2014میں بلوچستان کے علاقے توتک سے ایک اجتماعی قبر برآمد ہوئی تھی،جس میں جبری لاپتہ افراد کو دفنایا گیا تھا۔تین لاشیں نکالنے کے بعد اس قبر کو دوبارہ بند کردیا گیا کیونکہ اس میں200 سے زائد لاشیں موجود تھیں۔
بلوچوں کی نسل کشی پرخاموشی کاخمیازہ سب بھگت رہےہیں۔
amnesty.org/en/documents/a…
amnesty.org