Sign in

Independent Urdu [Unofficial]

@independenturdu.com.web.brid.gy
383 followers 0 following 7.9K posts

انڈپینڈنٹ اردو معروف برطانوی اخبار دی انڈپینڈنٹ کا اردو روپ ہے۔ اس کا مقصد اپنے قارئین کو غیر جانبدارانہ اور مصدقہ صحافتی مواد پیش کرنا ہے، جو مستند ہونے کے […] 🌉 bridged from 🌐 independenturdu.com: fed.brid.gy/web/independenturdu.com

PostsRepliesMedia
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 11h
independenturdu.com
پاکستان کا فتح-4 کروز میزائل کے توسیع شدہ ورژن کا تجربہ
**پاکستانی فوج نے منگل کو مقامی طور پر تیار کیے گئے فتح-4 کروز میزائل کے توسیع شدہ ورژن کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جس کے دوران میزائل کی ’بہتر درستگی‘ کو جانچا گیا۔** پاکستان آرمی کی راکٹ فورس کمانڈ کا حصہ فتح-4 کم بلندی پر زمین کی ساخت کے مطابق پرواز کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس صلاحیت کو ’ٹیرین ہیگنگ‘ کہا جاتا ہے، جس سے میزائل کو دشمن کے فضائی دفاع اور میزائل روکنے والے نظام سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ فتح کروز میزائل سیریز پاکستان کے مقامی میزائل تیاری کے پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آپریشنل تیاری اور اہداف کو درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔ پاکستانی فوج نے گذشتہ سال ستمبر میں بتایا تھا کہ اس میزائل کی رینج 750 کلومیٹر ہے۔ پاکستانی فوج کے مطابق جدید ایویونکس اور جدید ترین نیوی گیشن نظام سے لیس یہ ہتھیار زیادہ فاصلے پر موجود اہداف کو انتہائی درستگی اور مؤثر طریقے سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) فوج نے کہا کہ اس تجربے کے دوران بہتر درستگی اور میزائل کی بقا کی صلاحیت بڑھانے کے لیے شامل کیے گئے مختلف ذیلی نظاموں کے اضافی تکنیکی پیمانوں کو بھی جانچا گیا۔ پاکستان نے اگست 2025 میں راکٹ فورس کمانڈ کے قیام کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد روایتی میزائل جنگ میں آپریشنل تیاری اور رابطہ کاری بہتر بنانا ہے، جبکہ جوہری صلاحیت رکھنے والے نظام الگ نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کے تحت رہتے ہیں۔ راکٹ فورس کمانڈ کو علاقائی سکیورٹی کشیدگی، بالخصوص مئی 2025 میں انڈیا کے ساتھ ہونے والی مختصر لیکن شدید لڑائی کے تناظر میں پاکستان کی روایتی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ پاکستانی فوج کے مطابق منگل کو ہونے والے میزائل تجربے کا مشاہدہ اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ میزائل تیار کرنے والے ادارے کے سائنس دانوں اور انجینیئرز نے بھی کیا۔ فوج نے مزید بتایا کہ صدر، وزیراعظم اور چیف آف ڈیفنس فورسز نے فتح-4 کے توسیع شدہ ورژن کے کامیاب تجربے پر مبارک باد دی اور اس سنگ میل کے حصول میں کردار ادا کرنے والے تمام افراد کی تکنیکی صلاحیت، لگن اور عزم کو سراہا۔ پاکستان فوج میزائل تجربہ راکٹ فورس پاکستان آرمی کی راکٹ فورس کمانڈ کا حصہ فتح-4 کم بلندی پر زمین کی ساخت کے مطابق پرواز کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔  انڈپینڈنٹ اردو منگل, اکتوبر 6, 2026 - 21:15 Main image: > <p>پاکستان کے فتح-4 زمین سے داغے جانے والے کروز میزائل کو 6 اکتوبر 2026 کو کیے گئے تجربے کے دوران دیکھا جا سکتا ہے (آئی ایس پی آر)</p> پاکستان jw id: uIS01chI type: video related nodes: پاکستان کا ’آرمی راکٹ فورس کمانڈ‘ بنانے کا اعلان پاکستانی آبدوز ’ہنگور‘ کا جہاز شکن کروز میزائل کا کامیاب تجربہ بنیان مرصوص میں شاہین میزائل داغنے کی خبریں ’بے بنیاد‘: پاکستان براہموس میزائل کی انکوائری رپورٹ: پاکستانی ماہرین ناخوش، انڈیا مطمئن SEO Title: پاکستان کا فتح-4 کروز میزائل کے توسیع شدہ ورژن کا تجربہ copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 12h
independenturdu.com
اسرائیل فلائی دبئی کی پرواز مار گرانے کے لیے تیار تھا: سی بی ایس نیوز
**اسرائیل فلائی دبئی کی دبئی سے تل ابیب جانے والی اس مسافر پرواز کو مار گرانے کے لیے تیار تھا جس میں 150 سے زائد اسرائیلی سوار تھے، تاہم طیارے کا رخ سعودی عرب کی جانب ہونے کے بعد اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو واپس بلا لیا گیا۔** سی بی ایس نیوز نے پیر کو واقعے سے واقف دو اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا۔ اسرائیل میں مسافر طیاروں کے ذریعے نائن الیون طرز کے ممکنہ حملوں سے نمٹنے کے لیے طویل عرصے سے ایک طریقۂ کار موجود ہے، جس کے تحت ملک کی جانب بڑھنے والے بے قابو طیارے کو کسی اہم ہدف سے ٹکرانے سے روکنے کے لیے مار گرایا جا سکتا ہے۔ ایسا فیصلہ بالآخر وزیراعظم کو کرنا ہوتا ہے اور اس قسم کی کارروائی کو ممکنہ طور پر سینکڑوں افراد کی جانیں بچانے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ذرائع نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ ’اگر کوئی بے قابو طیارہ اسرائیل کی معروف ازریلی عمارتوں، ہوائی اڈے یا کسی دوسرے ’اہم ہدف‘ سے ٹکرا جائے اور اس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد مارے جائیں، تو اس کے مقابلے میں مسافر طیارے کو مار گرانا بہتر سمجھا جائے گا۔‘ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز اس وقت تقریباً 14 ہزار فٹ نیچے آ گئی جب مبینہ طور پر شریک پائلٹ نے کپتان پر چاقو سے حملہ کیا اور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔ کاک پٹ سے رابطے کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو فوری طور پر روانہ کیا گیا اور اسرائیلی فضائی حدود بند کر دی گئیں۔ بعد میں جب مسافر طیارے نے سعودی عرب کا رخ کیا تو اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو واپس بلا لیا گیا، جبکہ سعودی عرب نے بھی اپنے لڑاکا طیارے تعینات کیے تھے۔ بالآخر کپتان اور مسافروں نے شریک پائلٹ پر قابو پا لیا، جس کے بعد طیارے نے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کی۔ اسرائیل دبئی پرواز سعودی عرب مسافر طیارہ کاک پٹ میں کپتان پر حملے کے بعد اسرائیلی لڑاکا طیارے روانہ ہوگئے تھے، مسافر طیارے کا رخ سعودی عرب کی جانب ہونے پر واپس بلا لیا گیا۔  انڈپینڈنٹ اردو منگل, اکتوبر 6, 2026 - 20:00 Main image: > <p class="rteright">شمالی اسرائیل سے 13 مارچ، 2026 کو لی گئی تصویر میں اسرائیلی فضائیہ کا ایف-16 لڑاکا طیارہ پرواز کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی/فائل)</p> دنیا type: news related nodes: ایک پائلٹ بیت الخلا میں، دوسرا بے ہوش، جرمن مسافر طیارہ 10 منٹ تک اڑتا رہا پائلٹس جھگڑے میں زخمی: دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز سعودی عرب اتر گئی مسافر طیارہ بذریعہ سڑک کراچی سے حیدر آباد روانہ پائلٹس جھگڑے میں زخمی: دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز سعودی عرب اتر گئی SEO Title: اسرائیل فلائی دبئی کی پرواز مار گرانے کے لیے تیار تھا: سی بی ایس نیوز copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 14h
independenturdu.com
ڈیرہ اسماعیل خان میں حملے، 3 سرکاری اہلکاروں سمیت 5 افراد کی موت
**خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں منگل کو الگ الگ حملوں میں مسلح افراد نے تین سرکاری اہلکاروں اور دو شہریوں کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔** یہ واقعات افغانستان سے متصل خطے میں عسکریت پسندوں کے تشدد میں اضافے کے دوران پیش آئے ہیں۔ زیادہ ہلاکت خیز حملہ یونیورسٹی روڈ پر بھٹی پمپ کے قریب ہوا جہاں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی۔ واقعے میں وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے دو اہلکاروں اور دو شہریوں سمیت چار افراد جان سے گئے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق اس کے کنٹرول روم کو صبح 11 بج کر 40 منٹ پر مذکورہ مقام پر کسٹمز اہلکاروں پر حملے کی اطلاع موصول ہوئی، جس کے بعد ہنگامی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر روانہ کی گئیں۔ ریسکیو سروس نے ایک بیان میں کہا کہ اہلکاروں کو جائے وقوعہ سے چار افراد کی لاشیں ملیں اور انہیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز (ڈی ایچ کیو) ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیا گیا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) منگل کو ہی اس سے قبل ضلع میں بائی پاس پر نامعلوم مسلح افراد نے ہائی وے پولیس کی ایک پولیس موبائل وین پر فائرنگ کی۔ عرب نیوز کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی کا ڈرائیور جان سے گیا جبکہ گشت پر مامور انچارج افسر اور ایک اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دونوں مقامات کو گھیرے میں لے کر شواہد جمع کیے اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی۔ فوری طور پر کسی گروپ نے دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ یہ واقعات ڈیرہ اسماعیل خان میں حالیہ تشدد کا تازہ سلسلہ ہیں۔ خیبر پختونخوا کا یہ ضلع پاکستان میں عسکریت پسندوں، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کے خلاف جاری کارروائیوں میں اہم مرکز بن چکا ہے۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بتایا کہ پیر کو ضلع میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی کارروائی میں تین عسکریت پسندوں کو مارا گیا، جبکہ اس سے ایک روز قبل حکام نے آٹھ دیگر عسکریت پسندوں کو مارنے کی اطلاع دی تھی، جن میں تین کمانڈر بھی شامل تھے۔ خیبر پختونخوا ڈیرہ اسماعیل خان عسکریت پسندی اموات زیادہ ہلاکت خیز حملہ یونیورسٹی روڈ پر بھٹی پمپ کے قریب ہوا جہاں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی۔  انڈپینڈنٹ اردو منگل, اکتوبر 6, 2026 - 18:30 Main image: > <p>ڈیرہ اسماعیل خان میں 12 دسمبر، 2023 کو عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد سکیورٹی اہلکار جائے وقوعہ کا جائزہ لیتے ہوئے (اے پی)</p> پاکستان type: news related nodes: ڈیرہ اسماعیل خان میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ، 12 اموات ڈیرہ اسماعیل خان میں کارروائی، ’انتہائی مطلوب دہشت گرد‘ مارا گیا: فوج ڈیرہ اسماعیل خان میں بم حملہ، تین پولیس اہلکاروں کی موت ڈیرہ اسماعیل خان میں نو عسکریت پسند مارے گئے: پاکستان فوج SEO Title: ڈیرہ اسماعیل خان میں حملے، 3 سرکاری اہلکاروں سمیت 5 افراد کی موت copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 15h
independenturdu.com
پی ٹی آئی لانگ مارچ: پنجاب اور دیگر صوبوں سے قافلے کیوں نہ جا سکے؟
**پاکستان کی اپوزیشن جماعت تحریک انصاف بانی چیئرمین عمران خان کے علاج اور رہائی کا مطالبہ لے کر لانگ مارچ کر رہی ہے۔ لیکن یہ صرف وہیں ہو رہا ہے جہاں کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔** سب سے زیادہ آبادی کے صوبے پنجاب اور دیگر صوبوں سے مختلف وجوہات کے باعث قافلے روانہ نہیں ہوسکے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے پہلے 27ستمبر پھر چار اکتوبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان ملک بھر کے لیے تھا۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے لاہور میں لانگ مارچ کے لیے کارکنوں کو متحرک کرنے کی غرض سے دورہ بھی کیا۔ پنجاب میں 27ستمبر سے پہلے ہی عمران خان کی بہنوں اور کئی رہنماؤں کو تین ایم پی او کے تحت جیل میں نظر بند کیا جا چکا ہے اور پنجاب حکومت نے 15 اکتوبر تک صوبے میں دفعہ 144نافذ کر دی ہے۔ تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا ایک مرحلہ ناکام ہوچکا ہے۔ تاہم دوبارہ کوششیں جاری ہیں۔ **پنجاب سے لانگ مارچ کی کتنی تیاری؟** پی ٹی آئی کی پنجاب سے لانگ مارچ کے لیے تشکیل کمیٹی کے کنوینئر ملک ظہیر عباس کھوکھر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’پنجاب میں حکومت نے ہماری قیادت کی گرفتاریاں کر رکھی ہیں۔ مختلف شہروں میں کریک ڈاؤن جاری ہے۔ دفعہ 144نافذ کر دی گئی ہے اور دھمکیاں لگائی جارہی ہیں۔ ’پنجاب یا دوسرے صوبوں سے کارکن اس لیت لانگ میں مارچ میں شرکت کے لیے روانہ نہیں ہوئے کیونکہ قیادت نے ابھی تک آنے کی ہدایت نہیں دی۔ جیسے ہی ہمیں کال دی جائے گی ہم تمام روکاوٹیں عبور کر کے اسلام آباد یا کے پی کے پہنچیں گے۔ البتہ ہمارے کئی رہنما اور کارکن اپنے طور پر کے پی میں لانگ مارچ کے ساتھ ہیں۔‘ تجزیہ کار محمل سرفراز نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’متعدد بار پی ٹی آئی کی کال پر پنجاب میں احتجاج اور ریلیوں کی کوشش ناکام ہوچکی ہے۔ سہیل آفریدی کے دورہ لاہور کے دوران بھی کارکنوں کی حوصلہ افزا تعداد باہر نہیں نکلی۔ سیاست میں کارکن اور رہنما فائدے کے لیے باہر نکلتے ہیں۔ لیکن بار بار احتجاجی سیاست اور حکومتی کارروائیوں کے باعث اب پنجاب کے رہنما اور کارکن مشکلات کا سامنا کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔‘ محمل کے بقول،’تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بھی پی ٹی آئی کو سمجھایا ہے کہ ملک کے دوسرے صوبوں سے لانگ میں شرکت کے لیے کارکنوں کو بلا کر ٹکراؤ پیدا نہ کیا جائے۔ حکومت کا ردعمل بھی اس بار پہلے سے زیادہ سخت ہوگا جس سے مزاکرات کا ماحول پہلے ہی خراب ہوجائے گا۔ لہذا کے پی کے میں ہی رکھیں وہاں سے اسلام آباد کی طرف فوری بڑھنے کی بجائے مطالبات منوانے کی کوشش کی جائے۔ لہذا تحریک انصاف بھی اب ایک حد تک دباؤ چاہتی ہے تاکہ نو مئی جیسے حالات پیدا نہ ہوں۔‘ **پنجاب میں تنظیم کتنی متحرک؟** تجزیہ کار سلمان غنی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’احتجاجی اور مزاحمتی بیانیہ ہمیشہ سے پی ٹی آئی کی پہچان رہا ہے۔ ماضی میں وہ اسے بروئے کار لا کرحکومتوں کو دفاعی محاذ پر لاتی رہی ہے۔ اس کے پیچھے بہت سے عوامل تھے مگر پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمہ کے بعد پی ٹی آئی کی احتجاجی لائحہ عمل اور ریاست مخالف بیانیہ نے ان کے لیے مشکلات کھڑی کیں۔ ریاست اور حکومت نے اس باردباو میں آنے اور سرنڈر کرنے سے انکار کر دیا۔ خود پی ٹی آئی کی سیاست کے آگے بہت سے سوالات کھڑے ہوگئے۔‘ بقول سلمان ’پر تشدد مزاحمتی سیاست سے پنجاب میں پی ٹی آئی کی قیادت یا تو جیلوں میں قید ہوگئی اور باقی کنارہ کشی کر گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اب ماضی کی طرح پنجاب میں حکومت رہنے کے باوجود سٹریٹ پاور اتنی متحرک نہیں رہی۔ پھر پنجاب کے لوگ احتجاجی سیاست سے تنگ بھی آچکے ہیں اس لیے ہر کال پر لبیک نہیں ہورہا۔‘ سلمان غنی کے بقول، ’نو مئی کے واقعات نے تو حکومت اور ریاست کے لیے ایسی خطرے کی گھنٹی بجائی کہ پھر پی ٹی آئی کے احتجاج ،دھرنوں اور لانگ مارچز عملی نتیجہ خیز نہ ہوسکے۔ ان کی سیاسی طاقت میں کمی آئی اور خصوصا بانی پی ٹی آئی کے بیانات اور اعلانات نے بہت سے سوالات کھڑے کر دیے۔ ’اس وقت دیکھنے میں آ رہاہے کہ پی ٹی آئی کا احتجاجی لانگ مارچ صرف پختونخواہ تک محدود نظر آ رہا ہے۔ اس لیے کہ ان کی وہاں ان کی حکومت ہے۔ خود حکومت پر اپنے عوام کو جوابدہی کی بجائے احتجاجی بخار میں مبتلا نظر آ رہی ہے۔‘ غنی نے کہا کہ ’دوسرے صوبوں خصوصا پنجاب میں سانپ سونگھا نظر آ رہا ہے بلا شبہ یہاں انکی لیڈر شپ جیل میں ہے اور حکومت کی انتظامی گرپ بھی مضبوط ہے ۔مگر پنجاب سے بڑی تعداد میں ووٹ بنک رکھنے کے باوجود پنجاب میں تحریک موجود نھی۔ اسے عدم دلچسپی میں بدلنے کی بڑی وجہ بانی پی ٹی آئی کی غیر سیاسی پالیسی رہی۔ ہمدری کے باوجود ریاست اور اداروں کے حوالہ سے تحفظات نے عوام کو سوچنے پر مجبور کیاہے کہ یہ ایجنڈا سیاسی نہیں۔ لہذا ان کے اپنے لوگ اور ووٹرز خاموش ہوگئے یہی کیفیت سندھ اور بلوچستان میں نظر آ رہی ہے۔‘ سلمان غنی کے بقول: ’پی ٹی آئی نے خود اپنی سیاست اور احتجاج کو اپنے صوبہ تک محدود کر لیا ہے اور پنجاب کو کسی خاطر میں لانے کو تیار نہیں تو پھر پنجاب کے اراکین اسمبلی اور ذمہ داران بھی کوئی بڑا کردار ادا کرنے کے موڈ میں نہیں۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ’جب احتجاج کا عمل آتا ہے وہ منظر سے غائب ہو جاتے ہیں ۔ ویسے بھی اراکین اسمبلی میں مایوسی کی ایک بڑی وجہ پارلیمنٹ کی سطح پر اپنی جماعت کے اپوزیشن لیڈر نہ ہونا ہیں۔ اراکین اسمبلی سمجھتے ہیں کہ جب پارٹی لیڈر کو ہم پر اعتماد نہیں تو وہ ان اپوزیشن لیڈرز سے نتائج بھی لے لیں ۔ ویسے بھی پنجاب کے محاذ پر سلمان اکرم راجہ کا تعلق لاہور سے ہونے کے باوجود ان کی سرگرمیوں کا مرکز لاہور نہیں رہا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ کہا جائے کہ پنجاب میں بڑا ووٹ بینک رکھنے کے باوجود سیاسی محاذ پر خاموشی کے عمل نے خود پی ٹی آئی کی احتجاجی صلاحیت کو نقصان پہنچایا ہے۔‘ سلمان کے خیال میں پختونخواہ کا احتجاجی عمل اس لیے نتیجہ خیز اور موثر نہیں سمجھا جاتا کیونکہ وہاں ان کی اپنی حکومت اوروسائل ہیں۔ لیکن اسلام آباد میں سیاسی تبدیلی کا راستہ ہمیشہ لاہور سے یا پنجاب سے ہوکر جاتا ہے۔ ماضی میں پنجاب سے چلنے والی ہر تحریک کامیاب ہوئی اس لیے جب تک پنجاب متحرک نہیں ہوگا پی ٹی آئی کی بھی کوئی تحریک کامیاب نہیں ہوسکتی۔" لانگ مارچ لاہور پی ٹی آئی حکومت اسلام آباد سب سے زیادہ آبادی کے صوبے پنجاب اور دیگر صوبوں سے مختلف وجوہات کے باعث قافلے روانہ نہیں ہوسکے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے پہلے 27ستمبر پھر چار اکتوبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ ارشد چوہدری منگل, اکتوبر 6, 2026 - 17:30 Main image: > <p class="rteright">عمران خان کے حامیوں کا پانچ نومبر 2022 کو لاہور میں احتجاج (اے ایف پی)</p> سیاست type: news related nodes: لانگ مارچ، دھرنے ختم کریں تو بیٹھ کے بات ہو گی: وزیر اعظم کی تحریک انصاف کو مذاکرات کی پیشکش ’لانگ مارچ میں دہشت گردوں کی سہولت کاری‘: محسن نقوی، گورنر ملاقات 2022 سے اب تک: تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی کہانی پی ٹی آئی لانگ مارچ سے قبل اسلام آباد اور پنجاب کے بعض اضلاع میں رینجرز تعینات SEO Title: پی ٹی آئی لانگ مارچ: پنجاب اور دیگر صوبوں سے قافلے کیوں نہ جا سکے؟ copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 16h
independenturdu.com
امریکہ ایران مکالمہ پاکستان کی کوششوں کا نتیجہ: سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ
**اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیریش نے منگل کو اسلام آباد میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ پریس کانفرنس میں پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان مکالمے کی راہ ہموار کرنے اور ثالثی کے کردار کی تعریف کی ہے۔** انہوں نے کہا کہ 17 جون کی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت، اس کے بعد ہونے والی جنگ بندی اور آئندہ مذاکرات کا ڈھانچہ انہی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل نے تنازع کے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ لڑائی ختم کی جائے، سفارت کاری کی طرف واپسی ہو اور بین الاقوامی قانون کے مطابق بحری آمدورفت کے حقوق اور آزادیاں مکمل طور پر بحال کی جائیں۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس حق کے مکمل حصول کے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق پاکستان طویل عرصے سے اس مؤقف کی حمایت کرتا آیا ہے۔ **افغان مہاجرین** سیکرٹری جنرل نے اپنے سابقہ منصب، یعنی اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان کی میزبانی کو قریب سے دیکھا ہے۔ ان کے بقول پاکستان نے کئی دہائیوں تک لاکھوں افغانوں کو پناہ دی، جو تنازعات اور عدم استحکام سے بچ کر یہاں آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ تحفظ کے اصولوں کی پاسداری کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق افغانوں کی واپسی رضاکارانہ، محفوظ اور باوقار طریقے سے ہونی چاہیے۔ **سلامتی کونسل اور امن مشن** سیکرٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان نے گذشتہ دو برسوں میں سلامتی کونسل کے رکن کے طور پر کثیرالجہتی نظام، مکالمے، ثالثی اور سفارت کاری کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور عدم اعتماد کے دور میں یہ کردار نمایاں رہا۔ انہوں نے پاکستان کو اقوام متحدہ کے امن مشنز میں سب سے قدیم اور بڑے حصہ داروں میں سے ایک قرار دیا۔ ان کے مطابق پاکستانی مرد و خواتین نے مشکل اور خطرناک ماحول میں ہمت کے ساتھ خدمات انجام دیں، جبکہ 180 سے زائد پاکستانی امن کی خدمت کے دوران جان سے گئے۔ سیکرٹری جنرل نے ڈنمارک کے ساتھ مل کر سلامتی کونسل کی قرارداد 2823 میں پاکستان کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ ان کے مطابق اس قرارداد سے اقوام متحدہ کے امن اہلکاروں کے خلاف جرائم پر جواب دہی مضبوط ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ 156 ممالک نے اس کی مشترکہ سرپرستی کی، جو سلامتی کونسل کی کسی قرارداد کے لیے اقوام متحدہ کی تاریخ میں سب سے بڑی تعداد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ آج بعد میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے انڈیا و پاکستان کا دورہ کریں گے، جہاں وہ مشن اور دنیا بھر کے امن اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ **سلامتی اور انسانی حقوق** سیکرٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا ہے، ہزاروں لوگ جان سے گئے اور خاندان اور برادریاں آج بھی اس کے اثرات بھگت رہی ہیں۔ انہوں نے عسکریت پسندی کے خطرے کا مقابلہ کرنے میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا۔ اس ضمن میں انہوں نے اپنا مؤقف دہراتے ہوئے کہا: ’دہشت گردی کا تدارک اور جائز سلامتی خدشات کا حل ضروری اور ناگزیر ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ سب سے مضبوط اور مؤثر سلامتی وہی ہے جو بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے تحت یقینی بنائی جائے۔‘ انہوں نے کہا کہ یہی اقدار معاشروں کے اندر بھی ضروری ہیں۔ ان کے مطابق جامع ادارے، انسانی حقوق کا احترام اور فعال شہری فضا سماجی ہم آہنگی مضبوط کرنے، اعتماد کی تعمیر اور لوگوں کو ملک کے مستقبل میں مکمل کردار ادا کرنے کے قابل بنانے کے لیے لازم ہیں۔ **موسمیاتی بحران** سیکرٹری جنرل نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران پاکستان کے اپنے گزشتہ دورے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وہاں بڑے پیمانے پر تباہی دیکھی، لیکن ساتھ ہی عوام کی ہمت، عزم اور یکجہتی بھی دیکھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی اخراج میں معمولی حصہ ڈالنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کی زد میں اگلی صفوں میں ہے، اور اس کے ردعمل میں بھی اگلی صفوں میں ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں نقصان اور تلافی کے فنڈ کے قیام میں پاکستان کی قیادت اور ملک میں صاف توانائی کی طرف بڑھتے رجحان کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمزور ترقی پذیر ممالک کی قیادت ترقی یافتہ ممالک کی ذمہ داری کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) انہوں نے بتایا کہ جی 20 کے ممالک عالمی اخراج کے 80 فیصد کے ذمہ دار ہیں اور اس دہائی میں ان میں بڑی کمی ضروری ہے۔ سیکرٹری جنرل کے مطابق ’مشترک مگر مختلف ذمہ داریوں‘ کا اصول لاگو ہونا چاہیے، تاہم تمام ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کو باکو میں کوپ 29 اجلاس کے وعدے بھی پورے کرنے چاہئیں اور ترقی پذیر ممالک کو درکار مالی وسائل، ٹیکنالوجی اور معاونت فراہم کرنی چاہیے۔ گفتگو کے اختتام پر سیکرٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان کو دیگر ممالک کی طرح چیلنجز درپیش ہیں، تاہم انہیں پاکستانی عوام کی استقامت اور بہتر مستقبل کی تعمیر کے عزم نے متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور انہوں نے دنیا کے لیے پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انتونیو گوتیریش اقوام متحدہ اسلام آباد اسلام آباد امن معاہدہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں پاکستان کے سفارتی کردار، امن مشنز میں خدمات، افغان تارکین وطن کی میزبانی اور موسمیاتی بحران پر بات کی۔  انڈپینڈنٹ اردو منگل, اکتوبر 6, 2026 - 15:30 Main image: > <p class="rteright">اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیریش 6 اکتوبر، 2026 کو اسلام آباد میں صحافیوں کے ساتھ پریس بریفنگ کے دوران( پی ٹی وی)</p> پاکستان jw id: zidrQM7h type: video related nodes: ایران امریکہ جنگ: پاکستان کے ثالثی کے چیلنج پاکستان نے ایران امریکہ ثالثی سے ہاتھ کھڑے نہیں کیے: دفتر خارجہ ایران امریکہ مذاکرات یا ’تاروف‘ جنگ خاتمے کی تجویز، امریکہ کا باضابطہ جواب ایران کو مل گیا SEO Title: امریکہ ایران مکالمہ پاکستان کی کوششوں کا نتیجہ: سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 17h
independenturdu.com
لانگ مارچ، دھرنے ختم کریں تو بیٹھ کے بات ہو گی: وزیر اعظم کی تحریک انصاف کو مذاکرات کی پیشکش
**پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے کہا ہے کہ وہ لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں تو حکومت بیٹھ کر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔** شہباز شریف نے مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’ابھی بھی آپ کو یہ گزارش کروں گا کہ آپ ہوش کے ناخن لیں، آپ اپنے لانگ مارچ کو، دھرنوں کو آپ اس کو ختم کریں، اور ختم کریں گے تو ہم یقیناً آپ کے ساتھ بیٹھیں گے، بیٹھ کے بات کریں گے تاکہ پاکستان باہمی ہمت، محنت، امانت اور دیانت کے ساتھ آگے چلے۔‘ تحریک انصاف ’پی ٹی آئی‘ نے 4 اکتوبر سے لکی مروت سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کیا ہے۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی سے بامعنی اور بامقصد مذاکرات کیے تاکہ ان کو یہ سمجھایا جائے کہ اس راستے کو وہ ترک کریں لیکن انہوں نے ایسے نہیں کیا۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر پی ٹی آئی سے کہا کہ ’آپ اب بھی ہوش کے ناخن لیں، کیا آپ کی یہ کارروائی پاکستان کو نقصان پہنچائے گی یا فائدہ پہنچائے گی؟ یہ پوری قوم اس بات سے آگاہ ہے، اگر آپ کو اس کا ادراک نہیں ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک بہت افسوس کی بات ہے۔ ’آج اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دھرنے اور اس لانگ مارچ کی جو سیاست ہے اس کے نتیجے میں سب سے پہلا نشانہ آپ کی معیشت ہوگی۔‘ انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت اور ترقی کو نقصان پہنچانا ’ملک دشمنی کے مترادف‘ ہے۔ ’آپ نقصان پچانا چاہتے ہیں تو اس کو ہم انشااللہ نہیں ہونے دیں گے کسی صورت نہیں ہونے دیں گے قانون اپنے راستہ اختیار کرے گا۔‘ اسی مقصد کے لیے دن رات کاوشیں کی گئیں۔ پی ایم ایل این اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ کمیٹی نے پی ٹی آئی کے ساتھ سپیکر صاحب کے چیمبر میں دو دن دن رات مذاکرات کیے۔ ’وقفوں کے ساتھ بات چیت جاری رہی اور پوری امید کی جا رہی تھی کہ ان شا اللہ ان مذاکرات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے، دھرنوں کی سیاست کو خیرباد کہا جائے گا اور سیاسی مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کیا جائے گا۔ بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔‘ وزیراعظم نے کہا باوجود اس کے کہ پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل این نے پوری سنجیدگی کے ساتھ پی ٹی آئی کو مذاکرات میں شامل کیا، ’انہوں (پی ٹی آئی) نے آخری لمحات میں طے شدہ معاملات میں نہ صرف دوبارہ تبدیلیوں کا مطالبہ کیا بلکہ ایسا محسوس ہوا کہ ان کا مقصد ہی یہ تھا کہ یہ بات چیت کسی طرح بھی کامیاب نہ ہو سکے۔‘ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اس سے قبل وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں تقریباً تمام اہم سیاسی معاملات پر اتفاق ہوگیا تھا، تاہم خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل کی جانب سے آخری وقت میں رکھی گئی شرائط اور ’دہشت گردی‘ کے خلاف تعاون کی یقین دہانی نہ ہونے کے باعث مذاکرات ناکام ہوئے۔ اس بار مارچ کے بعد آئندہ کوئی اسلام آباد کی طرف مارچ نہیں کر پائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سیاسی معاملات پر لچک کا مظاہرہ کیا اور دوسرے روز بانی پی ٹی آئی کی صحت، ان سے ملاقاتوں اور مقدمات سمیت دیگر سیاسی امور پر بھی اتفاق ہوگیا تھا، تاہم دہشت گردی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ تحریک انصاف کا مطالبہ ہے کہ پارٹی کے بانی عمران خان سے ملاقات اور ان تک رسائی کے معاملات حل کیے جائیں۔ مذاکرات کے دوران اپوزیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران خان سے ملاقات کے بغیر لانگ مارچ واپس لینے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ مذاکرات میں اتفاقِ رائے نہ ہونے کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں چار اکتوبر کو مارچ شروع ہوا جو آج شب پشاور پہنچے گا اور پھر وہاں سے آگے بڑھے گا۔ لانگ مارچ پی ٹی آئی اسلام آباد وزیراعظم دھرنا وزیراعظم نے کہا کہ لانگ مارچ کی سیاست کا سب سے پہلا نشانہ ملک معیشت ہو گی، لیکن کسی کو ملک کو نقصان نہیں پہنچانے دیں گے۔  انڈپینڈنٹ اردو منگل, اکتوبر 6, 2026 - 15:00 Main image: > <p class="rteright">وزیراعظم شہباز شریف 6 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں کشمیر چوک انڈر پاس منصوبے کی سنگِ بنیاد تقریب سے خطاب کر رہے ہیں(اے پی پی)</p> سیاست jw id: NsVG1Hsd type: video related nodes: ’لانگ مارچ میں دہشت گردوں کی سہولت کاری‘: محسن نقوی، گورنر ملاقات 2022 سے اب تک: تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی کہانی اسلام آباد لانگ مارچ، ’یہ ٹیسٹ میچ ہوگا اور ہم ہی جیتیں گے‘: سہیل آفریدی پی ٹی آئی لانگ مارچ سے قبل اسلام آباد اور پنجاب کے بعض اضلاع میں رینجرز تعینات SEO Title: لانگ مارچ، دھرنے ختم کریں تو بیٹھ کے بات ہو گی: وزیر اعظم کی تحریک انصاف کو مذاکرات کی پیشکش copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 19h
independenturdu.com
امریکہ میں جعلی ڈاک لیبلز کا الزام، پاکستانی شہری کی گرفتاری پر ایک لاکھ ڈالر انعام
**امریکی حکام ایک پاکستانی شخص کو تلاش کر رہے ہیں جس پر جعلی ڈاک ٹکٹوں اور ترسیلی لیبلز کا کاروبار چلانے کا الزام ہے، جس کے نتیجے میں امریکی محکمہ ڈاک کو 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔** حکام نے اس کی گرفتاری اور سزا دلوانے کا باعث بننے والی معلومات فراہم کرنے پر ایک لاکھ ڈالر تک انعام کی پیشکش کی ہے۔ پاکستانی صوبے پنجاب کے ضلع خانیوال سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ فہیم اکرم پر گذشتہ ماہ فلوریڈا کی وفاقی گرینڈ جیوری نے فرد جرم عائد کی تھی۔ امریکی استغاثہ کے مطابق وہ لیبلز بینک ڈاٹ کام (LabelsBank.com) نامی ویب سائٹ چلاتا تھا، جس کے ذریعے ہزاروں صارفین کو 51 لاکھ سے زیادہ جعلی ترسیلی لیبلز فروخت کیے گئے۔ حکام نے ویب سائٹ قبضے میں لے کر بند کر دی ہے۔ امریکی پوسٹل انسپیکشن سروس، جو امریکی ڈاک کے نظام سے متعلق جرائم کی تحقیقات کرنے والا وفاقی قانون نافذ کرنے والا ادارہ ہے، نے اب فہیم اکرم کے لیے تلاش کا نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک لاکھ ڈالر انعام کی پیشکش کی ہے۔ ادارے نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ خود اسے پکڑنے کی کوشش نہ کریں۔ امریکی اٹارنی جیسن ریڈنگ کوئینونز نے پیر کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا: ’ہم نے اس کی ویب سائٹ بند کر دی ہے۔ اب ہمیں اسے تلاش کرنے میں آپ کی مدد درکار ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’اگر آپ جانتے ہیں کہ وہ کہاں ہے تو پوسٹل انسپکٹرز کو اطلاع دیں۔‘ > A Pakistani national has been charged with allegedly selling over 5 million fake USPS labels through his operation of an unauthorized website, causing more than $126 million in losses. Thanks to the U.S. Postal Inspection Service, the site has been shut down and charges have been filed. > > — US Attorney Reding Quiñones (@USAO_SDFL) September 28, 2026 یہ تازہ اعلان گذشتہ ماہ جنوبی ضلع فلوریڈا کے امریکی اٹارنی کے دفتر کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کے بعد سامنے آیا ہے۔ استغاثہ کے مطابق اس سکیم کے ذریعے صارفین امریکی محکمہ ڈاک کے ذریعے حقیقی لاگت کے مقابلے میں انتہائی کم قیمت پر پیکجز بھیج سکتے تھے۔ محکمہ انصاف کی جانب سے حوالہ دیے گئے عدالتی ریکارڈ کے مطابق فہیم اکرم لیبلز بینک ڈاٹ کام نامی ویب سائٹ چلاتا تھا، جہاں مبینہ طور پر جعلی امریکی ڈاک ایک مقررہ قیمت پر فروخت کی جاتی تھی۔ عام طور پر پیکج کے وزن، حجم یا منزل سے قطع نظر ہر لیبل کی قیمت دو ڈالر رکھی جاتی تھی۔ ویب سائٹ کو امریکی محکمہ ڈاک کی مصنوعات یا خدمات فروخت کرنے کی اجازت حاصل نہیں تھی۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) پوسٹل انسپکٹرز نے بتایا کہ پانچ ہزار سے زیادہ صارفین نے ویب سائٹ کے ذریعے 51 لاکھ سے زائد جعلی لیبل خریدے۔ یہ پیکجز انتہائی رعایتی نرخوں پر بھیجے جانے کے باعث اس کارروائی سے محکمہ ڈاک کو 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی آمدنی اور ترسیلی اخراجات کا نقصان ہونے کا الزام ہے۔ فہیم اکرم کو امریکہ کو دھوکہ دینے اور جعلی ڈاک ٹکٹ بنانے اور فروخت کرنے کی سازش کے ایک الزام، جعلی ڈاک کے لیبل بنانے اور فروخت کرنے کے پانچ الزامات اور الیکٹرانک ذرائع کے ذریعے فراڈ کے چار الزامات کا سامنا ہے۔ محکمہ انصاف کے مطابق جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں سازش اور جعلی ڈاک سے متعلق الزامات پر زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید اور الیکٹرانک ذرائع کے ذریعے فراڈ کے ہر الزام پر 20 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ فرد جرم میں الزامات عائد کیے گئے ہیں اور جرم ثابت ہونے تک فہیم اکرم کو بے گناہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاملے کی تحقیقات پوسٹل انسپیکشن سروس کا میامی ڈویژن کر رہا ہے۔ امریکی حکام نے اپنے عوامی بیانات میں یہ نہیں بتایا کہ فہیم اکرم اس وقت کہاں موجود ہے جبکہ امریکی پوسٹل انسپیکشن سروس کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اس کے بارے میں معلومات رکھنے والے افراد پوسٹل انسپکٹرز سے رابطہ کریں اور تفتیش کاروں کو فراہم کی جانے والی معلومات کو خفیہ رکھا جائے گا۔ امریکہ پاکستانی فراڈ پنجاب کے ضلع خانیوال سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ فہیم اکرم پر پر گذشتہ ماہ فلوریڈا کی وفاقی گرینڈ جیوری نے فرد جرم عائد کی تھی۔ ان پر امریکی محکمہ ڈاک کو 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔  انڈپینڈنٹ اردو منگل, اکتوبر 6, 2026 - 13:30 Main image: > <p class="rteright">امریکی پوسٹل انسپیکشن سروس کی جانب سے جعلی ڈاک لیبلز فروخت کرنے کے الزام میں ایک ڈومین ضبط کیے جانے سے متعلق قانونی نوٹس سمارٹ فون پر دکھائی دے رہا ہے، یہ تصویر 23 ستمبر 2026 کو جاری کی گئی (امریکی پوسٹل انسپیکشن سروس/فیس بک پیج)</p> امریکہ type: news related nodes: فراڈ نیٹ ورک: امریکہ سے فرار پاکستانی نژاد شخص قطر سے گرفتار ایک کروڑ ڈالر کے فراڈ میں مبینہ کردار پر دو پاکستانیوں پر فرد جرم ٹک ٹاکر کاشف ضمیر پر سی ٹی ڈی اہلکار سے ’فراڈ‘ پر دو مقدمے اسلام آباد: ’فراڈ‘ میں ملوث کال سینٹر کے 275 غیر ملکی ملازم گرفتار SEO Title: امریکہ میں جعلی ڈاک لیبلز کا الزام، پاکستانی شہری کی گرفتاری پر ایک لاکھ ڈالر انعام copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 20h
independenturdu.com
مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے سیکریٹری لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کون ہیں؟
**پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان قائم ہونے والا مکہ دفاعی اتحاد اب اپنے ابتدائی ادارہ جاتی مرحلے سے نکل کر عملی دفاعی تعاون کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس اتحاد کے پہلے سیکریٹری جنرل پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود ہیں۔** پانچ اکتوبر کو ریاض میں مکہ دفاعی اتحاد کی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کی تین سالہ مدت کے لیے تقرری کی گئی۔ اجلاس میں تینوں ممالک نے ان کی تقرری کا خیرمقدم کیا اور اتحاد کے مقاصد آگے بڑھانے میں ان کے کردار پر اعتماد کا اظہار کیا۔ > PR No./ Joint Statement: Emergency Meeting of the Strategic Political and Defense Committee of the Makkah Alliance for Defence, Riyadh -5 October, 2026 https://t.co/ynFYzqILzc > > — Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) October 5, 2026 پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے رواں برس اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت تینوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے الگ دوطرفہ باہمی دفاعی معاہدے کے بعد سامنے آیا۔ **لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کا کردار کیا ہوگا؟** مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود ریاض میں قائم ہونے والے جنرل سیکریٹریٹ کی سربراہی کریں گے۔ پاکستان کو ابتدائی تین سال کے لیے سیکریٹری جنرل نامزد کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ ان کی بنیادی ذمہ داری اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو فعال بنانا، تینوں ممالک کے درمیان رابطہ کاری کو منظم کرنا اور معاہدے کے تحت طے شدہ دفاعی تعاون کو عملی شکل دینے میں مدد فراہم کرنا ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں، نعمان محمود کا کردار صرف انتظامی سربراہ کا نہیں ہوگا بلکہ وہ اتحاد کے ابتدائی ڈھانچے اور طریقۂ کار کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ > PR No./ Press Release https://t.co/kzzhEa61oo > > — Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) September 23, 2026 **لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود ہیں کون؟** لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود نے ستمبر 1987 میں بلوچ رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ انہوں نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ، مصر کے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے تعلیم حاصل کی جبکہ وار سٹڈیز میں ماسٹرز بھی کیا۔ ان کے کیریئر کا ایک اہم حصہ کمانڈ اینڈ سٹاف کالج سے وابستہ رہا، جہاں انہوں نے مختلف تدریسی ذمہ داریاں ادا کیں اور بعد میں چیف انسٹرکٹر بھی رہے۔ میجر جنرل کے عہدے پر نعمان محمود نے شمالی وزیرستان میں انفنٹری ڈویژن کی کمان کی، جہاں پاکستانی فوج دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مصروف تھی۔ بعد ازاں وہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے اینالیسس ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر جنرل مقرر ہوئے۔ اس عہدے پر ان کی ذمہ داریوں میں عالمی اور علاقائی پیش رفت کا قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے تجزیہ شامل تھا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) یہ تجربہ ان کے موجودہ کردار کے حوالے سے اس لیے بھی اہم سمجھا جا سکتا ہے کہ مکہ دفاعی اتحاد میں مختلف ممالک کے درمیان سکیورٹی رابطہ کاری اور علاقائی صورت حال کا تجزیہ اہم ہوگا۔ اپریل 2019 میں انہیں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ اسی سال دسمبر میں انہوں نے پشاور میں الیون کور کی کمان سنبھالی۔ ان کی بطور کور کمانڈر تعیناتی ایسے وقت میں ہوئی جب افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کی تیاری جاری تھی، پاکستان افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے کا عمل آگے بڑھا رہا تھا اور مغربی سرحد کی سکیورٹی صورت حال تیزی سے تبدیل ہو رہی تھی۔ نومبر 2021 میں الیون کور کی کمان چھوڑنے کے بعد نعمان محمود کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کا صدر مقرر کیا گیا۔ وہ اس ادارے کے 35ویں سربراہ تھے اور اپریل 2023 میں فوج سے ریٹائرمنٹ تک اس عہدے پر فائز رہے۔ یوں ان کے فوجی کیریئر میں فیلڈ کمانڈ کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس، سٹریٹجک تجزیے اور قومی سلامتی کی تعلیم کا تجربہ بھی شامل رہا۔ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کی تین سالہ مدت کے نئی ذمہ داری میں ان کا بنیادی چیلنج ایک ایسے اتحاد کا ادارہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دینا ہوگا جو سیاسی فیصلوں کو عملی دفاعی تعاون میں تبدیل کر سکے۔ مکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب ریاض پاکستان فوج پانچ اکتوبر کو ریاض میں مکہ دفاعی اتحاد کی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کی بطور سیکریٹری جنرل تین سالہ مدت کے لیے تقرری کی گئی۔  انڈپینڈنٹ اردو منگل, اکتوبر 6, 2026 - 12:30 Main image: > <p>فائل فوٹو لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود جنہیں مکہ دفاعی اتحاد پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا ہے۔ (تصویر: آئی ایس پی آر)</p> پاکستان type: news related nodes: سابق کور کمانڈر جنرل نعمان ’مکہ دفاعی اتحاد‘ کے سربراہ مقرر مکہ دفاعی معاہدے کے سیکریٹریٹ کی پہلے تین سال پاکستان سربراہی کرے گا مکہ معاہدہ: سعودی عرب میں مشترکہ فوجی دستوں کی فوری تعیناتی کا فیصلہ مکہ معاہدہ جارحانہ نہیں بلکہ خالصتاً دفاعی ہے: پاکستان فوج SEO Title: مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے سیکریٹری لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کون ہیں؟ copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 22h
independenturdu.com
بلوچستان میں سرکاری ملازمین کو ایک ارب کے کیش ایوارڈز پر اعتراض
**آڈیٹر جنرل پاکستان نے بلوچستان کے پانچ سرکاری محکموں کے ملازمین کو 2023 میں بجٹ کی تیاری کے حوالے سے ایک ارب 60 کروڑ روپے کے کیش ایوارڈز کی مد میں ادائیگی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے اور رقم کے اجرا کا جواز طلب کرتے ہوئے اس پریکٹس کے خاتمے اور رقم کی وصولی کی سفارش کی ہے۔** آڈیٹر جنرل پاکستان وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مالی معاملات کا آڈٹ کرکے اخراجات، مالی انتظام اور قواعد و ضوابط کی پابندی سے متعلق اعتراضات اور سفارشات اپنی رپورٹس میں شامل کرتا ہے۔ حکومت بلوچستان کے اخراجات سے متعلق مالی سال 2025-26 کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمہ خزانہ بلوچستان نے گرانٹ اِن ایڈ کی مد میں ایک ارب 60 کروڑ روپے کی رقم جاری کی، جو آڈٹ حکام کے مطابق غیر قانونی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ رقم فنانس ڈیپارٹمنٹ، وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ، وزیراعلیٰ ہاؤس، گورنر ہاؤس اور بلوچستان اسمبلی کے ملازمین کو 2023 میں بجٹ کی تیاری کے حوالے سے کیش ایوارڈ کے طور پر دی گئی۔ آڈٹ رپورٹ میں اس ادائیگی کے حوالے سے بلوچستان ہائی کورٹ کے 2020 کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسے کیش ایوارڈز اختیارات سے تجاوز کے زمرے میں آتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آڈٹ حکام نے یہ معاملہ جون 2025 میں محکمہ خزانہ کے ساتھ اٹھایا تھا، تاہم محکمہ خزانہ کی جانب سے کوئی جواب فراہم نہیں کیا گیا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) آڈٹ رپورٹ میں رقم کے اجرا کا جواز پیش کرنے، اس پریکٹس کو ختم کرنے اور ادا کی گئی رقم کی وصولی کی سفارش کی گئی ہے۔ تاہم بلوچستان کے محکمہ خزانہ کے سپیشل سیکریٹری عارف خان اچکزئی نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ایک ارب 60 کروڑ روپے کی رقم خردبرد کی گئی۔ عارف خان اچکزئی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’یہ بات درست نہیں کہ اتنی بڑی رقم خردبرد کی گئی ہے۔ ڈاکومنٹس بروقت نہ ملنے پر آڈٹ پیراز لگتے رہتے ہیں اور یہ بھی اسی طرح کا ایک پیرا ہے۔‘ آڈٹ پیرا خود رقم کی خردبرد یا بدعنوانی کا حتمی عدالتی فیصلہ نہیں ہوتا، بلکہ متعلقہ محکمے سے وضاحت اور ریکارڈ طلب کیے جانے کے بعد معاملہ نمٹانے کا عمل جاری رہتا ہے۔ عارف خان اچکزئی نے کہا کہ ’آڈیٹر جنرل کی جانب سے ہر سال باقاعدہ آڈٹ کیا جاتا ہے اور جس رقم پر اعتراض اٹھایا گیا ہے، امکان ہے کہ اس حوالے سے مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے میں کوتاہی ہوئی ہو۔‘ سپیشل سیکریٹری خزانہ کے مطابق: ’سرکاری پیسے آسانی سے کوئی ایک شخص نہیں نکال سکتا۔ بجٹ سمیت جو بھی رقم استعمال میں لائی جاتی ہے، اس کا ایک طریقہ کار موجود ہے۔ اس کے لیے سمری پیش کی جاتی ہے اور منظوری کے لیے باقاعدہ کابینہ کو بھیجی جاتی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ سالانہ بجٹ میں ایک روپے سے لے کر اربوں روپے تک کی رقم کی منظوری صوبائی اسمبلی سے حاصل کی جاتی ہے۔ عارف اچکزئی نے مزید کہا: ’اگر کسی کو اضافی تنخواہ یا کسی اور مد میں رقم دی جاتی ہے تو اس کا اختیار وزیراعلیٰ اور کابینہ کو حاصل ہے۔‘ بلوچستان آڈٹ رپورٹ حکومت بلوچستان کے اخراجات سے متعلق مالی سال 2025-26 کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمہ خزانہ بلوچستان نے گرانٹ اِن ایڈ کی مد میں ایک ارب 60 کروڑ روپے کی رقم جاری کی، جو آڈٹ حکام کے مطابق غیر قانونی تھی۔ محمد عیسیٰ منگل, اکتوبر 6, 2026 - 10:45 Main image: > <p class="rteright">بلوچستان اسمبلی کی عمارت کا بیرونی منظر (بلوچستان اسمبلی آفیشل ویب سائٹ)</p> پاکستان type: news related nodes: گورنر راج کی بحث: خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پرتشدد حملوں کا موازنہ بلوچستان میں لیتھیم پر کیا تنازع ہے؟ بلوچستان ہائی کورٹ: گیس صارفین پر سلو میٹر چارجز کالعدم قرار پمز آتشزدگی کے بعد سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم SEO Title: بلوچستان میں سرکاری ملازمین کو ایک ارب سے زائد کیش ایوارڈز پر آڈیٹر جنرل کا اعتراض copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 22h
independenturdu.com
125 گول کرنے والے ’جادوگر‘ میسی کا آج قومی ٹیم کے لیے آخری میچ
**ارجنٹینا کے عالمی شہرت یافتہ فٹ بالر لیونل میسی اپنی قومی ٹیم کے لیے 6 اکتوبر 2026 کو اپنا آخری میچ کھیلنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے بعد ارجنٹینا فٹ بال ایک نئے دور میں داخل ہو جائے گا۔** 39 سالہ لیونل میسی منگل کو بیونس آئرس کے سٹیڈیو مونومینٹل میں بینن کے خلاف دوستانہ میچ کھیلیں گے۔ یہ مقابلہ ارجنٹینا کی قومی ٹیم کے ساتھ ان کے شان دار بین الاقوامی کیریئر کا اختتام ہوگا۔ اپنے ملک کی دو دہائیوں سے زیادہ خدمت کے بعد، 39 سالہ سپر سٹار ہمیشہ کے لیے کپتانی کا بازو بند اتار دیں گے۔ میسی نے اگست میں اپنی بین الاقوامی ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے لکھا تھا: ’میں نے اپنی پوری کوشش کی، میں نے اپنا سب کچھ دے دیا۔ اب میرے پاس دینے کے لیے کچھ باقی نہیں رہا، اور اس کے علاوہ بہت سے شان دار نوجوان کھلاڑی ابھر رہے ہیں جو اپنے موقع کے مستحق ہیں۔‘ میسی کا انٹر میامی کے ساتھ 2028 تک معاہدہ برقرار ہے، تاہم دو ماہ قبل اپنے والد خورخے (جارج) کے انتقال کے بعد انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ توقع سے پہلے فٹ بال کو مکمل طور پر خیرباد کہہ سکتے ہیں۔ ارجنٹینا کے شہر روزاریو میں واقع نیشنل فلیگ میموریل پر قومی فٹ بال ٹیم سے لیونیل میسی کے الوداع کے موقع پر ایک دیوہیکل شرٹ بنائی گئی ہے۔ یہ فضائی تصویر ارجنٹینا اور بینن کے درمیان کھیلے جانے والے بین الاقوامی دوستانہ میچ سے ایک روز قبل لی گئی (مارسلو مانیرا/ اے ایف پی) میسی نے اپنے کیریئر کے دوران ارجنٹینا کو 2022 کا فیفا ورلڈ کپ اور 2021 اور 2024 کے کوپا امریکہ ٹائٹلز جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ 2008 کے اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتنے والی ٹیم کا بھی حصہ تھے۔ میسی ارجنٹینا کی جانب سے 125 گول کر کے قومی ٹیم کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بھی ہیں۔ میسی کی رخصتی کے بعد یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ آیا ارجنٹینا عالمی فٹ بال میں اپنی برتری برقرار رکھ سکے گا یا نہیں۔ تاہم ارجنٹینا کے ہیڈ کوچ لیونل سکالونی ٹیم کے مستقبل کے حوالے سے پُراعتماد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میسی کی غیر موجودگی کے باوجود ارجنٹینا کی ٹیم اعلیٰ معیار کی فٹ بال کھیلتی رہے گی۔ ورلڈ کپ کے بعد میسی کے بغیر کھیلے گئے ابتدائی دو میچوں میں ارجنٹینا نے شان دار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولیویا کو چار صفر اور برکینا فاسو کو سات صفر سے شکست دی۔ ٹیم میں نکولس پاز، فرانکو مستانتونو، گیانلوکا پریستیانی اور لیونل فلورس جیسے نوجوان کھلاڑی ابھر کر سامنے آ رہے ہیں، جبکہ ایمیلیانو مارٹینیز، کرسٹیان رومیرو، اینزو فرنانڈیز اور لاؤتارو مارٹینیز جیسے تجربہ کار کھلاڑی بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔ ارجنٹینا کے شائقین کو امید ہے کہ نوجوان کھلاڑی قومی ٹیم کی کامیابیوں کا سلسلہ برقرار رکھیں گے، تاہم ان کے لیے میسی جیسا اثر و رسوخ پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ انٹر میلان کے کپتان لاؤتارو مارٹینیز سے بھی توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ٹیم کی قیادت میں اہم کردار ادا کریں گے۔ وہ ارجنٹینا کی جانب سے 42 گول کر کے ملک کے لیے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ میسی کی رخصتی ارجنٹینا فٹ بال کے ایک یادگار باب کا اختتام ضرور ہے، لیکن شائقین کو یقین ہے کہ ٹیم مستقبل میں بھی بڑی کامیابیاں حاصل کر سکتی ہے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) میسی کے بعد ارجنٹینا کی ٹیم کتنی مضبوط ثابت ہوتی ہے، اس کا ایک اہم اندازہ 2028 کے کوپا امریکہ میں ہوگا۔ **دوستوں کا دوبارہ ملاپ** ارجنٹینا کی 2022 ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے ارکان، یعنی وہ کھلاڑی جنہوں نے ملک کو تیسرا عالمی ٹائٹل دلایا، اور ان کے اہل خانہ، منگل کو بینن کے خلاف میسی کے الوداعی میچ میں ان کے ساتھ ہوں گے۔ بینن عالمی رینکنگ میں 93 ویں نمبر پر ہے۔ دوحہ میں فتح حاصل کرنے والی اس ٹیم کے تجربہ کار کھلاڑی، جیسے اینجل دی ماریا، جنہوں نے 2024 میں بین الاقوامی فٹ بال سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی، بھی موجود ہوں گے تاکہ نئے کھلاڑیوں کو ذمہ داری سنبھالتے دیکھ سکیں، جن پر البی سیلیستے کے سنہری دور کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری عائد ہوگی۔ نئے آنے والے چند کھلاڑیوں، جن میں فرانکو ماستانتونو اور لیونیل فلورس شامل ہیں، کی تو پیدائش بھی اس وقت نہیں ہوئی تھی جب ’لا پولگا‘ (یعنی ’پسو‘) کہلانے والے میسی نے 2005 میں ارجنٹینا کے لیے ڈیبیو کیا تھا۔ اس وقت ٹیم کی تاریخ پر طویل عرصے سے ڈیاگو میراڈونا کا غلبہ تھا۔ ارجنٹینا کے کوچ لیونیل سکالونی نے کہا: ’یہ سب کے لیے ایک ناقابل فراموش دن ہوگا۔ ہر شخص اس میچ میں موجود ہونا چاہتا ہے، اور اب بات صرف اس لمحے سے لطف اندوز ہونے کی ہے۔‘ جن کھلاڑیوں کی کم از کم بینچ پر موجودگی یقینی ہے، ان میں 2022 ورلڈ کپ کے دیگر تجربہ کار کھلاڑی شامل ہیں جو میسی کے بعد ارجنٹینا کا پرچم بلند کریں گے: دفاعی کھلاڑی کرسٹیان رومیرو، مڈفیلڈر الیکسس میک الیسٹر اور اینزو فرنانڈیز، اور فارورڈز جولین الواریز اور لاؤتارو مارٹینیز۔ جنگجو مزاج سینٹر بیک رومیرو کو کپتانی کا بازو بند ملنے کا امکان ہے، جسے میسی نے پہلی بار 2010 کے جنوبی افریقہ ورلڈ کپ میں پہنا تھا۔ گول کیپر ایمیلیانو مارٹینیز اور لاؤتارو مارٹینیز کپتانی کی درجہ بندی میں اگلے نمبر پر ہیں۔ سکالونی نے کہا: ’لیو (میسی) کے میچ تک ہم کسی کو بھی نمبر 10 نہیں دیں گے۔ اس کے بعد دیکھیں گے۔‘ لیونل میسی ارجنٹائن فٹ بال کھیل عالمی مقابلے میسی کی رخصتی کے بعد یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ آیا ارجنٹینا عالمی فٹ بال میں اپنی برتری برقرار رکھ سکے گا یا نہیں۔ اے پی منگل, اکتوبر 6, 2026 - 10:45 Main image: > <p>ارجنٹینا کے فارورڈ لیونل میسی 5 اکتوبر 2026 کو بیونس آئرس کے صوبے ایزیئزا میں ارجنٹائن فٹ بال ایسوسی ایشن (AFA) کے تربیتی کیمپ میں فٹبال پریکٹس میں حصہ لیتے ہوئے۔(تصویر: اے ایف پی)</p> فٹ بال type: news related nodes: ’میرے پاس جو تھا سب دے دیا‘: میسی انٹرنیشنل فٹ بال سے ریٹائر ’نہیں معلوم آپ کے بغیر کیا کروں گا‘: میسی کا والد کے نام جذباتی پیغام میسی موجود تھے، مگر جادو غائب تھا: فائنل میں ارجنٹینا کیوں بکھر گیا؟ ’جادوگر‘ میسی اپنا دوسرا ورلڈ کپ جیتنے سے ایک قدم دور SEO Title: 125 گول کرنے والے ’جادوگر‘ میسی کا آج قومی ٹیم کے لیے آخری میچ copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 05/10/2026
independenturdu.com
سعودی عرب کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کی پاسداری کریں گے: امریکہ
**امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو کہا کہ یمنی حکومت کی فورسز اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے باوجود امریکہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے دو طرفہ سکیورٹی معاہدے کے تحت وعدوں کی پاسداری کرے گا۔** روبیو نے یورپ کے دورے کے لیے روانہ ہونے سے قبل ایک پریس کانفرنس میں کہا ’امریکہ کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اور سکیورٹی معاہدہ ہے اور ہم اس کی پاسداری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘ ان کے دورے میں آئس لینڈ، یونان اور پرتگال شامل ہیں۔ روبیو نے کہا سعودی عرب کو حوثیوں کے مسلسل حملوں کے خلاف ’اپنا دفاع کرنے کا حق ہے۔‘ انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں انہوں نے مزید کہا کہ یمنی حکومت کی فورسز ان علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جو گذشتہ جھڑپوں میں ان کے قبضے سے نکل گئے تھے۔ لڑائی باب المندب آبنائے کے ارد گرد شدت اختیار کر گئی ہے، جو بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والی ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔ روبیو نے کہا سعودی اور یمنی فورسز اس آبی گزرگاہ کے قریب حوثیوں کے کنٹرول کی مخالف ہیں اور مقامی سطح پر ہونے والی جوابی کارروائیوں کو ایک متوقع پیش رفت قرار دیا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) انہوں نے کہا ’یمن میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، وہ حوثیوں کی جارحیت کے خلاف جوابی کارروائی ہے۔‘ ان کے یہ ریمارکس یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین رشاد العلیمی کی جانب سے حوثیوں کے زیر قبضہ دارالحکومت صنعا کو دوبارہ حاصل کرنے اور ریاستی اداروں کو بحال کرنے کے لیے فوجی آپریشن شروع کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آئے۔ حوثی 2014 سے صنعا پر قابض ہیں۔ یمنی فوج کے یونٹس نے پیر کو کہا کہ انہوں نے باب المندب آبنائے کے قریب ذباب ضلع اور دیگر اہم تزویراتی مقامات کو محفوظ بنا لیا ہے۔ امریکہ نے اس مہم کی حمایت میں فضائی حملوں یا دیگر جنگی کارروائیوں میں براہ راست شرکت کا عزم نہیں کیا۔ اس کی بجائے واشنگٹن نے سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور مشاورتی معاونت فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے، جس کے مطابق ستمبر میں سی این این کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا۔ حوثی سعودی عرب مارکو روبیو امریکی وزیر خارجہ روبیو کے مطابق سعودی عرب کو حوثیوں کے مسلسل حملوں کے خلاف ’اپنا دفاع کرنے کا حق ہے۔‘ انڈپینڈنٹ اردو سوموار, اکتوبر 5, 2026 - 21:00 Main image: > <p>امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 16 جولائی، 2026 کو محکمہ خارجہ میں سیاسی تشدد سے متعلق اجلاس کے دوران گفتگو کر رہے ہیں (روئٹرز)</p> امریکہ type: news related nodes: یمنی حکومت کا حوثیوں کے خلاف فوجی آپریشن کا اعلان حوثیوں کے ریاض کو نشانہ بنانے کے دعوے گمراہ گن: اتحادی فوج سعودی عرب کی طرف داغے گئے تین حوثی میزائل تباہ پاکستان کی مدینہ میں بجلی تنصیب پر حوثی حملے کی شدید مذمت SEO Title: سعودی عرب کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کی پاسداری کریں گے: امریکہ copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 05/10/2026
independenturdu.com
سری لنکا ٹی20 سیریز: سلمان آغا اور بابر آؤٹ، صاحبزادہ فرحان نئے کپتان
**پاکستان نے اس ہفتے سری لنکا کے خلاف ہونے والی ٹی20 ہوم سیریز کے لیے سلمان علی آغا کی جگہ صاحبزادہ فرحان کو کپتان مقرر کر دیا جبکہ شاہین شاہ آفریدی ون ڈے ٹیم کے کپتان رہیں گے۔** دو سال اور تقریباً چھ ماہ میں پاکستان کے چوتھے ٹی20 انٹرنیشنل کپتان بننے والے فرحان نے جاپان میں ہونے والے ایشین گیمز میں ایک دوسری درجے کی ٹیم کی قیادت کی تھی، جہاں ہفتے کو فائنل میں اسے روایتی حریف انڈیا کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ اگرچہ آغا کو کپتانی سے ہٹانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی، تاہم پاکستان کے سلیکٹرز نے عندیہ دیا تھا کہ وہ 2028 کے ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے ٹیم تیار کرنے پر غور کر رہے ہیں، جس کی میزبانی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ مشترکہ طور پر کریں گے۔ آغا کی قیادت میں پاکستان نے 50 ٹی20 انٹرنیشنل میچوں میں سے 31 جیتے۔ تاہم رواں سال کے ورلڈ کپ میں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ > View this post on Instagram > > A post shared by Pakistan Cricket (@therealpcb) شاہین اور سابق ٹی20 انٹرنیشنل کپتان بابر اعظم، دونوں 15 رکنی سکواڈ کا حصہ نہیں، جو نو، 11 اور 13 اکتوبر کو راولپنڈی میں سری لنکا کے خلاف کھیلے گا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) آل راؤنڈر رضا اللہ کو گذشتہ ماہ ایجبسٹن میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو میں شاندار کارکردگی کے بعد دونوں سکواڈز میں پہلی بار شامل کیے جانے کا انعام ملا ہے۔ انہوں نے 81 رنز بنائے اور چار وکٹیں حاصل کی تھیں۔شاہین پاکستان کی ون ڈے ٹیم کی قیادت جاری رکھیں گے، جو 18 اکتوبر سے راولپنڈی میں سری لنکا اور انگلینڈ کے خلاف تین ملکی سیریز کھیلے گی۔ سینیئر وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان، جنہیں رواں سال کے اوائل میں ٹی20 انٹرنیشنل سکواڈ سے ڈراپ کیا گیا تھا، کو ون ڈے ٹیم سے بھی نکال دیا گیا ہے۔ رضوان کو ٹیم سے متعلق معلومات افشا کرنے کے الزام میں پاکستان کے سائبر کرائم ادارے کی تحقیقات کا سامنا ہے۔ **ٹی20 سیریز کا شیڈول** 9 اکتوبر: پہلا ٹی20، راولپنڈی 11 اکتوبر: دوسرا ٹی20، راولپنڈی 13 اکتوبر: تیسرا ٹی20، راولپنڈی ٹی20 سیریز کے بعد پاکستان انگلینڈ اور سری لنکا کے ساتھ ون ڈے سہ ملکی سیریز میں حصہ لے گا۔ سات میچز پر مشتمل سیریز کے ابتدائی تین میچز راولپنڈی میں، جبکہ باقی لیگ میچز اور فائنل لاہور میں کھیلے جائیں گے۔ **ون ڈے سہ ملکی سیریز کا شیڈول** 18 اکتوبر: پاکستان بمقابلہ سری لنکا، راولپنڈی 20 اکتوبر: پاکستان بمقابلہ انگلینڈ، راولپنڈی 22 اکتوبر: سری لنکا بمقابلہ انگلینڈ، راولپنڈی 25 اکتوبر: پاکستان بمقابلہ انگلینڈ، لاہور 27 اکتوبر: پاکستان بمقابلہ سری لنکا، لاہور 29 اکتوبر: سری لنکا بمقابلہ انگلینڈ، لاہور 31 اکتوبر: فائنل، لاہور کرکٹ پاکستان سری لنکا انگلینڈ ٹی 20 ون ڈے سیریز سات میچز پر مشتمل اس سیریز کے ابتدائی تین میچز راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے، جس کے بعد ٹورنامنٹ لاہور منتقل ہوگا جہاں باقی لیگ میچز اور فائنل کھیلا جائے گا۔  انڈپینڈنٹ اردو سوموار, اکتوبر 5, 2026 - 20:15 Main image: > <p>صاحبزادہ فرحان چھ فروری، 2026 کو کولمبو میں نیدرلینڈز کے خلاف ٹی20 ورلڈ کپ کے میچ سے ایک روز قبل پریکٹس سیشن میں شرکت کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p> کرکٹ type: news related nodes: ایشین گیمز کرکٹ فائنل: پاکستان کو شکست، گولڈ میڈل انڈیا کے نام پاکستان سری لنکا سے جیت کے باوجود ٹی 20 ورلڈ کپ سے باہر پاکستان نے سری لنکا کو شکست دے کر سہ ملکی سیریز جیت لی انگلینڈ: جب مظاہرین نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو پناہ گزین سمجھ لیا SEO Title: سری لنکا ٹی20 سیریز: سلمان آغا اور بابر آؤٹ، صاحبزادہ فرحان نئے کپتان copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 05/10/2026
independenturdu.com
جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدالت کا عمران خان کو پیش کرنے کا حکم
**انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو اگلی سماعت (پانچ نومبر) پر عدالت میں طلب کر لیا ہے، جبکہ فرح حبیب، حماد اظہر، مراد سعید اور شبلی فراز کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔** انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں پیر کو ہونی والی سماعت میں جج طاہر عباس سپرا نے عمران اور دیگر کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران حکم دیا کہ بانی پی ٹی آئی کو اگلی پیشی پر فزیکلی یا بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالت کا یہ حکم ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے گذشتہ روز یعنی چار اکتوبر کو لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے جس میں پی ٹی آئی کے بنیادی مطالبات میں عمران خان کی رہائی کا مطالبہ شامل ہے۔ عدالت نے سابق وفاقی وزرا فرح حبیب، حماد اظہر، مراد سعید اور شبلی فراز کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ عدالت نے سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم اور پی ٹی آئی کے رکن پنجاب اسمبلی حسن خان نیازی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت پانچ نومبر تک ملتوی کر دی۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف جوڈیشل کمپلیکس پر حملے کے الزام میں تھانہ رمنا میں مقدمہ درج ہے۔ 73 سالہ عمران خان کو عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے 100 سے زائد قانونی مقدمات کا سامنا ہے، جن میں رشوت، ریاستی راز افشا کرنے اور سرکاری تحائف غیر قانونی طور پر فروخت کرنے کے الزامات شامل ہیں۔ ان کی زیادہ تر سزائیں ختم یا معطل ہو چکی ہیں، جبکہ عمران خان نے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کا الزام ہے کہ یہ مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں اور انہیں قید تہنائی اور مناسب علاج کے بغیر قید میں رکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ عمران کو ’سزا کے طور پر قید تنہائی، ظلم یا محرومی‘ کا سامنا ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات کے بیان میں کہا گیا: ’ان کی قید مجاز عدالتوں کی جانب سے عدالتی کارروائی کے بعد سنائی گئی سزاؤں کے نتیجے میں ہوئی ہے اور انہیں پاکستانی قوانین کے تحت دستیاب تمام قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے۔‘ سیاست عمران خان مقدمات پاکستان تحریک انصاف عدالت نے سابق وفاقی وزرا فرح حبیب، حماد اظہر، مراد سعید اور شبلی فراز کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔  انڈپینڈنٹ اردو سوموار, اکتوبر 5, 2026 - 19:45 Main image: > <p>عمران خان 16 مئی 2024 کو سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران اڈیالہ جیل سے لائیو سٹریمنگ کے ذریعے پیشی کے موقعے پر (پی ٹی آئی ایکس اکاؤنٹ)</p> پاکستان type: news related nodes: عمران خان کی حراست، 7 سابق آسٹریلوی کپتانوں کا تشویش کا اظہار عمران خان کی صحت پر حکومت نے سیاست نہیں کی: عطا اللہ تارڑ نو مئی مقدمات: شاہ محمود ایک اور کیس میں بری سپریم کورٹ: عمران خان کی نو مئی کے آٹھ مقدمات میں ضمانت منظور SEO Title: جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدالت کا عمران خان کو پیش کرنے کا حکم، چار سابق وزرا اشتہاری قرار copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 05/10/2026
independenturdu.com
افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد کے لیے تیار: روس
**پاکستان نے پیر کو ماسکو فارمیٹ اجلاس کے دوران کہا کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے افغانستان میں عسکریت پسندوں کی پناہ گاہوں کے خلاف ’تمام مناسب اقدامات‘ جاری رکھے گا۔** افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندے محمد صادق نے افغانستان کے بارے میں ماسکو فارمیٹ کے آٹھویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’پاکستان بین الاقوامی قانون کے مطابق اور ضرورت کے اصولوں کی بنیاد پر، آخری چارے کے طور پر اپنے شہریوں کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام مناسب اقدامات کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔‘ انہوں نے کہا ’پاکستان کے تمام اقدامات پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، تربیت اور آغاز کے لیے استعمال ہونے والی پناہ گاہوں اور اڈوں کے خلاف جائز دفاعی کارروائیاں ہیں۔‘ ماسکو فارمیٹ ایک علاقائی سفارتی پلیٹ فارم ہے، جس میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک اور خطے کے اہم فریق افغانستان میں امن، سلامتی اور انسانی امور پر بات چیت کے لیے شریک ہوتے ہیں۔ ادھر روس نے کہا ہے کہ وہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد کے لیے تیار ہے۔ افغانستان کی حکمران طالبان حکومت کے ایک وفد نے آج ماسکو میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی، جس میں پاکستان، چین، انڈیا، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے حکام بھی شامل تھے۔ افغانستان کے لیے روسی صدر ولادی میر پوتن کے نمائندے ضمیر کابلوف نے کہا کہ ماسکو افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد کے لیے تیار ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں کابلوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’روس اس تنازعے کو ختم کرنے میں مدد کے لیے تمام ممکنہ ذرائع استعمال کرنے اور آزادانہ طور پر یا دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے، اگر دونوں فریق اس سے کہیں۔‘ بین الاقوامی ثالثی کی کوششوں کے باوجود افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پار لڑائی کئی ماہ سے جاری ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے طالبان حکومت پر سرحد پار حملوں، بالخصوص پاکستانی طالبان یا کالعدم ٹی ٹی پی کے حملوں میں ملوث عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ پاکستان نے افغانستان کے کئی صوبوں میں فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ افغان جنگجوؤں نے پاکستان میں سرحد پار حملے کیے ہیں۔ طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان میں افغان شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جان سے گئے۔ آج مذاکرات کے بعد ایک بریفنگ میں انہوں نے کہا ’پاکستان کے تمام حملوں یا بمباری میں اب تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ انہوں نے کسی ایسے شخص کو مارا جو ان (پاکستان) یا کسی اور کے لیے خطرناک ہو۔‘ ادھر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے آج متقی کا ماسکو میں استقبال کرتے ہوئے انہیں ’نیٹو دستے سے افغانستان کی آزادی کی پانچویں سالگرہ‘ پر مبارک باد دی۔ لاوروف نے کہا ’کئی دہائیوں کے قبضے کے اثرات پر قابو پانے کے لیے پانچ سال ایک مختصر عرصہ ہے۔ تاہم آپ کی حکومت کی کامیابیاں واضح ہیں اور ہم ان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘ انہوں نے داعش اور دیگر عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی میں طالبان کی کامیابیوں اور منشیات کی سمگلنگ کے خاتمے کی کوششوں کو سراہا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اگست 2021 میں امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھالا تھا۔ جولائی 2025 میں روس طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بنا، جب اس نے طالبان کو کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا تھا۔ پیر کو مذاکرات کے دوران لاوروف نے کہا ’امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں کی طاقتور فوجی مشین کو افغانوں کے جنگی جذبے اور ثابت قدمی نے شکست دی۔‘ لاوروف نے کہا کہ طالبان کی ’منشیات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں بڑی حد تک ہمارے ممالک کے درمیان جاری فوجی و تکنیکی تعاون سے منسلک ہیں۔‘ روس کے اعلیٰ سفارت کار نے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ماسکو افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کی سرزمین پر نیٹو کے کسی بھی فوجی ڈھانچے کی موجودگی کو ’قطعی ناقابل قبول‘ سمجھتا ہے۔ لاوروف نے کہا ’تاریخی تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسی موجودگی عدم استحکام اور تنازع میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔‘ انہوں نے زور دیا کہ روس افغانستان کو انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرتا رہے گا۔ افغانستان روس کابل امیر خان متقی ماسکو دوسری جانب پاکستان نے ماسکو فارمیٹ اجلاس میں کہا کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے افغانستان میں عسکریت پسندوں کی پناہ گاہوں کے خلاف ’تمام مناسب اقدامات‘ جاری رکھے گا۔ اے پی سوموار, اکتوبر 5, 2026 - 21:30 Main image: > <p>افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر ممالک کے نمائندے پانچ اکتوبر، 2026 کو ماسکو میں افغانستان کے بارے میں ماسکو فارمیٹ مشاورت کے آٹھویں اجلاس کے موقعے پر گروپ فوٹو کے لیے موجود ہیں (اے ایف پی)</p> ایشیا type: news related nodes: ماسکو فارمیٹ: کیا علاقائی سفارت کاری پاک افغان کشیدگی کم کرسکتی ہے؟ افغانستان میں فضائی حملوں میں 22 عسکریت پسند مارے: پاکستان تین دن میں پاکستان سے آنے والے 41 عسکریت پسند مارے: افغانستان افغانستان کو اپنی ’مسلح سوچ‘ تبدیل کرنا ضروری ہے: پاکستان SEO Title: افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد کے لیے تیار: روس copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 05/10/2026
independenturdu.com
امن کمیٹی کے رکن کو قتل کرنے والا حملہ آور مارا گیا: ٹانک پولیس
**صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ٹانک میں پیر کو پولیس اور سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے ایک دکان میں پناہ لینے والے مبینہ عسکریت پسند کو مار دیا۔** ریجنل پولیس افسر دکھان کے پی آر او وحید اشرف کے مطابق واقعہ ٹانک شہر کی محسود مارکیٹ میں پیش آیا، جہاں پولیس کے مطابق ایک حملہ آور نے امن کمیٹی کے دو ارکان پر فائرنگ کر دی۔ انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں فائرنگ سے امن کمیٹی کے رکن عدنان جان سے گئے جبکہ جاوید زخمی ہو گئے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) پولیس کے مطابق فائرنگ کے بعد حملہ آور نے ایک دکان میں پناہ لے لی، جس پر پولیس اور سکیورٹی فورسز نے مارکیٹ کو گھیرے میں لے کر کارروائی کی، جس دوران دکان میں موجود حملہ آور مارا گیا۔ ٹانک جنوبی خیبر پختونخوا میں واقع ہے اور سابق قبائلی علاقوں کے قریب ہونے کے باعث طویل عرصے سے سکیورٹی کے حوالے سے حساس ضلع رہا ہے۔ اس علاقے میں عسکریت پسند پولیس، سکیورٹی فورسز اور امن کمیٹیوں کے ارکان کو نشانہ بناتے آئے ہیں۔ حالیہ واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے جبکہ پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ ٹانک خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق امن کمیٹی کے دو ارکان پر فائرنگ کے بعد ایک دکان میں پناہ لینے والا حملہ آور سکیورٹی اہلکاروں کی کارروائی میں مارا گیا۔ لائبہ حُسن سوموار, اکتوبر 5, 2026 - 18:45 Main image: > <p>پشاور میں یکم فروری، 2023 کو پولیس اہلکار سڑک کے کنارے پہرہ دے رہے ہیں (اے ایف پی)</p> پاکستان type: news related nodes: ٹانک چیک پوسٹ پر خود کش حملے میں 14 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 15 افراد جان سے گئے ٹانک: بم دھماکے میں چھ پولیس اہلکار جان سے گئے ٹانک اور لکی مروت میں کارروائیاں، نو عسکریت پسند مارے گئے: فوج ٹانک چیک پوسٹ پر حملہ، 10 شدت پسند مارے گئے، وزیر داخلہ SEO Title: امن کمیٹی کے رکن کو قتل کرنے والا حملہ آور مارا گیا: ٹانک پولیس copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 05/10/2026
independenturdu.com
پاکستانی فیشن ڈیزائنر زین احمد بھی بی او ایف 500 میں شامل
**پاکستانی فیشن انڈسٹری کے لیے ایک اہم پیش رفت میں سٹریٹ ویئر ڈیزائنر زین احمد کو بزنس آف فیشن (BoF) کے بااثر عالمی انڈیکس میں شامل کر لیا گیا ہے، جس کے بعد اب دو پاکستانی ڈیزائنرز اس فہرست کا حصہ بن گئے ہیں۔** پہلے سے اس فہرست میں موجود معروف فیشن ڈیزائنر فراز منان کے ساتھ اب زین احمد کا نام بھی شامل ہو گیا ہے۔ بی او ایف 500 فیشن، کاروبار اور ثقافت کی دنیا پر اثر انداز ہونے والی شخصیات کو تسلیم کرتا ہے۔ اس خصوصی فہرست کے ارکان کا انتخاب اشاعت کے مدیران نامزدگیوں، تحقیق اور انٹرویوز کی بنیاد پر کرتے ہیں، اور اس میں ابھرتی ہوئی شخصیات کو بھی عالمی فیشن انڈسٹری کے نمایاں رہنماؤں کے ساتھ جگہ دی جاتی ہے۔ دونوں پاکستانی ڈیزائنرز نے عالمی شناخت مختلف راستوں سے حاصل کی ہے۔ زین احمد کا لاہور میں قائم برانڈ رستہ (Rastah) روایتی ٹیکسٹائل تکنیکوں کو جدید سٹریٹ ویئر کے ساتھ جوڑتا ہے، جبکہ فراز منان اپنے لگژری برائیڈل اور فارمل ملبوسات کے باعث جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں وسیع شہرت رکھتے ہیں۔ فراز منان کو 2024 میں بی او ایف انڈیکس میں شامل کیا گیا تھا۔ 18 اکتوبر 2022 کو امرتسر کے مضافات میں واقع ایک ریزورٹ میں فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (فکی) کے خواتین ونگ کے زیرِ اہتمام منعقدہ فیشن شو کے دوران ماڈلز انڈیا کی ریاست پنجاب کے مختلف ڈیزائنرز کی تخلیقات پیش کر رہی ہیں۔ (تصویر: نریندر نانو / اے ایف پی)۔ بی او ایف کے بانی اور مدیرِ اعلیٰ عمران احمد نے اعلان میں لکھا کہ رستہ نے روایتی ہینڈ لومز اور بلاک پرنٹنگ کو سٹریٹ ویئر ملبوسات میں استعمال کر کے منافع حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ ان کے مطابق یہ ملبوسات ہالی وڈ ستاروں اور عالمی موسیقی کی دنیا کے مشہور فنکاروں میں بھی مقبول ہوئے ہیں۔ 2018 میں قائم ہونے والے رستہ کے ملبوسات معروف شخصیات جسٹن بیبر، ٹموتھی شالامے، زین ملک اور بیری کیوگھن پہن چکے ہیں۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) بی او ایف کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں رستہ کی مجموعی آمدن 22 لاکھ ڈالر رہی جبکہ اسی سال کمپنی منافع بخش بھی بن گئی۔ زین احمد کے مطابق امریکہ ان کے برانڈ کی سب سے بڑی بیرونِ ملک مارکیٹ ہے جبکہ تقریباً 30 فیصد خریدار جنوبی ایشیائی پس منظر سے تعلق نہیں رکھتے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ برانڈ کی مقبولیت تارکین وطن کمیونٹی سے آگے بھی پھیل چکی ہے۔ دوسری جانب فراز منان، جو اپنے نام سے منسوب لگژری برانڈ کے بانی اور تخلیقی ڈائریکٹر ہیں، پیچیدہ کڑھائی اور جدید طرز کے امتزاج سے تیار کیے گئے ملبوسات کے ذریعے بین الاقوامی گاہکوں کا حلقہ قائم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ انہوں نے 2015 میں دبئی میں اپنا بوتیک کھولا تھا، جہاں مشرق وسطیٰ میں مقیم جنوبی ایشیائی برادری کے ساتھ ساتھ مقامی گاہک بھی ان کے ملبوسات خریدتے ہیں۔ ان کے ڈیزائن بالی وڈ کی متعدد معروف شخصیات بھی پہن چکی ہیں۔ اگرچہ اس فہرست کا نام اب بھی بی او ایف 500 ہے، لیکن اس میں شامل افراد کی تعداد اب 500 تک محدود نہیں رہی۔ 2013 میں قائم ہونے والی یہ کمیونٹی اب بڑھ کر 1,713 ارکان پر مشتمل ہو چکی ہے جبکہ رواں سال مختلف شعبوں، جن میں ڈیزائنرز، ایگزیکٹوز، کاروباری شخصیات، ریٹیلرز اور میڈیا سے وابستہ افراد شامل ہیں، کے مزید 100 افراد کو فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ بی او ایف کے انتخابی عمل میں قیادت، تخلیقی صلاحیت، جدت اور سماجی اثرات جیسے عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اس فہرست کی اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ عالمی فیشن انڈسٹری کی ایک معتبر اشاعت کی جانب سے دی جانے والی پیشہ ورانہ شناخت ہے۔ یہ کسی درجہ بندی یا رینکنگ کے بجائے ادارتی انتخاب پر مبنی اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ فیشن ڈریس ڈیزائنر پاکستان پہلے سے اس فہرست میں موجود معروف فیشن ڈیزائنر فراز منان کے ساتھ اب زین احمد کا نام بھی شامل ہو گیا ہے۔  انڈپینڈنٹ اردو سوموار, اکتوبر 5, 2026 - 13:45 Main image: > <p class="rteright">پہلے سے اس فہرست میں موجود معروف فیشن ڈیزائنر فراز منان (دائیں) کے ساتھ اب زین احمد (بائیں) کا نام بھی شامل ہو گیا ہے (سوشل میڈیا)</p> سوشل type: news related nodes: بالی وڈ کے ستارے اب فیشن آئیکون کیوں نہیں رہے؟ لگژری فیشن برانڈ پراڈا کی ڈھائی لاکھ روپے کی کولا پوری چپل جرمن فیشن چین گیری ویبر نے دیوالیہ ہونے کا اعلان کر دیا صنعت کی بہتری کے لیے فیشن مصنوعات کی برآمد ضروری: ڈیزائینرز SEO Title: پاکستانی فیشن ڈیزائنر زین احمد بھی بی او ایف 500 میں شامل copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 05/10/2026
independenturdu.com
اسلام آباد: نواب آف بہاولپور فیملی کے گھر چوری، ملزمان کا ریمانڈ
**اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے سیکٹر ایف ایٹ تھری میں نواب آف بہاولپور فیملی کے گھر چوری کے مقدمے میں گرفتار چھ ملزمان کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔** جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر ندیم نے پیر کو کیس کی سماعت کی۔ پولیس کے مطابق ملزمان کو مدعی مقدمہ کے تتمہ بیان پر نامزد کیا گیا ہے اور ان سے قیمتی نوادرات سمیت دیگر چوری شدہ سامان برآمد کرنا ہے۔ پولیس نے ملزمان کے سات روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے تین روزہ ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزمان کو سات اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔ ملزمان کے خلاف تھانہ مارگلہ میں مقدمہ درج ہے۔ اس سے قبل پولیس نے بہاولپور کے سابق نواب کے خاندان کے ایک فرد کی رہائش گاہ سے نوادرات کی چوری کے الزام میں چھ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ بہاولپور کے سابق نواب کے خاندان کے ایک فرد کی رہائش گاہ سے تقریباً دو کروڑ روپے (72 ہزار 438 ڈالر) مالیت کے نوادرات چوری کر لیے گیے تھے۔ یہ واقعہ ایف-ایٹ تھری کے علاقے میں پرنس بہاول عباس خان عباسی کے گھر میں پیش آیا۔ وہ نواب صلاح الدین عباسی کے بیٹے ہیں۔ مبینہ طور پر چوری ہونے والی اشیا میں چاندی کی تخت نما کرسی، چاندی کی سیڑھیاں، پیالے، سونے کی پلیٹیں اور مجسمے شامل ہیں۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اس حوالے سے اسلام آباد پولیس نے پیر کو ایک بیان میں بتایا کہ تھانہ مارگلہ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی، سیف سٹی کیمروں اور انسانی ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے واردات میں ملوث چھ ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔ ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار ملزمان کے قبضے سے چوری شدہ قیمتی اشیا میں سے 70 سے 80 فیصد مال مسروقہ برآمد کر لیا گیا۔ > اسلام آباد میں بہاولپور کے سابق نواب کے خاندان کے ایک فرد کی رہائش گاہ سے گھریلو ملازم نے تقریباً دو کروڑ روپے (72 ہزار 438 ڈالر) مالیت کے نوادرات چوری کیے جسے گرفتار کر لیا گیا۔ https://t.co/pZutsPWPFB > — Independent Urdu (@indyurdu) October 4, 2026 ان کا کہنا ہے کہ مزید برآمدگی اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا۔ اس سے قبل اتوار کو پولیس نے بتایا تھا کہ ریاست بہاولپور کے نشان والی سونے کی اشیا، ریاستی نشان والا چاندی کا تاریخی فریم، پرانی بندوقیں اور تلواریں بھی چوری ہونے والی اشیا میں بتائی گئی ہیں۔ مارگلہ تھانے کے انچارج محمد عمران نے اتوار کو عرب نیوز کو بتایا تھا کہ معاملہ ایک گھریلو ملازم کی جانب سے چوری کا ہے، جسے گرفتار کر کے تفتیش کی گئی۔ ان کے مطابق ملزم نے بہاولپور کے نواب کے خاندان کا ورثہ اور نوادرات چرائے جن کی مالیت تقریباً دو کروڑ روپے ہے۔ پاکستان اسلام آباد پولیس بہاولپور اسلام آباد پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کے قبضے سے چوری شدہ قیمتی اشیا میں سے 70 سے 80 فیصد مال برآمد کر لیا گیا۔  انڈپینڈنٹ اردو سوموار, اکتوبر 5, 2026 - 13:45 Main image: > <p>اسلام آباد کی ایک مرکزی شاہراہ پر 20 اپریل 2026 کو پولیس اہلکار ناکے پر موجود ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p> پاکستان type: news related nodes: نواب آف بہاولپور کے 72 ہزار ڈالر کے نوادرات چوری، ملازم گرفتار اسلام آباد: ڈاگ سینٹر سے کتے چوری کرنے کا مقدمہ، ٹی وی اینکر پریشے جیل میں امریکہ: قبرستان سے چوری 100 انسانی باقیات ایک گھر سے برآمد اسلام آباد پولیس نے پی ٹی وی تجزیہ کار کے قتل کا سراغ کیسے لگایا؟ SEO Title: اسلام آباد میں نواب آف بہاولپور فیملی کے گھر چوری، 6 ملزمان کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 05/10/2026
independenturdu.com
’ایک کچوری، دو سموسہ‘: انڈیا میں خواتین کے نعرے وائرل
**دہلی میں گذشتہ ایک ہفتے سے یونیورسٹی کے طلبہ ریپ کے حالیہ واقعات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، جہاں مظاہرین منفرد نعرے سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جن میں وہ محفوظ عوامی مقامات، بہتر روشنی، محفوظ پبلک ٹرانسپورٹ اور پارکس میں سکیورٹی کا مطالبہ الگ انداز میں کر رہے ہیں۔** مظاہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کی حفاظت کے نام پر ان پر کرفیو اور دیگر پابندیاں عائد کرنے کے بجائے جنسی تشدد کے ذمہ داروں کا احتساب اور عوامی مقامات کو محفوظ بنانا ضروری ہے۔ **دہلی میں ریپ کے حالیہ واقعات** یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دہلی میں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ مبینہ ریپ اور قتل کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق الزام ہے کہ دہلی یونیورسٹی کے قریب ایک پبلک پارک میں تین مردوں نے 17 سالہ لڑکی کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا۔ ملزمان نے مبینہ طور پر خود کو پولیس افسر ظاہر کیا تھا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ایک دوسرے واقعے میں سروپ نگر میں دوستوں سے ملنے جانے والی ایک کم عمر لڑکی کو مبینہ طور پر گینگ ریپ کے بعد چاقو کے وار کر کے قتل کیا گیا اور ان کی لاش ایک کھیت میں پھینک دی گئی، جو کئی روز بعد ملی۔ مظاہرین ان واقعات کو ’گھناؤنا‘ اور ’ناقابلِ معافی‘ قرار دے رہے ہیں۔ **’دو کچوری، ایک سموسہ، ان مردوں کا کیا بھروسہ‘** احتجاج کے دوران آزادی اور انصاف کے مطالبات کے ساتھ مختلف نعرے بھی لگائے جا رہے ہیں، جن میں ’دو کچوری، ایک سموسہ، ان مردوں کا کیا بھروسہ‘ اور ’بیٹی کی لوکیشن نہیں، بیٹے کا انٹینٹ چیک کرو‘ شامل ہیں۔ یہ نعرے اب احتجاجی مقامات سے نکل کر سوشل میڈیا، بالخصوص انسٹاگرام ریلز، تک بھی پہنچ گئے ہیں۔ اس سے قبل دو ماہ پہلے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے ہونے والے مظاہرے بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے تھے۔ ان مظاہروں کے بعد اس وقت کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہو گئے تھے۔ تاہم سوشل میڈیا پر ہی بعض صارفین کا کہنا ہے کہ وہ ان مظاہرین سے تو اتفاق کرتے ہیں مگر ان کا ماننا ہے کہ تمام مردوں کو اس میں شامل نہیں کرنا چاہیے۔ انڈیا ایشیا خواتین یہ نعرے اب احتجاجی مقامات سے نکل کر سوشل میڈیا، بالخصوص انسٹاگرام ریلز، تک بھی پہنچ گئے ہیں۔ علیزہ ارشد سوموار, اکتوبر 5, 2026 - 11:30 Main image: خواتین jw id: OAlMadvq type: video related nodes: انڈیا: ٹرین میں نوڈلز بنانے کی ویڈیو وائرل، شہریوں کی تنقید انڈیا: ’کاکروچز‘ کا چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے لیے الٹی میٹم ’جھکتی ہے دنیا، جھکانے والا چاہیے‘ کے نعرے کے ساتھ کاکروچ پارٹی اور جین زی کا مظاہرہ ختم کاکروچ جنتا پارٹی اور بدلتا انڈیا SEO Title: ’ایک کچوری، دو سموسہ‘: انڈیا میں خواتین طلبہ کے وائرل نعروں کی وجہ کیا؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 05/10/2026
independenturdu.com
امریکہ نے برطانیہ سے بی ون بمبار طیارے نکال لیے
**پینٹاگون کے ترجمان نے اتوار کو بتایا ہے کہ امریکہ نے برطانیہ سے اپنے تمام بی ون بمبار طیارے منتقل کر دیے ہیں۔** یہ کارروائی برطانوی فضائی اڈے سے دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے شبے میں کئی افراد کی گرفتاری کے ایک ہفتے بعد کی گئی ہے۔ لندن کے شمال مغرب میں واقع آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے پر ایک درجن بی ون بمبار طیارے تعینات تھے۔ ان طیاروں کو ایران پر امریکی حملوں کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پینٹاگون کے ترجمان نے ایک ای میل میں لکھا کہ ’اگرچہ آپریشنل سکیورٹی کے باعث ہم فوری طور پر اپنے اثاثوں اور فورسز کی نقل و حرکت کی تصدیق کرنے سے قاصر ہیں، لیکن اب ہم یہ تسلیم کر سکتے ہیں کہ آر اے ایف فیئرفورڈ میں تعینات تمام امریکی بمبار طیارے امریکہ میں اپنے ہوم سٹیشنز پر واپس منتقل کر دیے گئے ہیں۔‘ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنم نے بدھ کو کہا تھا کہ برطانیہ کے پاس ایسے ’قوی اشارے‘ موجود ہیں کہ اڈے کو نشانہ بنانے کے مبینہ منصوبے میں ایران ملوث تھا۔ ایران نے کہا ہے کہ تہران کو اس مبینہ منصوبے سے جوڑنے کے الزامات بے بنیاد ہیں اور اس مسئلے پر تہران میں برطانوی سفیر کو طلب کیا۔ امریکی اخبار دی وال سٹریٹ جرنل نے سب سے پہلے یہ رپورٹ دی تھی کہ اس تنصیب کے خلاف مبینہ دہشت گرد منصوبوں کے حوالے سے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر طیاروں کو اڈے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ برطانوی حکومت نے امریکہ کو آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملہ کرنے والی ایرانی میزائل تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے فیئرفورڈ میں تعینات بمبار طیارے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس منصوبے میں ملوث افراد نے ’بڑے نقصان‘ کی منصوبہ بندی کی جب کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی ’غیر ملکی ہاتھ‘ کی طرف اشارہ کیا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق قبل ازیں برطانوی پولیس نے 27 ستمبر کو بتایا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکہ کے زیر استعمال رہنے والے ایک فضائی اڈے کے قریب رات گئے پانچ افراد کو دہشت گردی کی کارروائی کی تیاری کے شبے میں حراست میں لے لیا گیا۔ لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے، جو ممکنہ دہشت گردی کی سرگرمیوں سے متعلق معاملات کی ذمہ دار ہے، ایک بیان میں کہا کہ پولیس کو رات 12 بج کر 45 منٹ پر تین مشتبہ گاڑیوں کے حوالے سے اطلاع موصول ہوئی جو بظاہر فضائی اڈے کی جانب جا رہی تھیں۔ پانچوں افراد کو ابتدائی طور پر وِلفرڈ کے علاقے میں ’ایکسپلوزِوز ایکٹ‘ کے تحت جرائم کے شبہے میں گرفتار کیا گیا۔ یہ علاقہ رائل ایئر فورس فیئر فورڈ اڈے سے متصل ہے، جہاں امریکی فضائیہ کے 501ویں کامبیٹ سپورٹ وِنگ اور 420ویں ایئر بیس سکواڈرن کے ہیڈکوارٹرز ہیں۔ جنگی طیارے برطانیہ بمباری ایران جنگ پینٹاگون ترجمان نے کہا کہ کہ برطانیہ میں آر اے ایف فیئرفورڈ میں تعینات تمام امریکی بمبار طیارے امریکہ میں اپنے ہوم سٹیشنز پر واپس منتقل کر دیے گئے ہیں۔  انڈپینڈنٹ اردو سوموار, اکتوبر 5, 2026 - 10:30 Main image: > <p>امریکی فضائیہ کے بی-1 بمبار طیارے کو گراؤنڈ کریو کا ایک رکن 23 مارچ 2026 کو آر اے ایف فیئر فورڈ ایئربیس پر طلوعِ آفتاب سے قبل تیار کر رہا ہے (فائل فوٹو/ روئٹرز)</p> امریکہ type: news related nodes: امریکی طیارے کی ’خلائی ملبے‘ سے ٹکر کے بعد ہنگامی لینڈنگ برطانیہ میں امریکی اڈے کے قریب حملے کی تیاری کا شبہ، پانچ گرفتار تجاویز پر ثالثوں کے ذریعے امریکی جواب کے منتظر: ایران امریکہ کا بی 52 بمبار طیارہ گر کر تباہ، تمام آٹھ افراد کی موت SEO Title: امریکہ نے سکیورٹی خدشات پر بی ون بمبار طیارے برطانیہ سے نکال لیے copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 05/10/2026
independenturdu.com
یمنی حکومت کا حوثیوں کے خلاف فوجی آپریشن کا اعلان
**یمنی صدر رشاد محمد العلیمی نے اتوار کو حوثیوں کے زیرِ قبضہ ملک کے باقی ماندہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔** رشاد محمد العلیمی نے کہا ہے کہ ’آج ہم اپنی قوم کی تاریخ کے ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔‘ عرب نیوز کے مطابق یمنی صدر نے کہا کہ ریاست نے امن کا راستہ اختیار کرنے میں ’بڑی قربانیاں‘ دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی کارروائیوں کا مقصد حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں شہریوں کے لیے امن، حقوق اور وقار بحال کرنا ہے، جبکہ ان علاقوں کے رہائشی فوجی کارروائیوں کا ہدف نہیں ہوں گے۔ العلیمی نے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں کے رہائشیوں پر زور دیا کہ وہ ملیشیا کے اجتماعات سے دور رہیں اور اپنے بچوں کو لڑائی میں شامل ہونے سے محفوظ رکھیں۔ انہوں نے مزید کہا: ’جن فوجی کارروائیوں کا ہم آغاز کرنے جا رہے ہیں وہ صنعا، حدیدہ اور صعدہ میں اپنے عوام کے خلاف جنگ نہیں ہے۔ یہ کسی فرقے یا قبیلے کے خلاف جنگ بھی نہیں ہے۔‘ یمنی صدر نے کہا کہ ریاست کی جانب سے دوبارہ حاصل کیے جانے والے ہر شہر میں استحکام، بحالی اور تعمیر نو کا مرحلہ شروع ہوگا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ان کے مطابق جنگ کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے گا کہ کتنے شہری دوبارہ خود کو محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔ العلیمی نے عالمی برادری میں یمن کے ’بھائیوں اور دوستوں‘ سے بھی ملک کا ساتھ دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ یمن سعودی عرب کو مشترکہ مستقبل اور سلامتی میں ایک حقیقی شراکت دار سمجھتا رہے گا، جبکہ سعودی قیادت اور عوام کی حمایت پر گہری تشکر کا اظہار کیا۔ بعد ازاں اتوار کو یمنی مسلح افواج کے سرکاری ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے کہا کہ فوجی کارروائیوں کا مقصد ’یمنی عوام کی مشکلات کا خاتمہ‘ اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ’آئین اور قانون کی حکمرانی کے سوا کوئی اختیار غالب نہ آئے۔‘ النزیلی نے کہا کہ مسلح افواج ریاست اور اس کے شہریوں کے اپنے تمام حقوق واپس حاصل کرنے اور باوقار زندگی گزارنے کے بنیادی حق کی حمایت کرتی ہیں، تاہم وہ تمام علاقوں اور گورنریٹس میں شہریوں کی جانوں کے تحفظ اور انہیں کسی بھی نقصان سے بچانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔ انہوں نے حوثیوں سے منحرف ہونے والے جنگجوؤں کے لیے عام معافی کا بھی اعلان کیا اور یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد میں شامل ممالک کے مؤقف کو سراہا۔ یمن حوثی سعودی عرب رشاد محمد العلیمی نے کہا ہے کہ ’ہم اپنی قوم کی تاریخ کے ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔‘  انڈپینڈنٹ اردو سوموار, اکتوبر 5, 2026 - 10:30 Main image: > <p>یمن کے صدر رشاد محمد العلیمی نے 4 اکتوبر 2026 کو قوم سے خطاب میں حوثیوں کے خلاف فوجی آپریشن کا اعلان کیا (روئٹرز)</p> دنیا type: news related nodes: یمن، آج کا قبائلی سماج جو کبھی عظیم تہذیب کا گہوارہ تھا حوثیوں کے ریاض کو نشانہ بنانے کے دعوے گمراہ گن: اتحادی فوج سعودی عرب سے یکجہتی، حوثی حملوں کی شدید مذمت: کور کمانڈرز کانفرنس پاکستان کی مدینہ میں بجلی تنصیب پر حوثی حملے کی شدید مذمت SEO Title: یمن کی حکومت کا حوثی ملیشیا کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 04/10/2026
independenturdu.com
مکہ معاہدے کی کمیٹی کا اجلاس 5 اکتوبر کو ریاض میں: ترکی
**ترکی کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو بتایا کہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کی ایک کمیٹی کے مذاکرات پیر کو ریاض میں ہوں گے، جن میں ترک وزرا بھی شریک ہوں گے۔** ترک وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق ’اجلاس میں خطے کی حالیہ پیش رفت اور اتحاد کو ادارہ جاتی شکل دینے کی کوششوں میں اب تک ہونے والی پیش رفت پر بات کی جائے گی۔‘ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) بیان میں کہا گیا ہے کہ ترک وزیرِ خارجہ حقان فیدان، وزیرِ دفاع یشار گلر اور چیف آف جنرل سٹاف جنرل سلجوق بیراکتارولو معاہدے کی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوں گے۔ اجلاس میں پاکستان اور سعودی عرب کے حکام بھی شرکت کریں گے۔ یمن میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت کے سربراہ نے اتوار کو اعلان کیا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے بڑی فوجی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے جمعے کو کہا تھا کہ حوثیوں کے حملوں کے بعد ایران نے تجویز دی تھی کہ اس گروہ کے ساتھ سیاسی سطح پر بات چیت کی جائے۔ ان کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے کی کمیٹی اس ہفتے ریاض میں ہونے والے اجلاس میں اس تجویز پر غور کرے گی۔ ریاض مکہ دفاعی معاہدہ ترکی ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کی کمیٹی کے اجلاس میں ترک وزرا شریک ہوں گے۔ یمن میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت کے سربراہ نے اتوار کو حوثیوں کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ روئٹرز اتوار, اکتوبر 4, 2026 - 21:15 Main image: > <p>وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ملاقات کی (سعودی گزٹ)</p> ایشیا type: news related nodes: سابق کور کمانڈر جنرل نعمان ’مکہ دفاعی اتحاد‘ کے سربراہ مقرر مکہ دفاعی معاہدے کے سیکریٹریٹ کی پہلے تین سال پاکستان سربراہی کرے گا مکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کی سٹریٹجک کمیٹی کا پہلا جاری مکہ دفاعی معاہدہ اجلاس: پاکستانی فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم ترکی میں SEO Title: مکہ معاہدے کی کمیٹی کا اجلاس 5 اکتوبر کو ریاض میں: ترکی copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 04/10/2026
independenturdu.com
صومالیہ سے چار زخمی پاکستانیوں سمیت تین میتیں کراچی پہنچ گئیں
**صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں رہنے والے جہاز کے پاکستانی عملے کے چار زخمی ارکان اور تین افراد کی میتیں اتوار کو کراچی پہنچ گئیں۔ جہاز کو چھڑانے کے لیے 29 ستمبر کو کی گئی کارروائی میں تین پاکستانیوں کی موت واقع ہوئی تھی۔** ایم ٹی آنر 25 کو 21 اپریل 2026 کو صومالیہ کے ساحل کے قریب اغوا کیا گیا تھا۔ جہاز عمان سے صومالیہ جا رہا تھا اور اس پر پاکستانیوں سمیت مختلف ممالک کے عملے کے ارکان سوار تھے۔ صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس نے 29 ستمبر کو جہاز اور عملے کی بازیابی کے لیے کارروائی کی۔ اس دوران فائرنگ کے نتیجے میں پانچ افراد جان سے گئے، جن میں تین پاکستانی شامل تھے، جبکہ چار پاکستانی زخمی ہوئے۔ جن پاکستانیوں کی موت واقع ہوئی ان کے نام رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری ہیں۔ زخمیوں میں یاسر خان، امین بن شمس، عقیل خان اور عثمان غنی شامل ہیں۔ زخمیوں اور میتوں کو چار اکتوبر کو ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا کے راستے کراچی لایا گیا۔ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ میتیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔ ہوائی اڈے پر زخمیوں کے اہلِ خانہ کے علاوہ گورنر سندھ نیہال ہاشمی، صوبائی وزیر سعید غنی اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار اور وسیم اختر بھی موجود تھے۔ یاسر خان کی والدہ مسرت جبین نے بیٹے سے ملاقات کے بعد انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اتنے دن بعد اپنے بیٹے کو زندہ سلامت دیکھ کر میری خوشی کی انتہا نہیں رہی، خوشی کے مارے میرے آنسو نکل آئے۔ میں اس کو دیکھنے کے لیے ترس رہی تھی اور مسلسل دعائیں کر رہی تھی۔‘ مسرت جبین نے بتایا کہ یاسر ان کے سب سے بڑے بیٹے ہیں اور انہوں نے ان کی واپسی کے لیے مسلسل دعا کی۔ ان کے الفاظ میں: ’میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی تھی کہ یاسر کو سلامت واپس لے آنا، چاہے مجھے لے لو، کیونکہ میں یاسر کے بغیر نہیں رہ سکتی۔‘ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) انہوں نے مزید کہا کہ ’آج اسے اپنے سامنے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ تھوڑی بہت تکلیف ہے، لیکن یہ اللہ کا بہت بڑا رحم اور کرم ہے کہ اس نے میرے بیٹے کو زندہ سلامت مجھ سے ملا دیا۔‘ دوسری جانب زخمی امین بن شمس کے والد یوسف بیٹے کی واپسی پر اطمینان کے ساتھ ساتھ تین پاکستانیوں کی موت پر بھی رنجیدہ ہیں۔ انہوں نے بیٹے کی طبی حالت کے بارے میں بتایا کہ ’وہ واپس تو آ گیا ہے، لیکن گولیاں کھا کر آیا ہے۔ اسے چار گولیاں لگی ہیں۔ ابھی وہ مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوا۔‘ شمس کے مطابق ’ایک گولی کمر پر لگی ہے، ایک ٹانگ پر، ایک ہاتھ پر اور ایک بازو پر لگی ہے۔ ٹانگ والی گولی آرپار ہو گئی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم خوشی کیسے منائیں؟ تین لوگوں کی میتیں بھی ساتھ آئی ہیں۔ ساڑھے پانچ ماہ ہم نے یہ درد سہا ہے۔ ہم چاہتے تھے کہ سب واپس آئیں، ہمیں بھی سب کے ساتھ اپنے لوگ واپس چاہییں۔‘ یوسف نے مزید کہا کہ ’آج ہم خوشی نہیں منا سکتے، کیونکہ ہمارے بچے زخمی حالت میں واپس آئے ہیں اور تین خاندانوں کے پیارے واپس نہیں آ سکے۔‘ ایم ٹی آنر 25 پر سوار پاکستانی عملے کے اہلِ خانہ کئی ماہ تک اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر رہے۔ اس دوران انہوں نے حکومت سے ان کی بحفاظت واپسی کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔ 29 ستمبر کی کارروائی کے بعد جہاز قزاقوں سے چھڑا لیا گیا، تاہم تین پاکستانیوں کی موت نے اس کامیابی کے ساتھ کئی گھروں میں سوگ بھی پیدا کر دیا۔ انصار برنی ٹرسٹ کے قانونی مشیر ایڈووکیٹ قرۃ العین کے مطابق حسین یوسف، عمران علی اور محمد یاسین نامی تین پاکستانی عملے کے ارکان تاحال جہاز کے کپتان کے ساتھ موجود ہیں۔ یہ تینوں زخمی ارکان اور میتوں کے ساتھ پاکستان واپس نہیں آئے۔ صومالیہ پاکستان بحری جہاز عملہ ایم ٹی آنر 25 کو 21 اپریل کو صومالیہ کے ساحل کے قریب اغوا کیا گیا تھا۔ زخمیوں کے اہلِ خانہ نے واپسی پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم تین گھرانوں میں سوگ ہے۔ ممتاز جمالی اتوار, اکتوبر 4, 2026 - 20:15 Main image: پاکستان jw id: BS4gbZIr type: video related nodes: صومالیہ سے بازیاب افراد تین اکتوبر کو پاکستان پہنچیں گے: اسحاق ڈار مشرق وسطیٰ تعیناتی: ’امریکی بحریہ کے 8 اہلکاروں نے خودکشی کی کوشش کی‘ ایران، امریکہ کے بحری جہازوں پر حملے، تیل 100 ڈالر سے بڑھ گیا آبنائے ہرمز میں کشیدگی سے بحری جہازوں کی آمدورفت ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر SEO Title: صومالیہ سے چار زخمی پاکستانیوں سمیت تین میتیں کراچی پہنچ گئیں copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 04/10/2026
independenturdu.com
بٹگرام کیبل کار حادثے پر فلم کی آسکرز 2027 میں انٹری
**پاکستان نے اگست 2023 میں بٹگرام میں پیش آنے والے کیبل کار حادثے اور ریسکیو آپریشن پر بننے والی ڈاکیومنٹری ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ کو 2027 کے آسکرز کی بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کیٹیگری کے لیے نامزد کیا ہے۔** محمد علی نقوی کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم اس ریسکیو آپریشن کی کہانی بیان کرتی ہے جس میں چھ بچوں سمیت آٹھ افراد دریائے جھنگڑی کے اوپر ایک ٹوٹی ہوئی کیبل کار میں کئی گھنٹے پھنسے رہے تھے۔ اگست 2023 میں پیش آنے والے اس واقعے نے پورے پاکستان کی توجہ حاصل کی تھی، جب کیبل کار کی ایک تار ٹوٹنے کے باعث اس میں سوار افراد سینکڑوں فٹ بلندی پر معلق ہو گئے تھے۔ ریسکیو اہلکاروں نے ابتدا میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے انہیں بچانے کی کوشش کی، تاہم بعد ازاں باقی بچ جانے والی کیبل کے ذریعے ان تک رسائی حاصل کی گئی۔ رات گئے تک جاری رہنے والے آپریشن میں تمام آٹھ افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا تھا۔ پاکستان کی آسکر سلیکشن کمیٹی نے ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ کو بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کیٹیگری کے لیے منتخب کیا ہے۔ اس کیٹیگری میں یہ پاکستان کی پہلی ڈاکیومنٹری انٹری ہے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) پاکستان نے 1959 میں پہلی مرتبہ اس کیٹیگری میں فلم بھیجی تھی، تاہم اس سے قبل بھیجی گئی 13 فلموں میں سے کوئی آسکر کے لیے نامزد نہیں ہو سکی۔ 2022 میں صائم صادق کی فلم ’جوائے لینڈ‘ البتہ شارٹ لسٹ ہونے میں کامیاب رہی تھی۔ فلم کے ہدایت کار محمد علی نقوی کے مطابق یہ ڈاکیومنٹری پاکستانی سینما کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پہاڑی علاقوں کی کہانیاں، مقامی لوگوں کی زبانی بیان کی جائیں تو وہ سنسنی خیز فلموں کی شکل اختیار کر سکتی ہیں، عالمی فلمی میلوں تک پہنچ سکتی ہیں اور ہالی ووڈ کی توجہ بھی حاصل کر سکتی ہیں۔ محمد علی نقوی کو امید ہے کہ اس فلم کی عالمی سطح پر پذیرائی پاکستان کے دیگر فلم سازوں کے لیے بھی بین الاقوامی سینما میں آگے بڑھنے کے مواقع پیدا کرے گی۔ بٹگرام میں آٹھ افراد کو بحفاظت بچانے والا یہ ریسکیو آپریشن اب ایک ڈاکیومنٹری کی صورت میں عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرے گا، تاہم آسکرز میں نامزدگی حاصل کرنے کے لیے فلم کو اگلے مراحل سے گزرنا ہو گا۔ بٹگرام آسکر حادثہ ریسکیو فلم بٹگرام کیبل کار حادثے کے ریسکیو پر بننے والی پاکستانی ڈاکیومنٹری ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ کو 2027 کے آسکرز کی بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کیٹیگری کے لیے پاکستان کی جانب سے منتخب کیا گیا ہے۔ یہ اس کیٹیگری میں پاکستان کی پہلی ڈاکیومنٹری انٹری ہے۔  انڈپینڈنٹ اردو اتوار, اکتوبر 4, 2026 - 18:45 Main image: > <p>بٹگرام کیبل کار ریسکیو پر بنی دستاویزی فلم کا پوسٹر (ڈوگ وف یوٹیوب/ آفیشل ٹریلر سکرین شاٹ)</p> پاکستان type: news related nodes: بھارت کیبل کار حادثہ: ریسکیو کے لیے ایئر فورس طلب پاکستان اب تک آسکرز کے لیے کتنی فلمیں بھیج چکا ہے؟ آسکر تقریب: ملالہ کے لباس کے علاوہ کرارے جواب کے چرچے پاکستان نے ’جوائے لینڈ‘ کو آسکرز کے لیے نامزد کر دیا SEO Title: بٹگرام کیبل کار حادثے پر فلم کی آسکرز 2027 میں انٹری copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 04/10/2026
independenturdu.com
اسلام آباد: نواب آف بہاولپور فیملی کے 72 ہزار ڈالر کے نوادرات چوری، گھریلو ملازم گرفتار
**پولیس نے اتوار کو بتایا کہ اسلام آباد میں بہاولپور کے سابق نواب کے خاندان کے ایک فرد کی رہائش گاہ سے گھریلو ملازم نے تقریباً دو کروڑ روپے (72 ہزار 438 ڈالر) مالیت کے نوادرات چوری کیے جسے گرفتار کر لیا گیا۔** یہ واقعہ ایف-8/3 کے علاقے میں پرنس بہاول عباس خان عباسی کے گھر میں پیش آیا۔ وہ نواب صلاح الدین عباسی کے بیٹے ہیں۔ مبینہ طور پر چوری ہونے والی اشیا میں چاندی کی تخت نما کرسی، چاندی کی سیڑھیاں، پیالے، سونے کی پلیٹیں اور مجسمے شامل ہیں۔ ریاست بہاولپور کے نشان والی سونے کی اشیا، ریاستی نشان والا چاندی کا تاریخی فریم، پرانی بندوقیں اور تلواریں بھی چوری ہونے والی اشیا میں بتائی گئی ہیں۔ مارگلہ تھانے کے انچارج محمد عمران نے اتوار کو عرب نیوز کو بتایا کہ معاملہ ایک گھریلو ملازم کی جانب سے چوری کا ہے، جسے گرفتار کر کے تفتیش کی گئی۔ ان کے مطابق ملزم نے بہاولپور کے نواب کے خاندان کا ورثہ اور نوادرات چرائے جن کی مالیت تقریباً دو کروڑ روپے ہے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) پولیس افسر نے یہ نہیں بتایا کہ آیا چوری شدہ سامان میں سے کچھ برآمد ہوا یا نہیں۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے رواں ہفتے پولیس کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں ڈکیتی اور چوری کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ آٹھ واقعات میں نقدی، قیمتی اشیا اور تاریخی نوادرات سمیت تین کروڑ 40 لاکھ روپے (ایک لاکھ 23 ہزار 145 ڈالر) سے زائد مالیت کا سامان چوری ہوا۔ وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن اور گاڑیوں کی تلاشی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ رواں سال کے آغاز میں حکام نے نگرانی بہتر بنانے، ریکارڈ رکھنے اور ٹریفک کو منظم کرنے کے لیے تمام گاڑیوں پر الیکٹرانک ٹیگ (ایم ٹیگ) لگانا لازمی قرار دیا تھا۔ اسلام آباد میں ملک کے اہم سرکاری ادارے، غیر ملکی مشن اور سفارتی علاقے واقع ہیں۔ پولیس اسلام آباد بہاولپور چوری ہونے والی اشیا میں چاندی کی تخت نما کرسی، چاندی کی سیڑھیاں، پیالے، سونے کی پلیٹیں اور مجسمے شامل ہیں۔ نعمت خان اتوار, اکتوبر 4, 2026 - 17:00 Main image: > <p>18 جون، 2020 کو اسلام آباد پولیس کے اہلکار پہرہ دے رہے ہیں (اے ایف پی)</p> پاکستان jw id: f5TDfVmy type: video related nodes: 1100 سے زائد پاکستانی نوادرات کی واپسی کیسے ممکن ہوئی؟ نوادرات کی بازیابی: لوور میوزیم کا اسرائیلی انٹیلی جنس سے رابطے کی تردید سکردو:فرمان علی کے میوزیم میں ’کروڑوں روپے کےنوادرات‘ موجود افغانستان: ’ہزاروں سال پرانے نوادرات‘ کی بازاروں میں فروخت SEO Title: اسلام آباد: نواب آف بہاولپور فیملی کے 72 ہزار ڈالر کے نوادرات چوری، گھریلو ملازم گرفتار copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 04/10/2026
independenturdu.com
’لانگ مارچ میں دہشت گردوں کی سہولت کاری کا خدشہ‘: محسن نقوی کی گورنر کے پی سے ملاقات
**وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اتوار کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مذاکرات کی ناکامی کی پوری ذمہ داری وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر ڈالتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسلام آباد کی جانب بڑھنے والے لانگ مارچ سے سختی سے نمٹا جائے گا۔** انہوں نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مذاکرات کرنے والی پی ٹی آئی ٹیم کو سراہا اور کہا کہ معاہدہ 99 فیصد طے پا چکا تھا۔ ’معاہدے کے 99 فیصد نکات پر اتفاق ہو گیا تھا۔ اس کے بعد میں مسودہ لے کر صدر مملکت کے پاس گیا، جب واپس آیا تو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اس میں تبدیلی کر دی تھی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی ناکامی کا صرف ایک شخص ذمہ دار ہے اور وہ سہیل آفریدی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لانگ مارچ میں شامل سیاسی لیڈروں اور دوسرے لوگوں کے خلاف توہین عدالت کے تحت کارروائی کی جائے گی اور اسلام آباد کی جانب آنے والے جتھے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ محسن نقوی نے یہ بھی کہا کہ اگر لانگ مارچ کے دوران ایک بھی جان گئی تو اس کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر ہو گی۔ **’لانگ مارچ میں دہشت گردوں کی سہولت کاری کا خدشہ‘** محسن نقوی نے آج لاہور میں پریس کانفرنس کے بعد پشاور کا ہنگامی دورہ کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے اہم ملاقات کی۔ گورنر ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملاقات میں صوبے کے اندر بڑھتی بدامنی اور لانگ مارچ سے پیدا صورتحال کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوئی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی چار اکتوبر، 2026 کو پشاور میں گورنر ہاؤس میں گورنر فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کے لیے پہنچے ہیں (گورنر ہاؤس) بیان کے مطابق ملاقات میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا لانگ مارچ کے دوران دہشت گردوں کو سیکورٹی چیک پوسٹوں سے بحفاظت کراس کرانے کی سہولت کاری فراہم کرنے کا خدشہ ہے۔ اسی طرح ’مذاکراتی عمل میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے صوبائی حکومت کا رویہ اور کردار عوام اور صوبہ دشمنی کے مترادف تھا اور مسائل کے حل پر اتفاق کے بعد صوبائی حکومت نے ہٹ دھرمی اور غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یو ٹرن کی روش کو دہرایا۔‘ بیان کے مطابق ’ملاقات میں وزیر اعلی خیبرپختونخوا اور صوبائی وزرا کے لانگ مارچ میں ہیلی کاپٹر اور دیگر سرکاری وسائل کے استعمال کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا گیا۔‘ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ صوبے کو دہشت گردی اور تباہی سے بچانے کے لیے جب بھی صدر پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان گورنر راج یا ایمرجنسی لگانا ضروری سمجھیں تو گورنر ہاؤس بھرپور آئینی کردار ادا کرے گا۔ **وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات** وزیراعظم شہباز شریف نے لاہور میں پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف سے ملاقات کی ہے، جس میں سرکاری ریڈیو کے مطابق ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقعے پر پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز بھی موجود تھیں۔ **ڈیڈ لاک کی بنیادی وجہ عمران خان سے نہ ملنے دینا تھا: اسد قیصر** سابق سپیکر قومی اسمبلی و رکن قومی اسمبلی اسد قیصر نے گذشتہ روز اسلام آباد میں حکومتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ ’ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ سب سے پہلے ہمیں عمران خان تک رسائی دی جائے۔ ’اس کے علاوہ ہم اپنے باقی تمام مطالبات واپس لینے کے لیے تیار تھے۔‘ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’ہمارا صرف ایک مطالبہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت کو عمران خان تک رسائی دی جائے، لیکن حکومتی ٹیم نے کہا کہ یہ مطالبہ فی الحال معاہدے میں شامل نہیں ہو گا اور اس وقت قابل غور نہیں۔‘ > ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ سب سے پہلے آپ ہمیں عمران خان تک ایکسیس دیں۔ اور ہم نے کہا کہ ہم تمام مطالبات واپس کرتے ہیں، ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہماری پولیٹیکل لیڈرشپ کو عمران خان تک رسائی دی جائے۔ تو انہوں نے کہا کہ ابھی تک وہ ایگریمنٹ میں شامل نہیں ہوگا اور اس وقت وہ قابلِ غور نہیں ہے۔ تو ہم نے پھر سوچا کہ اگر عمران خان تک ہمیں ایکسیس نہیں دی جاتی تو دیکھیں، اگر مسلم لیگ (ن) ہر معاملہ نواز شریف یا شہباز شریف سے پوچھ کر کرتی ہے، یا پیپلز پارٹی ہر معاملہ بلاول بھٹو اور آصف زرداری سے پوچھ کر کرتی ہے، تو ہمارا لیڈر عمران خان، جو سب سے مقبول لیڈر ہے اور جیل میں ہے، تو جو بھی پالیسی بنے گی کیا ہم اس سے مشاورت نہیں کریں گے؟ کیا ہم اس کی ڈائریکشن نہیں لیں گے؟ تو اس لیے ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے۔ جو اس کو دہشت گردی کی شکل دے رہا ہے ۔ بالکل ایسا نہیں ہے۔ میں آپ کے سامنے وہ چیز رکھتا ہوں جو ہم اس میں شامل کرنا چاہتے تھے کہ: “کے پی میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کی جان و مال کے تحفظ اور مستقل، پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔ وفاق اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرکے، باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع، قابلِ عمل اور متفقہ لائحہ عمل مرتب کریں گے، اور اس میں تمام سیاسی پارٹیوں کے ذمہ دار لیڈرز اور اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے گا تاکہ جو پالیسی بنے اسے پوری عوام کا اعتماد حاصل ہو"- > > — Asad Qaiser (@AsadQaiserPTI) October 4, 2026 اسد قیصر کے مطابق اگر مسلم لیگ (ن) ہر معاملے پر نواز شریف یا شہباز شریف سے مشاورت کرتی ہے اور پیپلز پارٹی ہر معاملے پر بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری سے رہنمائی لیتی ہے تو کیا ہم اپنی پالیسی سازی میں عمران خان سے مشاورت نہیں کریں گے؟ اسد قیصر نے مزید کہا کہ ’خیبرپختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کی جان و مال کے تحفظ اور مستقل و پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔ ’اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔‘ **’کے پی حکومت آخری وقت پر پیچھے ہٹ گئی‘** اس سے قبل وزیر داخلہ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ**** خیبر پختونخوا حکومت نے جس تحریری معاہدے پر دستخط اور عمل درآمد کا منصوبہ پیش کرنے پر اتفاق کیا تھا وہ آخری وقت میں اس سے ’پیچھے ہٹ‘ گئی۔ وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب طویل مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے تھے۔ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان چار اکتوبر کے لانگ مارچ اور صوبہ خیبر پختونخوا میں ممکنہ گورنر راج سمیت دیگر سیاسی معاملات سے متعلق مذاکرات کے دوران مذاکراتی ٹیموں کے درمیان ’انسدادِ دہشت گردی اور وفاق سے تعاون کے نکات‘ پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا تھا۔ مذاکرات کی ناکامی کے حوالے سے حکومتی مذاکرات کار رانا ثنااللہ نے کہا کہ ’خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں ساتھ دینے پر تیار نہیں ہوئی۔‘ > The KP Government had agreed to sign a written agreement and submit an implementation plan within 72 hours, covering • Reconsideration of the Police Act 2026 in light of the security situation and the need to protect security matters from political interference • Preventing terrorists from operating freely or finding safe havens in the province • Unequivocal condemnation of TTP/TTA and all other terrorist groups • Support for the national policy on Afghan refugees, including repatriation and dismantling Afghan camps in KP • No contact with the Interim Afghan Government • Substantial funding for counterterrorism operations and the police • Full provincial ownership of counterterrorism measures and stronger cooperation with the Armed Forces • Decisions on counterterrorism in the former FATA and merged districts • Implementation of the National Action Plan Last night, during the final phase of negotiations, the KP Government backed out of these commitments. Security must not be politicised while the province is at War > > — Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) October 4, 2026 دوسری جانب مذاکرات کے بعد صحافیوں کی طرف سے موجود سوال پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’لانگ مارچ کا جواب گورنر راج نہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں مذاکرات کے آپشن برقرار رہتے ہیں۔ اس حوالے سے اب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’خیبر پختونخوا حکومت نے 72 گھنٹوں کے اندر ایک تحریری معاہدے پر دستخط کرنے اور اس پر عمل درآمد کا منصوبہ پیش کرنے پر اتفاق کیا تھا۔‘ محسن نقوی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’گذشتہ رات مذاکرات کے آخری مرحلے کے دوران خیبر پختونخوا حکومت ان وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔‘ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) انہوں نے کہا کہ ’صوبہ جنگ کی صورتحال سے دوچار ہے، ایسے میں سکیورٹی کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے۔‘ ساتھ ہی انہوں نے چند نکات بھی شیئر کیے جن پر ان کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے اتفاق کیا تھا۔ ان کی جانب سے جاری نکات: * سکیورٹی کی صورتحال اور سیکیورٹی معاملات کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے کی ضرورت کے پیشِ نظر پولیس ایکٹ 2026 پر نظرِ ثانی۔ * صوبے میں دہشت گردوں کو آزادانہ طور پر کارروائیاں کرنے یا محفوظ پناہ گاہیں تلاش کرنے سے روکنا۔ * ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے اور دیگر تمام دہشت گرد گروہوں کی غیر مبہم مذمت۔ * افغان مہاجرین سے متعلق قومی پالیسی کی حمایت، جس میں واپسی اور خیبر پختونخوا میں افغان کیمپوں کا خاتمہ شامل ہے۔ * عبوری افغان حکومت سے کوئی رابطہ نہ رکھنا۔ * انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں اور پولیس کے لیے خاطر خواہ فنڈز کی فراہمی۔ * انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کی مکمل صوبائی ذمہ داری قبول کرنا اور مسلح افواج کے ساتھ تعاون مزید مضبوط کرنا۔ * سابق فاٹا اور ضم شدہ اضلاع میں انسدادِ دہشت گردی سے متعلق فیصلے کرنا۔ * قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد۔ **سہیل آفریدی کا ڈرافٹ** دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی ایکس پر ’مذاکرات کمیٹی کو بھیجے ڈرافٹ‘ کو شیئر کیا ہے۔ > مزاکراتی کمیٹی کو میرا بھیجا گیا ڈرافٹ یہ ہے جسے میں اپنی قوم کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہئیے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے۔ ہمارے ساتھ ریاست ہر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ یہ ہمارے ڈیمانڈز تھے، ہیں اور رہیں گے۔ ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل، قومی یکجہتی، امن و امان کے قیام اور تمام سیاسی و قومی معاملات کو باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے درج ذیل امور پر اتفاقِ رائے کیا جائے گا: 1۔وزیرِ اعظم پاکستان اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں ملک کو درپیش تمام اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات، بالخصوص زیرِ التوا امور، پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ فریقین اس امر کے پابند ہوں گے کہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے مذکورہ امور کے حل کے لیے دو ماہ کے اندر مؤثر اور قابلِ عمل پیش رفت یقینی بنائی جائے۔ 2۔وزیرِ اعظم پاکستان حکومتی اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل ایک مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیں گے۔ یہ کمیٹی اپوزیشن کے ساتھ قومی و سیاسی معاملات، باہمی اختلافات اور دیگر اہم امور پر مسلسل مذاکرات کرے گی اور باہمی اتفاقِ رائے سے قابلِ عمل حل تلاش کرے گی۔ جمہوریت، سیاست، عدالت اور صحافت کی مکمل آزادی ہوگی۔ کمیٹی اپنے قیام کے بعد ایک ماہ کے اندر مذاکرات اور حل کے حوالے سے قابلِ ذکر پیش رفت یقینی بنائے گی اور اپنی سفارشات متعلقہ قیادت کے سامنے پیش کرے گی۔ 3۔ جیل مینول، آئینِ پاکستان اور مروجہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو حاصل تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق بلاامتیاز فراہم کیے جائیں گے۔ ان کے علاج و معالجے کے سلسلے میں، جہاں قانوناً قابلِ اطلاق ہو، ان کے ذاتی/نامزد ڈاکٹروں کی طبی رائے، ہدایات اور مشوروں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ضروری طبی سہولیات اور علاج معالجے کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ 4۔جیل مینول اور متعلقہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اپنے اہلِ خانہ، نامزد وکلاء اور مجاز/نامزد رفقاء سے ملاقات کا حق فراہم کیا جائے گا۔ ملاقاتوں کا انعقاد قانون اور جیل قواعد و ضوابط کے مطابق ہوگا۔ تاہم ملاقات کی سہولت کو کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے سیاسی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا جو قانوناً ممنوع ہوں۔ 5۔عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، معمر اور بیمار قیدیوں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی جانب سے سزاؤں کے خلاف دائر درخواستوں اور دیگر قانونی درخواستوں پر آئین و قانون کے مطابق دس دن کے اندر غور کا عمل شروع/مکمل کیا جائے گا، جہاں قانوناً ایسا ممکن ہو۔ تمام مقدمات کا فیصلہ متعلقہ عدالتیں اور قانونی فورمز آئین، قانون، شفاف عدالتی طریقۂ کار اور انصاف کے اصولوں کے مطابق، بلاجواز تاخیر کے بغیر، کریں گے۔ خواتین جو سیاسی قید کاٹ رہی ہیں جن میں بزرگ یاسمین راشد اور بشری بی بی سرفہرست ہے اُن کو انسانی ہمدردی دکھاتے ہوئے جلد رہا کیا جائے۔ 6۔خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مستقل و پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرکے باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کریں گے۔ اس حکمتِ عملی پر آئین و قانون کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے عمل درآمد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔ 7۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مذکورہ بالا یقین دہانیوں اور طے شدہ اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف موجودہ لانگ مارچ کو منسوخ کرنے کا اعلان کرے گی۔ تاہم اگر وفاقی حکومت طے شدہ یقین دہانیوں، مذاکراتی عمل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرے یا مذاکراتی عمل کو بلاجواز تعطل کا شکار کرے تو پاکستان تحریکِ انصاف آئین و قانون کے مطابق اپنے پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کے حق کو محفوظ رکھے گی۔ > > — Sohail Afridi (@SohailAfridiISF) October 4, 2026 سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ ’پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہیے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے، ہمارے ساتھ ریاست ہر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ یہ ہماری ڈیمانڈز تھے، ہیں اور رہیں گے۔‘ انہوں نے بھی چند نکات لکھے اور ساتھ کہا کہ ’اگر وفاقی حکومت طے شدہ یقین دہانیوں، مذاکراتی عمل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرے یا مذاکراتی عمل کو بلاجواز تعطل کا شکار کرے تو پاکستان تحریکِ انصاف آئین و قانون کے مطابق اپنے پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کے حق کو محفوظ رکھے گی۔‘ پاکستان پاکستان تحریک انصاف لانگ مارچ مذاکرات وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے موقعے پر پشاور میں گورنر فیصل کریم کنڈی سے اہم ملاقات کی ہے۔  انڈپینڈنٹ اردو اتوار, اکتوبر 4, 2026 - 19:45 Main image: > <p>13 مئی 2023 کی اس تصویر میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے ایک اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں (وزیر اعلی پنجاب ہاؤس)</p> سیاست jw id: rNSHuWKe type: video related nodes: خیبرپختونخوا کے مجوزہ پولیس ایکٹ پر وفاقی حکومت کو اعتراض کیوں؟ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات بے نتیجہ ختم، انسدادِ دہشت گردی کے نکات پر ’ڈیڈلاک‘ 2022 سے اب تک: تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی کہانی 4 اکتوبر لانگ مارچ: حکومت و پی ٹی آئی مذاکرات کا اگلا دور کل SEO Title: ’لانگ مارچ میں دہشت گردوں کی سہولت کاری کا خدشہ‘: محسن نقوی کی گورنر کے پی سے ملاقات copyright: show related homepage: Show on Homepage
010
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 04/10/2026
independenturdu.com
ایشین گیمز کا اختتام: چین 341 میڈلز کے ساتھ سرفہرست، پاکستان کا 29 واں نمبر
**جاپان میں منقعدہ ایشین گیمز 2026 دو ہفتے جاری رہنے کے بعد چار اکتوبر کو ختم ہو گئے ہیں۔ کھیلوں میں نوجوان کھلاڑیوں اور ایتھلٹس نے ریکارڈ توڑ کاکردگی کا مظاہرہ کیا۔** ایشین گیمز کی ویب سائٹ پر درج نتائج کے مطابق چین سب سے زیادہ میڈل جیت کر پہلے نمبر پر رہا۔ چین نے مجموعی طور پر 341 میڈل جیتے جن میں سونے کے 169، چاندی کے 89 اور کانسی کے 83 میڈل شامل ہیں۔ تیراکی میں تہلکہ مچانے والی چین کی محض 13 سالہ یو زدی نے تین طلائی تمغے جیت کر پول میں میلہ لوٹ لیا، اور یہ سب گیمز کے ریکارڈ وقت میں حاصل کیے۔ 17000 سے زائد کھلاڑی اور آفیشلز، جو اولمپکس سے بھی بڑی تعداد ہے، براعظم کے کھیلوں کے سب سے شاندار میلے کے لیے ناگویا اور آئیچی پریفیکچر پہنچے۔ میڈل حاصل کرنے والوں میں جاپان کا دوسرا نمبر ہے۔ اس نے کل 269 تمغے حاصل کیے جن میں سونے کے 83، چاندی کے 95 اور کانسی کے 91 میڈل شام ہیں۔ تیسرے نمبر پر جنوبی کوریا نے سب سے زیادہ 150 میڈل حاصل کیے۔ اس نے سونے کے 39، چاندی کے 43 اور کانسی کے 168 میڈل جیتے۔ > View this post on Instagram > > A post shared by Independent Urdu (@indyurdu) تمغوں کی دوڑ میں پاکستان 29 ویں نمبر پر رہا۔ وہ سونے کا کوئی تمغہ جیتنے میں ناکام رہا تاہم اس نے 10 میڈل جیتے جن میں دو چاندی اور کانسی کے آٹھ میڈل شامل ہیں۔ کرکٹ ایونٹ کے فائنل میں پاکستان کا مقابلہ انڈیا کے ساتھ تھا تاہم ہفتے کو کھیلے گئے میچ میں انڈیا نے پاکستان کو 19 رنز سے شکست دے کر گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا جب کہ پاکستان کے حصے میں چاندی کا تمغہ آیا۔ **ناقص انتظامات کا الزام** اے ایف پی کے مطابق انتظامی غلطیوں، شائقین کی کم اور غیر مستقل تعداد اور ناقص انتظام کے الزامات نے کھیلوں کا مزہ خراب کر دیا۔ اختتامی تقریب میں چند گھنٹے باقی ہیں جس میں جاپان ایشیائی کھیلوں کی میزبانی دوحہ کے حوالے کرے گا، لیکن اس دوران اعلیٰ حکام کو انتظامات پر ہونے والی تنقید کا دفاع کرنا پڑا۔ اولمپک کونسل آف ایشیا کے ڈائریکٹر جنرل حسین المسلم نے کہا کہ ’اعداد و شمار حقیقت بیان کرتے ہیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ 19 ستمبر کو کھیل شروع ہونے کے بعد سے 50 عالمی ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’اگر کھلاڑی اچھی طرح نہ سوئیں اور انہیں آمدورفت کی اچھی سہولت نہ ملے تو وہ اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکتے۔‘ ایشین گیمز کا یہ 20 واں ایڈیشن تھا۔ یہ کھیل پہلی بار 1951 میں منعقد ہوئے تھے۔ اخراجات بچانے کے لیے اس بار کھلاڑیوں کا روایتی گاؤں نہیں بنایا گیا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اس کے بجائے کھلاڑیوں اور دیگر شرکا کو لکڑی کی عارضی رہائش گاہوں، ایک بحری تفریحی جہاز اور ہوٹلوں میں ٹھہرایا گیا۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ یہ طریقہ مستقبل میں مختلف کھیلوں کے بڑے مقابلوں کے لیے ایک نمونہ بن سکتا ہے۔ لیکن اس انتظام میں کئی مسائل سامنے آئے۔ بعض ٹیموں نے شکایت کی کہ عارضی رہائشی کمرے بہت تنگ اور بستر بہت چھوٹے تھے۔ اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ تھا کہ کھلاڑیوں اور عہدیداروں کی تعداد توقع سے زیادہ بڑھ گئی، جس کی وجہ سے سب کے لیے بستر کم پڑ گئے۔ ایشین گیمز کرکٹ چین انڈیا جاپان ایتھلیٹ چین نے سونے کے 169، چاندی کے 89 اور کانسی کے 83 میڈل جیتے۔ پاکستان کرکٹ فائنل میں انڈیا سے ہار کر گولڈ میڈل سے محروم رہا۔  انڈپینڈنٹ اردو اتوار, اکتوبر 4, 2026 - 13:30 Main image: > <p class="rteright">چین کے ما یولِن (سفید لباس) اور تائیوان کے یانگ یونگ وے 30 ستمبر 2026 کو ناگویا کے ایچی انٹرنیشنل ایرینا میں جاری ایشین گیمز کے مردوں کے 60 کلوگرام سے کم وزن کی جوڈو کانسی کے تمغے کے مقابلے میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p> کھیل type: news related nodes: ایشین گیمز کرکٹ فائنل: پاکستان کو شکست، گولڈ میڈل انڈیا کے نام ایشین گیمز والی بال: کوارٹر فائنل میں پاکستان نے انڈیا کو ہرا دیا ایشین گیمز: فائنل میں پاکستان اور انڈیا آمنے سامنے ایشین گیمز: کرکٹ کے سیمی فائنل اور فائنل میں بھی بارش ہوئی تو کیا ہوگا؟ SEO Title: ایشین گیمز کا اختتام: چین 341 میڈلز کے ساتھ سرفہرست، پاکستان کا 29 واں نمبر copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 04/10/2026
independenturdu.com
گورنر راج مانتے ہیں نہ ایمرجنسی: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
**وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اتوار کو لانگ مارچ شروع کرنے کے لیے لکی مروت پہنچ گئے جہاں انہوں نے مارچ کے شرکا سے خطاب میں کہا کہ نہ وہ’ گورنر راج مانتے ہیں اور نہ ایمرجنسی۔‘** انہوں نے گنڈی چوک، لکی مروت میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک مائنڈ سیٹ ہے جو بند کمروں میں فیصلے کرتا ہے، کل وہ ایک اور فیصلہ آپ پر مسلط کرنے جا رہا تھا۔‘ انہوں نے کہا ’یہاں پر عمران خان کی حکومت ہے اور یہاں عمران خان کا وژن اور پالیسی ہی چلیں گے۔‘ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’ہم کسی ایسی پالیسی کو نہیں مانتے جس میں پشتونوں کا نقصان ہو۔‘ ’خیبرپختونخوا میں راج صرف عمران خان کا ہوگا اور نہ گورنر راج مانتے ہیں نہ ایمرجنسی مانتے ہیں۔‘ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’79 سال سے مسلط ایک مائنڈ سیٹ کل آپ پر آپریشنز کی ایک اور پالیسی مسلط کر رہا تھا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ حکومت خیبرپختونخوا وفاقی حکومت کو کھلی پالیسی دیتی ہے اور اس پر عمل درآمد سے 100 دنوں میں امن آ سکتا ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا ’اس کے لیے نیت کا ہونا چاہیے، مگر ان کی نیت امن نہیں ہے، ان کی نیت پی ٹی آئی کو ختم کرنا ہے۔‘ انہوں نے کہا عمران خان کے دور میں امن تھا کیونکہ ان کی پالیسی ٹھیک تھی، جبکہ ’ریجیم چینج کے بعد ایک بار پھر دہشت گردی کو ہم پر مسلط کیا گیا۔‘ سہیل آفریدی نے کہا کہ ’یہ آگ انہوں نے لگائی ہے، ہم اس آگ کو بجھائیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ عوام نے نکلنا ہے اور پاکستان کے فیصلے نوجوانوں نے کرنے ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ’کرک میں عوام کا سمندر ہوگا، پوری دنیا دیکھے گی، صوابی تک پہنچنے تک لاکھوں لوگ ہمارے قافلے میں ہوں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ حقیقی آزادی کی یہ تحریک ملک کے کونے کونے تک پھیل چکی ہوگی۔ دوسری جانب سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی قیادت میں آج پی ٹی آئی کے کارکنوں اور حامیوں نے ڈیرہ اسماعیل خان سے لانگ مارچ شروع کر دیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے روانگی سے قبل گنڈاپور نے زور دیا کہ احتجاج پُرامن رہنا چاہیے اور شرکا سے نظم و ضبط برقرار رکھنے اور تشدد، توڑ پھوڑ اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں سے تصادم سے گریز کرنے کی اپیل کی۔ > علی امین گنڈاپور صاحب کی قیادت میں ڈیرہ اسماعیل خان سے ایک بڑا قافلہ لانگ مارچ کے لیے روانہ۔ علی امین گنڈاپور کی تمام کارکنان کو پر امن رہنے کی تلقین۔ https://t.co/QVOCEevx9M > > — Junaid Akbar (@JunaidAkbarMNA) October 4, 2026 پی ٹی آئی نے وفاقی حکومت سے ہفتے کو رات گئے مذاکرات میں ناکامی کے بعد آج اپنا لانگ مارچ باقاعدہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان ’انسدادِ دہشت گردی اور وفاق سے تعاون کے نکات‘ پر اتفاقِ رائے نہ ہونے پر مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوئے۔ پی ٹی آئی لانگ مارچ کے حوالے سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں مکمل پلان بھی شیئر کیا ہے۔ ہفتے اور اتوار درمیانی شب جاری کیے گئے اس پلان کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اتوار کو گنڈی چوک لکی مروت سے لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کرنے جا رہی ہے۔ سہیل آفریدی کے مطابق ’اتوار، چار اکتوبر دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیور پاکستانی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔‘ > انشأللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے ہم لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے- آج بروز اتوار، 4 اکتوبر، دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ساؤتھ وزیرستان، نارتھ وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیور پاکستانی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔ رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پہنچ کر پڑاؤ کرے گا۔ 5 اکتوبر دن 12 بجے کرک کے غیور عوام ہمیں جوائن کرینگے۔ وہاں سے روانگی 12:30 بجے ہوگی اور رات کو کوہاٹ کے قریب پڑاؤ کریں گے- 6 اکتوبر کو 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع کے پاکستانی ہمیں جوائن کریں گے۔ کوہاٹ سے پشاور کی طرف روانگی ہوگی اور پشاور متنی کے قریب رات گزاریں گے۔ 7 اکتوبر کو پشاور بڈھ بیر کے مقام سے دن 12:30 بجے روانگی ہوگی۔ بڈھ بیر کے مقام پر ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔ پشاور کے باقی حلقے کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازا پر ہمیں جوائن کریں گے۔ اور رات ہم چارسدہ انٹرچینج کے قریب گزاریں گے۔ 8 اکتوبر کو 12:30 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی۔ وہاں ضلع چارسدہ اور مہمند ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔ پورے خیبر پختونخوا کے لوگ 8 اکتوبر کو خیر آباد کے مقام پر اکٹھے ہونگے اور وہاں رات گزاریں گے۔ انشأللہ آگے کا لائحہ عمل وہاں پر دیا جائیگا۔ > > — Sohail Afridi (@SohailAfridiISF) October 3, 2026 انہوں نے بتایا کہ ’رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پہنچ کر پڑاؤ ڈالے گا اور پانچ اکتوبر دن 12 بجے کرک کے عوام ہمیں جوائن کریں گے۔ وہاں سے روانگی 12:30 بجے ہوگی اور رات کو کوہاٹ کے قریب پڑاؤ کریں گے۔‘ سہیل آفریدی کے مطابق یہ قافلہ سات اکتوبر کو پشاور بڈھ بیر کے مقام سے روانہ ہو گا ’پورے خیبر پختونخوا کے لوگ آٹھ اکتوبر کو خیر آباد کے مقام پر اکٹھے ہوں گے جہاں آئندہ کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔‘ دوسری جانب حکام نے دارالحکومت اسلام آباد میں تین ہزار پیرا ملٹری رینجرز کی تعیناتی 15 اکتوبر تک بڑھانے کی درخواست کی ہے۔ یہ بات ہفتے کو سامنے آنے والے سرکاری دستاویزات سے پتہ چلی۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی سے طویل مذاکرات کے بعد ہفتے کی شب کہا تھا کہ ’لانگ مارچ کو کسی صورت اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔ کسی قسم کے انتشار کی کوشش کو قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔‘ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ ’بنیادی بات امن وامان اور دہشت گردی کے حوالے سے کے پی کے حالات ہیں۔ ’وفاق کا موقف ہے صوبائی حکومت دہشت گردی کے معاملے میں اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرے۔ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق تعاون کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ بات ہمیں قبول نہیں ہے۔‘ پاکستان پاکستان تحریک انصاف اسلام آباد عمران خان سہیل آفریدی نے لکی مروت میں لانگ مارچ شروع کرتے ہوئے خطاب میں کہا کہ نہ وہ’ گورنر راج مانتے ہیں اور نہ ایمرجنسی۔‘  انڈپینڈنٹ اردو اتوار, اکتوبر 4, 2026 - 19:15 Main image: > <p>خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی 30 ستمبر کو پشاور میں لانگ مارچ کے حوالے سے سٹریٹ موومنٹ کا آغاز کرتے ہوئے (فائل فوٹو/ پی ٹی آئی)</p> سیاست jw id: yT5HpZ44 type: video related nodes: حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات بے نتیجہ ختم، انسدادِ دہشت گردی کے نکات پر ’ڈیڈلاک‘ 2022 سے اب تک: تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی کہانی چار اکتوبر کو ہر صورت لانگ مارچ کریں گے: سہیل آفریدی SEO Title: گورنر راج مانتے ہیں نہ ایمرجنسی: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 04/10/2026
independenturdu.com
آواز سے عمر میں اضافے کی رفتار کا پتہ لگانا ممکن: تحقیق
**ایک تحقیق کے مطابق آپ کی آواز سے پتا چل سکتا ہے کہ آپ کی عمر کتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور بڑھاپے کے اثرات آپ پر کس حد تک ظاہر ہو رہے ہیں۔** سائنس دانوں نے سپیچ کلاک کے نام سے ایک کمپیوٹر نظام تیار کیا ہے۔ یہ نظام بولتے وقت وقفے، آواز کے اتار چڑھاؤ اور استعمال کیے گئے الفاظ کو سن کر کسی شخص کی عمر کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ نوجوانوں جیسی آواز میں عموماً بولنے کی رفتار تیز، انداز رواں اور وقفے مختصر ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بڑی عمر کے افراد سے منسوب گفتگو نسبتاً سست اور زیادہ وقفوں والی ہوتی ہے۔ جب اس نظام کو آزمایا گیا تو بعض افراد کی آواز ان کی اصل عمر سے زیادہ بوڑھی محسوس ہوئی۔ ان افراد میں جسمانی بڑھاپے، ذہنی صلاحیت میں کمی اور ڈیمنشیا کی علامات کا امکان بھی زیادہ پایا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نظام مستقبل میں مریضوں میں ڈیمنشیا کی ابتدائی جانچ کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ تحقیق کے مرکزی مصنف اور ٹرینیٹی کے سکول آف میڈیسن اور گلوبل برین ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ میں دماغی صحت کے پروفیسر آگسٹن ابانیز نے کہا، ’ایسا لگتا ہے کہ ہماری آواز میں بڑھتی عمر کے بارے میں ہماری گذشتہ سوچ سے کہیں زیادہ معلومات موجود ہوتی ہیں۔‘ انہوں نے کہا: ’آواز سے نہ صرف کسی شخص کی اصل عمر کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ اس میں ذہنی صلاحیت، دماغ، جسم کے حیاتیاتی نظام اور زندگی بھر کے سماجی ماحول کے اثرات بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ ’اس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ مستقبل میں سپیچ کلاک جیسے سادہ اور آسان طریقے، ممکنہ طور پر جسمانی علامات کی جانچ کے ساتھ مل کر، بڑھتی عمر کا اندازہ لگانے والے زیادہ مہنگے طریقوں کے متبادل یا معاون بن سکیں گے۔‘ سائنس ایڈوانسز نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ارجنٹائن، چلی، کولمبیا، میکسیکو اور پیرو سے تعلق رکھنے والے ہسپانوی زبان بولنے والے دو ہزار 928 افراد کی آوازوں کا جائزہ لیا گیا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ان افراد میں صحت مند بالغوں کے علاوہ معمولی ذہنی کمزوری، الزائمر اور دماغ کے اگلے اور کنپٹی والے حصوں کو متاثر کرنے والے ڈیمنشیا کی مختلف اقسام میں مبتلا لوگ بھی شامل تھے۔ کمپیوٹر نظام نے ہر شخص کی ’آواز کی عمر کا فرق‘ معلوم کیا، یعنی اس کی اصل عمر اور آواز سے ظاہر ہونے والی جسمانی عمر کے درمیان کتنا فرق ہے؟ جن افراد کی آواز ان کی اصل عمر سے زیادہ بوڑھی محسوس ہوئی، انہوں نے یادداشت، سوچنے اور منصوبہ بندی کے امتحانات میں بھی نسبتاً کم کارکردگی دکھائی، چاہے ان امتحانات میں بولنا شامل نہ ہو۔ آواز اور اصل عمر کے درمیان زیادہ فرق کا تعلق بعض جسمانی تبدیلیوں سے بھی پایا گیا۔ مثال کے طور پر دماغ کے سکین میں دماغ زیادہ عمر رسیدہ دکھائی دیا اور ڈی این اے میں بھی تبدیلیاں پائی گئیں۔ الزائمر کے مریضوں میں آواز کی عمر اور اصل عمر کا فرق زیادہ تھا۔ اس فرق کا تعلق ان کے خون میں ’پی ٹاؤ 217‘ نامی پروٹین کی زیادہ مقدار سے بھی تھا، جو الزائمر کی اہم علامات میں سے ایک ہے۔ جن لوگوں کی آواز ان کی اصل عمر سے زیادہ بوڑھی لگتی تھی، ان میں سماجی مشکلات، کم تعلیم، مالی تنگی اور خوراک کی کمی یا غیر یقینی دستیابی بھی زیادہ دیکھی گئی۔ جسمانی عمر کا اندازہ لگانے کے موجودہ طریقوں میں اکثر ایم آر آئی مشین، خون کے نمونے، جینیاتی اور حیاتیاتی ٹیسٹ یا ماہر ڈاکٹروں سے خصوصی معائنہ درکار ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں آواز کہیں سے بھی ریکارڈ کی جا سکتی ہے، بار بار جانچی جا سکتی ہے، اس عمل میں جسم کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور اس پر خرچ بھی بہت کم آتا ہے۔ یہ سہولت خاص طور پر ان ملکوں اور علاقوں میں اہم ثابت ہو سکتی ہے جہاں جدید تشخیصی ٹیکنالوجی آسانی سے دستیاب نہیں۔ ٹیکنالوجی تحقیق عمر میڈیکل سائنس سپیچ کلاک بولتے وقت وقفے، آواز کے اتار چڑھاؤ اور الفاظ کی مدد کسی شخص کی عمر کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ ربیکا وٹیکر اتوار, اکتوبر 4, 2026 - 10:00 Main image: > <p class="rteright">سپیچ کلاک کے نام سے بنایا گیا کمپیوٹر نظام بولنے میں وقفے اور آواز کے اتار چڑھاؤ سے کسی کی عمر کا اندازہ لگا سکتا ہے (اینواتو)</p> تحقیق type: news related nodes: عمر بڑھنے کے ساتھ دن چھوٹے کیوں محسوس ہوتے ہیں؟ آوازیں دفنانے کی بجائے انہیں ساتھ کیوں نہیں بٹھا سکتے ہم؟ ’بینائی نہیں، آواز سن کے گاڑی ٹھیک کرتا ہوں‘ سائنس دانوں کو خلائی مخلوق تک پہنچنے کا نیا طریقہ مل گیا؟ SEO Title: آواز سے عمر میں اضافے کی رفتار کا پتہ لگانا ممکن: تحقیق copyright: IndependentEnglish origin url: https://www.independent.co.uk/news/uk/home-news/ageing-voice-speech-dementia-signs-alzheimers-research-b3059673.html show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 04/10/2026
independenturdu.com
حوثیوں کے ریاض کو نشانہ بنانے کے دعوے گمراہ گن: اتحادی فوج
**یمن میں قانونی حیثیت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے ہفتے کو حوثیوں کی جانب سعودی دارالحکومت ریاض کو نشانے کے دعوے کو گمراہ کن قرار دیا ہے۔** اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے الشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’تعز میں حوثیوں کو درپیش صورتحال اور مختلف محاذوں پر یمنی مسلح افواج اور عوامی مزاحمت کے ہاتھوں گروپ کے ارکان کی اموات انہیں ’فرضی کامیابیاں‘ تلاش کرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔‘ انہوں نے ان دعوؤں کو ’نقصانات کی شدت اور ملیشیا کے طرزِ عمل پر بڑھتے عوامی غصے سے توجہ ہٹانے کی کوشش‘ قرار دیا اور کہا کہ حوثیوں کا تعلق ایسے غیر ملکی ایجنڈوں سے ہے جنہوں نے یمن میں افراتفری اور تباہی پیدا کی ہے۔ یمن سے آنے والی حالیہ رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے ایک ہفتے کے دوران تقریباً 5 ہزار جنگجو کھوئے ہیں، جبکہ یمنی مسلح افواج حوثیوں کے نشانہ بننے والے مختلف محاذوں پر فضائی اور زمینی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) یمنی مسلح افواج کے مطابق ہفتے کی شام تک حوثی ملیشیا کے ٹھکانوں، نقل و حرکت اور فوجی صلاحیتوں کے خلاف 257 ہدفی کارروائیاں کی گئیں، جن میں جنگی طیاروں، ڈرونز، توپ خانے، میزائلوں اور راکٹ لانچرز کا استعمال کیا گیا۔ مسلح افواج کے سرکاری ترجمان کرنل ماجد النزیلی کے مطابق کارروائیاں صنعا، میدی، باقم، الجوف، مأرب، البیضا اور لحج کے محاذوں پر کی گئیں، جبکہ بنیادی توجہ تعز کے محاذوں پر مرکوز رہی۔ انہوں نے بتایا کہ کارروائیوں میں حوثیوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، جنگجوؤں کے اجتماعات اور کمک، جنگی ذخائر، اسلحہ و گولہ بارود کے ڈپو، فوجی سپلائی لائنز اور فوجی سازوسامان کو نشانہ بنایا گیا۔ یمن سعودی عرب حوثی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے الشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے حوثیوں کے ان دعوؤں کو ’نقصانات کی شدت اور ملیشیا کے طرزِ عمل پر بڑھتے عوامی غصے سے توجہ ہٹانے کی کوشش‘ قرار دیا۔  انڈپینڈنٹ اردو اتوار, اکتوبر 4, 2026 - 09:00 Main image: > <p>اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی 16 ستمبر 2019 کو ریاض میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p> دنیا type: news related nodes: حوثیوں نے مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے گرڈ کو نشانہ بنایا: اتحادی افواج سعودی عرب کی طرف داغے گئے تین حوثی میزائل تباہ پاکستان کی مدینہ میں بجلی تنصیب پر حوثی حملے کی شدید مذمت سعودی عرب سے یکجہتی، حوثی حملوں کی شدید مذمت: کور کمانڈرز کانفرنس SEO Title: حوثیوں کے ریاض کو نشانہ بنانے کے دعوے گمراہ گن ہیں: ترجمان اتحادی افواج copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 04/10/2026
independenturdu.com
سوات کے نوجوان کا لکڑی پر تصاویر تراشنے کا منفرد ہنر
**سوات کے نوجوان نعمان سعید گذشتہ سات، آٹھ برس سے لکڑی پر مختلف شخصیات کی تصاویر تراشنے کا منفرد ہنر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے لیے یہ کام صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسا شوق اور ہنر ہے جو انہیں اپنے والد سے ورثے میں ملا۔** نعمان سعید بتاتے ہیں کہ ان کے والد خان سعید بھی ایک ماہر کاریگر ہیں اور لکڑی پر کام کرنے کا یہ ہنر انہوں نے اپنے والد ہی سے سیکھا۔ نعمان سعید عموماً دیار کی لکڑی استعمال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق لکڑی کو تصویر بنانے کے قابل بنانے کے لیے پہلے اسے کئی ماہ تک خشک کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد لکڑی کی صفائی کی جاتی ہے۔ اس پر تصویر کی ڈرائنگ بنائی جاتی ہے اور پھر مختلف اوزاروں کی مدد سے اسے تراش کر تصویر کی شکل دی جاتی ہے۔ نعمان کے مطابق ایک تصویر مکمل کرنے میں عموماً 10 سے 15 دن لگتے ہیں، تاہم لکڑی کو خشک کرنے کا مرحلہ اس سے کہیں زیادہ وقت لیتا ہے۔ > View this post on Instagram > > A post shared by Independent Urdu (@indyurdu) انہوں نے بتایا کہ ’یہ بہت مشکل کام ہے۔ پہلے لکڑی پر ڈرائنگ بناتا ہوں، پھر اسی ڈرائنگ کے مطابق تصویر تراشتا ہوں۔ ایک تصویر مکمل کرنے میں کئی دن لگ جاتے ہیں، لیکن جب تصویر مکمل ہوتی ہے تو بہت خوشی ہوتی ہے۔‘ اب تک نعمان سعید 50 سے زیادہ تصاویر بنا چکے ہیں۔ ان کے کام میں پاکستان کی معروف شخصیات کے علاوہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی تصاویر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے علامہ محمد اقبال، قائداعظم اور دیگر شخصیات کی تصاویر لکڑی پر تراشی ہیں، جب کہ بیرونِ ملک سے بھی انہیں مختلف شخصیات کی تصاویر بنانے کے آرڈرز موصول ہوتے رہے ہیں۔ ابتدا میں نعمان یہ کام صرف شوق کے طور پر کرتے تھے، تاہم سوشل میڈیا نے ان کے اس ہنر کو وسیع حلقے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بنائی ہوئی ایک تصویر کی ویڈیو ٹک ٹاک پر شیئر کی جو بعد میں وائرل ہوگئی۔ اس ویڈیو کے ذریعے لوگوں کو ان کے منفرد ہنر کے بارے میں معلوم ہوا اور اس کے بعد انہیں مختلف شہروں سے آرڈرز ملنا شروع ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ ان سے زیادہ تر تصاویر تحفے کے طور پر بنواتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے والدین یا بچوں کی تصاویر بنواتے ہیں جب کہ بعض افراد اپنے دوستوں، اساتذہ، باس یا دیگر قریبی لوگوں کے لیے خصوصی تحفے کے طور پر لکڑی پر تصاویر تیار کراتے ہیں۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ’زیادہ تر لوگ یہ تصاویر گفٹ کے لیے بنواتے ہیں۔ کسی کو اس کے والدین کی تصویر تحفے میں دینی ہوتی ہے یا کسی خاص شخصیت کی تصویر بنوانی ہوتی ہے۔ لوگ ان تصاویر کو اپنے گھروں اور دفاتر میں بھی سجاتے ہیں۔‘ نعمان کا کہنا ہے کہ لکڑی پر تصویر بنانے کی خاص بات حقیقی سے قریب تر شکل اور منفرد انداز ہے۔ ان کے مطابق لکڑی پر ہاتھ سے بنائی گئی تصویر کا احساس عام پرنٹ شدہ تصویر سے مختلف ہوتا ہے۔ ان کے لیے یہ ہنر صرف ایک فن نہیں بلکہ آمدن کا ذریعہ بھی بن چکا ہے۔ وہ نوجوانوں کو پیغام دیتے ہیں کہ وہ اپنے اندر موجود صلاحیت اور ہنر کو معمولی نہ سمجھیں۔ ’نوجوانوں کو چاہیے کہ اپنے ہنر کی قدر کریں اور اپنے ہنر سے محبت کریں۔ ہنر ایک بہت اچھی چیز ہے۔ اگر آپ اپنے ہنر کو محنت اور لگن کے ساتھ آگے بڑھائیں تو یہی ہنر آپ کے لیے رزق کا ذریعہ بن سکتا ہے۔‘ ہنر ہنرمند آرٹ دستکاری سوات نعمان سعید کے لیے یہ کام صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسا شوق اور ہنر ہے جو انہیں والد سے ورثے میں ملا۔ وقار احمد سواتی اتوار, اکتوبر 4, 2026 - 08:30 Main image: > <p class="rteright">نعمان سعید سات، آٹھ برس سے لکڑی پر تصاویر تراشنے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں (وقار احمد/انڈپینڈنٹ اردو)</p> آرٹ jw id: 1tcyHUqm type: video related nodes: مٹی کے برتن، رلی آرٹ اور گھر کا اچار: کراچی میں روایتی ہنر کی نمائش ملتانی رضائی کا ہنر: وقت کے ساتھ کم ہوتی طلب اور کاریگر سوات: بینائی سے محروم نواب خان کا ہنر دوسروں کے لیے مثال پھلوں کو خشک کر کے فروخت کرنے والی کوئٹہ کی ہنرمند گھریلو خواتین SEO Title: سوات کے نوجوان کا لکڑی پر تصاویر تراشنے کا منفرد ہنر copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 03/10/2026
independenturdu.com
اسلام آباد میں 15 اکتوبر تک رینجرز کی تعیناتی میں توسیع کی درخواست
**حکام نے دارالحکومت اسلام آباد میں تین ہزار پیرا ملٹری رینجرز کی تعیناتی 15 اکتوبر تک بڑھانے کی درخواست کی ہے۔ یہ بات ہفتے کو سامنے آنے والے سرکاری دستاویزات سے پتہ چلی۔** درخواست ایسے وقت میں کی گئی ہے جب حکام پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مارچ سے قبل دارالحکومت اور اس کے اطراف میں سکیورٹی سخت رکھے ہوئے ہیں۔ پی ٹی آئی نے اتوار کو خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کرنا ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں لانگ مارچ کے اعلان کی وجہ سے حکام نے اسلام آباد کے اہم راستوں کو بند کرنے کے لیے مال بردار کنٹینرز کھڑے کیے ہوئے ہیں، جس کے باعث ٹرانسپورٹرز مال برداری کی نقل و حرکت میں رکاوٹوں کی شکایات کر رہے ہیں۔ اسلام آباد کے چیف کمشنر کے دفتر نے یکم اکتوبر کو وزارت داخلہ کو لکھے گئے خط میں کہا ’درخواست ہے کہ متعلقہ حکام سے فوری طور پر رجوع کیا جائے اور درخواست کی جائے کہ کمانڈ سمیت اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری پولیس کے لیے پاکستان رینجرز کے تین ہزار اہلکاروں کی فراہمی کی مدت پانچ اکتوبر 2026 سے بڑھا کر 15 اکتوبر 2026 تک کر دی جائے۔‘ دستاویزات کے مطابق یہ خط اسلام آباد پولیس کی جانب سے اسی روز کی گئی درخواست کے بعد بھیجا گیا۔ پولیس نے اس سے قبل آٹھ ستمبر کو ایک درخواست میں 20 ستمبر سے پانچ اکتوبر تک تین ہزار رینجرز اہلکار طلب کیے تھے تاکہ ’اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں متوقع امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر موجودہ وسائل کو مضبوط کیا جا سکے۔‘ تازہ درخواست کے تحت دارالحکومت میں پیرا ملٹری فورس کی تعیناتی سابقہ مدت سے مزید 10 روز تک جاری رہے گی۔ دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان آج دوسرے دن بھی لانگ مارچ ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات ہوئے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں مارچ چار اکتوبر کو روانہ ہوگا۔ پارٹی نے 27 ستمبر کو ہونے والا احتجاج اس وقت مؤخر کر دیا تھا جب حکام نے اسلام آباد کی جانب جانے والے راستے بند کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اہلکار تعینات کر دیے تھے۔ مارچ کے حوالے سے سکیورٹی خدشات پر پاکستان کی فوجی قیادت نے بھی خبردار کیا ہے۔ فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی زیر صدارت جمعے کو ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس میں ’اندرونی استحکام کی اہمیت‘ پر زور دیا گیا اور نو مئی، 2023 کو پاکستان میں ہونے والی بدامنی کی صورت حال دوبارہ پیدا ہونے کے خلاف خبردار کیا گیا۔ نو مئی کو ہونے والی بدامنی عمران خان کی اسلام آباد میں مختصر گرفتاری کے بعد شروع ہوئی تھی، جس کے دوران مظاہرین نے فوجی تنصیبات اور ریاستی عمارتوں پر حملے کیے تھے۔ عمران خان نے تشدد پر اکسانے کے الزامات کی تردید کی تھی جبکہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق، ’کسی بھی بہانے سے اشتعال انگیزی یا نو مئی جیسی صورت حال پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش سے فیصلہ کن طاقت اور قانون کی حکمرانی کے تحت بلا جھجھک اور بلا امتیاز نمٹا جائے گا۔‘ رینجرز اسلام آباد لانگ مارچ سکیورٹی درخواست ایسے وقت میں کی گئی ہے جب حکام پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مارچ سے قبل دارالحکومت اور اس کے اطراف میں سکیورٹی سخت رکھے ہوئے ہیں۔  انڈپینڈنٹ اردو ہفتہ, اکتوبر 3, 2026 - 21:15 Main image: > <p class="rteright"> اسلام آباد کے ریڈ زون میں سرینا ہوٹل کے قریب 21 اپریل، 2026 کو سڑک پر نیم فوجی رینجرز کے اہلکار گشت کر رہے ہیں(اے ایف پی/فائل)</p> سیاست type: news related nodes: اسلام آباد کے شہریوں کا کیا قصور ہے؟ تمام راستے کھلے ہیں، بندش کا فیصلہ صورت حال کے مطابق کیا جائے گا: اسلام آباد پولیس پی ٹی آئی لانگ مارچ سے قبل اسلام آباد اور پنجاب کے بعض اضلاع میں رینجرز تعینات اسلام آباد لانگ مارچ، ’یہ ٹیسٹ میچ ہوگا اور ہم ہی جیتیں گے‘: سہیل آفریدی SEO Title: اسلام آباد میں 15 اکتوبر تک رینجرز کی تعیناتی میں توسیع کی درخواست copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 03/10/2026
independenturdu.com
ایل این جی کی قلت، پاکستان نے بجلی کے لیے فرنس آئل کا استعمال بڑھا دیا
**پاکستان میں قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی میں تعطل کے باعث شام کے اوقات میں بجلی کی طلب میں اضافے کے دوران بجلی پیدا کرنے کے لیے فرنس آئل کا استعمال بڑھایا جا رہا ہے۔ حکام اور تجزیہ کاروں نے جمعے کو بتایا کہ اس صورت حال میں پاکستان کو متبادل ایندھن، مہنگے کارگوز اور بجلی کی بندش میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑ رہا ہے۔** ایران میں جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کے سبب قطر انرجی نے پاکستان اور دیگر صارفین کو معاہدے کے تحت ایل این جی کی ترسیل معطل کر دی ہے۔ سپلائی میں کمی کے باعث ایشیا میں مارکیٹ سے ملنے والی ایل این جی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، جس سے درآمدات پر انحصار کرنے والے پاکستان کے لیے متبادل کارگوز خریدنا خاصا مہنگا ہوگیا ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں ریاستی ادارے انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کے ایک عہدیدار کے مطابق پاکستان اس وقت شام پانچ بجے سے رات ایک بجے تک بجلی کی طلب کے عروج کے دوران فرنس آئل سے کم از کم 800 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے۔ یہ ادارہ ملک کے بجلی کے نظام اور بجلی کی مارکیٹ کا انتظام کرتا ہے۔ عہدیدار نے جمعے کو عرب نیوز کو بتایا، ’ فرنس آئل کی موجودہ صلاحیت 1,400 میگاواٹ ہے اور ایل این جی کی درآمد محدود رکھنے کے لیے اوسطاً 800 میگاواٹ بجلی فرنس آئل سے حاصل کی جا رہی ہے۔‘ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔ انہوں نے مزید کہا،’فرنس آئل صرف بجلی کی طلب کے عروج کے اوقات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ‘ فروری میں ایران جنگ شروع ہونے کے بعد حکومت نے دو مرتبہ فرنس آئل سے بجلی پیدا کی، پہلی بار اگست اور دوسری بار ستمبر میں، تاکہ سپاٹ مارکیٹ سے مہنگے متبادل ایل این جی کارگوز خریدنے سے بچا جاسکے۔ وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ آر ایل این جی کی سپلائی میں تعطل کے باعث اسپاٹ کارگوز کی قیمت 23 سے 25 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹس تک پہنچ گئی ہے، جو گیس کی قیمتوں کی پیمائش کی ایک معیاری اکائی ہے۔ انہوں نے ان قیمتوں کو’غیر معمولی حد تک بلند‘قرار دیا۔ سرکاری ادارے پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ نے 15 ستمبر کو ان کے حوالے سے بتایا، ’ پاور ڈویژن پٹرولیم ڈویژن کے ساتھ قریبی رابطے میں رہا، جس کے باعث مہنگی آر ایل این جی خریدنے سے بچنا ممکن ہوا۔‘ اس کے بجائے حکومت نے مہنگی درآمدی گیس کی ضرورت کم کرنے کے لیے مقامی توانائی کے وسائل کے استعمال میں اضافہ کیا اور بجلی کی طلب کو منظم کیا۔ ایل این جی کی سپلائی میں تعطل کے اثرات پاکستان کے درآمدی اعداد و شمار میں بھی نظر آتے ہیں۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق جولائی اور اگست میں ملک کی ایل این جی درآمدات 28.3 فیصد کم ہوکر 364.1 ملین ڈالر رہ گئیں، جو ایک سال قبل 508 ملین ڈالر تھیں۔ صرف اگست میں درآمدات 32 فیصد سے زیادہ کم ہوکر 187.5 ملین ڈالر رہیں، جبکہ گذشتہ سال اسی ماہ یہ 277 ملین ڈالر تھیں۔ **محدود متبادل** تاہم فرنس آئل سپلائی میں کمی کا صرف ایک حصہ پورا کرسکتا ہے، کیونکہ پاکستان کے بعض بڑے بجلی گھر آر ایل این جی پر انحصار کرتے ہیں اور بجلی کے گرڈ کا استحکام برقرار رکھنے کے لیے اہم ہیں۔ انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کے عہدیدار نے کہا،’فرنس آئل، آر ایل این جی کا مکمل متبادل نہیں ہے کیونکہ طلب پوری کرنے اور نظام کا استحکام برقرار رکھنے کے لیے بڑے لوڈ سینٹرز میں واقع بجلی گھروں کو چلانے کے لیے آر ایل این جی درکار ہوتی ہے۔‘ پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کے مرتب کردہ جون کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں 90 بجلی گھر ہیں جن کی مجموعی نصب شدہ پیداواری صلاحیت 20,769 میگاواٹ ہے۔ پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ ایک سرکاری ادارہ ہے جو بجلی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ ان میں فرنس آئل سے چلنے والے چھ بجلی گھر شامل ہیں جن کی مجموعی صلاحیت 1,116 میگاواٹ ہے، جبکہ ایل این جی سے چلنے والے 16 بجلی گھروں کی مجموعی صلاحیت 7,640 میگاواٹ ہے۔ باقی بجلی گھر پن بجلی، کوئلے، جوہری توانائی، شمسی، ہوا اور بیگاس سے بجلی پیدا کرتے ہیں۔ عہدیدار نے مزید کہا، ’ فرنس آئل سے چلنے والے چھوٹے ڈیزل جنریٹر سیٹ طلب پوری نہیں کرسکتے۔‘ کراچی میں قائم بروکریج کمپنی ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے ڈائریکٹر ریسرچ شنکر تلریجا نے کہا کہ پاکستان کے لیے ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کی نسبتاً زیادہ لاگت زیادہ بڑا مسئلہ ہے۔ انہوں نے عرب نیوز کو بتایا،’فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت 40 روپے فی کلو واٹ گھنٹہ سے زیادہ ہے، جو گذشتہ دو ماہ کے دوران تقریباً آر ایل این جی کے برابر رہی ہے۔‘ تلریجا نے کہا کہ اسی وجہ سے فرنس آئل کا استعمال بڑھا ہے، تاہم جولائی اور اگست میں بجلی کی مجموعی پیداوار میں اس کا حصہ اب بھی دو فیصد سے کم رہا، جبکہ ری گیسیفائیڈ ایل این جی کا اوسط حصہ 10 فیصد تھا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) انہوں نے کہا، ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسپاٹ کارگوز کے ذریعے آر ایل این جی سے بجلی پیدا کرنا ملک کی مجموعی توانائی کی لاگت کے لیے زیادہ تشویش کا باعث ہے۔ ‘ تلریجا نے کہا کہ اسی لیے حکومت بجلی کی طلب کے مطابق فرنس آئل استعمال کر رہی ہے۔ ’حکومت اسے (فرنس آئل کو) طلب کے مطابق استعمال کر رہی ہے۔‘ **فرنس آئل کی فروخت میں نمایاں اضافہ** بجلی کی پیداوار کے لیے فرنس آئل پر بڑھتے ہوئے انحصار کے نتیجے میں ملک میں اس ایندھن کی فروخت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو اس بات کی ایک اور علامت ہے کہ ایل این جی کی قلت پاکستان کے بجلی پیدا کرنے کے طریقہ کار کو کس طرح تبدیل کر رہی ہے۔ آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، جن میں سینرجیکو پی کے، اٹک پیٹرولیم، پاک عرب ریفائنری کمپنی اور پاکستان سٹیٹ آئل شامل ہیں، نے ستمبر میں 93,000 ٹن فرنس آئل فروخت کیا، جو ایک سال قبل فروخت ہونے والے 11,078 ٹن کے مقابلے میں 740 فیصد زیادہ ہے۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے تجزیہ کار سلمان اقبال نے جمعے کو صارفین کے نام ایک نوٹ میں کہا، ’ فرنس آئل کی فروخت میں سات گنا اضافہ ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ ایل این جی کی قلت ہے، جس کے باعث بجلی کی پیداوار میں فرنس آئل کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ ‘ ایل این جی بجلی گھر لوڈشیڈنگ فروری میں ایران جنگ شروع ہونے کے بعد حکومت نے دو مرتبہ فرنس آئل سے بجلی پیدا کی، پہلی بار اگست اور دوسری بار ستمبر میں، تاکہ سپاٹ مارکیٹ سے مہنگے متبادل ایل این جی کارگوز خریدنے سے بچا جاسکے عرب نیوز ہفتہ, اکتوبر 3, 2026 - 18:00 Main image: > <p class="rteright">16 نومبر2016، کی اس تصویر میں پاکستان کے شہر فیصل آباد میں ایک سرکاری اہلکار بجلی گھر کے اعداد و شمار نوٹ کر رہا ہے(اے ایف پی)</p> معیشت type: news related nodes: ایل این جی کی آمد میں تاخیر سے کئی علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ 2023 کے بعد پاکستان پہلی بار عالمی منڈی سے ایل این جی خریدے گا ایل این جی پر انحصار بجلی کے موجودہ بحران کا باعث: ماہرین مہنگی ایل این جی کی وجہ پرانے قوانین اور بھاری پورٹ چارجز: حکام SEO Title: ایل این جی کی قلت، پاکستان نے بجلی کے لیے فرنس آئل کا استعمال بڑھا دیا copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 03/10/2026
independenturdu.com
’ہم ہرگز نہیں رکیں گے‘: طلبہ کا احتجاج فرانس بھر میں پھیل گیا
**اس ہفتے فرانس بھر میں طلبہ کے احتجاج نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے، یہ مظاہرے پرتشدد شکل اختیار کر گئے ہیں۔** اس دوران ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا، 100 سے زیادہ سکولوں کو نقصان پہنچا جبکہ درجنوں اساتذہ زخمی ہوئے۔ جمعے کی دوپہر تک وزارت قومی تعلیم نے اعلان کیا کہ 564 سکول متاثر ہوئے۔ تصاویر میں سڑکوں پر آگ، جل کر تباہ ہونے والے داخلی دروازے اور فسادات پر قابو پانے والی پولیس کے ساتھ جھڑپیں کرتے نوجوان دکھائی دے رہے ہیں۔ بدامنی کے باعث کم از کم 400 ہائی سکول، یعنی تقریباً ہر 10 میں سے ایک، بند کر دیے گئے۔ انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں احتجاج کا آغاز گذشتہ ہفتے سکولوں کی صورتحال سے متعلق بے اطمینانی کے باعث ہوا، جب پیرس کے آس پاس سیکنڈری سکولوں کی پرامن ناکہ بندیاں کی گئیں۔ بعد ازاں یہ احتجاج حکومت کے خلاف وسیع تر بے اطمینانی میں تبدیل ہو کر ملک بھر میں پھیل گیا، جب فرانس کی سیکنڈری سکولوں کے طلبہ کی سب سے بڑی یونین نے ملک گیر ناکہ بندی کی کال دی۔ یونیورسٹی کے طلبہ اور دیگر حامی بھی مظاہروں میں شامل ہو گئے۔ فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز نے جمعے کو ٹی ایف ون ٹی وی کو بتایا کہ پولیس نے پیر سے اب تک مجموعی طور پر تقریباً پانچ ہزار افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں زیادہ تر نوعمر ہیں۔ وزیر انصاف جیرالڈ دارماناں نے اس سے قبل آر ٹی ایل ریڈیو سے گفتگو میں کہا تھا کہ املاک کو نقصان پہنچانے والے افراد کے والدین کو اس کا ہرجانہ ادا کرنا چاہیے۔ فرانس کے وزیر تعلیم ایڈوار ژیفغے نے جمعے کو فرانسیسی میڈیا کو بتایا کہ اب تک سکولوں کے 65 ملازمین زخمی ہوئے، جن میں 40 ہیڈ ٹیچرز شامل ہیں جبکہ عمارتوں اور دیگر سہولیات کو بھی نمایاں نقصان پہنچا اور اب کلاسیں آن لائن ہو رہی ہیں۔ بدامنی کے دوران 300 سے زیادہ پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ طلبہ کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین کے خلاف پولیس تشدد بھی ہوا اور فسادات پر قابو پانے کے لیے تعینات اہلکاروں نے لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی۔ وسطی فرانس کے شہر ٹور میں بدھ کو ایک سیکنڈری سکول کے باہر 16 سالہ طالب علم آنکھ میں ایل بی ڈی 40 لگنے سے زخمی ہو گیا۔ ایل بی ڈی 40 ’لانسور دے بال دے ڈیفانس‘ یا ’ڈیفنس بال لانچر‘ کا مخفف ہے۔ فرانسیسی پولیس کی جانب سے استعمال کی جانے والی یہ متنازع رائفل ماضی کے مظاہروں میں شدید نوعیت کی چوٹوں کا سبب بن چکی ہے۔ دو اکتوبر، 2026 کو مغربی فرانس کے شہر بریسٹ میں ایک سکول کے قریب مظاہرے کے دوران ایک شخص ’سٹاپ‘ کا سائن آگ میں پھینک رہا ہے (اے ایف پی) ٹور میں 19 سالہ یونیورسٹی طالب علم اور طلبہ یونین ’فیڈریشن سیندیکال ایتیودینت‘ کے رکن مارٹن گذشتہ چند روز سے مظاہروں میں شریک ہیں۔ انہوں نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ زخمی طالب علم کی حالت ’تشویش ناک‘ ہے اور ممکن ہے کہ وہ باقی زندگی کے لیے اپنی بینائی سے محروم ہو جائے۔ مارٹن نے، جو ان کا اصل نام نہیں، دعویٰ کیا کہ ’پولیس نے انتہائی تشدد کا مظاہرہ کیا، طلبہ کو مارا اور بہت زیادہ مقدار میں آنسو گیس استعمال کی۔‘ انہوں نے کہا ’بظاہر ہائی سکول کے طلبہ اس قدر کم عمر ہیں کہ ان کی بات نہیں سنی جا سکتی لیکن اتنے بڑے ضرور ہیں کہ ان کے خلاف طاقت استعمال کی جائے۔‘ ’یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ حکومت اس تحریک سے خوف زدہ ہے، وہ نوجوانوں اور محنت کش طبقے کے غصے پر قابو پانے میں مشکلات کا شکار ہے۔ ہمیں خوف زدہ کرنے کی ان کی تمام کوششوں کے باوجود ہم نہیں رکیں گے۔‘ ایک اور 14 سالہ طالب علم کے کئی دانت ٹوٹ گئے اور اسے ول دواز میں چہرے پر شدید چوٹیں آئیں، جب آنسو گیس کے گرینیڈ لانچر سے فائر کیا گیا ایک گولہ اس کے جبڑے پر لگا۔ اس کی والدہ نے فرانسیسی اخبار ’لے پیریزیئن‘ کو بتایا کہ اس کا منہ ’چیر کر رکھ دیا گیا‘۔ فرانسیسی حکام نے پولیس تشدد کے الزامات کی تحقیقات کے لیے متعدد تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ سیکنڈری سکول کے طلبہ پر تشدد کیے جانے کی اطلاعات ’انتہائی تشویش ناک‘ ہیں۔ اس انسانی حقوق کی تنظیم نے جمعرات کی شام ایکس پر لکھا ’ان میں سے بہت سے نابالغ، بچے ہیں۔ ان کا تحفظ کیا جانا چاہیے، لاٹھیوں سے مارا نہیں جانا چاہیے۔‘ ’یہ بات واضح ہے کہ ناکہ بندیوں کے آغاز سے ہی بعض مظاہرین کی جانب سے بھی تشدد کے واقعات ہوئے ہیں۔ یہ قابل قبول نہیں لیکن ان حالات میں بھی، گرفتاری کے وقت بھی، طاقت کا استعمال متناسب ہونا چاہیے۔‘ ٹور کے میئر ایمانوئل ڈینس نے جمعرات کو امن کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ تحریک کے مطالبات ’جائز‘ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ جمعے کو طلبہ کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔ کچھ والدین بھی احتجاج کی حمایت کر رہے ہیں۔ ونسنٹ مارٹن اپنی بیٹی کے ساتھ پیرس کے ہیلین بوشے ہائی سکول کے باہر موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ ’بنیادی طور پر بہتر تعلیمی حالات کا مطالبہ کرنے میں درست ہیں۔‘ طلبہ یونین ’یونین سیندیکال لیسے‘، جس نے ان ناکہ بندیوں کا اہتمام کیا، کا کہنا ہے کہ وہ حکام سے ’اساتذہ اور عملے کی کمی، خستہ حال ہائی سکولوں، گنجائش سے زیادہ بھرے کلاس رومز اور ضرورت سے زیادہ مصروف نظام الاوقات‘ کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مارٹن نے کہا کہ یونیورسٹی کے طلبہ جس ایک خاص پالیسی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، وہ ایک نیا اقدام ہے جس کے تحت غیر یورپی طلبہ کے لیے یونیورسٹی فیس میں چھوٹ ختم کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا ’حکومت کا حتمی مقصد تمام طلبہ کے لیے فیس میں اضافہ کرنا ہے کیونکہ یونیورسٹیوں کے لیے بجٹ کی کمی ہے۔ ’حالیہ حکومتیں سکولوں، یونیورسٹیوں اور ہسپتالوں جیسی عوامی خدمات پر مسلسل کم رقم خرچ کر رہی ہیں جبکہ فوج اور بڑی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔‘ ٹور میں ایک اور یونیورسٹی طالب علم، 21 سالہ ونی نے کہا کہ وہ اپنی یونیورسٹیوں کو ’آنکھوں کے سامنے بکھرتے ہوئے‘ دیکھ رہے ہیں کیونکہ بجٹ میں مسلسل کمی کی جا رہی ہے۔ یکم اکتوبر، 2026 کو فرانس کے شہر روآن میں احتجاج کے بعد مارسیل سیمبا سیکنڈری سکول کے داخلی دروازے پر میونسپل ملازمین جلے ہوئے کچرے کی صفائی کر رہے ہیں (اے ایف پی) انہوں نے کہا ’حکومت کو جو کرنا چاہیے وہ بہت سادہ ہے۔ فنڈنگ جاری کرے۔ ہر سال ہر ممکنہ عوامی خدمت کے بجٹ میں کمی کی جا رہی ہے اور ہر سال سرکاری شعبے سے وابستہ ہر شخص سے کم وسائل میں زیادہ کام کرنے کو کہا جاتا ہے۔‘ وزیر تعلیم نے جمعے کو دعویٰ کیا کہ طلبہ کی احتجاجی تحریک کو ’ہائی جیک‘ کر لیا گیا ہے اور کہا کہ اساتذہ نے انہیں بتایا کہ ’میرے سامنے موجود لوگ میرے طلبہ نہیں تھے۔‘ گذشتہ چند روز کے دوران متعدد سکولوں کو آگ لگائی گئی، جن میں ملک کے مغربی حصے میں نانٹ شہر کا نیلسن منڈیلا ہائی سکول بھی شامل ہے۔ جنوبی شہر مارسیلے کے وکٹر ہیوگو ہائی سکول کے عملے پر بھی پٹرول پھینکا گیا جبکہ مظاہرین کے بارے میں بتایا گیا کہ انہوں نے کنٹینرز میں پٹرول بھرا تھا۔ فرانس کے وزیر انصاف جیرالڈ دارماناں نے کہا کہ مظاہروں میں ’ایک سرگرم اور پرتشدد اقلیت‘ شامل ہے۔ انہوں نے فرانس کے آر ٹی ایل ریڈیو سے گفتگو میں کہا ’ہمیں مکمل طور پر یقین نہیں کہ وہ خود ہائی سکول کے طلبہ بھی ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا ’ہم ہائی سکول کے طلبہ کے مظاہروں سے امن عامہ میں خلل ڈالنے کی صورتحال تک پہنچ گئے ہیں۔ جب لوگ بسوں کو نشانہ بنائیں اور سکولوں کو آگ لگائیں تو یہ محض احتجاج کا معاملہ نہیں رہتا۔‘ وِنی کا کہنا ہے کہ ہر احتجاجی تحریک کی طرح کچھ ’کاسورز‘ یا تخریب کار بھی ہوتے ہیں جو تباہی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، جسے طلبہ نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا ’میں نے ذاتی طور پر احتجاج کے پہلے روز نوجوانوں کے ایک چھوٹے گروپ کو دیکھا جو طلبہ نہیں تھے۔ ’وہ ناکہ بندی کیے گئے ایک ہائی سکول کے سامنے گتے لا کر اسے آگ لگانے کی کوشش کر رہے تھے۔‘ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) انہوں نے مزید کہا ’ان سب کے محرکات ایک جیسے نہیں۔ کچھ صرف تباہی چاہتے ہیں، کچھ سمجھتے ہیں کہ احتجاج کا واحد راستہ یہی ہے، حتیٰ کہ احتجاج میں سب سے زیادہ سرگرم طلبہ بھی اس سے اختلاف کرتے ہیں جبکہ کچھ دراصل تحریک کے مخالف ہیں اور اسے غیر مستحکم کرنے کے مقاصد رکھتے ہیں۔‘ مارٹن نے کہا کہ انہوں نے ایسے لوگوں کو بھی تحریک میں شامل ہوتے دیکھا جو طلبہ نہیں ’کیونکہ ہمارا مطالبہ صرف یونیورسٹیوں تک محدود نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑا ہے۔‘ انہوں نے کہا ’ہم ہائی سکول کے طلبہ، یونیورسٹی کے طلبہ اور محنت کشوں کو متحد کرنے والی ایک بڑی تحریک کا مطالبہ کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں خاص طور پر پولیس تشدد اور جبر کے خلاف مل کر مضبوط رہنا ہوگا۔‘ انہوں نے کہا کہ انہوں نے تمام نسلوں کی جانب سے یکجہتی دیکھی ہے، خصوصاً سابق ’ییلو ویسٹ‘ مظاہرین کی جانب سے۔ انہوں نے کہا کہ وہ 17 اکتوبر کا انتظار کر رہے ہیں جب ’ییلو ویسٹ‘ گروپ کی جانب سے ایک بڑے مظاہرے کا منصوبہ ہے۔ اس سے قبل منگل چھ اکتوبر کو طلبہ کا ایک اور بڑا احتجاج متوقع ہے۔ انہوں نے کہا ’اس دوران ہم یونیورسٹی اور اس سے باہر احتجاج جاری رکھیں گے۔‘ یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ملک میں اگلے سال ہونے والے صدارتی انتخابات کے باعث سیاسی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے۔ فرانس کے وزیر اعظم اور نیشنل ریلی کی صدارتی امیدوار میرین لے پین جیسے انتہائی دائیں بازو کے سیاست دانوں نے ان مظاہروں کو بھڑکانے کا الزام سخت گیر بائیں بازو پر عائد کیا ہے، بالخصوص ’لا فرانس انسومیز‘ (ایل ایف آئی) پارٹی پر۔ ایل ایف آئی کے سربراہ اور صدارتی امیدوار ژاں لوک میلانشوں نے، جنہوں نے بعض مظاہروں میں شرکت بھی کی ہے، کہا کہ وہ پرامن احتجاج کے حامی ہیں۔ تاہم ان کا مؤقف ہے کہ بائیں بازو کو مورد الزام ٹھہرانے سے مظاہروں کے پس پشت موجود مسائل حل نہیں ہوں گے۔ فرانس احتجاج طلبہ گنجائش سے زیادہ بھرے کلاس رومز اور سکولوں کی ابتر صورتحال کے خلاف طلبہ کے مظاہرے پرتشدد ہو گئے اور اس ہفتے ملک بھر میں 5 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ جیسی ولیمز ہفتہ, اکتوبر 3, 2026 - 16:30 Main image: > <p>دو اکتوبر، 2026 کو مشرقی فرانس کے شہر لیون میں طلبہ کے احتجاج کے دوران مظاہرین آنسو گیس سے بچنے کے لیے بھاگ رہے ہیں (اے ایف پی)</p> یورپ type: news related nodes: طلبہ احتجاج رنگ لے آیا، انڈین وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی بنگلہ دیش میں طلبہ احتجاجی تحریک کا چہرہ ناہید اسلام کون ہیں؟ SEO Title: ’ہم ہرگز نہیں رکیں گے‘: طلبہ کا احتجاج فرانس بھر میں پھیل گیا copyright: IndependentEnglish origin url: https://www.independent.co.uk/news/world/europe/france-student-protests-school-closure-b3060299.html show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 03/10/2026
independenturdu.com
سرحد پر فائرنگ سے دو شہریوں کی موت پر پاکستان کا احتجاج، انڈین ناظم الامور کی طلبی
**پاکستان نے انڈین بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کے ہاتھوں دو پاکستانی شہریوں کی موت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ہفتے کو انڈین ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر لیا۔** پاکستان کے سرکاری میڈیا نے جمعے کو رپورٹ کیا تھا کہ قصور کے قریب سرحد پر انڈیا کی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی فائرنگ سے لدھڑ گاؤں کے تین رہائشی دو پاکستانی شہری جان سے چلے گئے تھے جبکہ ایک زخمی ہوگیا تھا۔ ریڈیو پاکستان نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ تینوں افراد سرحد کی نشاندہی کے لیے لگائے گئے پِلر سے چند قدم آگے گئے تو بی ایس ایف نے ’بغیر کسی وارننگ کے ان پر فائرنگ کر دی۔‘ رپورٹ میں مزید بتایا گیا تھا کہ تینوں افراد غیر مسلح تھے، جن کی شناخت عظمت رسول اور محسن جٹ کے نام سے کی گئی۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) پاکستانی دفتر خارجہ نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا کہ یہ واقعہ 2 اکتوبر 2026 کو بین الاقوامی سرحد کے قریب بیدیاں سیکٹر میں پیش آیا، جہاں انڈین بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکاروں کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہری جان سے گئے۔ دفتر خارجہ کے مطابق: ’انڈین اہلکاروں نے نہتے شہریوں کے خلاف بلااشتعال مہلک طاقت کا استعمال کیا، جو مکمل طور پر غیر ضروری اور غیر متناسب تھا۔‘ پاکستان نے مرنے والے شہریوں کو ’درانداز‘ قرار دینے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’واقعے میں انسانی حقوق بالخصوص حقِ زندگی کی سنگین خلاف ورزی ہوئی ہے۔‘ پاکستان نے انڈین حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ’واقعے کی فوری، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے اور تحقیقات کے نتائج سے پاکستان کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے۔‘ ساتھ ہی دفتر خارجہ کے بیان میں انڈیا پر زور دیا گیا کہ وہ ’انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے، سرحدی معاملات سے متعلق دوطرفہ معاہدوں اور طے شدہ طریقہ کار کی پابندی کرے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔‘ وزارت خارجہ انڈیا پاکستانی پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق انڈین اہلکاروں نے نہتے شہریوں کے خلاف بلااشتعال طاقت کا استعمال کیا، جو غیر ضروری تھا۔  انڈپینڈنٹ اردو ہفتہ, اکتوبر 3, 2026 - 13:45 Main image: > <p class="rteright">نو اپریل 2026 کو سکیورٹی اہلکار اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے دفتر میں داخل ہونے والی گاڑیوں کا معائنہ کر رہے ہیں (عامر قریشی/ اے ایف پی)</p> پاکستان type: news related nodes: سرحد کے قریب انڈین فورسز کی فائرنگ سے دو پاکستانی جان سے گئے: سرکاری میڈیا انڈین فوج کے کھوکھلے بیان مایوسی کی نشانی: پاکستانی آرمی چیف بار بار گھر اجڑنا، بسانا آسان نہیں، ایل او سی کے رہائشیوں کی مشکل ایل او سی پر فائر بندی سے اُڑی کے نوجوان ’بے فکری‘ سے ٹریکنگ کرنے لگے SEO Title: سرحد پر فائرنگ سے دو شہریوں کی موت پر پاکستان کا احتجاج، انڈین ناظم الامور کی طلبی copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 03/10/2026
independenturdu.com
رواں ہفتے مبینہ انڈین ایجنٹ سمیت 13 ’دہشت گرد‘ گرفتار: پنجاب سی ٹی ڈی
**​پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی( سی ٹی ڈی) کے ترجمان نے ہفتے کو کہا رواں ہفتے صوبے میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیے گئے 98 آپریشنز میں انڈین خفیہ ادارے را کے مبینہ ایجنٹ سمیت کالعدم تنظیموں کے 13 ’دہشت گردوں‘ کو گرفتار کر لیا گیا۔** ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق را کے مبینہ ایجنٹ کو پاک پتن سے گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے۔ ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق صوبے کے مختلف شہروں میں رواں ہفتے کے دوران 9515 کومبنگ آپریشنز کے دوران 52 مشتبہ افراد گرفتارکیے گئے۔ اس دوران 55 ہزار 400 سے زائد افراد کو چیک کیا گیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ’را سے تعلق رکھنے والے مبینہ دہشت گرد ماجد کے علاوہ گرفتار مبینہ دہشت گردوں کی شناخت عثمان، نعیم ، عبدالمنان ، واجد، اسامہ، عثمان، حسن اور بابر کے نام سے ہوئی اور ان کے قبضے سے دھماکہ خیز مواد، ایک دستی بم، تین دیسی ساختہ بم، 12 ڈیٹونیٹرز، فیوز اور 35 فٹ تار برآمد کیے گئے۔‘ ترجمان کے بقول ’گرفتار 13 دہشت گردوں کا تعلق مختلف کالعدم تنظیموں سے ہے ان کے خلاف 13 مختلف مقدمات درج کر کے کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔ ’ان گرفتار دہشت گردوں کا تعلق فتنہ الخوارج اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ہے اور وہ لاہور، سرگودھا، گجرات، پاک پتن، راولپنڈی ، منڈی بہاؤالدین، فیصل آباد، خوشاب، چنیوٹ اورخانیوال کے رہائشی ہیں۔ آپریشن مقامی پولیس اور حساس اداروں کی معاونت سے کیے گئے۔‘ پولیس اہلکار 10 نومبر 2023 کو لاہور کی ایک مارکیٹ میں گشت کر رہے ہیں (عارف علی / اے ایف پی) **پنجاب میں دہشت گردی روکنے کی حالیہ قانون سازی** پنجاب اسمبلی نے گذشتہ ماہ انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2026 کے نام سے منظور کیا تھا۔ اس قانون کو اپوزیشن نے متنازع قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات ظاہر کیے اور بل منظوری کے وقت ایوان سے بائیکاٹ بھی کیا تھا۔ اس بل کے مطابق انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ہونے والے کسی بھی مقدمے کو ’سپیشل سکیورٹی کیس‘ قرار دیا جا سکتا ہے جس کا فیصلہ نامزد اتھارٹی یعنی گریڈ 20 کا افسر کرے گا اور تمام کارروائی کو خفیہ رکھا جائے گا۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے کئی اعتراضات اٹھائے گئے تاہم انہیں مسترد کرتے ہوئے ایوان کی اکثریت نے بِل کو منظور کیا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) نئے قانون کے تحت نامزد اتھارٹی کی جانب سے ان کیسز پر کام کرنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشورہ کیا جائے گا۔ اس پر وہ دونوں فیصلہ کریں گے کہ کیا کسی مخصوص کیس یا کیسز کی کلاس کو غیر معمولی تحفظ کے اقدامات کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اس قانون کے ذریعے حکومت سے بھی مشورہ اور رابطہ قائم ہوگا۔ سپیشل سکیورٹی کیسز میں ججز، وکلا، پراسیکیوٹرز اور گواہوں کی شناخت کا طریقہ خفیہ رکھا جائے گا۔ کیس کا مکمل عدالتی ریکارڈ سیل کیا جائے گا۔ اس قانون کے خلاف اپوزیشن نے گریڈ 20 کے افسر کو عدالت کے برابر اختیار ججز، وکلا اور کیس کا ریکارڈ پوشیدہ رکھے جانے کے اقدام کو غیر آئینی قرار دے کر اسے مسترد کر دیا تھا۔ یہ بل اسمبلی نے تو منظورکر لیا ہے اور گورنر پنجاب کے نوٹیفکیشن پر فوری نافذ العمل ہوجائے گا۔ سی ٹی ڈی دہشت گرد محکمہ انسداد دہشت گردی خفیہ ایجنٹ ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق خفیہ معلومات کی بنیاد پر مختلف شہروں میں آپریشن کیے گئے۔ گرفتار ’دہشت گردوں‘ کے قبضے سے دھماکہ خیز مواد، ڈیٹونیٹر اور تار برآمد کر لیے گئے۔ ارشد چوہدری ہفتہ, اکتوبر 3, 2026 - 15:00 Main image: > <p class="rteright">9 مئی، 2025 کو لاہور میں پنجاب اسمبلی میں پولیس کمانڈوز ایک سکیورٹی مشق میں حصہ لے رہے ہیں (اے ایف پی)</p> پاکستان type: news related nodes: پنجاب، رواں ہفتے 117 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 18 گرفتار: سی ٹی ڈی کراچی سے انتہائی مطلوب ٹارگٹ کلر گرفتار: سی ٹی ڈی را سے تعلق رکھنے والے تین ملزم گرفتار: سی ٹی ڈی پنجاب کراچی میں تباہی کا منصوبہ ناکام، 2000 کلو بارودی مواد برآمد: سی ٹی ڈی سندھ SEO Title: رواں ہفتے مبینہ انڈین ایجنٹ سمیت 13 ’دہشت گرد‘ گرفتار: پنجاب سی ٹی ڈی copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 03/10/2026
independenturdu.com
بلوچستان: تیر اندازی مقابلوں میں پہلی بار خواتین کی بھی شرکت
**بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں رواں ہفتے منعقد ہونے والے دو روزہ چیف منسٹر آرچری ٹورنامنٹ میں پہلی بار خواتین بھی شریک ہوئیں۔** جمعرات اور جمعے کو منعقدہ اس ٹورنامنٹ میں صوبے کے نو اضلاع سے خواتین اور مرد تیر اندازوں نے حصہ لیا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) تیر اندازی کے مقابلوں میں نیشنل چمپیئن حناطہ علی نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ حناطہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا: ’تیر اندازی کا تعلق جنگوں وغیرہ سے رہا ہے، لیکن پھر آہستہ آہستہ اس نے ایک کھیل کی شکل اختیار کر لی، لہٰذا آج ہم تیر اندازی کو ایک کھیل کے طور پر کھیل رہے ہیں۔‘ انہوں نے مزید بتایا کہ آج کل کی نوجوان نسل میں جہاں بے چینی اور ڈپریشن موجود ہوتا ہے، اس حوالے سے کھیل ایک بہت اچھا موقع ہیں اور ’ہم واقعی ان تمام چیزوں، ڈپریشن، بے چینی اور دیگر مسائل کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں۔‘ بلوچستان میں آرچری ایسوسی ایشن کے صدر محمد شہزاد ترین نے بتایا کہ پہلے اس کھیل میں لڑکیاں نہیں ہوتی تھیں، لیکن اب ہر کیٹیگری میں لڑکیاں، لڑکے اور سینیئر کھلاڑی موجود ہیں، جنہوں نے قومی سطح پر اس میں حصہ لیا ہے۔ دو اکتوبر 2026 کو کوئٹہ میں چیف منسٹر آرچری ٹورنامنٹ میں شریک ایک خاتون تیرانداز (محمد عیسیٰ/ انڈپینڈنٹ اردو) انہوں نے دیگر خواتین پر بھی زور دیا کہ وہ بھی اس کھیل میں حصہ لیں۔ ٹورنامنٹ کے اختتام پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے تیر اندازوں میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ تیر اندازی مقابلہ کوئٹہ بلوچستان جمعرات اور جمعے کو منعقدہ اس ٹورنامنٹ میں صوبے کے نو اضلاع سے خواتین اور مرد تیر اندازوں نے حصہ لیا۔ محمد عیسیٰ ہفتہ, اکتوبر 3, 2026 - 12:30 Main image: خواتین jw id: KrsRkfRO type: video related nodes: کوئٹہ کی خاتون تیرانداز: ’لوگ نہیں جانتے کہ آرچری کیا ہے‘ ’ارطغرل کے بعد لوگوں کو تیر اندازی کا شوق ہوا لیکن سکھائیں کہاں؟‘ بینائی سے محروم راولپنڈی کے تیر انداز بھارتی تیر اندازوں کی تنظیم معطل SEO Title: بلوچستان: تیر اندازی مقابلوں میں پہلی بار خواتین کی بھی شرکت copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 03/10/2026
independenturdu.com
ایشین گیمز کرکٹ فائنل: انڈیا کا پاکستان کو جیت کے لیے 212 رنز کا ہدف
**جاپان میں جاری ایشین گیمز 2026 کے کرکٹ ایونٹ کے فائنل میں ہفتے کو انڈیا نے پاکستان کو جیتنے کے لیے 212 رنز کا ہدف دیا ہے۔** جاپان کے شہر نشین میں کھیلے جانے والے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ٹاس سے قبل دونوں کپتانوں میں ایک بار پھر مصافحہ نہیں ہوا۔ انڈین کپتان شریاس ایئر نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، جس کے بعد انڈیا نے مقررہ اووزر میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 211 رنز بنائے۔ انڈیا کے ابھیشیک شرما نے 61 اور تلک ورما نے 51 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی جبکہ پاکستان کی جانب سے عرفات منہاس اور احمد دانیال نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔ تین اکتوبر 2026 کو جاپان کے شہر نشین میں ایشین گیمز کرکٹ ایونٹ کے فائنل میں انڈیا کے کھلاڑی ویبھو سوریاونشی پاکستان کے سعد مسعود کی گیند پر چھکا لگا رہے ہیں (اے ایف پی) دونوں ٹیمیں جمعرات کو سیمی فائنلز میں اپنے اپنے حریفوں کو بہ آسانی شکست دے کر فائنل میں پہنچی تھیں۔ پاکستان نے بنگلہ دیش کو چھ وکٹوں سے شکست دی تھی جبکہ انڈیا نے سری لنکا کو 124 رنز سے ہرایا۔ فائنل میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی قیادت صاحبزادہ فرحان کر رہے ہیں۔ قومی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی ہے اور وسیم جونیئر کی جگہ سعد مسعود کو شامل کیا گیا ہے، جن کا یہ ڈیبیو میچ ہے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) جب کہ انڈین ٹیم میں فائنل کے لیے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ پاکستان ٹیم میں صاحبزادہ فرحان، معاذ صداقت، صائم ایوب، عثمان خان، حسن نواز، عبدالصمد، عرفات منہاس، احمد دانیال، ابرار احمد، سفیان مقیم اور سعد مسعود شامل ہیں۔ انڈیا اور پاکستان سیاسی کشیدگی کی وجہ سے صرف بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں ہی آمنے سامنے ہوتے ہیں اور حالیہ عرصے میں ہونے والے کئی میچوں میں کھلاڑیوں نے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا ہے۔ کرکٹ کے دیوانے ملکوں کے درمیان ہونے والے میچز عام طور پر اپنے اپنے ملکوں میں ٹیلی ویژن پر کروڑوں ناظرین کو متوجہ کرتے ہیں۔ ایشین گیمز کرکٹ انڈیا کھیل انڈیا کے ابھیشیک شرما نے 61 اور تلک ورما نے 51 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی جبکہ پاکستان کی جانب سے عرفات منہاس اور احمد دانیال نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔  انڈپینڈنٹ اردو ہفتہ, اکتوبر 3, 2026 - 11:15 Main image: > <p class="rteright">پاکستانی کھلاڑی 3 اکتوبر 2026 کو جاپان کے شہر نشین میں ایشین گیمز کے دوران پاکستان اور انڈیا کے درمیان مردوں کے کرکٹ فائنل میچ میں انڈیا کے سنجو وشوناتھ (تصویر میں موجود نہیں) کو آؤٹ کرنے کے بعد جشن منا رہے ہیں جبکہ انڈین کھلاڑی ابھیشیک شرما (دائیں) ردعمل ظاہر کر رہے ہیں (اینڈریو کابیلیرو-رینالڈز / اے ایف پی)</p> کرکٹ type: news related nodes: ایشین گیمز والی بال: کوارٹر فائنل میں پاکستان نے انڈیا کو ہرا دیا ایشین گیمز: فائنل میں پاکستان اور انڈیا آمنے سامنے ایشین گیمز: کرکٹ کے سیمی فائنل اور فائنل میں بھی بارش ہوئی تو کیا ہوگا؟ ایشین گیمز: کرکٹ کے سیمی فائنل اور فائنل میں بھی بارش ہوئی تو کیا ہوگا؟ SEO Title: ایشین گیمز کرکٹ فائنل: انڈیا کا پاکستان کو جیت کے لیے 212 رنز کا ہدف copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 03/10/2026
independenturdu.com
سلوسٹر سٹالون کی ’راکی‘ تک پہنچنے کی حیران کن داستان
**بہت سے لوگوں نے سلوسٹر سٹالون سے کہا تھا کہ وہ کبھی ایک کامیاب اداکار نہیں بن سکیں گے۔** اپنی نئی خودنوشت دیاسٹیپس میں 80 سالہ فلمی اداکار نے انکار، ناکامیوں اور توہین آمیز رویوں کی ایک طویل داستان بیان کی ہے، جن کا سامنا انہیں 1980 کی دہائی کی بڑی شخصیات میں شامل ہونے سے پہلے کرنا پڑا۔ جیسا کہ یہ بات ہالی وڈ کی ایک مشہور داستان بن چکی ہے، سٹالون نے بالآخر سمجھ لیا کہ اگر وہ اپنی تصویر کو فلمی پوسٹر پر نمایاں دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے لیے کردار خود تخلیق کرنا ہوگا۔ اپنی کامیاب فلم ’راکی‘ کا سکرپٹ لکھنے کے بعد سٹالون نے سکرپٹ کے عوض ملنے والی کئی بڑی مالی پیشکشیں مسترد کر دیں تاکہ فلم میں فلاڈیلفیا کے باکسر کا مرکزی کردار کوئی دوسرا اداکار نہ کرے۔ اس کہانی پر رواں سال کے آخر میں پیٹر فیرلی کی موزوں نام والی بائیوپک فلم ’I Play Rocky‘ بنائی جائے گی۔ _انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں_ سٹالون نے دیاسٹیپس میں راکی کو بنوانے کے لیے اپنی جدوجہد کی یادیں قلم بند کی ہیں۔ کتاب کا اختتام اس وقت ہوتا ہے جب، اگر سپائلر سے کوئی مسئلہ نہ ہو، یہ کم وسائل والی فلم ہالی وڈ کے انداز میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے 1977 کے آسکرز میں بہترین فلم کا اعزاز جیت لیتی ہے۔ تاہم کتاب کو واقعی دلچسپ بنانے والی چیز سٹالون کی وہ طویل اور مشکل جدوجہد ہے، جس کے بعد وہ اس مقام تک پہنچے، جہاں انہوں نے راکی جیسا سکرپٹ لکھنے کا تصور بھی کیا۔ یہ ایک ایسی جدوجہد کی بے لاگ داستان ہے، جس میں سٹالون نے ایک بظاہر ناممکن خواب کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا۔ ذیل میں سٹالون کی زندگی کے پانچ اہم واقعات پیش کیے گئے ہیں جو انہوں نے کتاب میں قارئین کے ساتھ شیئر کیے: **1۔ انہوں نے سینٹرل پارک چڑیا گھر میں شیروں کے پنجرے صاف کیے** راکی سے پہلے کے برسوں میں سٹالون نے نیویارک میں اخراجات پورے کرنے کے لیے ہر طرح کا عارضی کام کیا، جو انہیں مل سکا۔ یورپ میں کئی سال گزارنے کے بعد وہ 1969 میں اپنے آبائی شہر واپس آئے تاکہ لکھنے اور اداکاری کا خواب پورا کر سکیں، لیکن جلد ہی انہیں احساس ہوگیا کہ گزر بسر کے لیے انہیں کوئی ملازمت بھی کرنا ہوگی۔ ملازمت کی تلاش میں ایک ناکام دن کے دوران وہ سینٹرل پارک چڑیا گھر کے ایک سائن بورڈ کے پاس سے گزرے اور استقبالیہ پر ملازمت کے بارے میں پوچھا۔ انہیں فوراً یہ غیر پرکشش ملازمت مل گئی۔ امریکی فلمی اداکار سلویسٹر سٹالون 3 دسمبر 2002 کو مغربی جاپان کے شہر اوساکا میں یونیورسل سٹوڈیوز جاپان میں کرسمس ٹری پر باکسنگ کے بڑے دستانوں کا ایک جوڑا بطور سجاوٹ لگانے کے بعد جاپانی مداحوں کو ہاتھ ہلا کر خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ سٹالون کو کرسمس کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی فلمی تھیم پارک میں مدعو کیا گیا تھا (تورو یاماناکا / اے ایف پی) سٹالون یاد کرتے ہیں: ’پندرہ منٹ بعد میں ایک شیر کے پنجرے میں پائپ، ایک بیلچے اور ایک پھاوڑے کے ساتھ موجود تھا۔ ’اگر آپ کبھی شیر کے خالی کیے گئے پنجرے میں نہیں گئے تو میں آپ کو بتاتا ہوں کہ وہاں کی بو بہت تیز ہوتی ہے۔ کچھ ہی دیر میں شیر کے پیشاب میں موجود قدرتی امونیا کی بدبو سے میری آنکھوں سے پانی آنے لگا۔‘ انہوں نے لکھا کہ تقریباً ساڑھے تین ہفتوں تک وہ روزانہ صبح ساڑھے پانچ بجے سے سہ پہر ساڑھے تین بجے تک شیروں کے پنجرے صاف کرتے رہے۔ انہوں نے بنیادی طور پر بدبو کی وجہ سے یہ ملازمت چھوڑ دی، کیونکہ اس کی وجہ سے وہ اداکاری کی ایجنسیوں میں جانے سے بھی قاصر تھے۔ ’مجھے جانور پسند تھے، لیکن یہ پسند نہیں تھا کہ ہر روز کام سے گھر جاتے ہوئے میرے جسم سے ایسی بو آ رہی ہو، جیسے مجھے دنیا کا سب سے بڑا مثانے کا مسئلہ ہو۔‘ **2۔ سٹالون کے والد نے ’راکی‘ کی شوٹنگ کا آخری دن تقریباً خراب کر دیا** سٹالون کے اپنے والدین کے ساتھ تعلقات زندگی بھر پیچیدہ رہے۔ اس کا اندازہ اس فیصلے سے بھی ہوتا ہے جب انہوں نے بچپن میں ہی انہیں سفر کرنے والے سیلز مینوں کے ایک بورڈنگ ہاؤس میں رہنے کے لیے بھیج دیا تھا۔ جب سٹالون 11 سال کے تھے تو ان کے والدین، فرینک اور جیکی میں طلاق ہوگئی۔ اگرچہ ابتدا میں وہ ان کے کیریئر کے حامی نہیں تھے، تاہم 1971 میں سٹالون کے والد نے اس وقت ان کی مدد کرنے پر رضامندی ظاہر کی، جب وہ اپنی شناخت بنانے کے لیے ایک زومبی کاؤ بوائز پر مختصر فلم بنانا چاہتے تھے۔ یہ واقعہ کتاب کے یادگار ترین حصوں میں سے ایک کا باعث بنا، جب فلم کی آخری روز کی شوٹنگ میں اپولو کریڈ اور ’راکی‘ کے درمیان لڑائی ختم کرنے کے لیے گھنٹی بجانے کی ذمہ داری فرینک کو دی گئی۔ سٹالون اسے فلم کے ’آخری مکے‘ والا منظر قرار دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: ’میں نے اپنے والد کے ساتھ یہ منظر دس مرتبہ دہرایا تھا۔ میں نے انہیں بتایا تھا کہ جب میں اپولو کو رسّیوں کی طرف دھکیلوں اور اس پر مکے برسانا شروع کروں اور ایسا لگے کہ راکی شاید یہ مقابلہ جیت جائے گا، تو عین اسی وقت گھنٹی بجنی چاہیے تاکہ اپولو کو بچایا جا سکے۔‘ تاہم جب سٹالون نے اپولو کا کردار ادا کرنے والے کارل ویدرز کو پیچھے دھکیلتے ہوئے مسلسل مکے مارے تو گھنٹی نہیں بجی۔ اداکار سلویسٹر سٹالون 21 جون 2003 کو امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں واقع سٹیپلز سینٹر میں عالمی ہیوی ویٹ چیمپیئن لینوکس لیوس اور وٹالی کلِچکو کے درمیان مقابلہ دیکھ رہے ہیں (رابرٹ مورا / اے ایف پی) وہ یاد کرتے ہیں: ’صورت حال مضحکہ خیز ہوتی جا رہی تھی۔ میں دیکھ سکتا تھا کہ کارل مجھے اس طرح گھور رہے تھے جیسے کہہ رہے ہوں، آخر ہو کیا رہا ہے؟ ’میں بے دلی سے مکے مارتا رہا، یہاں تک کہ آخرکار جھنجھلا کر پلٹا اور اپنے والد کی طرف دیکھا۔ میں نے کہا: ’گھنٹی بجاؤ، گھنٹی بجاؤ!‘ انہوں نے زور سے ہتھوڑا مارا اور اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے۔ پھر رنگ کے کنارے سے چیخ کر بولے: ’مجھ پر مت چلاؤ!‘‘ سٹالون یاد کرتے ہیں کہ وہ اپنے والد کے سامنے لڑائی کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوگئے تھے، جو بظاہر مٹھیاں بھینچے لڑائی کے لیے تیار تھے، تاہم سٹالون نے معذرت کی اور معاملہ ختم کر دیا۔ کچھ ہی دیر بعد فرینک سیٹ سے غائب ہو گئے۔ **3۔ انہوں نے رچرڈ گیئر کے دانت توڑنے کی دھمکی دی** 1973 میں سٹالون کو ایک اہم موقع اس وقت ملا، جب انہیں رابرٹ ڈی نیرو اور رچرڈ گیئر کے ساتھ 1950 کی دہائی کے نوجوانوں پر بننے والی فلم ’دی لارڈز آف فلیٹ بش‘ میں کاسٹ کیا گیا۔ تاہم گیئر کے ساتھ منظر میں برجستہ اداکاری کرنے کو کہا گیا تو حالات خراب ہوگئے۔ سٹالون یاد کرتے ہیں: ’گیئر نے میری ٹی شرٹ پکڑ لی اور ان کے ناخن میری جلد میں دھنس گئے۔ میں نے انہیں پیچھے ہٹنے کو کہا، لیکن دوسرے ٹیک میں انہوں نے دوبارہ ایسا کیا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ’وہ یہ نہیں جانتے تھے، لیکن گیئر نے میرے اندر جذبات کا ایک طوفان برپا کرنا شروع کر دیا تھا۔‘ میں نے ہدایت کار سٹیفن ویرونا کی طرف رخ کیا اور پوچھا: ’کیا یہ ٹھیک ہوگا کہ میں یہاں اپنی طرف سے مکالمہ کہوں اور ویسا ردعمل دوں، جیسا حقیقی زندگی میں کوئی میرے ساتھ ایسا کرے تو میں دوں گا؟‘ جب ویرونا نے پوچھا کہ وہ کیا کریں گے تو سٹالون نے جواب دیا: ’کروں گا کیا؟ میں اس کے دانت توڑ دوں گا۔‘ فلم ساز نے سادہ سا جواب دیا: ’براہِ کرم ایسا نہ کرنا۔‘ بعد میں ایک اور واقعے میں گیئر نے مرغی کی چکنائی سٹالون کی ٹانگ پر گرا دی، جس کے بعد دونوں میں دوبارہ جھگڑا ہوا اور گیئر کو فلم سے نکال دیا گیا۔ ڈی نیرو بھی ایک دوسری فلم میں کام کرنے کے لیے اس پروڈکشن سے الگ ہوگئے، جس کے بعد ان دونوں کے کردار بالآخر پیری کنگ اور مستقبل کے ہیپی ڈیز کے معروف اداکار ہنری ونکلر نے ادا کیے۔ سلوسٹر سٹالون 28 ستمبر 2026 کو نیویارک سٹی میں سیریئس ایکس ایم سٹوڈیوز میں اینڈی کوہن کی میزبانی میں ہونے والے پروگرام ’فرنٹ رو ود سلوسٹر سٹالون‘ میں گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی) **4۔ مالی حالات اتنے خراب تھے کہ انہوں نے فلمی لباس میں شادی کی** سٹالون کے انتہائی خراب مالی حالات کتاب میں مسلسل زیرِ بحث آنے والا موضوع ہیں۔ کتاب میں بیان کیے گئے کئی برسوں کے دوران وہ بظاہر کچے انڈوں اور کاٹیج چیز پر گزارا کرتے رہے۔ 1974 میں اپنی پہلی اہلیہ ساشا زیک سے شادی کے وقت بھی ان کے مالی حالات میں زیادہ بہتری نہیں آئی تھی۔ تاہم انہیں گینگسٹر فلم کیپون میں معاون کردار مل گیا تھا، اس لیے کم از کم ان کے پاس پہننے کے لیے ایک سوٹ موجود تھا۔ سٹالون یاد کرتے ہیں: ’ساشا شادی کا لباس خریدنا چاہتی تھیں، لیکن ہم اسے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ ہماری ساری رقم کرائے، راشن اور گاڑی کی مرمت پر خرچ ہو جاتی تھی۔ ’ہم بمشکل گزارا کر رہے تھے، اس لیے ساشا نے کرائے کے گھر کے ایک پرانے لینن کے پردے سے اپنا شادی کا لباس تیار کیا۔ ’جہاں تک میرا تعلق ہے، میرے پاس پہننے کے لیے کوئی رسمی لباس نہیں تھا، اس لیے میں نے کیپون کے ملبوسات کے شعبے سے 1920 کی دہائی کا ڈبل بریسٹڈ گینگسٹر سوٹ ادھار لیا، جس کے ساتھ جوتے اور دیگر تمام لوازمات بھی تھے۔‘ ’اپنے پیچھے کی جانب جمے ہوئے بالوں کے اس دور کے انداز کے ساتھ میں ایسا لگ رہا تھا جیسے ٹائم مشین سے باہر نکلا ہوں۔‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (بائیں) 6 دسمبر 2025 کو واشنگٹن، ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں اداکار سلویسٹر سٹالون (دائیں) کو 2025 کینیڈی سینٹر اعزازات کا میڈل پیش کر رہے ہیں (آرون شوارٹز / اے ایف پی) **5۔ ان کی والدہ نے آسکرز میں ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا** یہاں تک کہ جب سٹالون کی زندگی میں کامیابی کا سب سے بڑا لمحہ آیا، تب بھی ان کے والدین نے انہیں مایوس کرنے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیا۔ جب راکی کو غیر متوقع طور پر 10 اکیڈمی ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا تو سٹالون کو معلوم ہوا کہ ان کے والد نے خفیہ طور پر فلم کے پروڈیوسرز کو اپنا سکرپٹ بھیج دیا تھا۔ اس سکرپٹ کا نام کیا تھا؟ راکی 2۔ اسی دوران سٹالون نے اپنی والدہ جیکی کو آسکرز کی تقریب میں اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ انہوں نے جواب دیا: ’تم میری ہیئر ڈریسر ویویئن کو جانتے ہو نا؟ کیا میں اسے ساتھ لاسکتی ہوں؟‘ جب سٹالون نے بتایا کہ ان کے پاس صرف ایک نشست باقی ہے تو انہوں نے جواب دیا: ’پھر میں نہیں جا سکتی۔ میں یہ ٹی وی پر دیکھ لوں گی۔‘ سلوسٹر سٹالون کی کتاب ’دی سٹیپس‘ اب دستیاب ہے۔ فلم سلوِسٹر سٹالون خودنوشت بالی وڈ ایوارڈ اپنی خودنوشت میں سلوسٹر سٹالون نے مالی مشکلات، عجیب و غریب ملازمتوں اور فلم ’راکی‘ تک پہنچنے کے سفر کے دلچسپ واقعات بیان کیے۔ کیون ای جی پیری، کارسن ہولیڈے ہفتہ, اکتوبر 3, 2026 - 11:15 Main image: > <p class="rteright">اداکار سلویسٹر سٹالون 21 نومبر 1996 کو نیویارک میں ’راکی‘ فلم میں اپنی تصاویر پر مشتمل نئے ڈاک ٹکٹوں کی دو نقول کے سامنے فوٹوگرافروں کے لیے پوز دے رہے ہیں (جون لیوی / اے ایف پی)</p> فلم type: news related nodes: ماں بیٹے کی بنائی ’عجیب و غریب‘ فلم نے چین میں ریکارڈ توڑ دیے فلم ’ماہ پارہ‘: تاریخ کے آئینے میں عورت کا نیا عکس فلم کی تشہیر کا انوکھا انداز: نیٹ فلکس نے بل بورڈ میں گھر بنا دیا پاکستان میں جنوبی کوریا کی فلمیں مقبول کیوں ہو رہی ہیں؟ SEO Title: سلوسٹر سٹالون کی ’راکی‘ تک پہنچنے کی حیران کن داستان copyright: IndependentEnglish origin url: https://www.independent.co.uk/arts-entertainment/films/features/sylvester-stallone-memoir-main-takeaways-the-steps-b3056662.html Translator name: العاص show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 03/10/2026
independenturdu.com
جموں وکشمیر کبھی انڈیا کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اور نہ ہو گا: پاکستان
**پاکستان نے جمعے کو ایک بار پھر دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ جموں و کشمیر کبھی انڈیا کا نام نہاد اٹوٹ انگ نہیں تھا، نہ ہے، اور نہ ہی کبھی ہوگا۔** کشمیر کا مسئلہ، تقسیم برِصغیر کے بعد سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایک ایسے تنازعے کی صورت میں موجود ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان پانچ باقاعدہ جنگوں کی وجہ بن چکا ہے۔ پاکستان کشمیر کی متنازع حیثیت کا اعادہ کرتا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے انڈیا کے یکطرفہ اقدامات (جیسے آرٹیکل 370 کی منسوخی) کی مذمت کرتا آیا ہے۔ دوسری جانب انڈیا جموں و کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے اور اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت یا ثالثی کو مسترد کرتا ہے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) جمعے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کی تیسری کمیٹی میں عام بحث کے دوران انڈین نمائندے کے بیان کے جواب میں پاکستان فرسٹ سیکریٹری سرفراز احمد گوہر نے کہا کہ انڈیا کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی اٹل قراردادوں پر عمل درآمد میں مسلسل ناکامی اور انکار کر کے اپنی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا: ’انڈیا کو سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعے کو حل کرنے کے لیے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کرنی چاہیے اور اپنے غیر قانونی کنٹرول کے تحت کشمریی عوام کے حقوق اور آزادیوں کو دبانا بند کرنا چاہیے۔‘ سرفراز احمد گوہر کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان جموں و کشمیر کے تنازعے کو نام نہاد اندرونی معاملہ قرار دینے کی انڈیا کی بے سود کوششوں کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے۔ جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، اور اس کی حتمی حیثیت کا تعین کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا ابھی باقی ہے، جیسا کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی ان متعدد قراردادوں میں درج ہے جو کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی ضمانت دیتی ہیں۔‘ > Pakistan categorically rejects India's futile attempts to dismiss the Jammu and Kashmir dispute as a so-called internal matter. Jammu and Kashmir is an internationally recognized disputed territory, and its final status remains to be determined in accordance with the wishes of… pic.twitter.com/UhMsqfD2mX > > — Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) October 3, 2026 پاکستانی سفارتی نمائندے نے کہا کہ جموں و کشمیر میں انڈین ریاستی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ انڈین حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیر قیادت حکومت میں مذہبی اقلیتوں بشمول مسلمانوں، مسیحیوں، سکھوں اور دیگر کمزور طبقات کے خلاف امتیازی سلوک اور تشدد بھی عام اور منظم ہو چکا ہے۔ پاکستانی فرسٹ سیکریٹری سرفراز احمد گوہر کے بقول: ’آج انڈیا میں مذہب کی بنیاد پر تشدد، نفرت انگیز تقاریر، امتیازی سلوک اور عبادت گاہوں پر حملے کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ ریاستی سرپرستی میں صدیوں پرانی مساجد کو مسمار کیا جا رہا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی قسم کی غلط بیانی، انکار یا الزام تراشی ان حقائق کو چھپا نہیں سکتی۔ دنیا کو بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزی کرنے والے اور انسانی حقوق کو سنگین حد تک پامال کرنے والے ایسے ملک سے کسی لیکچر کی ضرورت نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور میں درج اصولوں کے مطابق بات چیت، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستانی پرعزم کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ’علاقائی امن، سکیورٹی، استحکام اور جنوبی ایشیا میں بسنے والے ڈیڑھ ارب سے زائد انسانوں کی خوشحالی اور فلاح و بہبود کے مفاد میں انڈیا کے لیے بھی یہی بہتر ہوگا کہ وہ اسی راستے پر چلے۔‘ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر مسئلہ کشمیر جموں و کشمیر سری نگر پاکستان کے فرسٹ سیکریٹری سرفراز احمد گوہر نے جنرل اسمبلی کمیٹی سے خطاب میں کہا کہ انڈیا کشمیر سے متعلق قراردادوں کا انکار کر کے بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔  انڈپینڈنٹ اردو ہفتہ, اکتوبر 3, 2026 - 09:00 Main image: > <p class="rteright">پاکستانی فرسٹ سیکریٹری سرفراز احمد گوہر دو اکتوبر، 2026 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کمیٹی میں خطاب کر رہے ہیں (پاکستانی مستقل مشن ایکس اکاؤنٹ)</p> پاکستان type: news related nodes: انڈیا: کشمیر اسمبلی میں ریاستی حیثیت کی بحالی کی حمایت پاکستان نے کشمیر سے متعلق نقشے کے انڈین دعوے کو مسترد کر دیا انڈین کشمیر میں آرٹیکل 370 کی بحالی مہم مودی کے انڈین کشمیر میں ترقی کے دعوے گمراہ کن: پاکستان SEO Title: جموں وکشمیر کبھی انڈیا کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اور نہ ہو گا: پاکستان copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 03/10/2026
independenturdu.com
آج کے نوجوان 80 اور 90 کی دہائی کے دیوانے کیوں ہیں؟
**آخر ہم 80 اور 90 کی دہائی میں بار بار کیوں لوٹ رہے ہیں؟** یہ سوال ایسے میں اور زیادہ گردش کر رہا ہے جب حالیہ دنوں میں بیشتر صارفین نے اپنی تصاویر کو مصنوعی ذہانت کا استعمال کر کے اس دور میں پہنچنے کی کوشش کی۔ وہی لباس، وہی انداز اور وہی پس منظر، ہر ایک کی سمجھیں دلچسپی بس اسی دور میں رچی بسی رہی۔ سوشل میڈیا کا رخ کریں تو وہاں اس زمانے کے موسیقار، نغمہ نگار، گلوکار، ہدایت کار اور اداکاروں کے پوڈکاسٹ کی بھر مار ملے گی جو یخ بستہ کمروں میں بیٹھ کر ماضی کو یاد کرکے ماحول کو گرمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سلسلہ صرف فلمی شخصیات تک محدود نہیں بلکہ اس زمانے کے صحافی، کھلاڑی، سیاست دان اور پولیس افسران بھی اپنی یادوں کا خزانہ صارفین تک پہنچا رہے ہیں۔ جین زی کی تو ان میں خاص طور پر دلچسپی دیکھی جا رہی ہے۔ کیا واقعی وہ سنہرا اور غیرمعمولی دور تھا؟ یہ دو دہائیاں یعنی 80 اور 90 کی دہائی ایسی کہی جا سکتی ہیں کہ جہاں ٹیکنالوجی کے نت نئے شاہکار وقفے وقفے سے پیش کیے جا رہے تھے۔ وی سی آر، ٹیپ ریکارڈر، واک مین، کمپیوٹر، سی ڈی، وی سی ڈی، آئی پوڈ جیسی اشیا روزمرہ کی زندگی کا لازمی حصہ بنتی جا رہی تھیں تو دوسری جانب ثقافتی میدان میں بھی غیر معمولی کام دیکھنے کو مل رہا تھا۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ اس دور کی پاکستانی اور انڈین ثقافت نے ایسی سنہری یاد بنائی ہے جس سے آج کا انسان سکون محسوس کر رہا ہے۔ یہاں یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ دونوں ملکوں میں 80 اور 90 کی دہائی مختلف انداز میں پروان چڑھی۔ پاکستان میں پاپ اور لائٹ میوزک اور ڈراموں نے ناظرین کو اپنی گرفت میں لیا تو وہیں انڈیا میں رومانٹک اور میوزیکل فلموں نے اپنے پرستاروں کی تعداد میں اضافہ کیا۔ پاکستانی ڈراموں وارث، سمندر، افشاں، عروسہ، سونا چاندی، ساحل، تنہائیاں، جنگل، دیواریں سمیت کئی تخلیقات نے ناظرین کے دلوں میں جگہ بنائی تو وہیں موسیقی میں عالمگیر، نازیہ حسن، محمد علی شہکی، گلشن آرا سید، افشاں، بینجمن سسٹرز، سجاد علی، تحسین جاوید اور پھر بعد میں سٹرنگز، جنید جمشید، علی حیدر، حسن جہانگیر، سلیم جاوید، جواد احمد، شہزاد رائے، فاخر، ابرارالحق، علی ظفر اور حدیقہ کیانی جیسے گلوکاروں کی دھوم مچی۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) کئی گلوکاروں نے اپنی دلکش نغمہ سرائی سے انڈین فلمی گیتوں کو ٹف ٹائم دیا۔ سیٹلائٹ چینلز اور پھر کیبل کی آمد کے بعد پاکستانی گلوکاروں اور اداکاروں نے بھی سرحد پار کی۔ اس زمانے میں سرحد کے دونوں جانب ثقافتی میدان میں غیر معمولی صلاحیتوں کا اظہار کیا گیا۔ گو کہ اس دور میں پاکستانی فلمی صنعت اس قدر ترقی کی منزلیں طے نہیں کر پائی لیکن جو بھی تخلیقات بڑے پردے تک پہنچیں انہوں نے فلم بینوں کو مجبور کیا کہ وہ سینیما گھر کا رخ کریں۔ بہرحال اس کمی کو پی ٹی وی کے ڈراموں اور اداکاروں کے کرداروں نے پورا کر دیا۔ کردار ذہنوں پر نقش ہونے لگے۔ اداکاروں کی غیر معمولی کردار نگاری اور ڈراموں کی کہانیوں نے پاکستان ہی نہیں ملک سے باہر بھی ناظرین کو اپنی گرفت میں لیا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ انڈین فلموں کا اصل مقابلہ پاکستانی ڈراموں سے ہی رہا۔ اس دور میں فلمی یا غیر فلمی پاکستانی اور انڈین گانے صرف سنے نہیں جاتے تھے بلکہ ان کی موسیقی، شاعری اور گلوکاری ایسی ہوتی کہ احساس ہوتا کہ جیسے وقت تھم گیا ہے۔ یہ گیت اس لیے بھی یادوں میں محفوظ رہ گئے ہیں کہ یہ کسی نہ کسی واقعے سے منسلک رہے۔ یعنی یہ کسی بیاہ پر، کسی سفر پر یا کسی پیار ومحبت سے جڑے رہے اور یہی وجہ ہے کہ آج جب کوئی پرانا گیت سماعت سے گزرتا ہے تو لامحالہ طور پر آپ اس دور میں پہنچ جاتے ہیں اور بھولی بسری یاد پھر سے تروتازہ ہو جاتی ہے۔ یہ بھی عجیب کہانی ہے کہ اس وقت ایک نیا گانا سننے کے لیے ریڈیو سے اس کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اسی طرح کتاب کی طرح کسی سےآڈیو کیسٹ مانگ کر گانا سننا بھی دلچسپ تجربہ بن جاتا۔ خیر آج ہم ایک روز میں سمارٹ فون اور مختلف ایپلی کیشنز کے باعث اتنے نغمے سن سکتے ہیں کہ جو ممکن ہے اس زمانے میں سال بھر میں نہ سن پاتے۔ 18 اکتوبر 2022 کو امرتسر کے مضافات میں واقع ایک ریزورٹ میں فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (فکی) کے خواتین ونگ کے زیرِ اہتمام منعقدہ فیشن شو کے دوران ماڈلز انڈیا کی ریاست پنجاب کے مختلف ڈیزائنرز کی تخلیقات پیش کر رہی ہیں۔ (تصویر: نریندر نانو / اے ایف پی)۔ انڈیا میں نوے کی دہائی نے جب کروٹ لی تو عمر رسیدہ اور پکی عمر کے فنکاروں کی جگہ کم عمر اداکار آگئے۔ ہر نوجوان کو ان میں اپنی جھلک نظر آئی۔ اس دور میں انڈین تخلیق کاروں نے رومانی کہانیوں کے ساتھ مدھر اور دل کو چھو لینے والی موسیقی پر زیادہ توجہ دی۔ عاشقی، دل، ساجن، قیامت سے قیامت تک، میں نے پیار کیا، دل والے دلہنیا لے جائیں گے یا ہم آپ کے ہیں کون، یہ فلمیں رومانی پس منظر کے ساتھ ساتھ اپنی مسحور کن گیتوں کی وجہ سے ہر ایک کی محبوب بن گئیں۔ کمار سانو، الکا یاگنگ، ادت نرائن، انورادھا پوڈال سمیت کئی سریلے سُر والے گلوکاروں نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ پاکستان اور انڈیا میں 80 اور 90 کی دہائی محض موویز اور گیتوں کا زمانہ نہیں تھا۔ یہ ایک ایسے برصغیری ثقافتی منظر کا سنہرا وقت تھا جس میں سینیما، ریڈیو، ٹیلی وژن، کیسٹ، شادی بیاہ، محلے، بازار، فیشن اور موسیقی ایک دوسرے سے منسلک تھے۔ ایک فلم سینیما گھر یا وی ایچ ایس پر ہی نہیں رہتی بلکہ اس کے گیت شادی بیاہ میں شامل ہوتے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ہر ایک کی زندگی کا حصہ بن جاتے۔ اس دور میں بھی مسائل اور مشکلات ضرور تھے لیکن محدود وسائل کے باوجود غیر معمولی اور ناقابل فراموش تخلیقات پیش ہوئیں۔ صرف فلمیں اور گیت ہی نہیں اس دور کے تو کھیلوں میں بھی بڑی کشش تھی، 1992 میں پاکستان کا عالمی فاتح بننا اور پھر 90 کی دہائی کی پاکستانی ٹیم اور اس کے کھلاڑی تو آج تک سپر ہیروز تسلیم کیے جاتے ہیں۔ صرف کرکٹ ہی نہیں، ہاکی میں بھی پاکستان سرخرو رہا تو وہیں سکواش میں بھی جہانگیر خان اور جان شیر خان کی مثالی جیت نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ آج جین زی میں 80 اور 90 کی دہائی کی تصویریں، فلمی گانے، پرانے پوسٹر اور لباس دوبارہ مقبول ہو رہے ہیں۔ حالانکہ جین زی نے وہ زمانہ دیکھا ہی نہیں، لیکن اسے تجسس ہے کہ وہ دور کیسا اور کیا تھا؟ آج بھی گانے اور فلمیں بن رہی ہیں لیکن نجانے کیوں وہ لطف اور کشش ان فلموں اور گانے میں نہیں رہی جو کبھی ان کا خاصہ ہوتی۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ جین زی اس ہنگامہ خیزی کے دور میں کسی نہ کسی طرح اپنا تعلق اس زمانے سے جوڑ کر خود کو پرسکون اور فرحت کا احساس دلا رہی ہے۔ _نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔_ جین زی سوشل میڈیا جین زی غالباً اس ہنگامہ خیزی کے دور میں کسی نہ کسی طرح اپنا تعلق اس زمانے سے جوڑ کر خود کو پرسکون اور فرحت کا احساس دلا رہی ہے۔ سفیان خان ہفتہ, اکتوبر 3, 2026 - 08:45 Main image: > <p class="rteright"> انڈین اداکارہ اور ماڈل سمیوکتھا شن مگناٹھن، جو تمل ٹی وی اور فلم انڈسٹری میں اپنے کام اور بگ باس تمل 4 میں شرکت کی وجہ سے معروف ہیں، کی چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے بنائی گئی 80 کی دہائی کی ایک تصویر (انسٹاگرام: سمیوکتھا شن مگناٹھن)</p> ٹرینڈنگ type: news related nodes: پاڑا چنار ایئرپورٹ: 80 کی دہائی میں قیام کے بعد بحالی کا سفر ’آفس فراگ‘: جین زی میں بار بار نوکریاں بدلنے کا بڑھتا رجحان جین زی کے دور میں بڑی عمر کے ملازمین کی مانگ کیوں بڑھ رہی ہے؟ جین زی اور جینریشن گیپ SEO Title: آج کے نوجوان 80 اور 90 کی دہائی کے دیوانے کیوں ہیں؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 03/10/2026
independenturdu.com
پاکستان میں دہشت گردی کا تسلسل اور آگے کا راستہ
**دہشت گردی کے دوبارہ ابھرنے اور مسلسل سیاسی عدم استحکام کے تناظر میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ پر حکومتی مشاورت نے پاکستان میں شدت پسندی کے تسلسل پر ایک بار پھر بحث چھڑ دی ہے۔** لوگ اب بھی یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ متعدد بڑے آپریشنز، افغانستان سے امریکی انخلا اور دہشت گردانہ نیٹ ورکس کو بارہا اکھاڑ پھینکنے کے دعوؤں کے باوجود پاکستان میں عسکریت پسندی کا خاتمہ کیوں نہیں ہو سکا۔ دہشت گردانہ نیٹ ورکس اپنی پناہ گاہوں سے بےدخل کیے جانے کے بعد کس طرح اور کیوں دوبارہ منظم ہو جاتے ہیں۔ ان سوالات کے جوابات نہ صرف انسدادِ دہشت گردی کے پیچیدہ اور ہمہ جہت چیلنج کا تناظر واضح کرتے ہیں، بلکہ موجودہ پالیسی فریم ورک میں موجود نقائص کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔ پچھلے 25 برسوں کے دوران پاکستان نے دہشت گرد نیٹ ورکس کا مقابلہ کرتے ہوئے جان و مال کی بہت بڑی قربانیاں دی ہیں۔ اگرچہ چیلنجز اب بھی برقرار ہیں، لیکن پاکستان نے عسکریت پسندی کے خلاف ان گنت کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔ مثال کے طور پر 2015 اور 2020 کے درمیان پاکستان میں دہشت گردی تاریخ کی کم ترین سطح پر تھی۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور کراچی میں حکومت کی رِٹ مکمل طور پر بحال ہو چکی تھی۔ افغانستان میں طالبان کی فتح اور امریکہ کے انخلا کے بعد طالبان کی جانب سے فراہم پناہ گاہوں کے ساتھ ساتھ مالی اور لاجسٹک مدد کے باعث پاکستان میں دہشت گردی دوبارہ ابھر آئی۔ نتیجتاً گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 کے مطابق پاکستان دنیا میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک بن کر ابھرا ہے۔ سوات کے قصبے کبل میں انسداد دہشت گردی کے ایک خصوصی پولیس سٹیشن میں 25 اپریل 2023 کو گولہ بارود کے ذخیرے میں آگ لگنے سے ہونے والے متعدد دھماکوں کے ایک دن بعد سکیورٹی حکام جائے وقوعہ کا معائنہ کر رہے ہیں (عبدالمجید/ اے ایف پی) دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے طالبان کی حمایت کے علاوہ، خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کے معاملے پر افسوس ناک سیاست نے انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی پر عمل درآمد میں ایسے خلا پیدا کیے ہیں، جن کا فائدہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اتحاد المجاہدین پاکستان (آئی ایم پی) جیسے دہشت گرد نیٹ ورکس نے اٹھایا ہے۔ پالیسی کے نقطہ نظر سے، انسدادِ دہشت گردی میں کامیابی کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان باہمی ہم آہنگی انتہائی اہم ہے۔ پاکستان کا عسکری کارروائیوں پر حد سے زیادہ انحصار اور انسدادِ دہشت گردی کے غیر عسکری پہلوؤں پر معقول طریقے سے عمل درآمد میں درپیش مشکلات نے بھی دہشت گردی کے تسلسل میں برابر کا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے نئے ضم شدہ اضلاع (این ایم ڈیز)، بلوچستان اور کراچی سے دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو کامیابی سے تباہ کیا اور ریاست کی رِٹ بحال کی، تاہم غیر عسکری اقدامات کی عدم موجودگی نے ان مشکل سے حاصل کردہ کامیابیوں کو متاثر کیا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کی پائیدار کامیابیوں کے لیے عسکری اور غیر عسکری اقدامات کے درمیان توازن قائم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ان میں انتہا پسندانہ نظریات کا مقابلہ کرنا، اعتدال پسندی کو فروغ دینا، تعلیمی اصلاحات طرزِ حکمرانی کو بہتر بنانا اور سماجی ہم آہنگی و استحکام کو یقینی بنانا جیسے امور شامل ہیں۔ اگر فوجی آپریشنز کے بعد غیر عسکری اقدامات نہ کیے جائیں تو حاصل ہونے والی کامیابیاں بتدریج کمزور پڑ جاتی ہیں۔ نظریاتی طور پر، عسکری طاقت کا استعمال اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ سیاسی عمل کا راستہ ہموار کیا جا سکے اور ایک ایسا سازگار ماحول بنایا جا سکے جس میں ریاست اپنا کنٹرول مضبوط کر سکے۔ پاکستان میں شدت پسندی کے تسلسل کی ایک اور وجہ اس کی مشکل سرحدیں، مہلک ہتھیاروں کا پھیلاؤ اور وہ سماجی و اقتصادی دراڑیں ہیں جن کا فائدہ دہشت گرد نیٹ ورکس اٹھاتے ہیں۔ پاکستان دنیا کے مشکل ترین اور معاندانہ پڑوس میں گھرا ہوا ہے۔ کشمیر کے معاملے پر انڈیا کی مسلسل دشمنانہ پالیسی اور بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کی خفیہ پشت پناہی نے پاکستانی سکیورٹی اداروں کے لیے بے شمار چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) مغرب میں، افغانستان میں طالبان کے اقتدار اور ٹی ٹی پی اور آئی ایم پی کے لیے ان کی حمایت نے پاکستان کو دہشت گردی سے دنیا کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک بنا دیا ہے۔ پھر مشرق وسطیٰ میں امریکہ و اسرائیل کے ایران کے ساتھ تصادم نے بھی پاکستان کے پیچیدہ سکیورٹی ماحول میں برابر کا حصہ ڈالا ہے۔ ایران میں عدم استحکام نے دہشت گردی کی نمو کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کیا ہے، بالخصوص کالعدم بلوچ لبریشن آرمی اور داعش خراسان جیسے گروہوں کے لیے۔ مزید برآں، افغانستان میں امریکہ کے چھوڑے ہوئے ہتھیاروں اور جدید ٹیکنالوجی نے بھی دہشت گرد گروہوں کی ہلاکت خیزی کو بڑھا دیا ہے۔ایم 4 کاربائنز اورایم 16 رائفلز جیسے ہتھیاروں، نائٹ ویژن سکوپس اور محفوظ مواصلات کے لیے استعمال ہونے والے سیٹلائٹ فونز نے پاکستان میں عسکریت پسندی کا رخ مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ پاکستان میں تقریباً تمام دہشت گرد نیٹ ورکس ان ہتھیاروں اور مواصلاتی آلات کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، جاسوسی اور حملوں کے لیے عام دستیاب کواڈ کاپٹرز میں ترمیم کرنے کی ان دہشت گرد نیٹ ورکس کی صلاحیت نے انسدادِ دہشت گردی کی جنگ میں حکمتِ عملی کی پیچیدگی کی ایک نئی تہہ کا اضافہ کر دیا ہے۔ ٹی ٹی پی، آئی ایم پی اور بی ایل اے حملے کرنے اور جاسوسی کے لیے عام تجارتی کواڈ کاپٹرز کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس پہلو نے پاکستانی سکیورٹی اداروں پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ انہیں اینٹی ڈرون سسٹمز خریدنے پر بھی مجبور کر دیا ہے۔ دہشت گرد گروہوں کے درمیان سٹریٹجک اور حربی اتحادات کے ساتھ ساتھ ان کی باہمی رقابتوں نے بھی پاکستان میں شدت پسندی کے دوام میں کردار ادا کیا ہے۔ یہ گروہ جتنے زیادہ متحد ہوتے ہیں، وہ اتنے ہی زیادہ مہلک بن جاتے ہیں اور اتنی ہی طویل ان کی بقا ہوتی ہے۔ طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے، ٹی ٹی پی نے سو سے زائد عسکریت پسند دھڑوں کو اپنی صفوں میں شامل کر لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی نے، مختلف نظریاتی سوچ کے باوجود، بلوچستان میں پاکستانی ریاست کے خلاف ایک دوسرے کو برداشت کیا ہے۔ دوسری طرف خیبر پختونخوا میں ٹی ٹی پی اور آئی ایم پی کے درمیان علاقوں کے کنٹرول کی جنگ اور زیادہ سے زیادہ تشدد دکھانے کے مقابلے نے بھی شدت پسندی کے تسلسل میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ایک مسابقتی ماحول میں، عسکریت پسند گروہ بڑے حملے کر کے اور چھوٹے دھڑوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ طرزِ حکمرانی کا فقدان وہ واحد عنصر ہے جو ان نیٹ ورکس کو متاثر پذیر اور کمزور افراد کو ورغلا کر اپنی صفوں میں شامل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح طرزِ حکمرانی وہ مضبوط جوڑ ہے جو ریاست اور معاشرے کو باہم یکجا رکھتا ہے۔ جب یہ مفقود ہو جاتا ہے، تو عسکریت پسند گروہ اس کا فائدہ اٹھانے کے لیے خود کو بڑی احتیاط سے مستحکم کر لیتے ہیں۔ طرزِ حکمرانی میں بہتری لانا، ریاست اور معاشرے کے تعلق کو مضبوط کرنا اور انتہا پسندانہ نظریات کے خلاف سماجی استقامت پر توجہ مرکوز کرنا، قوموں کو انتہا پسندانہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور انہیں پیچھے دھکیلنے کے قابل بناتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی موجودہ جنگ ایک مشکل مرحلے سے گزر رہی ہے۔ راتوں رات کامیابی یا فتح کا ملنا بعید از قیاس ہے۔ یہ ایک طویل جدوجہد ہے اور سکیورٹی اداروں کو امن کی بحالی کے لیے کچھ وقت لگے گا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے معاشرے کو برداشت کرنا ہو گا اور ریاست کا مکمل ساتھ دینا ہو گا، جس کے بغیر دہشت گردی کے خلاف کامیابی ممکن نہیں ہے۔ جہاں ریاستیں دہشت گرد نیٹ ورکس کو کمزور کرتی ہیں، وہیں معاشرے انتہا پسندانہ نظریات کو مسترد کر کے ان پر فتح حاصل کرتے ہیں۔ _مصنف ایس راجاراتنام سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز، سنگاپور میں سینیئر ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔_ _نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔_ خیبر پختونخوا بلوچستان دہشت گردی حکمت عملی پاکستانی بی ایل اے انسدادِ دہشت گردی کی پائیدار کامیابیوں کے لیے عسکری اور غیر عسکری اقدامات کے درمیان توازن قائم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ عبدالباسط خان ہفتہ, اکتوبر 3, 2026 - 08:30 Main image: > <p class="rteright">کوئٹہ میں 24 مئی 2026 کو ہونے والے دھماکے سے متاثرہ قریبی مکانات (اے ایف پی)</p> نقطۂ نظر type: news related nodes: گورنر راج کی بحث: خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پرتشدد حملوں کا موازنہ پاکستان: دہشت گردی سے لڑنے کا طریقہ بدلنا ہو گا خیبر پختونخوا میں دہشت گردی، وفاقی وزرا کی پی ٹی آئی حکومت پر تنقید نائن زیرو: دہشت کدہ سے وحشت زدہ SEO Title: بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا تسلسل اور آگے کا راستہ copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 03/10/2026
independenturdu.com
چار اکتوبر کا لانگ مارچ: حکومت اور پی ٹی آئی آج پھر مذاکرات کی میز پر
**حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان چار اکتوبر کے لانگ مارچ اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج سمیت دیگر معاملات سے متعلق مذاکرات کا دوسرا دور آج ہوگا۔** اجلاس کا پہلا دور جمعے کو ہوا، تاہم شرکا نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات کے حق میں چار اکتوبر سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان رکھا ہے، جس کے پیش نظر اسلام آباد کے داخلی وخارجی راستوں کے قریب اور مختلف مقامات پر سڑکوں کے کنارے بڑی تعداد میں کنٹینرز موجود ہیں۔ ایک طرف اعلان کردہ مارچ کے آغاز میں صرف ایک دن رہ گیا ہے، وہیں پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعے کو ان مذاکرات کے پہلے دور کے بعد پی ٹی آئی وفد میں شامل سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مذاکرات کا اگلا دور ہفتے کو دو بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں سپیکر چیمبر میں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا: ’اس کے بعد فیصلہ ہوگا کہ کیا کرنا ہے۔‘ دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بھی کہا تھا کہ ’اچھے ماحول میں‘ بات چیت ہوئی ہے اور ہفتے کو ’دوبارہ اکٹھے ہوں گے۔‘ > View this post on Instagram > > A post shared by Independent Urdu (@indyurdu) ان مذاکرات میں حکومت کی جانب سے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری اور وفاقی وزیر امیر مقام شریک تھے جبکہ پیپلز پارٹی کی نمائندگی شیری رحمٰن، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی کر رہے تھے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان، علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، عامر ڈوگر، سلمان اکرم راجہ اور حلیم عادل شیخ ان مذاکرات میں شریک ہوئے۔ پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی لانگ مارچ اسلام آباد خیبر پختونخوا اجلاس کا پہلا دور جمعے کو ہوا، تاہم شرکا نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔  انڈپینڈنٹ اردو ہفتہ, اکتوبر 3, 2026 - 08:15 Main image: > <p class="rteright">دو اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں پارلیمان کے سپیکر چیمبر میں حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے وفد کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کا منظر(ویڈیو سکرین گریب/ تحریک تحفظ آئین پاکستان ایکس اکاؤنٹ)</p> پاکستان type: news related nodes: 4 اکتوبر لانگ مارچ: حکومت و پی ٹی آئی مذاکرات کا اگلا دور کل 2022 سے اب تک: تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی کہانی پی ٹی آئی بند گلی میں نہ جائے جہاں سے واپسی نہ ہو: محسن نقوی چار اکتوبر کو ہر صورت لانگ مارچ کریں گے: سہیل آفریدی SEO Title: چار اکتوبر کا لانگ مارچ: حکومت اور پی ٹی آئی آج پھر مذاکرات کی میز پر copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 03/10/2026
independenturdu.com
سعودی عرب کی طرف داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ کر دیے: فوجی اتحاد
**یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کے لیے قائم سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد نے جمعے کو کہا ہے کہ اس نے جنوب مغربی سعودی عرب میں خمیس مشیط کی طرف حوثی ملیشیا کے داغے گئے تین بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا ہے۔** یمن میں سرگرم حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب پر متعدد ڈرون اور بیلسٹک/کروز میزائل حملے کیے ہیں، جن کا بنیادی ہدف جنوبی اور مغربی شہروں کے ساتھ ساتھ تیل کی تنصیبات تھیں۔ فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ فورسز نے رات تقریباً تین بجے خمیس مشیط کی جانب داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا، اس سے کچھ ہی دیر قبل اسی علاقے کو نشانہ بنانے والے مزید دو میزائلوں کو بھی تباہ کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق حوثیوں کے چار ڈرون طیاروں کو بھی تباہ کر دیا گیا۔ دوسری جانب، سعودی سول ڈیفنس نے کہا کہ جمعے کو نجران میں ایک حوثی پروجیکٹائل سکول پر گرا، جس سے مالی نقصان ہوا۔ بیان میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔ اسی دوران، یمنی مسلح افواج نے کہا ہے کہ انہوں نے گذشتہ 24 گھنٹے میں حوثیوں کے ٹھکانوں، نقل و حرکت، کمک اور فوجی صلاحیتوں کے خلاف 474 فضائی حملے اور انتہائی درستگی سے نشانہ بنانے کی کارروائیاں کی ہیں۔ > View this post on Instagram > > A post shared by Independent Urdu (@indyurdu) ان کارروائیوں میں جنگی طیارے، ڈرون، توپ خانے، میزائل اور راکٹ لانچرز استعمال کیے گئے اور یہ متعدد محاذوں پر کی گئیں، جن میں حرض کے جنوب میں واقع علاقے، ساحلی پٹی، کتاف، مارب، البیضاء، لحج، صنعاء اور صعدہ شامل ہیں۔ فورسز نے بتایا کہ یہ کارروائیاں خاص طور پر تعز کے محاذوں پر مرکوز تھیں، جہاں انہوں نے خطرے کے ذرائع، حوثیوں کے اجتماعات اور ان کی کمک، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز اور دیگر فوجی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا۔ بیان کے مطابق، ان کارروائیوں کے نتیجے میں 1,540 حوثی اہلکار مارے گئے یا زخمی ہوئے، جن میں سے زیادہ تر تعز کے محاذوں پر تھے، جبکہ 216 فوجی گاڑیاں اور دیگر سامان تباہ یا ناکارہ بنا دیا گیا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کارروائیوں نے تعز کے محاذوں پر پیش قدمی کرنے کی حوثیوں کی کوششوں کو بھی ناکام بنا دیا۔ یمنی مسلح افواج نے کہا کہ وہ ریاستی عملداری کی بحالی اور ملک کی سکیورٹی اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گی۔ سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق محکمہ شہری دفاع نے ہفتے کو بتایا کہ صوبہ عسیر کی گورنریٹ احد رفیدہ میں فضا میں تباہ کیے گئے ایک بیلسٹک میزائل کے ٹکڑے لگنے سے ایک شخص زخمی ہو گیا۔ مزید بتایا گیا ہے کہ یہ میزائل حوثی گروپ نے جمعے کو داغا تھا۔ رواں برس فروری میں امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملے اور تہران کی جوابی کارروائیوں سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، جس کی لپیٹ میں متعدد ممالک آئے ہیں۔ حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ بحیرہ احمر میں جہازوں پر حملے شروع کیے اور یمن کے مغربی ساحل پر تیزی سے پیش قدمی کر کے مخا بندرگاہ اور باب المندب آبنائے کے قریب جزائر پر قبضہ کر لیا۔ ستمبر کے حملے اسی تناظر میں ہوئے، جنہیں حوثی سعودی فضائی کارروائیوں کا جواب قرار دیتے ہیں، جبکہ سعودی عرب انہیں اپنی خودمختاری اور تیل کی تنصیبات پر حملہ سمجھتا ہے۔ یہ صورت حال عالمی تیل کی سپلائی اور خطے کی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ حوثی بیلسٹک میزائل سعودی عرب حملہ فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ فورسز نے رات تقریباً تین بجے خمیس مشیط کی جانب داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا، اس سے کچھ ہی دیر قبل اسی علاقے کو نشانہ بنانے والے مزید دو میزائلوں کو بھی تباہ کر دیا گیا۔  انڈپینڈنٹ اردو ہفتہ, اکتوبر 3, 2026 - 07:45 Main image: > <p class="rteright">نجران میں دو اکتوبر 2026 کو حوثی پروجیکٹائل گرنے سے سکول کو پہنچنے والا نقصان (ایس پی اے)</p> ایشیا type: news related nodes: حوثی حملے: پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی معاہدے پر آئندہ ہفتے مذاکرات سعودی عرب کے ساتھ کامل یکجہتی کا اظہار، حوثی حملوں کی شدید مذمت: کور کمانڈرز کانفرنس پاکستان کی مدینہ میں بجلی تنصیب پر حوثی حملے کی شدید مذمت حوثیوں نے مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے گرڈ کو نشانہ بنایا: اتحادی افواج SEO Title: سعودی عرب کی طرف داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ کر دیے: فوجی اتحاد copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 02/10/2026
independenturdu.com
حوثی حملے: پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی معاہدے پر آئندہ ہفتے مذاکرات
**نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ دفاعی معاہدے کی اعلیٰ کمیٹی کا آئندہ ہفتے ریاض میں اجلاس ہوگا، جس میں سعودی عرب پر حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کا جائزہ لیا جائے گا۔** سٹریٹجک پولیٹیکل ڈیفنس کمیٹی کا یہ اجلاس سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے درمیان سرحد پار حملوں میں حالیہ سب سے سنگین اضافے کے دوران ہو رہا ہے۔ یہ صورت حال اگست میں طے پانے والے تین ملکی دفاعی معاہدے کے لیے بھی ایک امتحان ہے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ _انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں_ حوثیوں نے جولائی سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ کیا ہے، جب انہوں نے مملکت کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا اور سعودی علاقے اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ 29 ستمبر کو ایک ڈرون نے مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ کو بجلی فراہم کرنے والے طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن سٹیشن کو نشانہ بنایا۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے مطابق حملے سے ایک ٹرانسفارمر بند ہوگیا تاہم مجموعی بجلی کے نظام پر اثر نہیں پڑا۔ اتحاد نے حملے کا الزام حوثیوں پر عائد کیا، تاہم گروپ نے ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا۔ اس سے قبل آٹھ ستمبر کو حوثیوں کے حملوں کی ایک لہر میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ جنوبی سعودی عرب میں توانائی کی تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔ اسحاق ڈار نے گذشتہ ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنے دورے کے حوالے سے ٹیلی وژن پر نشر ہونے والی میڈیا بریفنگ میں جمعے کو صحافیوں سے کہا،’ہم تینوں ممالک اس معاہدے کے پابند ہیں۔‘ انہوں نے کہا، ’اگر ہم میں سے کسی ایک کو بھی چیلنج کا سامنا ہوا تو ہم ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔ ‘ انہوں نے مشترکہ دفاعی انتظام کا موازنہ نیٹو سے کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اس طرح کا تعاون جائز ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ 21 یا 22 ستمبر کو سعودی عرب کو 17 حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جن میں سے بیشتر کو ناکام بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مدینہ منورہ کے بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے تازہ حملے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا،’یہ قابل قبول نہیں ہے۔‘ اسحاق ڈار نے بتایا کہ حملوں میں اضافے کے دوران پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے 24 ستمبر کو نیویارک میں ملاقات کی، جس کے اگلے روز تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کا ریاض میں اجلاس ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں ہونے والے کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں مملکت کو درپیش موجودہ سکیورٹی صورت حال پر غور کیا جائے گا اور تینوں ممالک کے آئندہ لائحہ عمل کا تعین کیا جائے گا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران حوثیوں کے حملوں اور دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کی ذمہ داریوں پر بھی بات کی۔ اسحاق ڈار نے کہا،’میں نے انہیں باور کرایا کہ ہم دفاعی معاہدے کا حصہ ہیں اور مسلمان ہونے کے ناتے ہمیں اس کی پاسداری کرنا ہوگی اور ان شا اللہ ہم کریں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ عباس عراقچی کا مؤقف تھا کہ ایران کا حوثیوں یا عراقی ملیشیاؤں سے کوئی تعلق نہیں، اور انہوں نے پاکستان کو مشورہ دیا کہ حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کے بجائے ان کے ساتھ سیاسی طور پر رابطہ کیا جائے۔ اسحاق ڈار نے کہا،’انہوں نے کہا کہ آپ کو ان کے ساتھ سیاسی طور پر رابطہ کرنا چاہیے۔ ان کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے بجائے سیاسی طور پر ان سے رابطہ کیا جائے۔‘ اسحاق ڈار نے اس تجویز کو ’ نیک نیتی سے دیا گیا مشورہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اکیلے اس اتحاد کے ردعمل کا فیصلہ نہیں کرسکتا اور کسی بھی فیصلے پر تینوں ارکان کو مشترکہ طور پر اتفاق کرنا ہوگا۔ جب اسحاق ڈار سے پوچھا گیا کہ آیا پاکستان دفاعی معاہدے کی شقیں جاری کرے گا، کیا اس کے تحت فوجی کارروائی کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہوگی اور حوثیوں کے خلاف حملوں میں شمولیت سے ایران کے ساتھ ثالثی میں اسلام آباد کے کردار پر کیا اثر پڑ سکتا ہے، تو انہوں نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا، ’ان سوالات کا جواب دینے کا یہ مناسب وقت نہیں ہے۔ بس چند دن انتظار کریں۔‘ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر سات اگست کو دستخط کیے گئے تھے، جس کے تحت تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ چھ سے زیادہ ممالک اس اتحاد میں شامل ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم نئے ارکان کی درخواستوں پر اس وقت تک غور نہیں کیا جاسکتا جب تک اس کا سیکریٹریٹ اور دیگر انتظامی طریقہ کار مکمل طور پر فعال نہیں ہوجاتے۔ ان کے مطابق اس عمل میں کم از کم ایک سال لگ سکتا ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا،’چھ سے زیادہ ممالک اس مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کے خواہش مند ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ بنیادی معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی رضامندی سے دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہوسکتے ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا،’یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، اس کا کوئی جارحانہ ایجنڈا نہیں۔ دستاویز کے مطابق دیگر ممالک کے لیے بھی اس کی رکنیت کھلی ہوگی، بشرطیکہ وہ بانی ممالک کی طے کردہ اصولوں سے اتفاق کریں۔‘ **آبنائے ہرمز** نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے تنازع سے متعلق سفارتی کوششوں میں بدستور مصروف ہے اور آبنائے ہرمز سے بلا رکاوٹ آمدورفت چاہتا ہے، کیونکہ اس گزرگاہ میں رکاوٹ سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی سپلائی چینز متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا،’کوئی فیس، کوئی سروس چارج، کوئی ٹول، کوئی اجازت اور کوئی پرمٹ نہیں ہونا چاہیے۔ پہلے دن سے پاکستان کا یہی مؤقف ہے۔‘ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے وزیر پٹرولیم اور نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کی جانب سے رابطہ کیے جانے کے بعد انہوں نے ذاتی طور پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ایل این جی جہاز کی آبنائے ہرمز سے گزرنے کا معاملہ اٹھایا۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) انہوں نے کہا کہ عباس عراقچی نے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا اور بعد میں جہاز کے گزرنے کی تصدیق کی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی کوششوں کے تحت پاکستان نے اپریل میں اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کی، جن کے نتیجے میں جون میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سامنے آئی۔ ان کے مطابق بعد ازاں دونوں جانب سے خلاف ورزیوں کے باعث اس پر عملدرآمد رک گیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان پسِ پردہ سفارتی کوششوں میں بدستور شامل ہے اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کے لیے سعودی عرب، قطر، مصر اور ترکیہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیویارک کے دورے کے دوران انہوں نے 28 دوطرفہ ملاقاتیں کیں، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے غیر ملکی رہنماؤں اور بین الاقوامی حکام کے ساتھ 14 ملاقاتیں کیں۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے وزیراعظم شہباز شریف کی پاکستان کے دورے کی دعوت قبول کرلی ہے اور وہ اپنی مدتِ منصب 31 دسمبر کو ختم ہونے سے قبل پاکستان کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نیویارک کے دورے کے دوران پاکستان اور سعودی عرب نے سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے، جو اس انتظام سے مماثل ہے جو اسلام آباد پہلے ہی متحدہ عرب امارات کے ساتھ طے کرچکا ہے۔ حوثی سعودی عرب مکہ دفاعی معاہدہ ترکی اجلاس سٹریٹجک پولیٹیکل ڈیفنس کمیٹی کا یہ اجلاس سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے درمیان سرحد پار حملوں میں حالیہ سب سے سنگین اضافے کے دوران ہو رہا ہے۔  انڈپینڈنٹ اردو جمعہ, اکتوبر 2, 2026 - 19:00 Main image: > <p class="rteright">پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار 2 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد، پاکستان میں میڈیا بریفنگ سے خطاب کر رہے ہیں(وزارتِ خارجہ)</p> پاکستان jw id: e6R6eUJb type: video related nodes: پاکستان کی مدینہ میں بجلی تنصیب پر حوثی حملے کی شدید مذمت حوثی حملے: سعودی، ترک اور پاکستانی چیف آف سٹاف کا ہنگامی اجلاس طلب حوثی حملے: اسحاق ڈار کا مکہ معاہدے کے تحت تعاون بڑھانے کا عزم سعودی حوثی کشمکش اور پاکستان کا نازک امتحان SEO Title: حوثی حملے: پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی معاہدے پر آئندہ ہفتے مذاکرات copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 02/10/2026
independenturdu.com
سرحد کے قریب انڈین فورسز کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہری جان سے گئے: سرکاری میڈیا
**پاکستان کے سرکاری میڈیا نے جمعے کو رپورٹ کیا کہ قصور کے قریب سرحد پر انڈیا کی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی فائرنگ سے دو نہتے پاکستانی شہری جان سے گئے جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔** سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے ریڈیو پاکستان نے بتایا کہ لدھڑ گاؤں کے تین رہائشی سرحد کی نشاندہی کے لیے لگائے گئے پِلر سے چند قدم آگے گئے تو بی ایس ایف نے ’بغیر کسی وارننگ کے ان پر فائرنگ کر دی۔‘ رپورٹ کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ فائرنگ سے دو شہری جان سے گئے جبکہ ایک زخمی ہوا۔ تینوں افراد غیر مسلح تھے۔ جان سے جانے والوں کی شناخت عظمت رسول اور محسن جٹ کے طور پر کی گئی ہے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ’سکیورٹی ذرائع کے مطابق تینوں افراد غیر مسلح تھے اور انہوں نے کسی بھی مرحلے پر سرحد پر لگی خاردار تار (فینس) عبور کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ انڈین فورسز کی جانب سے نہتے شہریوں پر فائرنگ بارڈر معاہدوں اور طے شدہ طریقہ کار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘ ریڈیو پاکستان کے مطابق ’انڈین میڈیا نے جھوٹے فالس فلیگ بیانیے کی روایت کو جاری رکھتے ہوئے بے گناہ شہریوں کو مبینہ درانداز قرار دیا۔‘ یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی ہے جب انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک پریس کانفرنس میں پاکستانی فوج کے سابق حولدار محمد آصف کو پیش کیا جسے انڈیا نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں ایک کارروائی میں مارنے کا دعویٰ کیا تھا، پریس بریفنگ کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا حالیہ الزامات دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان ایک اور مسلح تنازع کا سبب بن سکتے ہیں تو انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی ایسی کارروائی کا سخت ترین جواب دینے کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔ پاکستان انڈیا سرحدی کشیدگی اموات قصور کے قریب سرحد پر انڈیا کی بارڈر سکیورٹی فورس کی فائرنگ سے دو نہتے پاکستانی شہری جان سے گئے جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔  انڈپینڈنٹ اردو جمعہ, اکتوبر 2, 2026 - 20:45 Main image: > <p>سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ انڈین فورسز کی فائرنگ سے دو شہری جان سے گئے جبکہ ایک زخمی ہوا (اے ایف پی)</p> پاکستان type: news related nodes: انڈین ’فالس فلیگ‘، پاکستان فوج نے ’مارے گئے‘ سابق فوجی کو میڈیا میں پیش کر دیا انڈین آرمی چیف کا بیان غرور اور جنگی جنون پر مبنی ہے: آئی ایس پی آر پہلگام: انڈیا کی جارحیت کے ’ناقابل تردید شواہد‘ پر مبنی دستاویز جاری پہلگام: پاکستان کا سلامتی کونسل کو بریفنگ دینے کا فیصلہ SEO Title: سرحد کے قریب انڈین فورسز کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہری جان سے گئے: سرکاری میڈیا copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 02/10/2026
independenturdu.com
سعودی عرب کے ساتھ کامل یکجہتی کا اظہار، حوثی حملوں کی شدید مذمت: کور کمانڈرز کانفرنس
**پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جمعے کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت جی ایچ کیو میں 277 ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں فورم نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مملکت کے ساتھ کامل یکجہتی کا اظہار کیا اور حرمین شریفین کی سلامتی و تقدس کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔** کور کمانڈرز کانفرنس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ معاہدہ دیرینہ تزویراتی اور اجتماعی دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ہے۔ فورم نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار بھی کیا۔ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے سات اگست کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت تینوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ تینوں ممالک کے فوجی سربراہان نے 25 ستمبر کو ریاض میں ملاقات کی اور حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی جمعے کو کہا ہے کہ یمن کے حوثیوں کے حملوں کے بعد ایران نے ان کے ساتھ سیاسی طور پر مذاکرات کرنے کی تجویز دی ہے۔ دفتر خارجہ میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ مکہ دفاعی معاہدے کی ایک کمیٹی آئندہ ہفتے ریاض میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں اس تجویز پر غور کرے گی۔ یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کو حوثیوں کی جانب سے حملوں میں اضافے کا سامنا ہے۔ سعودی عرب نے حوثیوں پر اسلام کے دو مقدس ترین شہروں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ وزیر خارجہ نے بتایا کہ معاہدے کے تین رکن ممالک سعودی عرب، ترکی اور پاکستان اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کریں گے۔ کور کمانڈرز کانفرنس نے جمعے کو عزم ظاہر کیا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی بہانے سے بدامنی پیدا کرنے یا نو مئی جیسے واقعات کی کوشش سے فیصلہ کن قوت اور قانون کی حکمرانی کے تحت بلاامتیاز نمٹا جائے گا۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی زیر صدارت جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں 277ویں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی، جس میں ملک کی موجودہ سکیورٹی صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور اعلیٰ سطح کی تیاری برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ کور کمانڈرز کانفرنس میں یہ بیان کہ کسی بھی بہانے سے بدامنی پیدا کرنے کی کوشش سے بلاامتیاز نمٹا جائے گا، اسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان تحریک انصاف نے چار اکتبوبر کو لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ نو مئی 2023 کو پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے کئی شہروں میں پرتشدد احتجاج کیا گیا تھا۔ > View this post on Instagram > > A post shared by Independent Urdu (@indyurdu) دوسری جانب حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان لانگ مارچ اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج سمیت کئی معاملات سے متعلق جمعے کو ہوئے اجلاس کا پہلا دور مکمل ہو گیا۔ تاہم شرکا نے تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ آج کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ فورم نے کہا کہ طالبان کی ’فریب خوردہ قیادت‘، جو انڈیا کی جانب سے دہشت گردی کو سہولت فراہم کر رہی ہے، اس کے نتائج کی ذمہ دار ہے۔ دو اکتوبر 2026 کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کی زیر صدارت جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں 277ویں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی (آئی ایس پی آر) کانفرنس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انٹیلی جنس بنیادوں پر دہشت گردی کے خلاف مسلسل کامیاب کارروائیوں کو سراہا گیا، تاہم اس بات پر زور دیا گیا کہ ان عملی اقدامات کے ساتھ غیر عسکری اقدامات بھی کیے جائیں۔ ان اقدامات میں نچلی سطح پر عوام پر مرکوز طرز حکمرانی، عوام کے ساتھ تزویراتی روابط، مفاداتی عناصر کی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کا خاتمہ اور پولیس کی استعداد کار میں اضافہ شامل ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ اقدامات نیشنل ایکشن پلان اور وژن عزم استحکام کے مطابق کیے جائیں گے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) کور کمانڈرز کانفرنس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ معاہدہ دیرینہ تزویراتی اور اجتماعی دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ہے۔ فورم نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار، سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور حرمین شریفین کی سکیورٹی اور تقدس کے تحفظ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ کانفرنس میں انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے اصولی مؤقف اور متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کشمیر کے تنازعے کے حل کے لیے حمایت کا بھی اعادہ کیا گیا۔ اختتامی کلمات میں چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز نے فارمیشنز کی آپریشنل تیاری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ انہوں نے کمانڈرز کو ہدایت کی کہ انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے اور جدید ٹیکنالوجی، تربیت اور مختلف شعبوں کے باہمی انضمام کے ذریعے جنگی صلاحیتوں میں اضافہ جاری رکھا جائے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ قوم کی غیر متزلزل حمایت کے ساتھ مسلح افواج پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ پاکستان فوج کور کمانڈرز کانفرنس فیلڈ مارشل عاصم منیر نو مئی پاکستان تحریک انصاف لانگ مارچ فورم نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار بھی کیا۔  انڈپینڈنٹ اردو جمعہ, اکتوبر 2, 2026 - 17:30 Main image: > <p class="rteright">فیلڈ مارشل عاصم منیر 10 جولائی، 2025 کو راولپنڈی میں ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران (آئی ایس پی آر)</p> پاکستان jw id: yfv19EvL type: video related nodes: 4 اکتوبر لانگ مارچ: حکومت و پی ٹی آئی مذاکرات کا اگلا دور کل 2022 سے اب تک: تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی کہانی نو مئی کیس: یاسمین راشد سمیت دیگر کو 10، 10 سال قید کی سزا نو مئی ’غلط‘ قرار دینے کا بیان اور پھر ’وضاحت‘: کیا پی ٹی آئی میں اختلافات ہیں؟ SEO Title: سعودی عرب کے ساتھ کامل یکجہتی کا اظہار، حوثی حملوں کی شدید مذمت: کور کمانڈرز کانفرنس copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 02/10/2026
independenturdu.com
طیارہ ہائی جیکنگ نتن یاہو کو اقتدار میں رہنے میں کیسے مدد دے سکتی ہے؟
**اسرائیل جانے والی پرواز کو ہائی جیک کرنے کی مبینہ کوشش کے پیچھے وجوہات بظاہر واضح بھی ہیں اور مبہم بھی۔** یہ کوشش غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہزاروں افراد کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے کی گئی یا اس کے پیچھے کسی شخص کی ذہنی کیفیت میں اچانک بگاڑ کا معاملہ تھا، لیکن اس سے صرف ایک شخص کو فائدہ پہنچتا ہے، اور وہ اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نتن یاہو ہیں۔ اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک وزیراعظم رہنے والے نتن یاہو نے بھی متحدہ عرب امارات سے اسرائیل کے لیے تقریباً اسی فضائی راستے پر سفر کیا تھا جس پر بدقسمت فلائی دبئی کے مسافر محو پرواز تھے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق وہ ابوظبی میں موجود تھے، جہاں ان کی کوشش تھی کہ وہ متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید آل نہیان سے یہ بیان دلوانے کی کوشش کر رہے تھے کہ انہوں نے سات اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملوں سے قبل نتن یاہو کو خبردار نہیں کیا تھا۔ انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں نیتن یاہو کو اس بیان کی ضرورت اس لیے تھی کیونکہ وہ لیکوڈ (Likud) پارٹی کے سربراہ اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں پر مشتمل اسرائیلی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے ہمیشہ خود کو ایک ایسے طاقت ور رہنما کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں جو اسرائیل کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔ ان کے سامنے 27 اکتوبر کو اسرائیل میں ہونے والے عام انتخابات ہیں۔ فلائی دبئی کے واقعے سے کچھ ہی دیر پہلے نتن یاہو نے ایک ویڈیو جاری کی تھی، جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ انتخابات قریب آنے کے ساتھ ہی ’ہمارے دشمن ہم پر حملہ کرنے کی کوشش کریں گے۔‘ اسرائیل کے ایک فضائی اڈے سے اپنے دشمنوں کو پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ’ہم سے الجھنے کی کوشش نہ کریں۔‘ ان کا کہنا تھا: ’نہ ابھی اور نہ کبھی۔ ہمارا لمبا ہاتھ آپ تک ہر جگہ اور ہر مقام پر پہنچے گا۔‘ اسرائیل نے بے رحمانہ اور شدید تشدد کے ذریعے بڑی حد تک ثابت کیا ہے کہ اس کے یہ دعوے درست ہیں۔ یہودی ریاست ایران کی قیادت کو ختم کرنے کی امریکی کوششوں کا حصہ رہی ہے۔ اس نے ایسے منصوبوں میں بھی حصہ لیا جن کے نتیجے میں ایران کے جوہری سائنس دان جان سے گئے۔ لبنان میں اسرائیل کی زمینی فوج کی محدود نوعیت کی یلغار اور جنوب اور دارالحکومت پر بڑے پیمانے پر بمباری سے پہلے غیر معمولی خفیہ کارروائیاں کی گئیں، جن میں ہزاروں پیجرز اور پھر ہاتھ میں پکڑے جانے والے ریڈیو آلات میں چھوٹے دھماکہ خیز مواد نصب کر کے حزب اللہ کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ غزہ میں بھی اسرائیل نے سات اکتوبر کے بعد بڑے پیمانے پر تباہی کی مہم چلائی، جس کے نتیجے میں 70 ہزار سے زیادہ افراد قتل کیے گئے۔ اسرائیل نے شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب علاقے پر بھی قبضہ کر رکھا ہے۔ تاہم ان میں سے کسی اقدام سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی ساکھ بہتر نہیں ہوئی۔ ابراہام معاہدوں کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش کے ساتھ قائم ہونے والے دوستانہ تعلقات میں سعودی عرب کو شامل کرنے کی نتن یاہو کی امید پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ ممکنہ طور پر سات اکتوبر کو حماس کے حملوں کے محرکات میں یہ خواہش بھی شامل تھی کہ اسرائیل کو اس قدر غیر متناسب ردعمل پر اکسایا جائے کہ ریاض میں جاری سفارتی بات چیت مکمل طور پر منجمد ہو جائے۔ یہ مقصد پورا ہو چکا ہے۔ سعودی عرب واضح کر چکا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی بحالی تک وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں لائے گا۔ وسیع تر عالمی سطح پر بھی اسرائیل نے اپنے کئی دوست کھو دیے ہیں۔ برطانیہ نے کئی دیگر ممالک کے ساتھ مل کر مقبوضہ مغربی کنارے میں کام کرنے والے اسرائیلی کاروباروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ اسرائیل پر تنقید کو یہود دشمنی قرار دینے کی کوششیں، بعض اوقات قانون سازی کے ذریعے بھی، کامیاب نہیں ہو سکیں۔ اسی طرح کئی مغربی ممالک میں بائیکاٹ، سرمایہ کاری کے خاتمے اور پابندیوں (بی ڈی ایس) کی دھمکی دینے یا ان پر عمل کرنے کو غیر قانونی قرار دینے کی کوششیں بھی اس تصور کو قانونی حیثیت نہیں دلا سکیں کہ بی ڈی ایس یہود دشمنی ہے۔ نیتن یاہو کی جانب سے تمام یہودیوں کے مفادات کو اسرائیل کی ضروریات یا خواہشات سے ہم آہنگ کرنے کی کوششوں کو بھی شدید دھچکا پہنچا ہے۔ ان کے دور حکومت میں اسرائیل پر اقوام متحدہ میں غزہ میں مبینہ نسل کشی یا نسل کشی کے اقدامات کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اسرائیل نے ایسا قانون بھی منظور کیا ہے جو صرف نسلی بنیادوں پر، یعنی فلسطینیوں کے خلاف، سزائے موت عائد کرنے کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل مغربی کنارے میں غیر یہودی آبادی کو ان کے گھروں اور زمینوں سے طاقت کے ذریعے بے دخل کر رہا ہے۔ نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیل عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے۔ اس کی کئی روایتی اتحادی حکومتیں انتہائی دائیں بازو کی اسرائیلی حکومت کے اقدامات سے بیزار ہو چکی ہیں اور یہاں تک کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی نیتن یاہو کے جارحانہ طرز عمل پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) نیتن یاہو کو بدعنوانی کے کئی الزامات کا سامنا بھی ہے اور ان کے خلاف مقدمات کی سماعت جاری ہے۔ عدالتی آزادی ختم کرنے کے لیے آئینی تبدیلیوں کی کوششوں پر انہیں ملک کے اندر بھی بڑے پیمانے پر عوامی غصے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ نیتن یاہو جانتے ہیں کہ اسرائیل کی قیادت سے الگ ہونے کے بعد انہیں بدنامی اور حتیٰ کہ جیل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ وہ کسی بھی دوسرے اسرائیلی رہنما سے زیادہ عرصے تک اس منصب پر فائز رہے ہیں۔ اسرائیل کے ترقی پسند اخبار ’ہرٹز‘ کے مطابق، مختلف سروے کے مجموعی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے سیاسی اتحاد کو 120 رکنی اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) میں 52 نشستیں مل سکتی ہیں۔ اتنی ہی، یعنی 52 نشستیں، اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں قائم اتحاد کو ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ باقی 16 نشستیں فیصلہ کن حیثیت اختیار کر سکتی ہیں، تاہم آئزنکوٹ نے ان اسرائیلی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنانے سے انکار کیا ہے جن میں اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کی نمائندگی کرنے والی جماعتیں غالب ہیں۔ اس صورت حال میں نیتن یاہو کی دوبارہ انتخاب میں کامیابی کا انحصار انتہائی کم فرق پر ہے۔ فلائی دبئی کی پرواز کو ہائی جیک کرنے کی کوشش نیتن یاہو کے اس بیانیے کو تقویت دیتی ہے کہ ان کی قیادت میں اسرائیل دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ظلم کا شکار ہے، اور یہ کہ وہ تشدد اور جنون سے گھرے ایک جمہوری جزیرے کی حفاظت کر رہے ہیں، جسے صرف وہی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ اسرائیل ابوظبی غزہ ہائی جیکنگ بن یامین نتن یاہو فلائی دبئی کی پرواز کو ہائی جیک کرنے کی کوشش سے صرف ایک شخص کو فائدہ پہنچتا ہے، اور وہ اسرائیل کے وزیراعظم ہیں جو دوبارہ انتخاب لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ دی انڈیپنڈنٹ کے ورلڈ افیئرز ایڈیٹر سیم کائلی کا تجزیہ۔ سیم کائلی جمعہ, اکتوبر 2, 2026 - 17:30 Main image: > <p class="rteright">اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو 24 ستمبر، 2026 کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں 81ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں(اے ایف پی)</p> دنیا type: news related nodes: پائلٹس جھگڑے میں زخمی: دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز سعودی عرب اتر گئی پاکستان کا اسرائیل کے خلاف شطرنج میچ کا بائیکاٹ سعودی عرب کی یو اے ای میں نتن یاہو سے ملاقات کی تردید میرے پاس نتن یاہو کو گرفتار کرنے کا ’قانونی اختیار‘ نہیں: ممدانی SEO Title: فلائی دبئی طیارے کی ہائی جیکنگ نیتن یاہو کو اقتدار میں رہنے میں کیسے مدد دے سکتی ہے؟ copyright: IndependentEnglish origin url: https://www.independent.co.uk/news/world/middle-east/dubai-israel-hamas-hijack-saudi-arabia-b3059617.html?loginSuccessful=true show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 02/10/2026
independenturdu.com
4 اکتوبر لانگ مارچ: حکومت و پی ٹی آئی مذاکرات کا اگلا دور کل
**حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان لانگ مارچ اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج سمیت کئی معاملات سے متعلق جمعے کو ہوئے اجلاس کا پہلا دور مکمل ہو گیا۔ تاہم شرکا نے تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ آج کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔** سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات کا اگلا اجلاس کل دو بجے پارلیمنٹ ہاؤس سپیکر چیمبر میں ہوگا۔ انہوں نے کہا اس اجلاس میں ’حکومت کا gesture مناسب تھا، جب کوئی مذاکرات میں بیٹھتا ہے تو gesture مناسب ہی ہوتا ہے۔ میں اس حالت میں نہیں ہوں کہ مزید بات کر سکوں۔ یہ مذاکرات جاری رہیں گے، کل اجلاس ہوگا۔ اس کے بعد فیصلہ ہوگا کہ کیا کرنا ہے۔‘ انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں ’کیا اجلاس میں عمران خان سے متعلق کوئی بات ہوئی؟‘ اس سوال پر سینیٹر راجہ ناصر عباس نے جواب دیا کہ کل اجلاس ہوگا، ’اس کے بعد ہم کچھ کہنے کے قابل ہوں گے۔‘ پارلیمان میں سپیکر چیمبر میں منعقد ہونے والے اجلاس میں حکومتی جماعتوں، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور پارلیمان میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اچھے ماحول میں بات چیت ہوئی ہے، اور تفصیل سے موجودہ صورت حال پر گفتگو ہوئی۔ کل دو بجے تک مذاکرات میں بریک آئی ہے، تب دوبارہ اکٹھے ہوں گے۔ لانگ مارچ کو موخر کرنے سے متعلق سوال پر طارق فضل چوہدری نے کہا ’ابھی یہ طے پایا ہے کہ مذاکرات کی تفصیلات شئیر نہیں کی جائیں گی، اس کی پاسداری ہم سب پر فرض ہے۔ مذاکرات کا مقصد ہی ایک دوسرے کو تحمل اور برداشت سے سننا ہے۔ مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل نکالنا مقصد ہوتا ہے۔‘ ’کیا جماعت کے رہنماؤں سے عمران خان کی ملاقات ہوگی؟‘ اس سوال پر وفاقی وزیر نے کہا ’میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے زیر صدارت اجلاس میں ’اپوزیشن نے مذاکرات کے دوران ایک دوسرے کو اپنے اپنے موقف سے آگاہ کیا، جبکہ مختلف معاملات پر تحمل کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہوئی۔‘ ترجمان نے کہا ’حکومت اور پیپلز پارٹی نے اپوزیشن کے ساتھ قومی مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔‘ ان مذاکرات میں حکومت کی جانب سے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری اور وفاقی وزیر امیر مقام شامل ہیں۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کی نمائندگی شیری رحمٰن، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی کر رہے ہیں۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین گوہر خان، علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، عامر ڈوگر، سلمان اکرم راجہ اور حلیم عادل شیخ اس اجلاس میں شامل ہیں۔ لانگ مارچ پی ٹی آئی مذکرات اسلام آباد علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ’حکومت کا gesture مناسب تھا، جب کوئی مذاکرات میں بیٹھتا ہے تو gesture مناسب ہی ہوتا ہے۔ میں اس حالت میں نہیں ہوں کہ مزید بات کر سکوں۔‘ قرۃ العین شیرازی جمعہ, اکتوبر 2, 2026 - 17:00 Main image: > <p class="rteright">پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان 02 اکتوبر، 2026 کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کے پہلے دور کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے(انڈپینڈنٹ اردو)</p> سیاست type: news related nodes: 2022 سے اب تک: تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی کہانی چار اکتوبر کو ہر صورت لانگ مارچ کریں گے: سہیل آفریدی پی ٹی آئی کا پشاور سے لانگ مارچ 4 اکتوبر تک موخر پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے پہلے عمران خان کی بہن علیمہ گرفتار SEO Title: 4 اکتوبر لانگ مارچ: حکومت و پی ٹی آئی مذاکرات کا اگلا دور کل copyright: show related homepage: Show on Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 02/10/2026
independenturdu.com
مشرق وسطیٰ بحران: پاکستانی برآمدی آرڈرز خطرے میں
**صنعتوں کے نمائندوں نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بحری نقل و حمل میں خلل کے باعث مال برداری کے اخراجات بڑھنے اور ترسیل کے زیادہ غیر یقینی ہونے سے غیر ملکی خریدار پاکستانی برآمدی آرڈرز موخر یا دیگر ممالک منتقل کر سکتے ہیں۔** فروری میں شروع ہونے والی امریکہ، ایران جنگ نے خلیج کے راستے بحری نقل و حمل کو متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ بحیرہ احمر میں یمن کی حوثی تحریک کی جانب سے دھمکیوں کے باعث بحری جہاز چلانے والی کمپنیوں نے بعض سروسز کو ایشیا اور یورپ کے درمیان مختصر بحری راستے نہر سویز سے ہٹا کر جنوبی افریقہ کے گرد بھیجنا شروع کر دیا ہے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے، جس کے بارے میں صنعت سے وابستہ نمائندوں کا کہنا ہے کہ جون میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران تقریباً 18 ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں، بحری نقل و حمل میں خلل سے پیداواری سامان درآمد کرنے کی لاگت کے ساتھ ساتھ خریداروں کی جانب سے ڈیلیوری پر ادا کی جانے والی حتمی قیمت بھی بڑھ رہی ہے۔ ترسیل میں تاخیر خاص طور پر ان کپڑوں اور گھریلو ٹیکسٹائل مصنوعات کے لیے نقصان دہ ہے جن کے آرڈرز خوردہ فروخت کے مقررہ شیڈول کے مطابق دیے جاتے ہیں۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے چیئرمین کامران ارشد نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’خریدار ترسیل کی یقین دہانیوں اور اشیا کی حتمی لاگت کے حوالے سے تیزی سے محتاط ہو رہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’آرڈرز موخر، کم یا ایسے حریف ممالک منتقل کیے جانے کے خطرے سے دوچار ہیں جو خاص طور پر بڑے نقل و حمل اور لاجسٹکس مراکز رکھتے ہیں، جہاں مال برداری کے اخراجات کم اور بحری ترسیل کے شیڈول اب بھی زیادہ قابل اعتماد ہیں۔‘ کامران ارشد نے انڈیا، بنگلہ دیش اور چین کو حریف سپلائرز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ طویل عرصے تک جاری رہنے والا خلل خریداروں کے مستقبل میں مصنوعات حاصل کرنے کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے پہلے ہی ضائع یا دیگر ممالک منتقل کیے جا چکے آرڈرز کی تعداد نہیں بتائی۔ انہوں نے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی سے نیویارک ایک کنٹینر کی ترسیل کے مال برداری کے اخراجات تقریباً دو ہزار ڈالر سے بڑھ کر نو ہزار ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جو 350 فیصد اضافہ ہے۔ چین سے پاکستان ترسیل کے نرخ بھی دو ہزار سے 2400 ڈالر سے بڑھ کر چار ہزار سے 4500 ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار مخصوص راستوں پر برآمد کنندگان کی جانب سے بتائے گئے نرخوں کی عکاسی کرتے ہیں اور پاکستان کی مجموعی تجارت میں اوسط اضافے کی نمائندگی نہیں کرتے۔ کامران ارشد نے کہا کہ ’خلل کے بعد سے مال برداری کے اخراجات میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔‘ پاکستانی کمپنی انٹرلوپ، جو نائکی، ایڈیڈاس اور پوما سمیت عالمی برانڈز کو مصنوعات فراہم کرتی ہے، نے بھی مال برداری کے زیادہ اخراجات اور بحری ترسیل کے کم قابل اعتماد شیڈول کی اطلاع دی ہے۔ کمپنی کے خارجہ امور کے سینئر جنرل منیجر ہمایوں جاوید خان نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’28 فروری کے بعد سے بین الاقوامی مال برداری کے نرخوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم اس کے اثرات راستے اور بحری کمپنی کے لحاظ سے مختلف ہیں۔‘ ہمایوں جاوید خان نے کہا کہ امریکہ کے مشرقی ساحل تک ترسیل کا وقت تقریباً 28 دن سے بڑھ کر 40 سے 42 دن ہو گیا ہے۔ تاہم ان کے مطابق کمپنی نے غیر ملکی آرڈرز منسوخ ہوتے نہیں دیکھے۔ انہوں نے کہا کہ ’فریٹ فارورڈرز کے لیے کنٹینرز دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے کچھ ترسیلات میں تاخیر ہوئی۔‘ انٹرلوپ اپنی زیادہ تر مصنوعات فری آن بورڈ بنیاد پر فروخت کرتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ سامان جہاز پر لادے جانے کے بعد عام طور پر خریدار ہی سمندری راستے سے مرکزی ترسیل کا انتظام اور اس کی ادائیگی کرتے ہیں۔ ہمایوں جاوید خان نے کہا کہ اس لیے بین الاقوامی مال برداری کے زیادہ اخراجات خریدار برداشت کر رہے ہیں۔ **طویل راستے، زیادہ اخراجات** پاکستان شپ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل سید طاہر حسین نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے گرد موڑے جانے والے بحری سفر میں مزید 15 سے 20 دن لگ رہے ہیں۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) انہوں نے کہا کہ ’قدرتی طور پر جب آپ طویل راستوں سے سفر کرتے ہیں تو آپ کے ایندھن، بنکر فیول کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں، پھر انشورنس پریمیم میں اضافہ ہوتا ہے اور دیگر مختلف انتظامی اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔‘ ان کا حوالہ بحری ایندھن اور دیگر آپریشنل اخراجات کی جانب تھا۔ بحری نقل و حمل میں خلل کا اثر بحری کمپنی اور راستے کے لحاظ سے مختلف ہے۔ مارسک کی ستمبر کی ایڈوائزریز میں متاثرہ خلیجی ترسیلات کے لیے پابندیوں اور اضافی چارجز کا ذکر کیا گیا، جبکہ عمان میں صلالہ سمیت بعض بندرگاہوں کے ذریعے کچھ کارگو قبول کرنے کی بات بھی کہی گئی۔ مارسک اور ہیپگ لوئڈ نے بھی نہر سویز کے ذریعے محدود تعداد میں منتخب سروسز کی بحالی کا اعلان کیا، تاہم اپنے پورے نیٹ ورک کی عمومی بحالی نہیں کی۔ پاکستانی حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا ایک مخصوص کنٹینر بردار جہاز برآمد کنندگان کے لیے بحری ترسیل کے رابطوں کو بہتر بنا سکتا ہے۔ وزارت بحری امور کے ترجمان محمد ارشد نے عرب نیوز کو بتایا کہ ’حکومت جہاز خرید یا لیز پر لے سکتی ہے، لیکن یہ مطلوبہ مقدار میں یقینی کارگو کی دستیابی سے مشروط ہوگا۔‘ انہوں نے کہا کہ ’یہ ضمانت برآمد کنندگان کی جانب سے ہونی چاہیے، جنہیں جہاز کے لیے مطلوبہ کارگو کی مقدار دستیاب ہونے کو یقینی بنانا ہوگا۔‘ یہ تجویز ابھی مشروط ہے۔ حکومت نے تاحال جہاز خریدنے یا لیز پر لینے، مجوزہ راستوں یا سروس شروع کرنے کے لیے کسی شیڈول کا اعلان نہیں کیا۔ ایران جنگ مشرق وسطیٰ بحران پاکستان برآمدات فروری میں شروع ہونے والی امریکہ، ایران جنگ نے خلیج کے راستے بحری نقل و حمل کو متاثر کیا ہے۔  انڈپینڈنٹ اردو جمعہ, اکتوبر 2, 2026 - 16:30 Main image: > <p>فروری میں شروع ہونے والی امریکہ، ایران جنگ نے خلیج کے راستے بحری نقل و حمل کو متاثر کیا ہے (انڈپینڈنٹ اردو)</p> معیشت type: news related nodes: آبنائے ہرمز کی بندش سے مہنگائی کا دباؤ: آئی ایم ایف آبنائے ہرمز میں کشیدگی سے بحری جہازوں کی آمدورفت ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر عالمی پٹرول بحران، چینی الیکٹرک گاڑیوں کی برآمدات میں اضافہ ایران جنگ: سب سے پہلے کس ملک میں ایندھن ختم ہو گا اور کیوں؟ SEO Title: مشرق وسطیٰ بحران: پاکستانی برآمدی آرڈرز خطرے میں copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000
Independent Urdu [Unofficial] @independenturdu.com.web.brid.gy · 02/10/2026
independenturdu.com
صومالیہ سے بازیاب افراد کل پاکستان پہنچیں گے: اسحاق ڈار
**وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کو کہا ہے کہ صومالیہ کے ساحل کے قریب ہائی جیک ہونے والے جہاز ’ایم وی آنر 25‘ کے چار پاکستانی عملے کے ارکان کو بحفاظت بازیاب کر لیا گیا ہے، جو کل یعنی تین اکتوبر کو کراچی پہنچیں گے۔** وزارت خارجہ کے مطابق بازیاب ہونے والوں میں یاسر خان، عقیل خان، امین بن شمس اور عثمان غنی شامل ہیں۔ جہاز کے تین پاکستانی عملے کے ارکان رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری اس واقعے میں جان سے گئے، جن کی میتیں پاکستان واپس لائی جا رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے تمام ضروری قانونی اور دیگر کارروائیوں کو تیز کیا جا رہا ہے۔ وزارت خارجہ نے جان سے جانے والے افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ > Following sustained efforts by the Foreign Office and our Embassy in Djibouti, four of the ten Pakistani crew members (Mr Yasir Khan, Mr Aqeel Khan, Mr Amin bin Shams and Mr Usman Ghani) affected by the hijacking of MV Honour 25 off the coast of Somalia have been safely retrieved… > > — Ishaq Dar (@MIshaqDar50) October 2, 2026 بیان کے مطابق جہاز کے باقی تین پاکستانی عملے کے ارکان عمران علی، یاسین محمد اور سید یوسف حسین، کپتان کے ہمراہ اب بھی جہاز پر موجود ہیں۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ ان افراد کی بحفاظت بازیابی اور جلد از جلد پاکستان واپسی کے لیے دوست ممالک کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔ وزارت خارجہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں معاملے پر مسلسل کام کر رہی ہے اور تمام پاکستانی شہریوں کی واپسی، بشمول جاں بحق افراد کی میتوں کی جلد منتقلی، کے لیے ہر ممکن کوششیں جاری رکھے گی۔ متاثرہ خاندانوں کو بھی ہر ممکن تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ قبل ازیں صومالیہ میں پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس فورس نے بتایا تھا کہ سمندری آپریشن میں بحری قزاقوں کے قبضے سے آئل ٹینکر ’ایم ٹی آنر 25‘ کو کامیابی سے بازیاب کروا لیا گیا ہے تاہم اس دوران قزاقوں نے پاکستانیوں سمیت پانچ افراد کو قتل کر دیا۔ پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس فورس نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ انہوں نے ایم ٹی آنر 25 نامی بحری جہاز قبضے میں لے لیا ہے، جو پنٹ لینڈ کے ساحل کے قریب موجود تھا۔ بحری جہاز کے زندہ بچ جانے والے عملے کو بحفاظت بندر بیلا پہنچا دیا گیا ہے۔ # مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) حکومت کے مطابق زخمیوں کو طبی سہولیات کی فراہمی، مرنے والوں کی لاشوں کی پاکستان منتقلی اور زندہ بچ جانے والے پاکستانی عملے کی بحفاظت واپسی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پلاؤ کے پرچم بردار ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کو 21 اپریل کو صومالیہ کے شمال مشرقی علاقے پنٹ لینڈ کے قریب سے قبضے میں لیا گیا تھا۔ اس پر 17 افراد سوار تھے، جن میں 10 پاکستانی سیلرز بھی شامل تھے۔ ان کے اہل خانہ پانچ ماہ سے زائد عرصے سے اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور ان کی رہائی کی اپیلیں کر رہے تھے۔ پنٹ لینڈ صومالیہ کا ایک نیم خودمختار علاقہ ہے، جہاں میری ٹائم پولیس نے قزاقوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔ رواں سال صومالیہ اور خلیج عدن کے اطراف قزاقوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اگست میں بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن نے کہا تھا کہ خطے میں 90 سے زیادہ ملاح قید ہیں اور خبردار کیا تھا کہ ان میں سے بعض کو مناسب خوراک، پانی اور طبی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ صومالیہ بحری جہاز قزاق اسحاق ڈار پلاؤ کے پرچم بردار ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کو 21 اپریل کو صومالیہ کے شمال مشرقی علاقے پنٹ لینڈ کے قریب سے قبضے میں لیا گیا تھا۔  انڈپینڈنٹ اردو جمعہ, اکتوبر 2, 2026 - 15:45 Main image: > <p>یکم جون 2026 کو نامعلوم مقام سے جاری کی گئی ویڈیو سے لیے گئے سکرین گریب میں پاکستانی شہریوں کو دیکھا جا سکتا ہے، جنہیں 21 اپریل کو صومالی قزاقوں نے یرغمال بنا لیا تھا (سکرین گریب)</p> پاکستان type: news related nodes: صومالی قزاقوں کے ہاتھوں 5 سیلرز کی موت پر پاکستان کا افسوس صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کے اہلخانہ کا احتجاج ’مدد کریں، ورنہ زندہ نہیں رہ پائیں گے‘: صومالی قزاقوں کی قید میں پاکستانیوں کی اپیل صومالی قزاقوں سے یرغمالی بازیاب نہ ہوئے تو بھوک ہڑتال کریں گے: اہل خانہ SEO Title: صومالیہ سے بازیاب پاکستانی کل پاکستان پہنچیں گے: اسحاق ڈار copyright: show related homepage: Hide from Homepage
000