدم بھی پیچھے ہٹنا ممکن نہیں۔ وزیر داخلہ کے مطابق اسد قیصر نے کہا تھا، ’ہم یہ آپ کے لیے نہیں کریں گے، ہم یہ پاکستان کے لیے کریں گے اور دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر لڑیں گے۔‘ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) محسن نقوی نے بتایا کہ انہوں نے سابق سپیکر قومی اسمبلی سے خیبر پختونخوا حکومت کو بھی اعتماد میں لینے کی درخواست کی تھی۔ **معاہدے کے مسودے پر اختلافات** وزیر داخلہ نے کہا کہ مذاکرات کے دوران معاہدے کے مسودے میں چار مرتبہ ترمیم کی گئی، لیکن اس کے بعد حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو معلوم ہوا کہ اپوزیشن کی ٹیم نے ایک نیا مسودہ پیش کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے ایک روز قبل وزیر اعلیٰ نے اپنی ٹیم کو ان کی طرف سے معاہدے پر اتفاق کرنے کا اختیار دیا تھا، لیکن اگلے روز صورت حال بدل گئی۔ **آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی نافذ: اعظم نذیر تارڑ** وفاقی وزیر انصاف اعظم نذیر تارڑ نے خیبر پختونخوا میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات اور سکیورٹی خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے گورنر نے ایک خط کے ذریعے صوبے کی تشویش ناک صورت حال سے آگاہ کیا تھا۔ ان کے مطابق گذشتہ اڑھائی سال کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 196 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ان واقعات میں شہادتوں، زخمیوں اور تنصیبات و گاڑیوں کی تباہی کی تفصیلات الگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان، خیبر پختونخوا پولیس، دینی رہنما اور عام شہری دہشت گردوں کا نشانہ بنے ہیں۔ ایسی صورت حال میں آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے فیصلہ کیا گیا۔ وزیر قانون نے کہا کہ بیرونی حملے کے خطرے یا اندرونی مسائل کی صورت میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت اختیار استعمال کیا جا سکتا ہے اور خیبر پختونخوا میں دونوں طرح کے خطرات بڑھ چکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اعلان کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں آئینی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سڈنی نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک 11 رکنی کونسل کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ وہ بہتر انداز میں کام کر سکے، جبکہ مزید 12 اضلاع کے لیے ایک سیکرٹریٹ قائم کیا گیا ہے جو براہ راست وفاق کو جواب دہ ہوگا۔ وزیر قانون کے مطابق آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت صوبائی حکومت کو افواج پاکستان تعینات کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے افواج پاکستان پہلے ہی وہاں تعینات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی کے معاملے کی منظوری قومی اسمبلی اور سینیٹ سے لی جائے گی، جس کے بعد پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بھی بلایا جائے گا۔ **پی ٹی آئی حکومت پر دہشت گردوں سے اتحاد کا الزام** وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت پر دہشت گردوں کے ساتھ اتحاد کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کا دہشت گردوں کے ساتھ مبینہ اتحاد تھا، جس کی وجہ سے انہیں سکیورٹی تک رسائی حاصل تھی۔ عطاء اللہ تارڑ نے سوال اٹھایا کہ طالبان کو تھانوں تک رسائی دینے کی کیا وجہ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی سے متاثرہ لوگ بھی صوبائی حکومت سے تنگ تھے، کیونکہ ان کے بقول پی ٹی آئی نے دہشت گردوں کو شراکت دار بنا لیا تھا۔ وزیر اطلاعات نے الزام لگایا کہ جن لوگوں نے بھتہ دینے سے انکار کیا، انہیں قتل کیا گیا، جبکہ صوبائی حکومت نے اضلاع دہشت گردوں کے حوالے کر دیے تھے۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی حکومت دہشت گردوں کو پولیس فورس میں بھی شامل کرانا چاہتی تھی اور اس حوالے سے ان کے بقول ناقابل تردید ثبوت موجود تھے۔ پاکستان سیاست خیبر پختونخوا گورنر راج ایمرجنسی محسن نقوی عطا تارڑ وفاقی وزرا نے خیبر پختونخوا میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات اور سکیورٹی خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔  انڈپینڈنٹ اردو اتوار, اکتوبر 11, 2026 - 17:30 Main image: > <p>وفاقی وزرا 11 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے (ریڈیو پاکستان)</p> سیاست jw id: d9fwGlR5 type: video related nodes: ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا میں فوج تعینات کرنے کا فیصلہ گورنر راج مانتے ہیں نہ ایمرجنسی: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا گورنر راج کی بحث: خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پرتشدد حملوں کا موازنہ پی ٹی آئی مذاکرات کرے، ریاست کو یرغمال نہ بنائے: رانا ثنا SEO Title: کے پی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ ملانے کی کوشش ناکام رہی: محسن نقوی copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 11/10/2026
independenturdu.com
ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا میں فوج تعینات کرنے کا فیصلہ
**صدر پاکستان نے اتوار کو وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کر دی جبکہ پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔** حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق صدارتی فرمان کا گزیٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت صوبے میں ایمرجنسی فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔ صدارتی فرمان کے مطابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 232(1) اور 234(1) کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کی ہے۔ فرمان میں کہا گیا کہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات اور پرتشدد کارروائیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث عوام کی جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ ’دہشت گردوں کی جانب سے بنیادی ڈھانچے، سرکاری تنصیبات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی بڑھے ہیں۔‘ صدارتی فرمان کے مطابق صوبائی حکومت دہشت گردی اور لاقانونیت کے خطرات سے مؤثر طور پر نمٹنے میں ناکام رہی جبکہ گورنر خیبر پختونخوا کی رپورٹ میں صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ فرمان میں صوبے کی موجودہ صورتحال کو صوبائی حکومت کے کنٹرول سے باہر قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ صورتحال نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پاکستان کی مجموعی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے۔ صدارتی فرمان کے تحت وفاقی حکومت گورنر خیبر پختونخوا کو صوبائی حکومت کے تمام یا بعض اختیارات سنبھالنے کی ہدایت دے سکے گی۔ اسی طرح ’گورنر وفاقی حکومت کی جانب سے تفویض کردہ اختیارات اور فرائض انجام دیں گے۔‘ فرمان میں کہا گیا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے اختیارات پارلیمان یا اس کے مقرر کردہ ادارے کے ذریعے استعمال کیے جائیں گے۔ صدارتی فرمان کے تحت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبائی وزرا، مشیران، معاونینِ خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل فوری طور پر اپنے عہدے چھوڑ دیں گے۔ فرمان کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ فوری طور پر مؤثر ہو گیا ہے۔ * * * **خیبر پختونخوا میں فوج کی تعیناتی** وفاقی حکومت نے صوبے میں سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے فوج کی تعیناتی کا باضابطہ حکم نامہ جاری کر دیا۔ یہ تعیناتی آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت ہوئی ہے۔ وزارت داخلہ کے حکم نامے کے مطابق خیبر پختونخوا میں امن و امان اور شہریوں کے تحفظ کے لیے فوج سول انتظامیہ کی معاونت کرے گی۔ حکم نامے میں بتایا گیا کہ گورنر خیبر پختونخوا، جی ایچ کیو کے ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ سے مشاورت کے بعد فوجی دستوں اور وسائل کی تعداد کا تعین کریں گے۔ * * * **’پہلی ترجیح امن اور عوام کا تحفظ‘** گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت مشاورتی کونسل کا پہلا اجلاس گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا۔ گورنر ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان، انسپکٹر جنرل آف پولیس ذوالفقار حمید، مشاورتی کونسل کے اراکین لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر، طارق محمود پاشا، عثمان سیف اللہ خان، عامر جاوید، ڈاکٹر محمد ارشاد، کفایت اللہ خان، ڈاکٹر سید عامر عبداللہ، مولانا طیب قریشی، ڈاکٹر سرفراز علی شاہ اور آصف رفیق نے شرکت کی۔ اجلاس کو آئی جی پولیس ذوالفقار حمید نے صوبے میں امن وامان کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے مشاورتی کونسل کے اراکین کا خیر مقدم کیا اور انہیں نئی ذمہ داریوں پر مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا، بہت زیادہ چیلنجز درپیش ہیں تاہم تمام امور کو ذمہ داری کے ساتھ بر وقت سرانجام دیں گے۔ اس موقعے پر گورنر نے عوام کے نام پر پیغام میں کہا کہ صوبے کو امن، تحفظ، استحکام اور ترقی کی طرف واپس لے کر جائیں گے۔ ’میری پہلی ترجیح امن اور عوام کا تحفظ ہو گا۔‘ * * * **پشاور میں سخت سکیورٹی** خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد پشاور میں سخت سکیورٹی دیکھی جا رہی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے جبکہ اہم شاہراہوں اور راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند رکھا گیا ہے۔ کنٹینرز کی وجہ سے لوگوں کو آمد و رفت میں مسائل کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس اہلکار اہم سرکاری عمارتوں اور حساس مقامات پر موجود ہیں۔ آج ایمرجنسی کے بعد صوبے کی حکمران جماعت پی ٹی آئی نے اپنی حامیوں کو سوشل میڈیا پر پیغامات میں احتجاج کی کال دی تھی۔ تاہم پشاور میں پولیس کی بھاری نفری اور راستوں پر رکاوٹوں کے باعث کوئی احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا۔ پشاور سمیت متعدد شہروں میں موبائل فون سگنلز اور انٹرنیٹ کی بندش کی اطلاعات ہیں۔ * * * **سہیل آفریدی ’گرفتار‘** ادھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جنید اکبر نے ایکس پر بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ اور وفاقی حکومت کی جانب سے وسیع اختیارات سنبھالنے کے اعلان کے بعد صوبے میں پارٹی کے صدر کے ہمراہ گرفتار کر لیا گیا۔ تاہم پولیس نے ان کی گرفتاری کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ > وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمدسہیل آفریدی اور صوبائی صدر پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا جنید اکبر خان کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں فاشزم کس حد تک سرایت کر چکا ہے۔ جمہوری اقدار، آئین و قانون اور عوامی مینڈیٹ کو مسلسل پاؤں تلے روندا جا رہا ہے۔ سیاسی اختلاف کا جواب دلیل اور جمہوری عمل کے بجائے گرفتاریوں اور ریاستی جبر سے دیا جا رہا ہے۔ آخر کتنی نفرتیں بوئیں گے؟ کتنی آوازیں دبائیں گے؟ کتنے لوگوں کو گرفتار کرکے عوام کے حوصلے توڑنے کی کوشش کریں گے؟ یہ یاد رکھیں! گرفتاریوں، دھمکیوں اور جبر کے ہتھکنڈوں نے نہ پہلے ہمیں جھکایا تھا، نہ آج جھکا سکیں گے۔ سیاسی جدوجہد کسی رہنما کی گرفتاری سے ختم نہیں ہوتی، > > — Junaid Akbar (@JunaidAkbarMNA) October 11, 2026 * * * **ایمرجنسی کی وفاقی کابینہ سے منظوری** اس سے قبل آج صبح وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق وفاقی کابینہ نے وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز دی، جس کے بعد صدر زرداری نے صوبے کی سلامتی کی صورتحال پر وزیراعظم کی ایڈوائس پر دستخط کر دیے۔ ایوان صدر سے جاری بیان میں کہا گیا ’آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت صدرِ مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس منظور کرتے ہوئے دستخط کیے۔‘ بیان میں مزید کہا گیا ’وفاقی کابینہ کے فیصلے، وزیراعظم کی ایڈوائس، متعلقہ اداروں کی امن و امان کی صورتحال سے متعلق رپورٹس اور حکومتی وفود کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد صدرِ مملکت نے سمری پر دستخط کیے۔‘ دوسری جانب چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’غیر جمہوری‘ اقدام قرار دیا ہے۔ > صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں کی سلامتی کی صورتحال پر وزیراعظم کی ایڈوائس پر دستخط کر دیے ہیں۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت صدرِ مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس منظور کرتے ہوئے دستخط کیے۔ وفاقی کابینہ کے فیصلے، وزیراعظم کی ایڈوائس، متعلقہ اداروں کی امن و امان کی صورتحال سے متعلق رپورٹس اور حکومتی وفود کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد صدرِ مملکت نے سمری پر دستخط کیے۔ > > — The President of Pakistan (@PresOfPakistan) October 11, 2026 بیرسٹر گوہر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایمرجنسی کے نفاذ کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ یہ انتہائی تشویشناک اور سنگین سیاسی غلطی ہے۔ اس سے قبل وفاقی کابینہ نے وزیر اعظم کو تجویز دی تھی کہ ’وہ صدر مملکت کو مشورہ دیں کہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر صدر مملکت آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی نافذ کریں۔‘ وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق اس ضمن میں ایڈوائس ایوان صدر بھجوائی۔ اس سے قبل اسلام آباد میں اتوار کو وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس سے خطاب میں شبہاز شریف نے کا کہنا تھا کہ ’ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔‘ شہباز شریف نے کہا کہ ’دہشت گردی کا مقابلہ کرنا وفاق کے ساتھ مل کر اس صوبے (خیبر پختونخوا) کی پولیس، انتظامیہ کا فرض ہے۔‘ > وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. وفاقی کابینہ کو خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور دھشتگردی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بریفنگ دی گئی. کابینہ نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دھشتگردی کے خلاف جنگ سے صوبائی حکومت کی دانستہ لاتعلقی کے پیش نظر حالات کا تفصیلی جائزہ لیا. کابینہ نے وزیرِ اعظم کو تجویز دی کہ وہ صدر مملکت کو مشورہ دیں کہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر صدر مملکت آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ کریں. اس ضمن میں وزیرِ اعظم ہاؤس سے ایڈوائس ایوان صدر بھجوا دی گئی ہے. > > — Prime Minister's Office (@PakPMO) October 11, 2026 انہوں نے کہا کہ ’بجائے اس کے وہ دہشت گردی کے خلاف آہنی دیوار بن کر کھڑی ہو وہ نہ صرف خاموش ہے بلکہ صورت حال ہر روز مزید خراب ہوتی جا رہی ہے، اور اسلام آباد پر چڑھائی کا منصوبہ بنایا ہے۔‘ وزیر اعظم نے کہا کہ ’کیا آپ بار بار یہ کھیل کھیلنا چاہتے ہیں اور پاکستان کو لاچار کرنا چاہتے ہیں؟ یہ نہیں ہوگا قانون اپنا راستہ اپنائے گا اور ہر صورت اپنائے گا۔‘ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) انہوں نے وفاقی کابینہ کے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ ان حالات میں پانی اب سر سے گزر رہا ہے۔ جو میں نے تصویر کشی کی ہے میں سمجھتا ہوں کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔ یہ فیصلہ آپ کا ہے تاریخ ہمیں انہی فیصلوں سے یاد رکھے گی۔‘ دوسری جانب اب سے کچھ دیر قبل وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ ’ہماری ڈیمانڈز ماننے کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں۔‘ سہیل آفریدی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’ایمرجنسی یا گورنر راج کا اعلان کیے بغیر ایسی حرکتیں کرنا بغاوت میں آتا ہے۔ جگر گردہ پیدا کریں اور اعلان کریں۔ ہم اپنی آئینی و قانونی ڈیمانڈز سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ’آئین قانون کے مطابق ہمارا لانگ مارچ ڈیمانڈز کے پورا ہونے تک جاری رہے گا۔ یہاں پر پالیسی صرف عمران خان کی چلے گی۔‘ پاکستان سیاست خیبر پختونخوا پاکستان تحریک انصاف گورنر خیبر پختونخوا کی سربراہی میں مشاورتی کونسل کا پہلا اجلاس، فیصل کریم کنڈی کے مطابق ان کی پہلی ترجیح امن اور عوام کا تحفظ ہو گا۔  انڈپینڈنٹ اردو اتوار, اکتوبر 11, 2026 - 22:30 Main image: > <p>سات فروری، 2024 کو پشاور کی ایک سڑک پر فوجی قافلہ گزر رہا ہے (اے ایف پی)</p> سیاست jw id: MEFSbSRm type: video related nodes: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی سنگین غلطی: بیرسٹر گوہر ایمرجنسی نہ لگنے کی اب کوئی گنجائش نہیں بچی: محسن نقوی گورنر راج مانتے ہیں نہ ایمرجنسی: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا SEO Title: ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا میں فوج تعینات کرنے کا فیصلہ copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 11/10/2026
independenturdu.com
کراچی کی تنگ گلیوں سے فلمی پردے تک: تین ریپرز کی کہانی
**کراچی کے علاقے گِزری کی گلیوں میں دن کے وقت تین نوجوان اپنے روزگار میں مصروف رہتے ہیں، لیکن رات ہوتے ہی یہی نوجوان مائیک تھام کر اپنے علاقے، زندگی، مشکلات اور خوابوں کو ریپ کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔** ایم سی آفو، ایم سی شو بی اور ایم سی ببلے کی زندگی پر بننے والی دستاویزی فلم ’ڈبلیو آر اے پی‘ (وی رئیلی آر پاکستان) اسی سفر کی کہانی ہے، جس کی ہدایت کاری صبا کریم خان نے کی ہے۔ فلم میں کراچی کے ریپ میوزک منظرنامے کے ساتھ ان تینوں نوجوانوں کی ذاتی زندگی، روزگار، گِزری سے تعلق اور موسیقی کے ذریعے آگے بڑھنے کی جدوجہد دکھائی گئی ہے۔ **’گلی بوائے‘ سے گِزری تک** فلم کی ہدایت کار صبا کریم خان کے مطابق انہیں پاکستان کے ریپ منظرنامے پر ڈاکیومنٹری بنانے کا خیال انڈین فلم ’گلی بوائے‘ دیکھنے کے بعد آیا۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے بہت عرصہ پہلے گلی بوائے فلم دیکھی اور اس سے بہت متاثر ہوئی۔ میں نے سوچا کہ پاکستان میں بھی یقیناً اردو ریپ کا کوئی سین ہوگا، جہاں لوگ اپنی زبان میں موسیقی بنا رہے ہوں گے۔‘ ریپرز پر بننے والی دستاویزی فلم ’ڈبلیو آر اے پی ان کے سفر کی کہانی ہے (ممتاز جمالی/انڈپینڈنٹ اردو) انہوں نے بتایا کہ ’میرے ایک دوست کا بزنگ بیز نامی کیفے تھا۔ میں وہاں بیٹھی ہوئی تھی اور میں نے اسے بتایا کہ میں ریپ پر ایک کہانی بنانا چاہتی ہوں۔ میں نے کہا کہ اگر تمہیں کبھی ایسے لوگوں کے بارے میں پتا چلے تو مجھے بتانا۔ اس نے کچن کا دروازہ کھٹکھٹایا اور وہاں سے تین نام سامنے آئے، ایم سی آفو، ایم سی ببلے اور ایم سی شو بی۔ انہوں نے وہیں میرے سامنے پرفارم کیا اور آج وہ فلم بن چکی ہے۔‘ **دن میں کام، رات کو ریپ** فلم میں شامل تینوں نوجوانوں کے لیے ریپ صرف موسیقی نہیں بلکہ ان کی زندگی اور شناخت بیان کرنے کا ذریعہ ہے۔ ایم سی شو بی کے مطابق انہیں بچپن سے ریپ اور موسیقی کا شوق تھا۔ انہوں نے اپنی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں بچپن میں بوہیمیا کے پنجابی گانے، عمران خان، 50 سینٹ اور ایمینیم کو سنتا تھا۔ مغربی اور دیسی دونوں طرح کی موسیقی سنتا تھا۔ اب ہمیں عملی طور پر ریپ کرتے ہوئے تقریباً چھ سال ہو گئے ہیں۔‘ **حقیقی زندگی** ایم سی شو بی کے مطابق ڈاکیومنٹری میں کوئی فرضی کہانی شامل نہیں کی گئی بلکہ ان کی حقیقی زندگی کو فلمایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اس فلم میں کچھ تاریک حقیقت ہے، لیکن اس کے علاوہ یہ ہماری حقیقی زندگی ہے۔ یہ ہماری ڈاکیومنٹری ہے۔ ہماری روزمرہ کی زندگی، ہمارا کام اور ہماری جدوجہد، سب کچھ اس میں ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’یہ فلم ایک ریسٹورنٹ سے شروع ہوتی ہے جہاں میں اور میرے ساتھی کام کرتے تھے۔ وہیں سے ہماری کہانی شروع ہوئی۔‘ فلم میں شامل تینوں نوجوانوں کے لیے ریپ صرف موسیقی نہیں بلکہ شناخت کا ذریعہ ہے (ممتاز جمالی/انڈپینڈنٹ اردو) **بیٹی کو مجھ پر فخر ہو** ایم سی آفو کی کہانی میں ان کی بیٹی کا ذکر بھی اہم ہے۔ ان کے لیے ریپ صرف موسیقی نہیں بلکہ اپنی بیٹی کے لیے کچھ ایسا کرنے کی خواہش بھی ہے جس پر وہ مستقبل میں فخر کر سکے۔ ایم سی آفو کا کہنا تھا کہ ’میں نہیں چاہتا کہ کل کو میری بیٹی یہ کہے کہ میرے ابو نے زندگی میں کچھ نہیں کیا، بس گلیوں میں گھومتے رہے اور چھوٹی موٹی نوکریاں کرتے رہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اسے کچھ تو فخر ہو کہ زیادہ کچھ نہیں تو اس کے باپ نے زندگی میں کوئی بڑا کام کیا ہے۔‘ تیسرے ریپر ایم سی ببلے کے لیے گندھارا فلم فیسٹیول میں اپنی زندگی پر بننے والی فلم دیکھنا ایک خاص تجربہ تھا۔ انہوں نے کہا: ’آج ہماری ڈاکیومنٹری کی اسکریننگ تھی، بہت مزہ آیا اور بہت اچھی گئی۔ ہمیں کافی موٹیویشن ملی ہے۔ ہمارے ساتھ ہمارا پورا ہُڈ بھی تھا اور کافی لوگ آئے تھے، سب کو فلم بہت پسند آئی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ صرف ڈاکیومنٹری نہیں ہے۔ جب آپ اسے دیکھیں گے تو سمجھیں گے کہ یہ ہمارے ہُڈ، ہماری محنت اور ہماری جدوجہد پر بنی ہے۔ ہم کس طرح مشکلات کا سامنا کرکے آگے بڑھتے ہیں، یہ سب کچھ اس میں ہے۔‘ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) **فلم دیکھنے والے نوجوان بھی متاثر** گندھارا فلم فیسٹیول میں ڈاکیومنٹری دیکھنے والے نوجوان زیاد ابراھیم نے اسے کراچی کے ریپ منظرنامے کو سمجھنے کا موقع قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ ’یہ بہت اچھا کانسیپٹ ہے۔ ڈاکیومنٹری سے کافی کچھ سیکھنے کو مل سکتا ہے اور بہت سے لوگ اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ نئے لوگوں کو موقع دینا اور ان کے اوپر فلم بنانا بہت محنت کا کام ہے۔‘ ایک دوسری نوجوان عنایہ، جو خود ریپ موسیقی میں دلچسپی رکھتی ہیں، نے کہا کہ انہیں کراچی کے ریپ سین کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ ’ڈبلیو آر اے پی‘ کی سکریننگ گندھارا انڈیپنڈنٹ فلم فیسٹیول کے 2026 ایڈیشن میں کراچی کی نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) میں تین اکتوبر کو ہوئی۔ دستاویزی فلم فلم ریپر گلوکاری کراچی دن میں ملازمت اور رات کو ریپ کرنے والے ریپرز کی زندگی پر بننے والی ڈاکیومنٹری فلم نے کراچی کے آزاد ریپ منظرنامے کو پردہ سکرین پر پہنچا دیا۔ ممتاز جمالی اتوار, اکتوبر 11, 2026 - 08:30 Main image: > <p class="rteright">دن میں کام کرنے والے گزری کے نوجوان خوابوں اور مشکلات کو ریپ کے ذریعے بیان کرتے ہیں (ممتاز جمالی/انڈپینڈنٹ اردو)</p> فلم jw id: rzenPvgw type: video related nodes: عالمی فلم فیسٹیول، کیا کشمیر میں بدلاؤ آئے گا؟ لیاری کے ریپرز: اگر موسیقی نہ ہوتی تو آج کسی جرم میں ملوث ہوتا پاکستان میں قدیم گندھارا تہذیب کو اجاگر کرتی نئی دستاویزی فلم ’اما بعد‘ انڈپینڈنٹ عریبیہ کی مختصر دستاویزی فلموں کا سلسلہ SEO Title: کراچی کی تنگ گلیوں سے فلمی پردے تک: تین ریپرز کی کہانی copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 11/10/2026
independenturdu.com
آپریشن یمن کا مشہور کتاب ’جنگ کا فن‘ کی روشنی میں تجزیہ
**کیا کوئی ایسی کتاب، جو تقریباً اڑھائی ہزار سال پہلے لکھی گئی ہو، آج کے دور کے کسی فوجی آپریشن کو سمجھنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے؟** مثال کے طور پر آپریشن ’ڈان آف یمن‘، جس کا ہدف یمن میں سرگرم ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروہ کا خاتمہ ہے، جو خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی ایک مسلح ملیشیا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ پہلی نظر میں اس سوال کا جواب حیران کن، بلکہ شاید نفی میں محسوس ہو، کیونکہ معروف چینی فوجی مفکر سن زو کے زمانے کی جنگوں اور آج کی جنگوں کے درمیان بہت بڑا فرق موجود ہے۔ سن زو کے عہد میں تلواریں، نیزے، تیر اور رتھ میدانِ جنگ کے بنیادی ہتھیار تھے جبکہ آج لڑاکا طیارے، سیٹلائٹس، جدید انٹیلی جنس نظام اور انتہائی ترقی یافتہ اسلحہ جنگ کا حصہ ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ سن زو کے افکار ہر دور اور ہر خطے میں اپنی اہمیت برقرار رکھتے ہیں کیونکہ جنگ کی بنیادی فطرت وقت اور حالات کے بدلنے کے باوجود تبدیل نہیں ہوتی۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں: ہتھیاروں کی شکلیں اور نوعیت بدل جاتی ہیں، لیکن جغرافیہ اپنی اہمیت برقرار رکھتا ہے۔ سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کی ایک بکتر بند گاڑی 3 اکتوبر 2026 کو تعز شہر کے مغرب میں جبل حان محاذ کے قریب ایک درخت کے نیچے موجود ہے (اے ایف پی) مواصلات کے ذرائع اور رفتار ایک دور سے دوسرے دور میں مختلف ہو سکتے ہیں لیکن معلومات ہمیشہ ہر جنگ میں فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہیں۔ جدید جنگوں میں جدید ترین بم استعمال ہوتے ہیں مگر اصل سوال یہ ہے کہ وہ کہاں اور کس ہدف پر گرائے جا رہے ہیں۔ فوجیں آج چند گھنٹوں میں ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ طے کر سکتی ہیں لیکن رسد، سپلائی، تعیناتی اور زمینی کنٹرول کے مسائل آج بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے تاریخ کے کسی اور دور میں تھے۔ اسی لیے آپریشن ’ڈان آف یمن‘ کا مطالعہ سن زو کی مشہور کتاب ’دی آرٹ آف وار‘ (جنگ کا فن) کی روشنی میں اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ تاہم اس سے پہلے چند بنیادی سوالات کا جواب ضروری ہے: سن زو کون تھے؟ ان کی کتاب کی اہمیت کیا ہے؟ اور اس میں بیان کردہ اصولوں کا اطلاق یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کی جانب سے 5 اکتوبر کو اعلان کیے گئے آپریشن ’ڈان آف یمن‘ پر کس طرح کیا جا سکتا ہے، جس کا مقصد ریاستی اداروں کی بحالی، صنعا کی آزادی اور حوثیوں کے قبضے کا خاتمہ ہے؟ ## art-of-war-9781667209609_lg.jpg **سن زو اور ان کی کتاب** ’جنگ کا فن‘ صرف ایک کتاب کا نام نہیں بلکہ ایک فکری ورثہ ہے جو گذشتہ 2300 برس سے اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ سن زو نے اپنے تجربات، مشاہدات اور عسکری دانش کو مختصر مگر جامع اقوال کی صورت میں اس کتاب میں سمو دیا، یہاں تک کہ مغرب میں بعض ماہرین اسے عسکری علوم کی بنیادی کتاب قرار دیتے ہیں۔ یہ کتاب 13 ابواب پر مشتمل ہے اور ہر باب جنگ کے ایک الگ پہلو کا احاطہ کرتا ہے۔ طویل عرصے تک اسے عسکری حکمتِ عملی اور منصوبہ بندی کے حوالے سے ایک بنیادی ماخذ سمجھا جاتا رہا، کیونکہ اس نے فوجی سوچ اور جنگی منصوبہ سازی پر گہرا اثر ڈالا۔ تقریباً دو سو سال قبل اس کا یورپی زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے نپولین، جرمن جنرل سٹاف اور بعد ازاں 1990 کی خلیجی جنگ (آپریشن ڈیزرٹ سٹاورم) کی منصوبہ بندی پر بھی اثر ڈالا۔ یہ ہی نہیں، ماو زے تنگ سمیت کئی عالمی رہنما بھی اس کے افکار سے متاثر رہے۔ > **پہلی جنگِ عظیم کے بعد کئی عسکری ماہرین نے رائے دی کہ اگر اس کتاب کے اصولوں کو پیشِ نظر رکھا جاتا تو جنگ کے دوران ہونے والی بہت سی تباہ کاریوں اور قتلِ عام سے بچا جا سکتا تھا۔** چینی تاریخی روایات کے مطابق سن زو ریاست چی (Qi) کا رہائشی اور ایک فوجی تھا۔ جنگی حکمتِ عملی میں اس کی مہارت اور شہرت کے باعث حکمران نے اسے اپنے تجربات اور نظریات کو ایک کتابی شکل میں مرتب کرنے کی ہدایت دی، جس کے نتیجے میں ’جنگ کا فن‘ وجود میں آئی۔ یہ کتاب بعد میں چین سے جاپان پہنچی، جہاں سامورائی جنگجوؤں نے اسے اپنایا۔ پھر 1772 میں ایک فرانسیسی پادری نے اس کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ کیا، جس کے بعد یہ مختلف عالمی زبانوں میں منتقل ہوتی چلی گئی۔ **’ڈان آف یمن‘: سن زو کے آئینے میں** ابتدائی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپریشن ’ڈان آف یمن‘ صرف حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر فضائی حملوں کا نام نہیں بلکہ یہ پورے یمن میں قانونی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ریاستی اختیار کی بحالی کے ایک نئے مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کا مقصد ان علاقوں کو واپس حاصل کرنا ہے جو مسلح گروہوں کے قبضے میں ہیں جبکہ سعودی فضائیہ اس کارروائی میں فضائی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ اس نوعیت کا وسیع فوجی آپریشن کسی ایک لمحے کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے طویل تیاری، زمینی کارروائیاں، انٹیلی جنس سرگرمیاں اور عسکری منصوبہ بندی شامل ہوتی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ گذشتہ جولائی سے شروع ہونے والی تیاریوں نے ستمبر تک باقاعدہ عسکری شکل اختیار کرنا شروع کر دی تھی، خصوصاً تعز، مغربی ساحل اور باب المندب کے علاقوں میں۔ یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے ایک پیغام میں کہا: ’اللہ کی مدد، عوام کے عزم، مسلح افواج کی بہادری اور ہمارے بھائیوں اور دوستوں کی حمایت سے یمن آزادی، امن اور استحکام کی ایک نئی صبح کی جانب گامزن ہوگا۔‘ آپریشن کے ابتدائی گھنٹوں میں ہی اس کی کامیابی کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے۔ متعدد اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور مختلف محاذوں پر پیش رفت سامنے آئی، جس سے مسلح افواج اور ان کی معاون فورسز کے درمیان ہم آہنگی اور منصوبہ بندی کی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔ یمن کے حوثی باغیوں کا ایک رکن 14 ستمبر 2020 کو دارالحکومت صنعا میں ایک ریلی کے دوران چوکس کھڑا ہے (اے ایف پی) اسی دوران العلیمی نے حوثیوں کی صفوں میں شامل افراد سے ہتھیار ڈالنے، لڑائی ترک کرنے اور اپنے گھروں کو واپس لوٹنے کی اپیل بھی کی۔ یہ آپریشن درحقیقت باب المندب کی آبنائے کے گرد ایک اہم جدوجہد بھی ہے، کیونکہ یہ آبی گزرگاہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس تنازع کو صرف یمن کے اندرونی معاملے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ یہ علاقائی اور بین الاقوامی جغرافیائی سیاست سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ اسی تناظر میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سن زو کی کتاب ’جنگ کا فن‘ میں بیان کردہ اصولوں کی روشنی میں آپریشن ’ڈان آف یمن‘ کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے؟ یہ ہی وہ نکتہ ہے جہاں سے اس مطالعے کا اصل آغاز ہوتا ہے۔ ضرور۔ اگلا حصہ بھی اسی معیار پر، معنی میں کوئی تبدیلی کیے بغیر، صرف زبان، روانی، وضاحت، جملہ بندی اور اردو اسلوب بہتر کرتے ہوئے یوں ہونا چاہیے: **جنگ شروع ہونے سے پہلے** ’جنگ کا فن‘ میں سن زو کی سب سے اہم تعلیمات میں سے ایک یہ ہے کہ کسی بھی جنگ میں اترنے سے پہلے دشمن اور خود اپنی قوت کا درست ادراک ہونا چاہیے۔ سن زو لکھتا ہے: ’اپنے دشمن کو جانو اور اپنے آپ کو بھی جانو، پھر تم سو جنگیں لڑو تو بھی شکست کا خطرہ نہیں ہوگا۔ اگر تم خود کو جانتے ہو مگر دشمن کو نہیں جانتے تو فتح اور شکست کے امکانات برابر رہیں گے۔ لیکن اگر تم نہ اپنے آپ کو جانتے ہو اور نہ ہی دشمن کو، تو ہر جنگ میں شکست تمہارا مقدر ہوگی۔‘ اس اصول کی روشنی میں اگر آپریشن ’ڈان آف یمن‘ کا جائزہ لیا جائے تو کئی اہم نکات سامنے آتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جنگ کے آغاز سے پہلے کی گئی عسکری تیاریوں نے زمینی اور فضائی کارروائیوں میں حصہ لینے والی افواج کو حوثیوں کی صلاحیتوں، ان کے مورچوں اور ان کی عسکری طاقت کے بارے میں کافی معلومات فراہم کیں۔ ان معلومات کے حصول میں انٹیلی جنس ذرائع، نگرانی کے جدید نظام، جاسوسی آلات اور الیکٹرانک جنگی صلاحیتوں نے اہم کردار ادا کیا، جن میں سعودی افواج نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ ان تفصیلات میں سے کئی امور بظاہر واضح دکھائی دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر حوثیوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کے مقامات پہلے ہی شناخت کیے جا چکے تھے، جس کے باعث وہ جدید اور مہلک ہتھیاروں سے لیس سعودی جنگی طیاروں کے اولین اہداف بنے۔ نتیجتاً ان مراکز کو بھاری نقصان پہنچا۔ اسی طرح ’ڈان آف یمن‘ میں شریک افواج کو حوثیوں کے میزائل اور ڈرون ذخائر کے بارے میں بھی کافی درست معلومات حاصل تھیں، جو گذشتہ برسوں کے دوران خطے کے متعدد ممالک کے لیے تشویش کا باعث بنتے رہے تھے۔ پانچ جنوری، 2024 کی اس تصویر میں یمن کے شہر صنعا میں غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف لسطین کی حمایت میں نکالی جانے والی ایک ریلی(اے ایف پی) گذشتہ جولائی سے جاری منصوبہ بندی کے دوران عسکری قیادت کے پاس حوثیوں کی سپلائی لائنوں، رسد کے مراکز، ممکنہ پسپائی کے راستوں اور ان راستوں کو منقطع کرنے کے طریقوں کے بارے میں وسیع معلومات موجود تھیں۔ اس نے کارروائیوں کو زیادہ مؤثر بنانے اور غیر ضروری رکاوٹوں سے بچنے میں مدد دی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ’ڈان آف یمن‘ کا فیصلہ دشمن، اس کی عسکری صلاحیتوں اور اس کے معاون عناصر کے بارے میں وسیع معلومات کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ سن زو کے الفاظ میں، جب دشمن کو اچھی طرح جان لیا جائے تو سو جنگوں کے نتائج سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں رہتی۔ **جنگی منصوبہ بندی** سن زو کے نزدیک جنگ کا آغاز گولی چلنے کے لمحے سے نہیں ہوتا بلکہ علم اور تیاری کے مرحلے سے ہوتا ہے۔ کسی بھی خطے میں مؤثر فوجی فیصلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حریف کی فطرت، اس کی کمزوریاں اور طاقتیں، اس کا جغرافیائی ماحول، اس کی رسد کے راستے، نقل و حرکت کی صلاحیت اور سب سے اہم یہ کہ وہ کیا توقع رکھتا ہے اور کیا توقع نہیں رکھتا، ان سب کا درست ادراک کیا جائے۔ سن زو اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مسلح تصادم میں کامیاب قیادت دو بنیادی ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے: عقل اور فضیلت۔ اگر انہیں درست انداز میں بروئے کار لایا جائے تو یہی عناصر کامیابی کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔ ’ڈان آف یمن‘ کے تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ شاید سعودی عرب سے زیادہ کوئی ملک یمن، یمنی معاشرے اور حوثیوں کے بارے میں اتنا جامع علم نہیں رکھتا۔ سعودی عرب نے مختلف مواقع پر حوثیوں کے رویے میں اصلاح اور انہیں تباہی کے راستے سے ہٹانے کی کوششیں کیں، لیکن ہر بار ان کوششوں کو مسترد کیا گیا۔ اس تناظر میں ’ڈان آف یمن‘ کو انتقام یا یمن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کے طور پر پیش نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے ایک ایسی کارروائی قرار دیا جاتا ہے جس میں ہتھیار ڈالنے والوں، لڑائی ترک کرنے والوں اور ملیشیا کے نظریاتی راستے سے الگ ہونے والوں کے لیے دروازے کھلے رکھے گئے ہیں۔ اس آپریشن میں دشمن کو جاننے کا مطلب صرف اس کے ہتھیاروں اور وسائل کو سمجھنا نہیں، بلکہ یہ جاننا بھی ہے کہ وہ کس طرح سوچتا ہے، کیسے ردعمل دے سکتا ہے اور ابتدائی حملوں کے بعد اپنی حکمت عملی کس طرح تبدیل کر سکتا ہے۔ درست معلومات کی بنیاد پر شروع ہونے والی جنگ درحقیقت میدانِ جنگ میں آگ بھڑکنے سے پہلے ہی ایک طویل فاصلہ طے کر چکی ہوتی ہے۔ یمن کے حوثی باغیوں کا ایک رکن 14 ستمبر 2020 کو دارالحکومت صنعا میں ایک ریلی کے دوران چوکس کھڑا ہے (اے ایف پی) تاہم سن زو کے مطابق جنگ کی ایک بنیادی خصوصیت مسلسل تبدیلی ہے۔ اس لیے جنگ سے پہلے حاصل کی گئی معلومات کو دورانِ جنگ مسلسل نئے علم اور تازہ معلومات سے تقویت دینا ضروری ہوتا ہے۔ **تصادم میں جغرافیے کی طاقت** سن زو کا خیال تھا کہ ایک ماہر سپہ سالار کبھی دشمن کی پسند کے مقام پر جنگ نہیں لڑتا بلکہ کوشش کرتا ہے کہ مخالف کو ایسے جغرافیائی، نفسیاتی اور لاجسٹک حالات میں لڑنے پر مجبور کرے جو اس کے اپنے مفادات کے مطابق ہوں۔ اسی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یمن کا جغرافیہ دو مختلف پہلو رکھتا ہے۔ ایک طرف یہ حوثیوں کو کچھ عارضی دفاعی فوائد فراہم کر سکتا ہے، لیکن دوسری طرف یہی جغرافیہ قانونی ریاستی قوتوں اور ان کے اتحادیوں کے لیے باغی گروہوں کے خلاف کارروائی کے مواقع بھی پیدا کرتا ہے۔ یمن کے پہاڑی علاقے مدافع قوتوں کو چھپنے، مورچے مضبوط کرنے اور نقل و حرکت میں مدد دیتے ہیں، مگر سن زو پہاڑوں کو مطلق برتری نہیں سمجھتا۔ اس کے نزدیک وہی جغرافیہ جو کسی قوت کو تحفظ دیتا ہے، اگر اس کی سپلائی لائنیں منقطع ہو جائیں یا اس کے مختلف حصے ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں تو اس کے لیے بوجھ بھی بن سکتا ہے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) یہ بات بھی واضح ہے کہ یمن کوئی محدود جنگی میدان نہیں، بلکہ ایک وسیع خطہ ہے جس میں مختلف علاقوں پر مختلف قوتوں کا کنٹرول ہے، طاقت کے مراکز بکھرے ہوئے ہیں اور زمینی حالات متنوع ہیں۔ اسی وجہ سے حوثیوں کے لیے مختلف محاذوں کے درمیان نقل و حرکت، رسد کی فراہمی اور انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ ایک پیچیدہ عمل بن جاتا ہے۔ یہ صورتحال ان کی جنگی استعداد کو کمزور کر سکتی ہے اور متحد یمن کے حامی عناصر کے لیے مزید مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ تاہم سن زو کی فکر اور ’’ڈان آف یمن‘‘ کے درمیان سب سے اہم رابطہ یمن کے سمندری جغرافیے میں دکھائی دیتا ہے۔ **یمن کا سمندری جغرافیہ** سن زو کے نظریات اور آپریشن ’ڈان آف یمن‘ کے درمیان سب سے اہم ربط یمن کے سمندری جغرافیے میں دکھائی دیتا ہے۔ اس سے کیا مراد ہے؟ مختصراً یہ کہ یمن کا جغرافیائی محلِ وقوع اس تنازع کو صرف سعودی عرب یا خطے تک محدود نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے بین الاقوامی اہمیت بھی عطا کرتا ہے۔ یہ آپریشن بحیرۂ احمر، باب المندب اور خلیجِ عدن کے دائرے میں جاری ہے، جو دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتے ہیں۔ چنانچہ اسے محض یمن کی داخلی جنگ نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ اس کا جغرافیہ خود اسے علاقائی اور عالمی سلامتی کے معاملات سے جوڑ دیتا ہے۔ یہ تصور سن زو کی فکر سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔ اس کے نزدیک بعض اوقات آبی گزرگاہوں پر کنٹرول وسیع زمینی علاقوں کے قبضے سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ جو قوت بحری آمدورفت، توانائی کی ترسیل اور عالمی تجارت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو، وہ جغرافیے کو خود ایک تزویراتی دباؤ کے آلے میں تبدیل کر سکتی ہے۔ اسی تناظر میں آپریشن ’ڈان آف یمن‘ کو اس بنیاد پر دیکھا جاتا ہے کہ اس کا مقصد دوسرے ممالک کی سرزمین پر قبضہ نہیں بلکہ ایسا تزویراتی اثر پیدا کرنا ہے جو مخالف کو اپنی قوتیں ازسرِنو ترتیب دینے، وسائل تقسیم کرنے اور متعدد مقامات پر دفاع کرنے پر مجبور کر دے۔ بعض اوقات ایسے چند اہم مقامات کی اہمیت ایک وسیع علاقے سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ 24 فروری 2018 کو لی گئی اس تصویر میں ایک یمنی شہری مغربی صوبہ الحدیدہ کے تاریخی شہر زبید میں کھڑی موٹر سائیکلوں کے پاس سے گزرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ زبید یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے، تاہم یہ اس وقت خطرے سے دوچار عالمی ورثے کی فہرست میں بھی موجود ہے (عبدو حیدر / اے ایف پی) یہی وہ مقام ہے جہاں سن زو کے نظریات اور ’ڈان آف یمن‘ کے درمیان تعلق واضح طور پر دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر جغرافیے کو ایک تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے حوالے سے۔ **محاذ کا پھیلاؤ اور توجہ منتشر کرنا** سن زو اپنی کتاب کے باب ’تزویراتی نقل و حرکت‘ میں لکھتا ہے: ’کمزور درخت کو جڑ سے اکھاڑ دینا طاقت کی دلیل نہیں، گرج کی آواز سن لینا غیر معمولی سماعت کی علامت نہیں، اور سورج کو دیکھ لینا غیرمعمولی بصارت کا ثبوت نہیں۔‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ صرف قوت کا نام نہیں بلکہ فن، مہارت اور حکمتِ عملی کا نام ہے۔ کامیاب فوج اس وقت تک فیصلہ کن جنگ میں داخل نہیں ہوتی جب تک اسے اپنی کامیابی کے امکانات پر پورا اعتماد نہ ہو۔ سن زو کے مطابق دفاع کی مہارت پوشیدگی میں ہے، جبکہ حملے کی مہارت رفتار اور اچانک پن میں۔ اسی لیے وہ دشمن کو ایک سے زیادہ محاذوں پر مصروف رکھنے کو اہم سمجھتا ہے، تاکہ وہ اپنی طاقت کو ایک جگہ مرتکز نہ کر سکے۔ اسی زاویے سے دیکھا جائے تو ’ڈان آف یمن‘ میں زمینی، فضائی اور بحری محاذوں کا بیک وقت سرگرم ہونا اسی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر اس جنگ کا جائزہ لیا جائے تو حوثی غیر معمولی دباؤ کا سامنا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سمندر میں متعدد بحری قوتیں ان کی نقل و حرکت محدود کر سکتی ہیں اور ان کے پسپا ہونے والے عناصر کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ فضا میں بالادستی رکھنے والی سعودی فضائیہ مختلف اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے اور حوثیوں کی عسکری سرگرمیوں کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔ زمین پر مختلف عسکری تشکیلیں اور پیادہ دستے ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں جن سے رسد اور نقل و حرکت کے روایتی راستے متاثر ہو سکتے ہیں۔ 20 اکتوبر 2024 کو یمن کی حوثی حکومت کے وزیر اعظم احمد الرحاوی حماس کے سابق سربراہ یحییٰ سنوار کے قتل پر تعزیت کے لیے صنعا میں حماس کے دفتر میں موجود (اے ایف پی) اس تناظر میں محاذوں کی کثرت کو اس کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ جنگ کو ایک واحد محاذ یا محدود جغرافیے تک محدود نہ رہنے دیا جائے، بلکہ اسے اس قدر پیچیدہ بنا دیا جائے کہ مخالف کے لیے سادہ اور براہِ راست ردِعمل دینا مشکل ہو جائے۔ جب کسی قوت کو بیک وقت متعدد سمتوں میں اپنے دفاع کے بارے میں فیصلے کرنے پڑیں تو طاقت کی پیمائش محض سپاہیوں، طیاروں یا ہتھیاروں کی تعداد سے نہیں ہوتی، بلکہ اس صلاحیت سے ہوتی ہے کہ مخالف کو وقت کے دباؤ اور نامکمل معلومات کے ماحول میں مسلسل نئے فیصلے کرنے پر مجبور کیا جائے۔ یہ ہی دراصل سن زو کے اس تصور کا عملی اظہار ہے جس کے مطابق: ’اصل کامیابی میدانِ جنگ میں دشمن کو شکست دینے سے پہلے اس کے انتخاب محدود کر دینے میں ہے۔‘ سن زو کے نزدیک بہترین سپہ سالار وہ ہوتا ہے جو فتح حاصل کرنے کے بعد جنگ لڑتا ہے، نہ کہ جنگ لڑ کر فتح تلاش کرنے نکلتا ہے۔ **دھوکے اور حیرت کا عنصر** سن زو کی شاید سب سے مشہور تعلیم یہ ہے: ’تمام جنگیں دھوکے پر قائم ہوتی ہیں۔‘ وہ لکھتا ہے: ’جب تم حملے کی صلاحیت رکھتے ہو تو کمزور دکھائی دو، جب حرکت کی تیاری کر رہے ہو تو ساکن نظر آؤ، جب قریب ہو تو دور دکھائی دو اور جب دور ہو تو قریب ہونے کا تاثر دو۔‘ مزید وہ کہتا ہے: ’اپنے دشمن کے سامنے چارہ ڈالو، اور جب وہ معمولی فائدے کے لالچ میں آ جائے تو اسے سنبھلنے کا موقع ملنے سے پہلے فیصلہ کن ضرب لگاؤ۔‘ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حوثیوں کو ایسی کسی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا؟ اس بیانیے کے مطابق گذشتہ مہینوں میں حوثی اپنے بعض اقدامات اور محدود نوعیت کی کارروائیوں کے باعث سفارتی اور سیاسی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتے گئے۔ اس دوران ان کے اندر یہ تصور بھی پیدا ہو سکتا تھا کہ ان کے خلاف کوئی بڑی کارروائی نہیں ہوگی۔ تاہم صورت حال اس وقت تبدیل ہوئی جب مختلف تزویراتی سمتوں سے کارروائیاں شروع ہوئیں، سعودی فضائیہ نے حملے کیے اور سرکاری فورسز نے ذباب اور باب المندب کے اطراف پیش قدمی کی۔ اس تناظر میں آپریشن ’ڈان آف یمن‘ کا ایک اہم پہلو یہ قرار دیا جاتا ہے کہ اگرچہ اعلان کردہ سیاسی ہدف صنعا تھا، لیکن ابتدائی مرحلے میں نمایاں عسکری سرگرمیاں ذباب، باب المندب اور مغربی ساحل پر دیکھنے میں آئیں۔ سرکاری فورسز نے ذباب اور اس کے ہوائی اڈے پر کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان کیا، ذباب اور موخا کے درمیان سڑک منقطع کی اور باب المندب کے اہم مقامات پر اپنی موجودگی مضبوط بنانے کی کوشش کی۔ > **اس صورت حال کو سن زو کے اس تصور سے جوڑا جا سکتا ہے کہ دشمن کو وہاں مجبور کیا جائے جہاں وہ اپنی قوت کو نئے سرے سے تقسیم کرنے پر مجبور ہو جائے، نہ کہ وہاں جہاں وہ پہلے سے بھرپور تیاری کر چکا ہو۔** باب المندب پر دباؤ ڈالنا محض جغرافیائی برتری حاصل کرنے کا معاملہ نہیں، بلکہ اس سے مخالف کو اپنی تعیناتی، ذخائر اور سپلائی لائنوں پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے ’ڈان آف یمن‘ کے حامی تجزیہ کار اس کی قوت کو اس کے کثیر الجہتی کردار میں دیکھتے ہیں، جہاں فضائی حملوں کے ساتھ مختلف محاذوں پر زمینی سرگرمیاں بھی جاری رہتی ہیں۔ سن زو کے الفاظ میں: ’اگر دشمن یہ نہ جان سکے کہ اصل حملہ کہاں ہوگا تو وہ اپنی قوت تمام محاذوں پر تقسیم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے، اور یوں ہر جگہ مضبوط ہونے کی کوشش میں دراصل ہر جگہ کمزور ہو جاتا ہے۔’ **براہِ راست تصادم یا تنہائی کی حکمتِ عملی** سن زو کے مطابق بعض اوقات دشمن کو مکمل طور پر تباہ کرنے سے زیادہ مؤثر طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اسے آہستہ آہستہ تنہا کر دیا جائے، اس کے روابط، رسد، اطلاعات اور نقل و حرکت محدود کر دی جائے، یہاں تک کہ اس کی مؤثر مزاحمت کمزور پڑ جائے۔ اسی تناظر میں ’ڈان آف یمن‘ کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ اس کارروائی کا مقصد صرف میدانِ جنگ میں براہِ راست لڑائی نہیں بلکہ حوثیوں کو ایک وسیع تر تزویراتی تنہائی میں دھکیلنا بھی ہے۔ یہ تنہائی مختلف شکلیں اختیار کر سکتی ہے: **جغرافیائی** ایسے حالات پیدا کرنا جن میں دشوار گزار علاقوں اور قلعہ بند پوزیشنوں میں موجود قوتیں بتدریج اپنی نقل و حرکت اور رسد کی صلاحیت کھو بیٹھیں۔ **معلوماتی** ایسی صورتحال پیدا کرنا جس میں جنگی معلومات، رابطے اور میدانِ جنگ کی حقیقی صورتِ حال تک رسائی محدود ہو جائے، اور مختلف دستے ایک دوسرے سے کٹ جائیں۔ **عملیاتی** ایسے حالات جن میں مختلف محاذوں پر موجود جنگجو یہ سمجھنے سے قاصر رہیں کہ بنیادی لڑائی کہاں ہو رہی ہے، کمک کہاں بھیجنی ہے اور ترجیحی دفاعی نقطہ کون سا ہے۔ **رسدی** سن زو بار بار اس بات پر زور دیتا ہے کہ فوجیں صرف بہادری پر نہیں بلکہ رسد، مواصلات اور نقل و حرکت پر زندہ رہتی ہیں۔ اگر یہ عناصر متاثر ہوں تو سب سے مضبوط فوج بھی بتدریج کمزور پڑ سکتی ہے۔ **نفسیاتی اور ابلاغی جنگ میں برتری** بڑی جنگوں کا فیصلہ صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوتا بلکہ اکثر ان کا رخ نفسیاتی اور ابلاغی جنگ متعین کرتی ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جو فریق بیانیے، اطلاعات اور حوصلوں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہو، اس کے ہاتھ میں فتح اور شکست کی ایک اہم کنجی ہوتی ہے۔ آپریشن ’ڈان آف یمن‘ کا جائزہ لیتے ہوئے اس عنصر کو جنگ کے دیگر پہلوؤں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں ایک بار پھر سن زو کے نظریات ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ چینی عسکری مفکر کا بنیادی تصور یہ ہے کہ جنگ ہمیشہ دشمن کی فوج کو مکمل طور پر تباہ کرکے نہیں جیتی جاتی بلکہ اکثر اس کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کو متاثر کرکے اور اس کے جنگی عزم کو کمزور بنا کر کامیابی حاصل کی جاتی ہے۔ اسی تناظر میں بعض مبصرین آپریشن کے نام ’ڈان آف یمن‘ (یمن کی صبح) کو بھی ایک نفسیاتی پیغام قرار دیتے ہیں۔ لفظ ’ڈان‘ یا ’صبح‘ اندھیرے سے روشنی کی طرف منتقلی، ایک مرحلے کے اختتام اور نئے دور کے آغاز کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح یہ نام ایک ایسے بیانیے کی تشکیل کرتا ہے جو تبدیلی، بحالی اور کامیابی کے تصور کو اجاگر کرتا ہے۔ نفسیاتی اور ابلاغی جنگ کے اثرات بعض اوقات ہتھیاروں کے اثرات سے کم اہم نہیں ہوتے کیونکہ یہ دشمن کے جنگجوؤں، کمانڈروں اور فیصلہ سازوں کے ذہنوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں متعدد سوالات جنم لیتے ہیں: کیا قیادت کے پاس واضح حکمتِ عملی موجود ہے؟ کیا سپلائی لائنیں محفوظ ہیں؟ کیا دوسرے محاذ اپنی جگہ برقرار ہیں؟ کیا کمک بروقت پہنچ سکے گی؟ اور مختلف محاذوں پر دباؤ کا مقابلہ کس حد تک کیا جا سکتا ہے؟ جب اطلاعات میں باب المندب کے گرد کارروائیوں، مغربی ساحل پر پیش رفت اور صنعا کی سمت بڑھتے ہوئے دباؤ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کا نفسیاتی اثر یہ ہوسکتا ہے کہ مخالف فریق یہ محسوس کرے کہ جنگ اس کی توقعات سے کہیں زیادہ وسیع، پیچیدہ اور خطرناک ہے۔ اس طرح بعض اوقات زمینی شکست سے پہلے ذہنی اور نفسیاتی دباؤ پیدا ہونے لگتا ہے۔ سن زو کے تصور کے مطابق اگر دشمن کو یہ یقین دلایا جائے کہ وہ ایک ایسی صورت حال کا سامنا کر رہا ہے جس کے تمام پہلو اس کی گرفت میں نہیں، تو اس کی فیصلہ سازی متاثر ہو سکتی ہے اور اس کی جنگی کارکردگی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ **کیا کوئی حتمی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے؟** سن زو نے اپنی کتاب ’جنگ کا فن ‘ میں کامیابی کے چند بنیادی اصول بیان کیے ہیں۔ اگر اس تحریر کے مؤقف کے مطابق آپریشن ’ڈان آف یمن‘ کا جائزہ لیا جائے تو مصنف کی رائے میں ان اصولوں کی جھلک اس کارروائی میں دیکھی جا سکتی ہے۔ سن زو کے مطابق کامیابی کے اہم عناصر درج ذیل ہیں: * کامیاب سپہ سالار جانتا ہے کہ کب جنگ کرنی ہے اور کب نہیں کرنی۔ * کامیاب قیادت حالات کے مطابق بڑی اور چھوٹی دونوں طرح کی قوتوں کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا جانتی ہے۔ * کامیابی اس فوج کو حاصل ہوتی ہے جس کے مختلف درجات کی قیادت اور سپاہیوں کے درمیان مقصد اور عزم میں یکسانیت موجود ہو۔ * کامیاب فریق پہلے خود کو مکمل طور پر تیار کرتا ہے اور پھر مناسب موقع کا انتظار کرتا ہے۔ * کامیاب قائد وہ ہوتا ہے جس کے پاس فیصلہ سازی کا مکمل اختیار ہو اور جو حالات کے مطابق اپنی حکمتِ عملی، سمت اور طریقۂ کار میں تبدیلی لا سکے۔ سن زو کی تعلیمات کی روشنی میں جنگ صرف عسکری طاقت کا نام نہیں بلکہ معلومات، منصوبہ بندی، جغرافیے کے مؤثر استعمال، نفسیاتی دباؤ، رسد، تزویراتی لچک اور دشمن کے طرزِ فکر کو سمجھنے کا مجموعہ ہے۔ اسی لیے، باوجود اس کے کہ ’جنگ کا فن ‘ دو ہزار سے زیادہ برس پہلے لکھی گئی تھی، اس کے بہت سے اصول آج بھی عسکری اور تزویراتی مباحث میں حوالہ سمجھے جاتے ہیں۔ اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو آپریشن ’ڈان آف یمن‘ کو صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ سیاسی، جغرافیائی، نفسیاتی اور تزویراتی پہلوؤں پر مشتمل ایک جامع مہم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جس کے مختلف مراحل اور نتائج کا جائزہ سن زو کے نظریات کی روشنی میں لیا جا سکتا ہے۔ _یہ تحریر اس سے قبل انڈپینڈنٹ عربیہ پر شائع ہوچکی ہے۔_ سعودی عرب یمن حوثی جنگ حکمت عملی چین کتاب باب المندب کے ارد گرد جاری آپریشن کی کامیابیاں قدیم چینی عسکری ماہر سن زو کے وژن اور ان کی بنیادی کتاب ’دی آرٹ آف وار‘ سے کیسے مطابقت رکھتی ہیں۔ انڈپینڈنٹ عربیہ اتوار, اکتوبر 11, 2026 - 11:00 Main image: > <p class="rteright">’جنگ کا فن‘ صرف ایک کتاب کا نام نہیں بلکہ ایک فکری ورثہ ہے جو گذشتہ 2300 برس سے اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے (انڈپینڈنٹ عربیہ)</p> تاریخ type: news related nodes: یمنی فورسز کی باب المندب کی جانب پیش قدمی یمنی حکومت کا حوثیوں کے خلاف فوجی آپریشن کا اعلان یمن، آج کا قبائلی سماج جو کبھی عظیم تہذیب کا گہوارہ تھا سعودی کابینہ کا یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ SEO Title: آپریشن یمن کا چینی مفکر کی کتاب ’جنگ کا فن‘ کی روشنی میں تجزیہ copyright: Display mode: meta header middle show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 10/10/2026
independenturdu.com
’تماشا‘ سیزن 5: فائنلسٹس کے دلچسپ انکشافات
**پاکستانی ریئلٹی شو ’تماشا‘ کے پانچویں سیزن کے گرینڈ فینالے سے قبل چھ فائنلسٹس نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں بتایا ہے کہ دو ماہ تک ایک ہی گھر میں مختلف مزاج کے لوگوں کے ساتھ رہنا، اپنی شخصیت پر قابو رکھنا اور مقابلے میں آگے بڑھنا ان کے لیے کس قدر مشکل رہا۔** ہفتے، 10 اکتوبر کو ہونے والے گرینڈ فینالے سے پہلے ڈاکٹر زی خان، ببرک شاہ، سامیہ حجاب، فصیح خالد، اسراء عائشہ اور یاسر عالم نے اپنی حکمت عملی اور گھر کے اندر پیش آنے والے واقعات پر بات کی۔ کسی نے اپنے غصے کو قابو میں رکھنا سب سے بڑا امتحان قرار دیا تو کسی کے لیے گھر میں بند رہنا اور دوسروں کے ساتھ رہائش اختیار کرنا مشکل ثابت ہوا۔ _انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں_ فائنلسٹس کی گفتگو سے یہ بھی سامنے آیا کہ شو میں ہونے والی لڑائیوں، دوستیوں اور ایک دوسرے پر حکمت عملی اختیار کرنے کے الزامات کے باوجود بیشتر شرکا کا اصرار ہے کہ انہوں نے کیمروں کے سامنے اپنی اصل شخصیت برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ **’اس گھر میں خاموش رہنا ممکن نہیں تھا‘: ڈاکٹر زی خان** ڈاکٹر زی خان نے بتایا کہ شو میں آنے سے پہلے ان کی بہن اور ٹیم نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی شخصیت کے وقار اور سوشل میڈیا پر موجود تاثر کو برقرار رکھیں۔ تاہم ان کے مطابق گھر میں داخل ہونے کے اگلے ہی دن اسراء عائشہ کے ساتھ تلخ کلامی نے صورت حال بدل دی۔ ڈاکٹر زی خان نے بتایا کہ اسراء نے ان سے کہا، ’تمہاری اوقات کیا ہے؟‘ جس پر انہیں غصہ آیا اور وہ اپنا ردعمل قابو میں نہ رکھ سکے۔ ان کے بقول اس واقعے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ وہ اپنی شخصیت کا ایک ایسا پہلو بھی سامنے لے آئے ہیں جو شاید ناظرین نے پہلے نہیں دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شو میں مختلف عمروں اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ رہنا ان کے لیے دلچسپ تجربہ تھا۔ ڈاکٹر زی خان کے مطابق اس گھر میں خاموشی یا دوسروں سے الگ تھلگ رہنا ممکن نہیں تھا، اس لیے انہوں نے سب کے ساتھ گھلنے ملنے کو ترجیح دی۔ ان کا کہنا تھا کہ گھر میں اپنے الفاظ اور ردعمل کو قابو میں رکھنا ایک بڑا چیلنج تھا کیونکہ کوئی بھی بات بعد میں تنازع بن سکتی تھی۔ انہوں نے اس حوالے سے شو کے میزبان ’بادشاہ سلامت‘ کی رہنمائی کو بھی اہم قرار دیا۔ **’کبھی آپ ہار کر جیتتے ہیں‘: ببرک شاہ** اداکار ببرک شاہ نے کہا کہ انہوں نے شو میں مثبت سوچ کے ساتھ حصہ لیا، تاہم مقابلے میں کسی دوسرے کھلاڑی کو شکست دینے پر وہ اکثر آپ کو خودغرض سمجھنے لگتا ہے۔ ان کے مطابق اچھے کھلاڑی کی پہچان صرف جیت نہیں بلکہ ہار اور جیت، دونوں صورتوں کو سمجھنا ہے۔ ببرک شاہ نے کہا، ’کبھی آپ ہار کر جیتتے ہیں، کبھی آپ جیت کر جیتتے ہیں۔ یہی اچھے کھلاڑی کی پہچان ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ شو کے دوران ان کے لیے سب سے بڑی مشکل گھر کے اندر محدود رہنا تھا کیونکہ وہ عام زندگی میں اس طرح بند رہنے کے عادی نہیں۔ ان کے مطابق مشترکہ رہائش میں صفائی اور حفظان صحت کا خیال رکھنا بھی ایک بڑا مسئلہ تھا۔ ببرک شاہ نے کہا کہ انہیں مختلف چیزوں سے الرجی ہے، اس لیے وہ اپنے گلاس، پانی کی بوتل اور برتنوں کی صفائی کا خاص خیال رکھتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ کسی کی ڈانٹ سننا ان کے لیے مشکل تھا۔ ان کے بقول وہ اپنے گھر میں بڑے ہونے کی وجہ سے دوسروں کو ہدایات دینے کے عادی ہیں، جبکہ ’تماشا‘ کے گھر میں انہیں دوسرے لوگوں کی ہدایات پر عمل کرنا پڑتا تھا۔ **سامیہ حجاب نے ببرک شاہ کی حکمت عملی پر سوال اٹھا دیا** سامیہ حجاب نے گفتگو کے دوران ببرک شاہ کی حکمت عملی کے بارے میں دلچسپ انداز میں کہا کہ وہ بھی یہ دعویٰ کر سکتی ہیں کہ ببرک شاہ نے ابتدا میں سب سے اختلاف کرکے خود کو تنہا ظاہر کیا اور بعد میں انہی لوگوں سے دوستی کر لی۔ تاہم سامیہ نے واضح کیا کہ وہ اسے ببرک شاہ کی منصوبہ بندی قرار نہیں دے رہیں، کیونکہ ان کے خیال میں بہت سی باتیں فطری انداز میں ہوتی رہیں۔ سامیہ کے مطابق وہ خود بھی کوئی خاص حکمت عملی بنا کر شو میں نہیں آئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ عام زندگی میں بھی ہنستی کھیلتی اور جذباتی طبیعت کی مالک ہیں اور شو کے دوران بھی ان کا رویہ زیادہ مختلف نہیں تھا۔ سامیہ کا کہنا تھا کہ انہیں دوسروں سے ناراضی برقرار رکھنا پسند نہیں، اس لیے وہ اختلاف کے بعد جلد معافی مانگ کر معاملات ٹھیک کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔ انہوں نے کہا، ’اگر مجھے غصہ آئے گا تو یا میں رو پڑوں گی یا میں ہنس پڑوں گی۔‘ سامیہ کے مطابق گھر میں اپنے قریبی لوگوں کی کمی محسوس کرنا ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ تھا اور شروع میں انہوں نے ایسے دوست بنائے جو مشکل وقت میں انہیں سہارا دے سکیں۔ **’اپنی زبان پر قابو رکھنا سب سے بڑا امتحان تھا‘: فصیح خالد** فصیح خالد نے بتایا کہ شو میں شرکت سے پہلے وہ کافی گھبرائے ہوئے تھے اور انہیں اندازہ نہیں تھا کہ گھر کے اندر حالات کیسے ہوں گے۔ ان کے مطابق انہیں مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ اپنی اصل شخصیت کے ساتھ شو میں جائیں اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالیں۔ فصیح کا کہنا تھا کہ ابتدا میں انہیں دوسرے شرکا اور شو کے انداز کو سمجھنے میں وقت لگا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ عام زندگی میں مذاق کرنے والے اور متحرک انسان ہیں، لیکن گھر کے اندر انہیں اپنے غصے، مذاق اور ردعمل پر خاص توجہ دینا پڑی۔ ان کے بقول قومی ٹیلی ویژن پر ہر وقت کیمروں کی موجودگی کا احساس انہیں محتاط رکھتا تھا۔ فصیح نے کہا کہ بعض اوقات وہ جذبات میں کچھ کہہ دیتے تھے، لیکن بعد میں خود اپنا جائزہ لیتے تھے کہ انہیں کس انداز میں بات کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ اپنے رویے اور زبان پر قابو رکھنا ان کے لیے شو کا سب سے بڑا چیلنج رہا۔ **’میری نظر صرف ٹرافی پر تھی‘: اسرا عائشہ** اسرا عائشہ نے کہا کہ انہوں نے شو میں اپنی اصل شخصیت برقرار رکھنے کی کوشش کی اور کسی دوسرے کھلاڑی کی نقل نہیں کی۔ ان کے مطابق ابتدا میں انہیں اپنی ذہانت اور صلاحیتوں سے متعلق مختلف تبصرے سننے کو ملے، لیکن انہوں نے ان باتوں کو اپنے کھیل پر اثرانداز نہیں ہونے دیا۔ اسرا نے دعویٰ کیا کہ وزارت کی ذمہ داریاں نبھانے کے دوران انہیں کوئی سزا نہیں ملی اور انہوں نے اپنی ذمہ داریاں اچھی طرح ادا کیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ماضی میں کرکٹ بھی کھیل چکی ہیں اور اسی وجہ سے مقابلے کے دوران ان کی توجہ ہمیشہ کامیابی پر رہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح ایک کرکٹر کی نظر گیند اور ہدف پر ہوتی ہے، اسی طرح وہ بھی شو کے دوران اپنی توجہ ٹرافی پر مرکوز رکھتی تھیں۔ اسرا نے کہا کہ انہوں نے ’تماشا‘ کے گزشتہ سیزن کو بھی زیادہ نہیں دیکھا تھا تاکہ وہ کسی دوسرے کھلاڑی کے انداز سے متاثر نہ ہوں۔ **یاسر عالم نے سیف علی خان کی نقل کرنے کا الزام مسترد کر دیا** فائنلسٹ یاسر عالم سے جب گزشتہ سیزن کے کھلاڑی سیف علی خان کے انداز اور شاعری کی نقل کرنے سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔ یاسر کے مطابق ان کے اندر شاعری کا شوق پہلے سے موجود تھا، تاہم ڈاکٹر زی خان کی جانب سے ان کی اردو اور شاعری پر سوال اٹھائے جانے کے بعد انہوں نے اس صلاحیت کو زیادہ نمایاں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ شاعری پڑھنے اور سننے کی عادت نے ان کے الفاظ کے ذخیرے میں اضافہ کیا۔ یاسر نے سیف علی خان کو پسندیدہ کھلاڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی صلاحیتوں کی قدر کرتے ہیں، لیکن ان کی نقل نہیں کرنا چاہتے۔ ان کا کہنا تھا، ’میں چاہوں بھی تو سیف علی خان نہیں بن سکتا، میں چاہوں بھی تو بادشاہ سلامت نہیں بن سکتا، میں بس یاسر عالم ہوں۔‘ یاسر نے کہا کہ وہ شو میں جیتنے کے ارادے سے آئے تھے اور ان کے لیے صرف فائنل تک پہنچنا کافی نہیں تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گھر میں رہتے ہوئے انہیں اپنے اہل خانہ کے علاوہ اپنے افریقی گرے طوطے ’آزی‘ کی بہت یاد آئی۔ **فائنلسٹس کے درمیان اختلافات بھی سامنے آ گئے** گفتگو کے دوران ببرک شاہ نے بعض کھلاڑیوں کی حکمت عملی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ڈاکٹر زی خان، فصیح خالد اور اسراء عائشہ کا رویہ زیادہ تر فطری تھا۔ تاہم انہوں نے سامیہ حجاب کے بارے میں کہا کہ وہ گھر میں ایک شخص کی بات دوسرے تک پہنچاتی تھیں اور مختلف مواقع پر اپنی موجودگی نمایاں رکھنے کی کوشش کرتی تھیں۔ سامیہ نے بھی ببرک شاہ کے بارے میں کہا کہ وہ کھیل کو بہت سنجیدگی سے لیتے تھے اور دوسروں کو مشورہ دیتے ہوئے اپنے فائدے کو بھی مدنظر رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ببرک شاہ اور لیلیٰ جیسے تجربہ کار شرکا نے نوجوان کھلاڑیوں کو سخت مقابلہ دیا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) فصیح خالد نے اس موقع پر کہا کہ دوسرے کھلاڑی انہیں کم عمر اور ناتجربہ کار سمجھتے تھے، لیکن وہ گھر میں ہونے والی سرگرمیوں اور لوگوں کے رویوں کو غور سے دیکھ رہے تھے۔ **گرینڈ فینالے سے پہلے کیا توقعات ہیں؟** ڈاکٹر زی خان نے کہا کہ انہیں گرینڈ فینالے کے ساتھ اس بات کا بھی تجسس ہے کہ شو سے باہر ناظرین نے ان کی شخصیت اور کارکردگی کو کس طرح دیکھا ہے۔ ان کے مطابق آخری چند دنوں میں بھی گھر کے اندر کئی اہم واقعات پیش آئے، جو ناظرین کے لیے دلچسپی کا باعث بن سکتے ہیں۔ ببرک شاہ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ناظرین نے شو کے دوران ان کی شخصیت کے مختلف پہلو دیکھے ہوں گے، جن میں مشکل حالات کا سامنا کرنا، غصے کو قابو میں رکھنا، گھر کے کام کرنا اور اختلافات کے باوجود دوسروں سے تعلقات بہتر بنانا شامل ہیں۔ یاسر عالم نے کہا کہ وہ شو میں اپنی محنت اور کارکردگی کی بنیاد پر آگے بڑھے اور آخری وزارت حاصل کرنے کے لیے 24 گھنٹے کا ٹاسک بھی جیتا۔ چھ فائنلسٹس کی گفتگو میں جہاں ایک دوسرے کے بارے میں اختلافات اور دلچسپ تبصرے سامنے آئے، وہیں سب نے اس تجربے کو اپنی شخصیت، برداشت اور دوسروں کے ساتھ رہنے کی صلاحیت آزمانے کا موقع قرار دیا۔ ’تماشا‘ کے پانچویں سیزن کا گرینڈ فینالے 10 اکتوبر کو ہونا ہے، جس میں فاتح کا فیصلہ سامنے آئے گا۔ تماشا سیزن 5 اداکار شوبز فلم انڈسٹری گرینڈ فینالے سے قبل انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ڈاکٹر زی خان، ببرک شاہ، سامیہ حجاب، فصیح خالد، اسراء عائشہ اور یاسر عالم نے گھر کے اندر ہونے والی لڑائیوں، دوستیوں، مشکلات اور جیت کی امیدوں پر کھل کر بات کی۔  انڈپینڈنٹ اردو ہفتہ, اکتوبر 10, 2026 - 21:45 Main image: > <p class="rteright">پاکستانی ریئلٹی شو ’تماشا‘ سیزن 5 کے فائنلسٹس سامعہ حجاب اور فصیح خالد 9 اکتوبر، 2026 کو انڈپینڈنٹ اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے</p> ٹی وی jw id: N5aqY1AZ type: video related nodes: چند شوبز جوڑے میرے مشورے سے بنے: ہمایوں سعید اب شوبز بھی سیاسی ایجنڈے کے نشانے پر شوبز انڈسٹری میں سب مایا ہے: سٹائلسٹ دانش مقصود پیمرا کی چینلز کو ’گلے لگنے‘، ’بیڈ سین‘ سے اجتناب کی ہدایت، شوبز نالاں SEO Title: ’تماشا‘ سیزن 5: فائنلسٹس کے دلچسپ انکشافات copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 10/10/2026
independenturdu.com
حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں شامل ہونے کا فیصلہ جلد: ٹرمپ
**ایک سفارتی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ یمن کے حوثیوں نے ہفتے کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل سے حملہ کیا ہے۔** اطلاعات کے مطابق حملے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک عینی شاہد نے ٹرمینل میں افراتفری کی صورت حال بیان کی۔ سعودی حکام نے کسی نئے حملے یا انخلا کی تصدیق نہیں کی، تاہم ایک عینی شاہد نے بتایا کہ وہ پرواز میں سوار ہونے کا انتظار کر رہے تھے کہ انہیں دھماکے کی آواز سنائی دی جبکہ ایک دوسرے شخص نے کہا کہ انہوں نے حملہ ہوتے دیکھا جس میں لوگ زخمی ہوئے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ریاض کے ہوائی اڈے پر حملے کے بعد ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں امریکہ کی شمولیت کے بارے میں جلد فیصلہ کریں گے۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ’ممکن ہے کہ ہم ایسا کریں۔ ہم اس معاملے کا جائزہ لیں گے۔ ہمیں ابھی حالیہ حملے کے بارے میں معلوم ہوا ہے، اس لیے ہم فیصلہ کریں گے۔‘ انہوں نے مزید کہا ’ہم بہت تیزی سے کارروائی کرتے ہیں۔‘ یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جمعرات کو اسی ہوائی اڈے پر یمن کے حوثیوں کے حملوں میں سعودی ایئرلائنز کے ایک پائلٹ سمیت تین افراد جان سے گئے تھے۔ _انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں_ ہفتے کے واقعے نے نئے حملے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ تاہم سعودی حکام نے نہ تو کسی تازہ حملے کی تصدیق کی اور نہ مسافروں کے انخلا کی وجہ بتائی۔ ریاض کے ایک ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ ہفتے کو ہوائی اڈے پر زخمی ہونے والے درجنوں افراد کو طبی امداد فراہم کی گئی، جن میں زیادہ تر سعودی شہری ہیں۔ ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ کم از کم پانچ زخمی سعودی شہری انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج ہیں۔ بعض زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم ذرائع نے زخمیوں کی مجموعی تعداد یا ان کے زخمی ہونے کی وجہ کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ **ہوائی اڈے پر کیا ہوا؟** عینی شاہدین نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہفتے کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے لوگوں کو باہر نکالا جا رہا تھا۔ ایک عینی شاہد کے مطابق وہ اپنی پرواز میں سوار ہونے کا انتظار کر رہا تھا کہ اس دوران اسے دھماکے کی آواز سنائی دی۔ دو اپریل، 2026 کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے روانگی ٹرمینل سے مسافر گزر رہے ہیں (اے ایف پی) ایک زخمی شخص کے رشتہ دار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہوائی اڈے پر پیش آنے والے واقعے میں شیشے کے ٹکڑے لگنے سے اس شخص کے کندھوں اور بازوؤں پر زخم آئے۔ دو دیگر عینی شاہدین نے بھی ہوائی اڈے سے لوگوں کے انخلا کی تصدیق کی، تاہم وہ یہ نہیں بتا سکے کہ انخلا کس وجہ سے کیا گیا۔ سعودی حکام کی ہفتے کو کسی نئے حملے یا انخلا کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی جبکہ حوثیوں نے بھی ہوائی اڈے پر کسی تازہ حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ **مسافروں کو ایئرلائنز سے رابطے کی ہدایت** ہفتے کو ریاض کے ہوائی اڈے کی انتظامیہ نے مسافروں کو ہدایت کی کہ وہ ہوائی اڈے روانہ ہونے سے پہلے اپنی پرواز کی صورت حال کی تصدیق کر لیں۔ ہوائی اڈے کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ’براہ کرم ہوائی اڈے کی جانب روانہ ہونے سے پہلے اپنی ایئرلائن سے براہ راست رابطہ کرکے اپنی پرواز کی صورت حال کی تصدیق کر لیں۔‘ اسی نوعیت کی ہدایت جمعرات کو بھی جاری کی گئی تھی، جب حوثیوں کے حملوں میں تین افراد مارے گئے تھے۔ **ریاض ایئرپورٹ پر جمعرات کو کیا ہوا تھا؟** جمعرات کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری یمن کے حوثیوں نے قبول کی تھی۔ ان حملوں میں سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنی سعودی ایئرلائنز کے ایک پائلٹ سمیت تین افراد مارے گئے تھے، جبکہ ہوائی اڈے پر کھڑے ایک سعودی طیارے کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔ حالیہ ہفتوں میں سعودی حکام نے حوثیوں کے حملوں اور شہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات سے متعلق محدود معلومات جاری کی ہیں۔ **سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے؟** یمن میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت اور حوثیوں کے درمیان طویل عرصے سے تنازع جاری ہے۔ جولائی میں جنگ بندی ختم ہونے کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور آئل ٹینکروں کو متعدد بار نشانہ بنایا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں پھیلنے والی آٹھ ماہ سے جاری جنگ کے دوران ریاض پر حالیہ حملوں کی شدت اور تعداد غیر معمولی رہی ہے۔ سعودی عرب یمن کی حکومت کو فوجی مدد فراہم کرنے والے بین الاقوامی اتحاد کی قیادت کرتا ہے اور حالیہ پیش رفت کے نتیجے میں یمن کی خانہ جنگی میں اس کی شمولیت مزید بڑھ گئی ہے۔ سعودی عرب اور حوثیوں، دونوں کی جانب سے سفارتی حل کے بجائے فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کے اشارے ملے ہیں۔ **یمن میں سرکاری فورسز کی پیش قدمی** دوسری جانب یمن میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ سرکاری فورسز نے آبنائے باب المندب کے اطراف حوثیوں کے خلاف پیش قدمی شروع کر دی ہے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) فوجی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ سرکاری فورسز ان علاقوں میں کارروائیاں کر رہی ہیں جن پر حوثیوں نے گذشتہ ماہ قبضہ کیا تھا۔ یمنی حکومت نے گذشتہ ہفتے حوثیوں کے زیر قبضہ تمام علاقے واپس لینے کے لیے جوابی فوجی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان حوثیوں کی جانب سے ایک تیز رفتار کارروائی میں یمن کی پوری مغربی ساحلی پٹی پر قبضے کے بعد سامنے آیا تھا۔ حوثیوں نے تصدیق کی ہے کہ سرکاری فورسز نے آبنائے باب المندب کے علاقے میں حملہ کیا، تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے یہ کارروائی ناکام بنا دی۔ **آبنائے باب المندب کی اہمیت** آبنائے باب المندب بحیرہ احمر کے راستے تیل اور تجارتی سامان کی بین الاقوامی بحری نقل و حمل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔ اس علاقے میں لڑائی کے باعث نہ صرف یمن کی داخلی صورت حال بلکہ بحیرہ احمر میں بحری تجارت کی سلامتی سے متعلق خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ تاہم زمینی صورت حال تیزی سے تبدیل ہونے اور صحافیوں کے لیے متاثرہ علاقوں تک رسائی مشکل ہونے کے باعث یمنی حکومت اور حوثیوں کے فوجی دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔ سعودی عرب حوثی حملے ایک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ حوثیوں نے ریاض کے ہوائی اڈے پر میزائل سے حملہ کیا ہے، جس میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ اے ایف پی ہفتہ, اکتوبر 10, 2026 - 22:45 Main image: > <p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ 10 اکتوبر، 2026 کو میری لینڈ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز پر ایئر فورس ون میں سوار ہوتے ہوئے اشارہ کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p> دنیا jw id: VimMbtSG type: video related nodes: پاکستان کی مدینہ میں بجلی تنصیب پر حوثی حملے کی شدید مذمت حوثی حملے: ترکی، پاکستان اور مصر کا سعودی عرب کے دفاع کے حق کی حمایت سعودی عرب کی طرف داغے گئے تین حوثی میزائل تباہ سعودی شہری تنصیبات پر حوثی حملوں کی سزا دی جائے گی: اتحادی افواج SEO Title: حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں شامل ہونے کا فیصلہ جلد کریں گے: ٹرمپ copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 10/10/2026
independenturdu.com
یوکرین میں ایک شخص روسی ڈرون گرنے کے واقعے میں محفوظ رہا
**یوکرین کے دارالحکومت کیئف کے پارک میں ایک شخص مبینہ روسی ڈرون گرنے کے واقعے میں بال بال بچ گیا۔** یوکرین روس ڈرون یوکرین کے دارالحکومت کیئف کے پارک میں ایک شخص مبینہ روسی ڈرون گرنے کے واقعے میں بال بال بچ گیا۔ روئٹرز ہفتہ, اکتوبر 10, 2026 - 19:45 Main image: ایشیا jw id: 0dsMfeY0 type: video SEO Title: یوکرین میں ایک شخص روسی ڈرون گرنے کے واقعے میں محفوظ رہا copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 10/10/2026
independenturdu.com
اسلام آباد: درخت سے لٹتکی لڑکی کی لاش اور لاکھوں روپے کے مبینہ فراڈ کی کہانی
**اسلام آباد میں جمعے کی رات ایک درخت سے ایک نوجوان لڑکی کی لاش ملی جس کی شناخت فزکس کی گولڈ میڈلسٹ لائبہ اعجاز کے نام سے ہوئی۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ ایک شخص نے انہیں امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ اور سکالرشپ دلوانے کے نام پر تقریباً 87 لاکھ روپے کا دھوکہ دیا۔** بعد میں داخلے اور ویزے سے متعلق فراہم کردہ دستاویزات بھی مبینہ طور پر جعلی نکلیں۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ہفتے کو اس معاملے میں محمد نعمان اور فاطمہ سرور کے خلاف 93 لاکھ روپے کے مبینہ فراڈ کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزمان پر امریکی ویزے اور سکالرشپ کے نام پر رقم وصول کرنے اور جعلی دستاویزات فراہم کرنے کا الزام ہے۔ _انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں_ ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد میں درج ایف آئی آر کے مطابق محمد نعمان اور فاطمہ سرور کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 419 (شناخت بدل کر دھوکہ دہی)، دفعہ 420 (دھوکہ دہی کے ذریعے رقم یا املاک حاصل کرنا) اور دفعہ 109 (جرم میں معاونت یا اکسانا) کے علاوہ امیگریشن آرڈیننس 1979 کی دفعات 18 اور 22 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزمان پر امریکی ویزے اور سکالرشپ دلوانے کے نام پر رقم وصول کرنے اور مبینہ جعلی دستاویزات فراہم کرنے کا الزام ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ ملزمان نے باہمی ملی بھگت سے شکایت کنندہ امجد الرحمٰن کی بھانجی لائبہ اعجاز سے امریکہ ویزا فراہم کرنے اور سکالرشپ دلوانے کے بہانے 93 لاکھ روپے وصول کیے۔ ملزمان نے جعلی سکالرشپ ایوارڈ لیٹرز، یونیورسٹی ایڈمیشن آفر لیٹرز اور فیس پیمنٹ رسیدیں تیار کر کے متاثرہ خاندان کو دھوکے میں رکھا۔ 29 لاکھ روپے لائبہ اعجاز کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے اور باقی رقم نقد ادا کی گئی۔ اس سنگین مالی دھوکہ دہی اور ذہنی اذیت کے نتیجے میں متاثرہ لائبہ اعجاز کی موت ہوئی۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزم کی گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔ لائبہ کے خاندان کے مطابق، انہوں نے بیٹی کو امریکہ میں اعلیٰ تعلیم دلوانے کے لیے اپنی جمع پونجی خرچ کرنے کے علاوہ پلاٹ اور زیورات تک فروخت کر دیے تھے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ مبینہ فراڈ کا علم ہونے کے بعد لائبہ شدید ذہنی پریشانی کا شکار ہو گئیں۔ پولیس ان کی موت کے حالات کی تحقیقات کر رہی ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مبینہ فراڈ میں ملوث شخص کی گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔ **ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلے کا خواب** لائبہ اعجاز نے فزکس میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا اور وہ امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے سائنس دان بننا چاہتی تھیں۔ لائبہ کے ماموں رانا نعمان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بی ایس کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ان کی بھانجی امریکہ کی مختلف یونیورسٹیوں میں داخلے کے مواقع تلاش کر رہی تھیں۔ ان کے مطابق اسی سلسلے میں لائبہ اسلام آباد کے بلیو ایریا میں واقع ایک تعلیمی کنسلٹنسی کے دفتر گئی جہاں سے باہر نکلتے ہوئے محمد نعمان نامی شخص نے ان سے رابطہ کیا۔ رانا نعمان کا کہنا ہے کہ اس شخص نے خود کو سپریم کورٹ کا اکاؤنٹنٹ ظاہر کیا اور دعویٰ کیا کہ وہ جزوقتی طور پر امریکی یونیورسٹیوں میں داخلوں اور ویزا کنسلٹنسی کا کام بھی کرتا ہے۔ ان کے بقول محمد نعمان نے لائبہ کو یقین دہانی کروائی کہ وہ انہیں ہارورڈ یونیورسٹی میں سکالرشپ پر داخلہ دلوا سکتا ہے۔ اس یقین دہانی کے بعد خاندان نے لائبہ کے تعلیمی مستقبل کی امید میں اس شخص کے ذریعے داخلے اور ویزے کی کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ **والدین نے 87 لاکھ روپے کیسے جمع کیے؟** رانا نعمان کے مطابق ابتدا میں محمد نعمان نے ویزے اور دیگر اخراجات کی مد میں 10 سے 15 لاکھ روپے طلب کیے۔ بعدازاں اس نے مبینہ طور پر امریکہ میں مقیم عائزہ نامی خاتون کے ذریعے سکالرشپ اور مالی کفالت سے متعلق دستاویزات فراہم کرنے کا دعویٰ کیا۔ لائبہ کے ماموں کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے بعد بینک سٹیٹمنٹ کی تیاری کے لیے مزید رقم کا مطالبہ سامنے آیا۔ ان کے مطابق خاندان نے اپنا پلاٹ فروخت کرکے 40 لاکھ روپے محمد نعمان کے حوالے کیے۔ اس شخص نے مبینہ طور پر یقین دہانی کروائی کہ وہ رقم اپنے اکاؤنٹ میں رکھے گا اور بعد میں امریکی ڈالر کی صورت میں لائبہ کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دے گا۔ رانا نعمان کا دعویٰ ہے کہ اس رقم کے عوض خاندان کو رسید بھی فراہم کی گئی۔ ان کے مطابق اس کے بعد مزید 32 لاکھ روپے طلب کیے گئے، جن کا انتظام کرنے کے لیے لائبہ کے والد نے ان کی والدہ کے زیورات فروخت کیے۔ لائبہ کے ماموں کا کہنا ہے کہ مختلف مراحل میں محمد نعمان کو دی گئی رقم مجموعی طور پر تقریباً 87 لاکھ روپے بنتی ہے۔ تاہم ان ادائیگیوں، رسیدوں اور مجموعی رقم کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔ **دستاویزات جعلی ہونے کا انکشاف کیسے ہوا؟** رانا نعمان کے مطابق محمد نعمان نے خاندان کو بتایا تھا کہ لائبہ کا انٹرویو 12 اکتوبر کو ہوگا، جبکہ 20 اکتوبر کو ان کی امریکہ روانگی طے ہے۔ ان کے بقول خاندان کو ہوائی ٹکٹ بھی فراہم کیا گیا تھا، جس سے انہیں یقین ہو گیا کہ داخلے اور سفر کے انتظامات آخری مراحل میں ہیں۔ تاہم رانا نعمان کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے امریکی سفارت خانے سے ویزے اور داخلے سے متعلق دستاویزات کی تصدیق کروائی تو انہیں معلوم ہوا کہ فراہم کردہ کاغذات مبینہ طور پر جعلی ہیں۔ لائبہ کے ماموں کے مطابق اس انکشاف کے بعد ان کی بھانجی شدید پریشانی میں مبتلا ہو گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ لائبہ نے خاندان کی ایک خاتون سے درخواست کی تھی کہ ان کے والد کو مبینہ فراڈ کے بارے میں نہ بتایا جائے، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکیں گے۔ **دودھ فروخت کرکے بیٹی کو پڑھانے والے والد کی امیدیں** لائبہ کے اہل خانہ کے مطابق ان کے والد دودھ فروخت کرکے بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرتے تھے۔ فزکس میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والی لائبہ کی خواہش تھی کہ وہ امریکہ کی کسی ممتاز یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے سائنس کے شعبے میں اپنا مستقبل بنائیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ اسی خواب کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے اپنی جمع پونجی خرچ کی اور پلاٹ اور زیورات فروخت کرنے جیسے فیصلے کیے۔ اہل خانہ کے مطابق جب انہیں معلوم ہوا کہ جس داخلے اور سکالرشپ کے لیے اتنی بڑی رقم ادا کی گئی تھی، اس سے متعلق دستاویزات مبینہ طور پر جعلی ہیں، تو خاندان کو شدید مالی اور ذہنی صدمہ پہنچا۔ جمعے کی رات لائبہ کی لاش ملنے کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں۔ ان کی موت کے حتمی حالات اور مبینہ فراڈ سے اس کے تعلق کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گا۔ **ایف آئی اے کو تصاویر، ای میلز اور موبائل ڈیٹا فراہم** لائبہ کے ماموں رانا نعمان کے مطابق خاندان نے مبینہ فراڈ میں ملوث شخص کی تصاویر، موبائل فون کا ڈیٹا، ای میلز اور دیگر متعلقہ ریکارڈ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو فراہم کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے حکام نے محمد نعمان کو تلاش کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) تاہم محمد نعمان کا مؤقف سامنے نہیں آیا اور فراہم کردہ معلومات میں ان کے خلاف مقدمے کے اندراج یا گرفتاری کی تصدیق موجود نہیں۔ **وزیراعظم کا نوٹس، سینیٹ کمیٹی نے رپورٹ طلب کر لی** وزیراعظم شہباز شریف نے لائبہ اعجاز کی موت اور ان کے ساتھ مبینہ فراڈ کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو ملزم کی فوری گرفتاری کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے بھی واقعے کا نوٹس لیا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے متعلقہ حکام سے تحقیقاتی رپورٹ طلب کرتے ہوئے معاملے پر غور کے لیے 15 اکتوبر کو اجلاس بلا لیا ہے۔ اب پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی تحقیقات سے یہ واضح ہونا باقی ہے کہ لائبہ کی موت کن حالات میں ہوئی، خاندان سے وصول کی گئی مبینہ رقم کہاں گئی اور امریکی یونیورسٹی میں داخلے اور سکالرشپ کے نام پر فراہم کردہ دستاویزات کی حقیقت کیا تھی۔ **محسن نقوی کا انصاف کی فراہمی کا وعدہ** وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری نے لائبہ کے گھر جا کر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور واقعے کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے اور متاثرہ خاندان کو ہر صورت انصاف فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ محسن نقوی کے مطابق واقعے کی ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا پولیس تمام پہلوؤں سے واقعے کی تفتیش کر رہی ہے اور حقائق جلد سامنے لائے جائیں گے۔ اسلام آباد جرائم ایف آئی اے سائبر کرائم ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلے اور سکالرشپ کے لیے خاندان نے پلاٹ اور زیورات فروخت کیے۔ مہوش قماس خان ہفتہ, اکتوبر 10, 2026 - 17:00 Main image: > <p class="rteright">اسلام آباد کے سیکٹر جی 10 اور جی 11 کے درمیان گرین بیلٹ پر وہ مقام جہاں 9 اکتوبر، 2026 کی رات طالبہ لائبہ کی پھندہ لگی لاش ملی(اعتزاز حسن)</p> پاکستان type: news related nodes: اسلام آباد: نواب آف بہاولپور فیملی کے گھر چوری، ملزمان کا ریمانڈ اسلام آباد: ہم وطن کو قتل کے جرم میں چینی شخص کو سزائے موت اسلام آباد: سیف سٹی کیمروں کو نقصان پہنچانے پر 20 لاکھ جرمانہ اسلام آباد کے شہریوں کا کیا قصور ہے؟ SEO Title: اسلام آباد: درخت سے لٹتکی لڑکی کی لاش اور لاکھوں روپے کے مبینہ فراڈ کی کہانی copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 10/10/2026
independenturdu.com
ایمرجنسی نہ لگنے کی اب کوئی گنجائش نہیں بچی: محسن نقوی
**پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں جاری لانگ مارچ کے تناظر میں ہفتے کو اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا۔** ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں طے پایا کہ 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلائے جائیں گے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ملاقات میں وزیراعظم کی معاونت نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء الّلہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر سینیٹر احد چیمہ نے کی۔ سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم نے صدر مملکت کی معاونت کی۔ انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں ایوان صدر میں یہ اجلاس ایک ایسے موقعے پر ہوا جب اسلام آباد کی جانب بڑھنے والے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔ زرداری اور شہباز شریف کے درمیان ملاقات کے بعد پاکستانی میڈیا رپورٹ کر رہا ہے کہ وفاق نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کی اتوار کو وفاقی کابینہ سے منظوری لیے جانے کا امکان ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کابینہ سے منظوری کے بعد گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان 10 اکتوبر، 2026 کو اسلام آباد کے ایوان صدر میں ملاقات ہوئی (ایوان صدر) **ایمرجنسی نہ لگنے کی اب کوئی گنجائش نہیں بچی: محسن نقوی** وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں ایک لڑکی کی مبینہ خودکشی پر ان کے والد سے تعزیت کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ کے پی میں ایمرجنسی نہ لگنے کی اب کوئی گنجائش نہیں بچی۔ انہوں نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود مولانا فضل الرحمان اور بیرسٹر گوہر علی خان سے پتہ کریں کہ میں نے کتنی کوششیں کیں کہ معاملہ حل ہو جائے۔ ’میں نے آخری حد تک کوشش کی لیکن اب میرے پاس کچھ نہیں۔‘ **گورنر راج کا فیصلہ ہو گیا: پی پی پی رہنما** پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک سینیئر رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر نامہ نگار قرہ العین شیرازی کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے حوالے سے کابینہ اور پارلیمان سے منظوری لی جائے گی۔ **’مشاورت بدستور جاری‘** وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے جیو نیوز سے گفتگو میں کسی فیصلے کی تصدیق تو نہیں کی البتہ کہا کہ اس حوالے سے مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف درجوں پر مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔’میں ایک بار پھر کہتا ہوں کہ مشاورت جاری ہے اور یہ آخری راستہ ہے۔ ’اس سے پہلے کے تمام راستے، مثلاً مذاکرات اور پس پردہ بات چیت، ہم سب آزما چکے ہیں۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ اگر کوئی دوسرا راستہ باقی نہ رہا تو اس آخری قدم پر تمام پہلوؤں سے غور کیا جائے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ حالات اسی آخری آپشن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔‘ خیبر پختونخوا کے گورنر ہاؤس نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت صوبے میں امن برقرار رکھنے اور ترقی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔ بیان کے مطابق صوبےکے گورنر فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں امور کشمیر و گلگت بلتستان کے وفاقی وزیر امیر مقام سے ملاقات کی۔ ملاقات میں احتجاجی مارچ، صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورت حال اور دیگر سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام ’دہشت گردی‘ اور مبینہ طور پر انتشار کی پشت پناہی اور اسے فروغ دینے والے سیاسی گروہ سے تنگ آ چکے ہیں۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی کے ہزاروں حامیوں کے ہمراہ دارالحکومت کی جانب احتجاجی مارچ کی قیادت کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے حامی نو اکتوبر، 2026 کو پشاور میں احتجاجی مارچ میں شریک ہیں (اے ایف پی) پی ٹی آئی نے وفاقی حکومت پر عمران خان کی اپنے وکلا اور اہل خانہ تک رسائی محدود کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے، تاہم حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔ پی ٹی آئی ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ وفاقی حکومت کوئی پالیسی مسلط کرنے کے بجائے اتفاق رائے سے دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی تیار کرے۔ **’بات کرسی اور اقتدار سے آگے نکل چکی‘** سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کے ساتواں روز چارسدہ سے روانگی سے پہلے شرکا سے خطاب میں کہا کہ 11 تاریخ کو ملک بھر سے لوگ صوابی کی طرف روانہ ہوں گے جہاں 13 تاریخ کو وہ آگے کا لائحہ عمل دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’گورنر راج کی دھمکیاں دینے والے سن لیں اب بات کرسی اور اقتدار سے آگے نکل چکی ہے۔ ’میں اپنے قائد اور پختونوں کی زندگی کے لیے یہ کرسی کیا جان بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ہم پرامن ہیں اور پرامن رہیں گے مگر اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ’ہم نے 80 ہزار جانیں دے کر جس امن کو بحال کیا اسے بند کمروں کے فیصلوں کی نذر کر دیا گیا۔‘ **’طرز حکمرانی کے فقدان‘ پر تنقید** وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے آج پی ٹی آئی کی حکومت کو صوبے میں ’طرز حکمرانی کے فقدان‘ پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں ن الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت 700 ارب روپے دیے گئے۔ انہوں نے کہا ’آپ نے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو اپ گریڈ نہیں کیا، فرانزک لیبارٹریاں قائم نہیں کیں اور سیف سٹی کیمرے نصب نہیں کیے حالانکہ یہ ضم شدہ اضلاع اور خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع کے داخلی اور خارجی راستوں پر نصب کیے جانے چاہییں۔‘ وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی یہ رقم احتجاجی مظاہرے منظم کرنے پر خرچ کر رہی ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے تنقید کرتے ہوئے کہا ’آپ صوبے میں دہشت گردی کے معاملے پر بات کرنے کے لیے آدھا گھنٹہ بھی نہیں نکالتے لیکن بدامنی اور توڑ پھوڑ پھیلانے کے لیے چھ چھ گھنٹے کے اجلاس منعقد کرتے ہیں۔‘ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے قائد اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو جیل سے رہا کرانے کے لیے صوبے کے لاکھوں عوام کو ’یرغمال‘ بنا رکھا ہے۔ **پی ٹی آئی کا اہم اجلاس** ادھر خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع جان نے ایکس پر ایک بیان میں بتایا کہ سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں پارٹی کی سینیئر قیادت کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ > وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں سینئر پارٹی قیادت کا اہم اجلاس! وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی زیرِ صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں پارٹی قیادت کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال، بالقسط لانگ مارچ اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال اور مشاورت کی گئی. اجلاس میں قائم مقام چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، صوبائی صدر جنید اکبر خان، پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک اور صوبائی وزیر شفیع جان نے شرکت کی > > — Shafi Jan (@ShafiJanPTI) October 10, 2026 انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں ملکی سیاسی صورت حال، پارٹی کے مجوزہ لانگ مارچ اور دیگر اہم سیاسی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں آئندہ حکمتِ عملی اور تنظیمی امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ **اسلام آباد کی جانب ’لانگ مارچ‘** سہیل آفریدی نے گذشتہ اتوار کو شمال مغربی ضلع لکی مروت سے اسلام آباد کی جانب ’لانگ مارچ‘ کا آغاز کیا۔ یہ مارچ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے دو ادوار میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کے بعد شروع ہوا۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اس وقت عمران خان کے ہزاروں حامیوں کے ہمراہ ضلع چارسدہ میں موجود ہیں۔ انہوں نے جمعے کو سوشل میڈیا پر ایک بیان میں پارٹی کے تمام حامیوں اور ارکان پارلیمان پر زور دیا کہ وہ 14 اکتوبر کو ضلع صوابی پہنچیں۔ اتوار کو شروع ہونے کے بعد سے احتجاجی مارچ خیبر پختونخوا میں سست روی سے آگے بڑھ رہا ہے اور اس کا راستہ کئی بار تبدیل کیا گیا ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا، ’ان شا اللہ، 14 اکتوبر کو ہم صوابی سے آگے بڑھیں گے۔‘ پی ٹی آئی لانگ مارچ خیبر پختونخوا وزیراعظم اور صدر مملکت کی ملاقات، 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس بلانے کا فیصلہ۔  انڈپینڈنٹ اردو ہفتہ, اکتوبر 10, 2026 - 21:45 Main image: > <p>وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی چار اکتوبر، 2026 کو پشاور میں گورنر ہاؤس میں گورنر فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کے لیے پہنچے ہیں (گورنر ہاؤس)</p> سیاست type: news related nodes: لانگ مارچ 11 اکتوبر تک خیبر پختونخوا میں رہے گا: پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کریں تو بات ہوگی: وزیراعظم کی پی ٹی آئی کو پیشکش ’لانگ مارچ میں دہشت گردوں کی سہولت کاری‘: محسن نقوی، گورنر ملاقات دہشت گردی کی آگ نہ روکی تو پورا پاکستان لپیٹ میں آ سکتا ہے: سہیل آفریدی SEO Title: ایمرجنسی نہ لگنے کی اب کوئی گنجائش نہیں بچی: محسن نقوی copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 10/10/2026
independenturdu.com
بلوچستان: سی ٹی ڈی کا کارروائی میں 10 عسکریت پسندوں کی موت کا دعویٰ
**بلوچستان کے ضلع بارکھان کے علاقے راڑہ شم میں ہفتے کو محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی میں 10 مسلح افراد کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ دو سی ٹی ڈی اہلکار زخمی ہوئے۔** سی ٹی ڈی بلوچستان کے ترجمان اعتزاز احمد گورایا کے مطابق بارکھان کے علاقے راڑہ شم میں مسلح افراد کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا۔ کارروائی کے دوران مسلح افراد کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ _انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں_ سی ٹی ڈی نے مارے جانے والے افراد کی شناخت یا ان کی کسی مخصوص کالعدم تنظیم سے وابستگی کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز، پولیس اور سی ٹی ڈی بلوچستان میں عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔ **وزیراعلیٰ بلوچستان کا کارروائی پر اطمینان** وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بارکھان میں سی ٹی ڈی کی کارروائی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے سے عسکریت پسندی کے مکمل خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز، پولیس اور سی ٹی ڈی کا عزم غیر متزلزل ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں امن و امان برقرار رکھنے اور عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ سرفراز بگٹی کے بقول ’فتنہ الہندوستان‘ کے عزائم ناکام بنانے کے لیے سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ **راڑہ شم عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کا نشانہ کیوں بنتا رہا ہے؟** راڑہ شم بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 300 کلومیٹر شمال مشرق میں لورالائی اور بارکھان کے سنگم پر واقع ایک زرعی علاقہ ہے۔ یہ علاقہ بین الصوبائی شاہراہ این 70 پر واقع ہونے کی وجہ سے اہمیت رکھتا ہے۔ ماضی میں کالعدم تنظیموں سے وابستہ مسلح افراد اس مقام پر شاہراہ کی ناکہ بندی اور مسافروں کے اغوا جیسی کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ اگست 2024 میں اسی علاقے میں مسلح افراد نے شاہراہ پر ناکہ لگا کر پنجاب جانے والی بسوں اور ٹرکوں کو روکا تھا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اس حملے میں شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد 23 مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر قتل کر دیا گیا تھا، جبکہ 35 گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی تھی۔ اس واقعے نے بلوچستان کی بین الصوبائی شاہراہوں پر مسافروں کی سلامتی سے متعلق سنگین خدشات پیدا کیے تھے۔ **علاقے میں ماضی کے سکیورٹی آپریشن** ستمبر 2024 میں بھی راڑہ شم کے مقام پر سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران چار مسلح افراد کو مارنے کا دعویٰ کیا تھا۔ سکیورٹی فورسز کے مطابق یہ افراد مبینہ طور پر سڑک کنارے دھماکہ خیز مواد نصب کر رہے تھے۔ اسی طرح 2024 اور 2025 کے دوران علاقے میں متعدد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے، جن میں حکام کے مطابق کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے کمانڈر سلیم، بخت اور اکبر سمیت کئی مسلح افراد مارے گئے۔ بلوچستان عسکریت پسندی محکمہ انسداد دہشت گردی کارروائی بارکھان میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی میں دو سی ٹی ڈی اہلکار زخمی۔ محمد عیسیٰ ہفتہ, اکتوبر 10, 2026 - 16:45 Main image: > <p class="rteright">12 مارچ 2025 کو صوبہ بلوچستان کے ضلع سبی میں ایک ریلوے سٹیشن پر نیم فوجی دستے پہرہ دے رہے ہیں (بنارس خان / اے ایف پی)</p> پاکستان type: news related nodes: بلوچستان مسئلے کا حل مشکل نہیں مسئلہ بلوچستان سے جڑے 4 دلچسپ حقائق ’کیا آج کا بلوچستان بلوچوں کا نہیں؟‘ بلوچستان کو سرداروں کی ضرورت نہیں رہی؟ SEO Title: بلوچستان: سی ٹی ڈی کا کارروائی میں 10 عسکریت پسندوں کی موت کا دعویٰ copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 10/10/2026
independenturdu.com
’ہٹلر مسولینی‘ پیرو میں میئر منتخب
**کاروباری شخصیت ہٹلر مسولینی سیمیون فلورس، جن کے نام کے دو حصے یورپ کے بدنام زمانہ آمروں سے ملتے ہیں، پیرو کے پہاڑی علاقے اینڈیز کے ایک دور افتادہ ضلعے کے میئر منتخب ہو گئے ہیں۔** 45 سالہ فلورس نے پیرو کے وسطی علاقے ہوانوکو کی میونسپلٹی کیروپالکا میں میئر کا انتخاب جیتا۔ وہ یکم جنوری کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالیں گے۔ انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں نیشنل آفس آف الیکٹورل پروسیسز کے مطابق چار اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں بائیں بازو کی جماعت ’آہورا ناسیون‘ کے امیدوار فلورس نے مجموعی طور پر 663 ووٹوں میں سے 229 ووٹ حاصل کیے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ان کے قریب ترین حریف اور انتہائی دائیں بازو کے امیدوار گاسپر اوسوریو کو 204 ووٹ ملے۔ اگرچہ ان کے نام کا ایک حصہ جرمنی کے نازی دور کے آمر ایڈولف ہٹلر سے منسوب ہے، تاہم پیرو میں اس نام کے حامل کئی امیدوار انتخابات جیت چکے ہیں۔ 2021 میں پیرو کے عوام نے معالج ہٹلر ساویڈرا کاسٹرنوکے کو وسطی جماعت ’سوموس پیرو‘ کی جانب سے پارلیمان کا رکن منتخب کیا تھا۔ اس سے قبل 2018 میں ہٹلر البا سانچیز اینڈیز کے علاقے میں واقع ضلع یونگار کے میئر منتخب ہوئے تھے۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ وہ ’اچھے ہٹلر‘ ہیں۔ پیرو ہٹلر 45 سالہ ہٹلر مسولینی سیمیون فلورس ایک کاروباری شخصیت ہیں۔ اے ایف پی ہفتہ, اکتوبر 10, 2026 - 16:45 Main image: > <p>جون 1940 میں جرمنی کے شہر میونخ میں لی گئی اس فائل فوٹو میں دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی جرمنی کے آمر ایڈولف ہٹلر (دائیں) اطالوی فاشسٹ آمر بینیٹو مسولینی (بائیں) کے ساتھ گاڑی میں سوار ہیں (اے ایف پی)</p> دنیا type: news related nodes: رومیوں سے ہٹلر تک: نسلی برتری کا وہ خونی سفر جس نے جرمنی کو برباد کر دیا ہٹلر نے آئن سٹائن کے سر کی قیمت رکھی اور خاندان نے چکائی جرمن نسل پرستی جو ہٹلر تک آ پہنچی جب ہٹلر کے قتل کی مبینہ سازش پر سومیندر ٹیگور کو گرفتار کر لیا گیا SEO Title: ’ہٹلر مسولینی‘ پیرو میں میئر منتخب copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 10/10/2026
independenturdu.com
انڈیا میں ایک خاتون ٹرک حادثے میں بال بال بچ گئیں
**انڈیا کی ریاست مہاراشٹرا میں ایک خاتون ٹرک حادثے میں بال بال بچ گئیں۔** انڈیا انڈیا کی ریاست مہاراشٹرا میں ایک خاتون ٹرک حادثے میں بال بال بچ گئیں۔  انڈپینڈنٹ اردو ہفتہ, اکتوبر 10, 2026 - 16:00 Main image: ایشیا jw id: LJixwRUE type: video SEO Title: انڈیا میں ایک خاتون ٹرک حادثے میں بال بال بچ گئیں copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 10/10/2026
independenturdu.com
بیریئر ہٹانے کا کیس: ایمان، ہادی کی غیر موجودگی میں ٹرائل شروع
**اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں بیرئیر ہٹانے کے کیس میں ہفتے کو ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکلا کی جانب سے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کے بعد دونوں ملزمان کی غیر موجودگی میں ٹرائل شروع کر دیا گیا۔ عدالت نے استغاثہ کے تین گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے اور مزید گواہوں کو پیر (12 اکتوبر) کو طلب کر لیا۔** ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف درج اس مقدمے میں پولیس کا الزام ہے کہ ملزمان نے اسلام آباد میں ایک احتجاج کے دوران حکومت مخالف نعرے لگائے، سڑکیں بلاک کیں اور سرکاری امور میں مداخلت کی۔ مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 سمیت تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔ دونوں ملزمان نے ان دفعات کو چیلنج کر رکھا ہے، جبکہ فردِ جرم کے خلاف بھی اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے، جو کہ رواں ماہ سات اکتوبر کو عائد کی گئی تھی۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے ہفتے کو اس کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت عدالتی حکم کے باوجود ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ابتدا میں جیل سے ذاتی حیثیت میں عدالت پیش نہیں کیا جا سکا، جس پر جج نے جیل حکام سے جواب طلب کیا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) عدالت نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ وہ وضاحت کریں کہ دونوں ملزمان کو پیش کیوں نہیں کیا گیا۔ عدالت نے 11 بجے تک واٹس ایپ کے ذریعے تحریری رپورٹ بھی طلب کی۔ بعد ازاں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران ملزمان کی وکیل زینب جنجوعہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف فردِجرم کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے اور اس معاملے کی سماعت پیر کو مقرر ہے، اس لیے انسداد دہشت گردی عدالت کو فی الحال کارروائی آگے نہیں بڑھانی چاہیے۔ جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ ’اگر فردِ جرم درست طور پر عائد نہیں ہوئی تو ہائی کورٹ اسے ختم کر سکتی ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اعلیٰ عدالتیں اس معاملے پر پہلے ہی ہدایات دے چکی ہیں اور جب ٹرائل روکنے کا حکم موجود نہیں تو کارروائی کیوں روکی جائے۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے جج سے مکالمہ کیا۔ ہادی علی چٹھہ نے کہا کہ وہ عدالت کا احترام کرتے ہیں اور ان کے نزدیک منصفانہ ٹرائل کے بغیر مقدمے کی کارروائی آگے نہیں بڑھائی جا سکتی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ انہیں عدالتی حکم کے باوجود ذاتی حیثیت میں عدالت کیوں پیش نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا۔ وکیل زینب جنجوعہ نے اعتراض کیا کہ دونوں ملزمان کی ویڈیو لنک پر عدم موجودگی کے دوران کارروائی کی گئی اور اس اعتراض کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی استدعا کی۔ وکلا نے ایڈووکیٹ ریاست علی آزاد کی عدم موجودگی اور ان کی مصروفیت کا حوالہ دیتے ہوئے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست بھی کی، تاہم عدالت نے یہ استدعا مسترد کر دی۔ عدالت نے انسداد دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے سے متعلق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی درخواست بھی مسترد کر دی۔ جج طاہر عباس سپرا نے قرار دیا کہ اس مرحلے پر درخواست نہیں دیکھی جا سکتی اور وہ اپنے سابقہ حکم پر نظرثانی کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ وکلا کے بائیکاٹ کے بعد عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی عدم موجودگی میں ٹرائل کی کارروائی شروع کرتے ہوئے استغاثہ کے تین گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے۔ ان میں ایف آئی آر کا گواہ، محرر اور جامہ تلاشی کے گواہ شامل تھے۔ عدالت نے استغاثہ کے باقی گواہوں کو پیر کے روز طلب کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کر دی۔ ایمان مزاری عدالت اسلام آباد انسداد دہشت گردی عدالت نے ہفتے کو استغاثہ کے تین گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے اور مزید گواہوں کو 12 اکتوبر کو طلب کر لیا۔ مہوش قماس خان ہفتہ, اکتوبر 10, 2026 - 14:00 Main image: > <p class="rteright">20 اگست 2023 کو اسلام آباد میں پولیس اہلکار وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری (درمیان) کو عدالت میں پیش کر رہے ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p> پاکستان type: news related nodes: بیریئر ہٹانے کا کیس: ایمان مزاری، ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد ایمان مزاری کو عدالتی ریلیف سے اپیلیں دوبارہ زندہ ہو گئیں: پراسیکیوٹر ایمان مزاری اور ہادی علی کی گرفتاری، وکلا کا عدالتی بائیکاٹ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ ’اڈیالہ جیل کے باہر‘ سے دوبارہ گرفتار SEO Title: بیریئر ہٹانے کا کیس: وکلا کا بائیکاٹ، ایمان اور ہادی کی غیر موجودگی میں ٹرائل شروع copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 10/10/2026
independenturdu.com
انڈیا: الیکشن کمشنر کے خلاف مظاہرے سے قبل کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ زیرِ حراست
**انڈیا میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے بتایا ہے کہ پولیس نے الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ہونے والے بڑے احتجاج سے قبل ہفتے کو تحریک کے سربراہ ابھیجیت دپکے کو حراست میں لے لیا۔** نوجوانوں کی زیر قیادت سی جے پی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ ابھیجیت دِپکے اور دو دیگر رہنماؤں کو دارالحکومت نئی دہلی میں پرواز سے اترنے سے قبل ہی حراست میں لے لیا گیا، جہاں یہ مظاہرہ ہونا تھا۔ انڈین میڈیا کے مطابق معروف یوٹیوبر دھروو راٹھی کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ مظاہرے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کی جانب سے ملک بھر میں ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے دوران بے ضابطگی کے الزامات کے بعد کئی ہفتے سے جاری اپوزیشن کی مہم کا نتیجہ ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اس نظرثانی سے لاکھوں ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے سے محروم ہو سکتے ہیں، جس سے وزیراعظم نریندر مودی کی برسرِ اقتدار ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچے گا۔ > View this post on Instagram > > A post shared by Independent Urdu (@indyurdu) الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے خصوصی اور تفصیلی نظرثانی میں بے ضابطگی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد دوہرے اور نااہل ووٹرز کو نکالنا تھا۔ اپوزیشن جماعت عام آدمی پارٹی کے اروند کیجریوال نے ایک بیان میں کہا کہ اب یہ باضابطہ ہو چکا ہے کہ ہم مودی کی حکمرانی میں ایک مکمل آمریت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ’پرواز سے اترتے ہی کاکروچز کو گرفتار کرنا خوف کی ایک بے مثال سطح کو ظاہر کرتا ہے۔‘ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) جمعے سے نئی دہلی میں سکیورٹی کی سخت پابندیاں عائد ہیں اور دارالحکومت کے وسط میں واقع احتجاج کے مرکزی مقام جنتر منتر تک پہنچنے کی کوشش کرنے والوں کو روکنے کے لیے دسیوں ہزار پولیس اور پیرا ملٹری اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ حکام نے درجنوں میٹرو سٹیشن بند کر دیے ہیں، دہلی آنے والی کئی ٹرینیں منسوخ کر دی ہیں اور احتجاج کے مقام کے ارد گرد موبائل انٹرنیٹ بھی عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ ہفتے کو ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے والے مناظر میں پولیس کو وسطی دہلی کے آس پاس کے علاقوں میں کئی مظاہرین کا پیچھا کرتے اور انہیں کھینچ کر گاڑیوں میں ڈالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک 200 سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ ان مظاہروں کو وسیع پیمانے پر جولائی میں کارکروچ جنتا پارٹی کی عوامی مہم کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں امتحانات کے ایک سکینڈل پر وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔ اس بار وہ الیکشن کمیشن کے سربراہ گیانیش کمار سے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انڈیا نئی دہلی مظاہرہ احتجاج الیکشن کمیشن سی جے پی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ ابھیجیت دپکے اور دو دیگر رہنماؤں کو نئی دہلی میں پرواز سے اترنے سے قبل ہی حراست میں لے لیا گیا۔  انڈپینڈنٹ اردو ہفتہ, اکتوبر 10, 2026 - 13:00 Main image: > <p class="rteright">کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے کی 10 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی میں پرواز سے اترنے سے قبل ہی حراست میں لینے کے مناظر۔ انہوں نے جنتر منتر میں الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج میں شریک ہونا تھا (سکرین گریب/ کارکروچ جنتا پارٹی انسٹاگرام اکاؤنٹ)</p> ایشیا jw id: 4QlUyg0J type: video related nodes: انڈیا: ’کاکروچز‘ کا چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے لیے الٹی میٹم ’جھکتی ہے دنیا، جھکانے والا چاہیے‘ کے نعرے کے ساتھ کاکروچ پارٹی اور جین زی کا مظاہرہ ختم کاکروچ جنتا پارٹی اور بدلتا انڈیا دہلی پولیس نے ’کاکروچ تحریک‘ میں شریک راہل کو رہا کر دیا SEO Title: انڈیا: الیکشن کمشنر کے خلاف مظاہرے سے قبل کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ زیرِ حراست copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000