جب کے پی کے قافلہ سرینگر ہائے وے پر انٹر ہُوا تھا تب اسقبال کو کھڑے ہُوئے یہ ایک بار بھی نہیں سوچا تھا کہ اگلی رات ہم سب کے لئیے کتنی تکلیف لے کر آنے والی ہےہر کسی کے ہاتھ میں یا تو ملک کا جھنڈا تھا یا جماعت کا جھنڈا تھاپانی کی بوتل تھی یا موبائل فون تھا پھر بھی انہونے نے ہم پر گولی چلائی 😓