عمران خان کے حکم پر ہونے والے 24 نومبر کے احتجاج کے نتیجے میں حکومت یا عدلیہ کیسے مجبور ہو گی کہ ان کی رہائی کا حکم دے دے؟
یقیناً احتجاج سے یہ ناممکن ہے اور لمبا دھرنا دیا نہیں جا سکتا۔ اس لیے وہ تصادم کے خواہاں ہیں
کیا یہ شخص بھی لیڈر کہلاتا ہے؟
جو اپنی زات سے آگے دیکھنا اور سوچنا گناہ سمجھتا ہے