محمد بن سلیمان کی عمر ابھی چالیس بھی نہیں ہے۔ اگلے تیس چالیس سال میں محمد بن سلیمان کے دور میں سعودی عرب کی کم از کم ثقافتی شکل اس قدر بدل جائے گی کہ بقول پنجابی محاورے کے، الباکستانیوں کے "ڈیلے" باہر آجائیں گے۔
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا۔۔۔
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔۔۔