کب یاروں کو تسلیم نہیں ، کب کوئی عدو انکاری ہے اس کوئے طلب میں ہم نے بھی دل نذر کیا جاں واری ہے
جب ساز سلاسل بجتے تھے ، ہم اپنے لہو میں سجتے
تھے وہ ریت ابھی تک باقی ہے ، یہ رسم ابھی تک جاری ہے
کس زعم میں تھے اپنے دشمن شاید یہ انہیں معلوم
نہیں یہ خاک وطن ہے جاں اپنی اور جان تو سب کو پیاری ہے۔۔۔